3 villagers were martyred while crossing the Bandar Khamir Bridge. They were absolutely innocent, and we will never allow their blood to be in vain.
Iran is our homeland—from south to north, and from east to west. We will defend every inch of our land until our very last breath.
70% of attacks on Iran are coming from the American bases in Kuwait.
And some idiots ask why is Iran attacking a Muslim country Kuwait ?
A better question would have been that why is a “MUSLIM” country allowing a “ZIONIST” backed regime to attack another “MUSLIM” country from its soil.
But I guess questioning America is a cardinal sin for certain “Muslims” thus they would rather question the “Muslim” country which is being attacked.
By the way YAZEED was also a Muslim and a HAFIZ E QURAN……..,
ایک پُرامن انسانی حقوق کے کارکن کو، جو اپنے گھر میں موجود ہے اور روزانہ کراچی کی سڑکوں پر کھلے عام آ جا رہی ہے، اسے گرفتار کرنے کے لیے بائیس گاڑیوں میں تقریباً ستر پولیس اہلکار، لیڈی کانسٹیبلز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کا اس انداز میں آنا، جیسے کسی خطرناک دہشت گرد کو پکڑنے کے لیے کارروائی کی جا رہی ہو۔
رات کی تاریکی میں میرے گھر پر دھاوا بولنا، دروازے توڑنا اور گھر سے قیمتی سامان اور کتابیں چوری کرنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ مجھے گرفتار نہیں کر سکتے تھے، بلکہ اس کا اصل مقصد مجھے اُس سوسائٹی کی نظر میں ایک مجرم یا دہشت گرد کے طور پر پیش کرنا، میری زندگی کو مزید مشکل بنانا اور میرے خاندان کو نقصان پہنچانا ہے۔
اگر مجھے گرفتار کرنا ہے تو آئیں اور مجھے گرفتار کریں۔
میں پہلے بھی کئی مرتبہ جیل جا چکی ہوں اور آج بھی جیل جانے کے لیے تیار ہوں۔ مگر مسئلہ گرفتاری نہیں، بلکہ اپنی طاقت اور اختیار کا زور اور گھمنڈ دکھانا ہے وہ بھی اُن لوگوں کے سامنے کرنا ہے جو پہلے ہی ظلم اور ناانصافی کا شکار ہیں۔
ایک ماہ سے جاری مسلسل ہراسانی کے بعد گزشتہ رات تقریباً ایک بجے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس کے اہلکار، جو بائیس گاڑیوں میں سوار تھے اور جن کی تعداد تقریباً 60 سے 70 کے درمیان تھی، لیڈی پولیس اہلکاروں کے ہمراہ مجھے گرفتار کرنے کے لیے میرے گھر پہنچے۔
اس وقت میں گھر پر موجود نہیں تھی۔ اہلکاروں نے گھر کے دروازے توڑ کر زبردستی اندر داخل ہوئے اور تقریباً پانچ گھنٹے تک گھر کے اندر موجود رہے۔ اس دوران انہوں نے پورے گھر کی تلاشی لی اور گھر میں موجود تمام سامان، بشمول لیپ ٹاپ، کیمرے، موبائل فون، کتابیں، دستاویزات اور زیورات اپنے ساتھ لے گئے۔
اگر ان کا مقصد مجھے گرفتار کرنا تھا تو میری غیر موجودگی کا کنفرم کرنے کے باوجود میرے گھر کے دروازے توڑ کر داخل ہونے کی کیا مقصد تھا؟ میرے گھر میں موجود قیمتی اشیاء کو چوری کرنے، سامان کی توڑ پھوڑ کرنے اور ہمسائیوں کو تشدد اور ہراساں کرنے کا کیا مقصد تھا؟ کس قانون کے تحت یہ سب کچھ کیا جارہا ہے؟
میں متعدد بار یہ واضح کر چکی ہوں کہ اگر میرے خلاف کوئی مقدمہ ہے تو میں اسے قانونی فورمز پر سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں۔ تاہم ایک پُرامن انسانی حقوق کے کارکن کے گھر پر رات کے اندھیرے میں دھاوا بولنا، ہمسایوں کو تشدد اور دھمکیوں کے ذریعے خوفزدہ کرنا، اور میرے خاندان کو ہراساں کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مقصد قانون کا نفاذ نہیں بلکہ مجھے اور میرے اہلِ خانہ کو ڈرانا اور خاموش کرانا ہے۔
میرے گھر کو پہنچنے والے تمام نقصان اور اس کارروائی کے نتائج کی ذمہ داری بغدادی پولیس، لیاری پولیس اور سندھ حکومت پر عائد ہوگی۔
Harassing Sammi Deen Baloch and her family is a direct attack on all of us. Why must we face violent raids and constant harassment just for demanding answers about our disappeared loved ones? Stand with us share this and let the world know the cruel truth
#StopHarassingSammiDeen
🚨🚨
No other country or military have killed even half of the number of journalists killed by #Israel alone.. The countries who genuinely believe in press freedom should name Israel a predator for journalists and put sanctions on Israel and Israeli military!
🚨🚨
اپنے مُحسنوں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے جیل میں نوے روز مُکمل ہونے پر کُچھ یادیں اور باتیں تحریر کی ہیں:
“آج نوے دن ہو گئے۔ میں نے دونوں کی نہ تو آواز سنی ہے اور نہ ہی شکل دیکھی ہے۔ نہ ہی ملاقات کر سکا ہوں۔ دونوں اڈیالہ جیل میں قید تنہائی کاٹ رہے ہیں۔ ایمان مزاری خواتین کے لئے مختص حصے میں ایک چھوٹے سے سیل میں قید تنہائی گزار رہی ہے جب کہ ہادی علی چٹھہ مردانہ قیدیوں کے لئے مختص احاطہ میں ایک الگ تھلگ چھوٹے سے سیل میں قید تنہائی کاٹ رہا ہے۔
سوچتا ہوں دونوں بنیادی ضروریات سے محروم سارا وقت اپنے چھوٹے سے قید خانے کی دیواروں اور چھت کو دیکھتے ہوئے کیا سوچتے ہوں گے؟ ہم سب کے بارے میں کیا سوچتے ہوں گے کہ ہم نے انہیں کتنے آرام سے تنہا چھوڑ دیا ہے۔ وہ دونوں سب کے لئے لڑے، بے جگری سے اور بے لوث لڑے لیکن آج یہ معاشرہ اتنا بانجھ ہے کہ ان کے لئے کہیں سے آواز نہیں آ رہی۔ وہ آواز جو ایوان ہلائے جو سب کچھ ہلائے۔”
مُکمل آرٹیکل لِنک پر کلک کرکے پڑھیئے: https://t.co/d14rEMxOqB
Yesterday I was suspended from the Commons and escorted off the parliamentary estate for calling the Prime Minister a barefaced liar.
I would do it again.
Every person in this country knows that Keir Starmer is exactly that.
I will always speak truth to power.
Fake and misleading news from the forces of darkness, repeated by useful idiots, to prepare the ground for the mass slaughter of Iranian citizens by the Trump and Netanyahu regimes.
Never forget the 168 elementary school girls murdered by Trump in Minab city.
Blockading Iranian ports is an act of war and thus a violation of the ceasefire.
Striking a commercial vessel and taking its crew hostage is an even greater violation.
Iran knows how to neutralize restrictions, how to defend its interests, and how to resist bullying.