لاہور میں نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ پنجاب حکومت کا بڑا سرکاری کینسر ہسپتال منصوبہ ہے۔ یہ تقریباً 333 کنال رقبے پر قائم کیا گیا ہے اور اس میں ایمرجنسی، ریڈی ایشن تھراپی، نیوکلیئر میڈیسن، کیموتھراپی، آپریشن تھیٹرز، کینسر کا علاج اور ICU کی سہولیات شامل ہیں
اس ملک کے اصل ہیروز جو ہمارے پارٹنر بن کر پنجاب میں تعلیم کا انقلاب برپا کر رہے ہیں!میرٹ پر خستہ حال ۱۳،۰۰۰ سکول ملے اور وہ کیسے بدلے ، دے رہے ہیں معیاری تعلیم جو فری ہے!
ضرور سنیں کیسے وزیر اعلیٰ پنجاب نوجوانوں کو بااختیار بنا کر سکولز میں انقلاب لا رہی ہیں!
اپنی چھت اپنا گھر سکیم اتنی زبردست ھے کہ لوگوں نے اپنے گھر کے باہر اور گھر کے اندر مریم نواز کی تصویر لگائی ہوئی ھے۔ اور پیاری سی چھوٹی بچی مریم نوازشریف کا شکریہ ادا کر رہی ھے👇
دہشتگردوں کا خارجیوں کا ،TTP کا اور تحریک انصاف کا گٹھ جوڑ ہے۔ان کی رشتے داریاں ہیں، اس سارے گٹھ جوڑ میں، دہشت گردی ،منشیات فروشی اسمگلنگ، کرائم میں خیبرپختونخواہ کی حکومت اور پی ٹی آئی براہ راست شامل ہے
(اختیار ولی خان)
پنجاب کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کی آمد میں 16 فیصد اضافہ۔ مجموعی طور پر زیرِ علاج مریضوں کی تعداد 4 کروڑ 57 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ او پی ڈی، داخل مریضوں اور ایمرجنسی سمیت مختلف شعبہ جات میں بھی مریضوں کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
معیاری علاج، مفت ادویات اور جدید طبی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ کینسر اور دل کے مریضوں کو 21 لاکھ سے زائد ادویات کے پارسلز ان کی دہلیز تک پہنچائے جا چکے ہیں۔
@MaryamNSharif
جوان نے تو سہیل اپھردی کی ڈھولکی بجا دی ہے بھئی ۔!!
صوبائی حکومت کی اس بڑی ناکامی کیا ہو گی دھماکے کرنے والوں سے مقابلے کے بجائے مذاکرات کی بات کرتی ہے
130,000 houses have been completed, while another 100,000 are under construction, almost 250,000 houses in just a year and a half. This in itself is a world record.
پنجاب میں قانون کی عملداری بہتر بنانے، مافیا کلچر کے خاتمے اور جرائم میں کمی کے لیے انہوں نے انتہائی سخت اقدامات کئے، ڈیٹا پر مبنی گورننس کے تحت دو سال میں صوبے کی پوری آبادی کا حکومتی ریکارڈ مرتب کیا گیا، رمضان پیکیج کے دوران یہ حقیقت سامنے آئی کہ صوبے کے پاس مستند عوامی ڈیٹا موجود نہیں تھا، اس لیے ڈیٹا پر مبنی گورننس کا آغاز کیا گیا اور آج دو سال میں پنجاب کی پوری آبادی حکومتی ڈیٹا میں رجسٹر ہو چکی ہے
وزیراعلی پنجاب مریم نواز
پنجاب کے وسائل صرف اور صرف پنجاب کے عوام کی خدمت کے لیے ہیں
بین الاقوامی سطح پر عالمی پذیرائی اور ماحولیات کے شعبے میں "Environment Warrior" کے لقب سے لے کر بین الاقوامی سمٹ میں نمائندگی تک وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب کا نام دنیا بھر میں روشن ہو رہا ہے۔ 🇵🇰❤️
"وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز گوجرانوالہ کی گوجرانوالہ آمد، الیکٹرو بس کے دو روٹس کا اغاز"
🔸وزیراعلی مریم نواز شریف نے گوجرانوالہ انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی سائٹ کا معائنہ کیا
🔸وزیراعلی مریم نواز شریف نے گوجرانوالہ ماس ٹرانزٹ پراجیکٹ کی تکمیل کے لئے مارچ کی ڈیڈ لائن دے دی
🔸عوام کی مشکلات کا اندازہ ہے۔ ماس ٹرانزٹ پراجیکٹ کی تکمیل میں تاخیر کی گنجائش نہیں ۔ مریم نواز شریف
🔸وزیراعلی مریم نواز شریف کا گوجرانوالہ میں انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی تعمیر جلد شروع کرنے کی ہدایت
🔸مریم نواز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں 268 بیڈز کی سہولت ہوگی
🔸مریم نواز کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ 50 کنال اراضی پر بنے گا
🔸گوجرانوالہ مریم نواز کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ میں ایمرجنسی، سی سی یو، آئی سی یو اور جدید ترین آپریشن تھیٹرز شامل
🔸گوجرانوالہ مریم نواز کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ
میں انجیوگرافی کیتھ لیبز،سی ٹی اسکین، الٹراساؤنڈ اور گاما کیمرہ بھی ہونگے
🔸گوجرانوالہ مریم نواز کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ
میں 3 ٹیسلا ایم آر ائی اور الٹرا فاسٹ سی ٹی اسکینر نصب ہوں گے
🔸گوجرانوالہ مریم نواز کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ میں 2 سنگل پلین اور ایک بائی پلین انجیوگرافی مشین شامل
🔸مریم نواز کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ میں 4 ماڈیولر آپریشن تھیٹرز اور 4 ہارٹ لنگ مشینیں شامل ہوں گی
🔸گوجرانوالہ میں ابتدائی طور پر دو روٹ پر الیکٹرو بس چلے گی
🔸گوجرانوالہ الیکٹرو بس چن دا قلعہ تا لوہیانوالہ چلائی جائے گی
🔸گوجرانوالہ میں کھیالی تا جنیم نندی پور الیکٹرو بس چلی گی
🔸گوجرانوالہ میں تعمیرات مکمل ہونے پر 74 الیکٹرو بسیں چلائی جائیں گی
🔸وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے گوجرانوالہ ماس ٹرانزٹ کوریڈور پراجیکٹ کا جائزہ لیا
🔸وزیراعلی مریم نواز شریف نے
گوجرانوالہ ماس ٹرانزٹ پراجیکٹ کے انڈر پاس، ٹنل اور روڈ کا معائنہ کیا
🔸وزیراعلی مریم نواز شریف کو شہر میں ماس ٹرانزٹ پراجیکٹ پر بریفنگ
🔸وزیراعلی مریم نواز شریف نے وزٹ کے دوران کمسن طلبہ کو دیکھ کر گاڑی رکوائی
🔸ننھے اسد اللہ اور ساتھی سے اظہار شفقت
وزیراعلی مریم نواز نے بچوں کو سوئیٹس،پھل اور انعام بھی دیا
پنجاب میں ہر سطح پر خواتین کام کر رہی ہیں اور برابری کی بنیاد پر؛ کوئی کوٹہ نہیں ہے کہ 40پرسنٹ خواتین ہوں گی؛ جو کوالیفائی کرے وہ آ جائے۔
وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف
43 لاکھ ڈلیوریز ایٹ دی ڈور سٹیپ۔ رمضان پیکیج میں 10 ہزار روپے غریب لوگوں کو دینے کے لیے انہیں کہیں بلایا نہیں جاتا، ان کا دروازہ کھٹکھٹایا جاتا ہے۔ ڈھائی سال میں 45 ہزار کلومیٹر سڑکیں بنائی ہیں، سیوریج اور ڈرینج بہتر کی ہے، ایئر ایمبولینس بنائی ہے۔ اور جو جہاز ہے وہ میرا جہاز نہیں، پنجاب کا جہاز ہے، میں اسے رائے ونڈ نہیں لے جاؤں گی، یہ یہی رہے گا۔
وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف
اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کو اختیارات دے دیے گئے کہ صوبے اپنے خود فیصلے کریں اپنے اپنے کام کریں اور میں یہ کہتی ہوں کہ دہشتگرد جہاں سے بھی آئے وہ دہشتگرد ہے اس کی کوئی classification نہیں۔ افغانستان ہمارا ہمسایہ ملک ہے اور اگر وہ ملک ہمسایہ ہونے کا فائدہ اٹھائے اور جب وہ اپنی سرزمین کو آپ کے خلاف اور آپ کی سرزمین کو بھی آپ کے خلاف استعمال کرے تو ریاست کو لکیر کھینچ دینی چاہیے: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف
@MaryamNSharif
پڑوسی ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات ہماری ترجیح ہونی چاہیے، لیکن کسی ملک کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو تو ریاست کو اپنی سیکیورٹی کے تحفظ کے لیے واضح مؤقف اختیار کرنا ہوگا۔ پنجاب میں پولیس، سی ٹی ڈی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بڑھانے، مسلسل نگرانی اور مؤثر ایس او پیز کے ذریعے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف
پنجاب میں ذمہ داری سنبھالتے وقت قانون کی عملداری اور مافیا کلچر بڑے چیلنجز تھے۔ ان کے خاتمے کے لیے سخت فیصلے کیے گئے اور جرائم میں کمی آئی۔ رمضان پیکیج کے دوران یہ حقیقت سامنے آئی کہ صوبے کے پاس مستند عوامی ڈیٹا موجود نہیں تھا، اس لیے ڈیٹا پر مبنی گورننس کا آغاز کیا گیا۔ آج دو سال میں پنجاب کی پوری آبادی حکومتی ڈیٹا میں رجسٹر ہو چکی ہے۔
وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے چیف منسٹر ہاؤس میں موجود معزز وفد کو 15 ایمرجنسی رسپانس سسٹم کا عملی جائزہ کروانے کے لیے خود ہیلپ لائن پر کال کی۔ وزیر اعلیٰ نے کال آپریٹر سے یومیہ موصول ہونے والی 300 سے زائد کالز کے حجم اور شہریوں کی شکایات خصوصاً گھریلو تشدد اور وارداتوں کی نوعیت کا احوال دریافت کیا۔ انہوں نے چند سیکنڈز میں موصول ہونے والے فوری ردعمل اور پیشہ ورانہ رویے پر عملے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کی۔