@Saminakhan4000 نہ تو حالات ایسے رھین گے اور نہ ہی یہ سب کچھ چلے گا۔ حکمران خود نہین سدھرین گے ان کو عوام سدھارے گی۔ اج نہین تو کل۔ یہ نسل نہ سہی اگلی نسل اور اگر ایسا نہ ھوا تو ہوا تو،پھر ممکنہ طور پر غیروں کی غلامی۔ جتنی دیر ھو گی اتنا زیادہ خون بہے گا اللہ خیر کرے۔۔ ۔
یہ لاہور ہائیکورٹ کا جج جسٹس مسعود عابد نقوی ہے اور یہ مؤرخہ 03 جولائی 2026 کو ریٹائر ہوگیا ہے
اس نے 12 سال بطور جج کام کیا ہے اور 12 سالوں میں اس نے صرف 69 فیصلے دئیے ہیں،
اگر ان کی ماہانہ تنخواہ کے حساب سے دیکھا جائے تو پاکستان کی قوم کو انکا ایک فیصلہ تقریباً 1 کروڑ روپیوں میں پڑا ہے
اب جج صاحب ریٹائر ہوگئے ہیں تو آج سے اِن کو 20 لاکھ روپے پینشن، 150 لیٹر ماہانہ مفت پیٹرول، 800 یونٹ ماہانہ مفت بجلی، پانی کی مفت فراہمی، 800 ماہانہ مفت لوکل کالز، اور ڈرائیور ملے گا،
یہ سہولیات جج صاحب کے ساتھ اِن کی قبر میں جانے تک چلیں گی
سونے پہ سہاگہ یہ کہ اگر اب ریٹائرمنٹ کے بعد کسی ٹریبونل کے رکن منتخب ہوگئے تو یہ ساری سہولیات اور مراعات ڈبل ہوجائیں گی
@SdqJaan اگر مہزب ملک ھوتا تو احتجاج کے لئیے پورا ملک نکلتا اور ایک بچہ بھی پیچھے نہ رھتا۔ ہمارے ھان پر امن احتجاج پر گولی چلائی جاتی ھے اور ایسا کسی مہزب ملک مین نہین ھوتا۔