FCA, MBA Constitution!RT are not endorsements! PTIans stay away!! Punjabi, Arain! Reading is life! Romantic! Movies, Music, live and let live! no Judgements!!
پنجاب اسمبلی کے اسپیکر ملک محمد احمد خان نے پنجابی تعلیم کا مطالبہ کرنے والے رکن کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا: "H₂O کو پنجابی میں کیسے ترجمہ کرو گے؟" اور "کوئی پنجابی سائنسدان کا نام بتاؤ!" اسپیکر صاحب، آپ نے H₂O تو سن رکھا ہے (جو کوئی بھی عام ذہانت والا جانتا ہے)، مگر کیا آپ کو ڈاکٹر عبدالسلام کا علم ہے؟ ڈاکٹر عبدالسلام — پنجابی نوبل انعام یافتہ — کی الیکٹروویک تھیوری نے ہگس بوسن کی دریافت کی راہ ہموار کی۔ اپنی ماں بولی کی توہین کر کے آپ نے ثابت کر دیا کہ آپ پنجاب اسمبلی کی اسپیکر کی کرسی کے اہل نہیں۔ آپ ایک Elitist ہیں جو پنجابی کے خلاف اپنا تعصب چھپا نہیں سکے۔
Speaker Malik Muhammad Ahmad Khan mocked the member demanding Punjabi education: "How do you translate H₂O into Punjabi?" and "Name a Punjabi scientist!"Speaker Sahab, you know H₂O (which any average person knows), but do you know who Dr. Abdus Salam was? Dr. Abdus Salam — Punjabi Nobel laureate — whose electroweak theory paved the way for Higgs boson discovery. By insulting your own mother tongue, you have proven you are unfit for the Speaker’s chair of Punjab Assembly. You are an Elitist who couldn’t hide your prejudice against Punjabi.
#Punjabi #PunjabAssembly
@PAPLahore@MalikMAhmadKhan@MaryamNSharif@AzmaBokhariPMLN@GovtofPunjabPK
ایف بی آر کو اگر بینک اکاؤنٹس سے رقم نکالنے کا اختیار دے دیا گیا تو لوگ بینکوں میں پیسے رکھنا بند کر دیں گے، جو بھی معاملہ ہو عدالتی حکم کے بغیر ایف بی آر کو یک طرفہ طور پراکاؤنٹس سے پیسے نکالنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے، وزیر اعظم @CMShehbaz کو فوری نوٹس لینا چاہئے
پاکستانی عوام کہتے ہیں کہ نوکری نہیں ملتی ملک میں روزگار نہیں ہے یہاں ایک معمر خاتون ایک ادارے سے ریٹائرڈ ہوئی ہے اور اسی دن اسے دوسری نوکری مل گئی ہے۔
یہ خاتون وفاقی وزیر احسن اقبال کی بہن عائشہ حمیرا چوہدری ہیں جنکی ریٹائرمنٹ سے چند روز قبل جلدی ریٹائرمنٹ کی درخواست منظور کرکے تین سال کے لیے ممبر فیڈرل پبلک سروس کمیشن تعینات کیا گیا ہے۔اس سے قبل وہ منسٹری آف کلائمنٹ میں بطور سیکرٹری تعینات تھیں۔
بشکریہ محمد عمیر
@Sarfrazmirza16@Shahidj111 Main factor is sexual frustration, excess to pornography, physiological issues a study shows 80% of population have mental disorders
@madam_robena The cult deaths, a kidnapping, and a murder were linked to covert operations and subsequent cover-ups. 🫣🫣 so its not a gru telling a girl 🤣🤣🤣🤣
“جنسِ ناچیز” — ایک غیر روایتی کہانی
ہمارے محلے میں ایک زمانے تک دو خبریں ہمیشہ تازہ رہتی تھیں: ایک کسی کی شادی، اور دوسری کسی کا سسرال سے بھاگ جانا۔ مگر جب ثریا بی بی نے اعلان کیا کہ اب وہ “سرور صاحب” ہیں، تو سارا محلہ ساکت ہو گیا۔ کسی نے دانتوں میں انگلی دبا لی، کسی نے تعویذ کس کے گلے میں ڈالا، اور مولوی صاحب نے تو جمعے کے خطبے میں آدھے گھنٹے تک “فطرت کی خلاف ورزی” پر مدلل تقریر فرمائی۔
لیکن ثریا عرف سرور صاحب کی کہانی سادہ نہیں تھی۔ وہ دو بچوں کی ماں تھیں — یعنی دو بار انسانیت کی خدمت کر چکی تھیں۔ مگر پھر ایک دن صبح کے اخبار کے ساتھ اُن کے اندر بھی کوئی “خبر” جاگی۔ پتہ نہیں خبر تھی یا انکشاف، مگر فیصلہ بہرحال قطعی تھا — “میں اب وہ نہیں جو کل تھی۔”
شوہر نے پہلے سمجھا مذاق ہے۔ بولا: “یہ کوئی میلہ لگانے کا موقع ہے جو روز نیا روپ دھار لیتی ہو؟”
ثریا نے جواب دیا: “جی ہاں، عورت ہونا بھی تو روز نیا روپ دھارنے کا عمل ہے۔ کبھی بیوی، کبھی ماں، کبھی نوکرانی، کبھی شکایت کنندہ۔ کبھی اے سائیڈ کبھی بی سائیڈ، بس اب میں یہ تماشہ بند کر رہی ہوں۔”
یہ جملہ ایسا تھا جیسے کسی نے برقی تار ننگا چھوڑ دیا ہو۔ گھر میں شور، محلے میں چہ میگوئیاں، اور نانی اماں نے فتویٰ صادر کر دیا:
“یہ سب مغربی کھانوں کا اثر ہے۔ اور برگر کھانے والوں کا ایمان بھی ڈبل پیٹی ہو جاتا ہے۔”
لیکن سرور صاحب نے کسی کے فتوے کی پرواہ کی، وہ ڈاکٹر، عدالت اور بالآخر اس وجود تک پہنچ گئے جو اُنہیں برسوں سے بلاتا تھا۔
کہتے ہیں کہ
“خدا نے مجھے بنایا تو ضرور، مگر کسی فائل کی غلطی سے شاید یو ایس بی پورٹ غلط لگ گیا حالانکہ وائ فائ کا انٹینا لگانا چاہئے تھا۔
مگر اصل تماشا تب شروع ہوا جب سرور صاحب نے دوسری شادی کی — اور قسمت کی نیرنگی یہ کہ چند سالوں بعد وہ پھر دو بچوں کے والد بن گئے۔
یوں ایک انسان نے زندگی میں دو بار “امومت” اور دو بار “ابوت” کے منازل طے کیے — اور ہم باقی مخلوق اب بھی ناشتہ ناشتے میں سوچتے رہ گئے کہ “یہ ممکن کیسے ہے؟”
محلے والوں نے کئی اجلاس کیے۔ کسی نے کہا “یہ سائنس کا کرشمہ ہے”، کسی نے کہا “یہ شیطان کا دھوکہ ہے”، اور چاچا منشی نے رائے دی:
“میری سمجھ سے باہر ہے بیٹا، ایک ہی جگہ سے فاعل اور مفعول مگر اگر اس نے دو بار بچوں کو جنم دیا، تو ہم اُسے سلام کرتے ہیں۔
یوسفی صاحب ہوتے تو کہتے، “قومیں وہ نہیں گرتیں جن کے پاس ایمان کم ہو، بلکہ وہ جن کے پاس مزاح کم ہو۔”
اور یقین مانیے، سرور صاحب کے قصے پر ہنسنے کی بجائے غور کرنے والا اگر کوئی تھا، تو صرف اُن کا بچہ۔
ایک دن اُس نے پوچھا:
“امی، آپ اب ابو ہیں نا؟ تو میں آپ کو ابو کہوں یا امی ابو دونوں؟”
اب سرور صاحب صبح دفتر جاتے، شام کو بچوں کے ساتھ کھیلتے، اور کبھی کبھار دکان دار سے بحث کرتے کہ “یہ سبزی عورتوں والی کیوں لگ رہی ہے؟”
سبزی والے نے جواب دیا، “سر، اب تو سبزی بھی آپ جیسے لوگوں سے ڈر کے تازہ رہتی ہے۔ خاص کر کھیرے۔
زندگی چلتی رہی۔ مگر ایک دن محلے کی کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ اُنہیں “معاشرتی درس” کے لیے مدعو کیا جائے۔
چنانچہ وہ آئے — صاف ستھرے لباس میں، دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ۔
انہوں نے کہا،
“میں نے دو بار زندگی کو جنم دیا۔ ایک بار جسم سے، ایک بار ارادے سے۔
پہلی بار سب نے تالیاں بجائیں، دوسری بار سب نے پتھر مارے۔
کاش آپ لوگ جانتے، تبدیلی گناہ نہیں، ہمت ہے۔”
لوگ کچھ دیر خاموش رہے۔ پھر چائے کا دور چلا اور بحث یہ شروع ہو گئی کہ “اب یہ وارثت میں حصہ کیسے پائیں گے؟”
میں اکثر سوچتا ہوں کہ ہمارا معاشرہ کتنی عجب منطق رکھتا ہے۔
یہ عورت کے دوپٹے کے رنگ پر بحث کرتا ہے، مگر اُس کے دکھ کے رنگ دیکھنے کی فرصت نہیں۔
یہ مرد سے توقع رکھتا ہے کہ وہ مضبوط رہے، مگر اُس کے کمزور لمحے پہ ہنستا ہے۔
اور جب کوئی انسان ان خانوں سے باہر نکلنے کی کوشش کرے تو ہم اُسے دیوانہ، گستاخ، یا مغربی ایجنٹ کہہ دیتے ہیں۔
“یہ قوم تبدیلی سے نہیں ڈرتی، بلکہ اُس آئینے سے ڈرتی ہے جس میں خود کو پہچاننا پڑ جائے۔”
آخر میں سرور صاحب نے اپنے بچوں کے نام “امید” اور “عمل” رکھے۔
اب وہ کہیں دور ایک اسکول میں استاد ہیں۔
بچوں کو پڑھاتے ہیں:
“انسان وہ نہیں جو دنیا اُسے کہے، بلکہ وہ جو خود کو تسلیم کرے۔”
یوسفی صاحب اگر زندہ ہوتے تو مسکرا کر کہتے،
“یہ قوم ابھی اتنی ترقی نہیں کر سکی کہ دوسروں کی خوشی برداشت کر سکے۔
ابھی ہم صرف تبدیلی کے مزاح پر قہقہے لگاتے ہیں،
تبدیلی کی وجوہات پر غور نہیں کرتے۔”
اردو کی خوبصورتی دیکھیے
میں نے صبح صبح بلکہ بہت صبح فون پر ایک دوست سے پوچھا، کیا کر رہے ہو یار؟
بولا: ابھی میں بڑی شدت سے عزت و عظمت کی ڈور کو بے پناہ گانٹھوں کی گرفت سے آزاد کرنے کی کوشش میں مبتلا ہوں۔
میں نے کہا: سمجھا نہیں۔
بولا: پاجامے کے ناڑے میں گانٹھ پڑ گئی ہے، وہی کھول رہا ہوں۔
تجربہ بھی کیا کتی چیز ہے صاحب!
پچھلے دس منٹ سے میں سامنے والے بینچ پر بیٹھے ایک معصوم "نو عمر چوزے" کا مشاہدہ کر رہا ہوں
موصوف کی چال کی لچک، کپڑوں سے آتی سستے پرفیوم کی خوشبو اور چہرے کی ہوائیاں صاف چیخ چیخ کر کہہ رہی تھیں:
"منڈا اج کُڑی نوں ملن آیا اے تے خوشی نال پاٹن نوں تیار کھڑا اے!"
بیچارے کی دائیں ٹانگ مسلسل 120 کی سپیڈ پر وائبریٹ ہو رہی تھی،
جیسے اندر کوئی جنریٹر چل رہا ہو
ادھر فون کی سکرین چمکتی، ادھر اس کی جان نکلتی۔ ایک نظر فون پر مارتا، پھر دوسری نظر چوروں کی طرح مجھ پر ڈالتا کہ یہ مفرور اشتہاریوں جیسا منہ لے کر یہاں کیوں بیٹھا ہے؟
میں نے اپنے دوست سے شرط لگائی: "لکھوا لے، جتنا یہ بے چین ہے، انتظار کسی پری کا ہے اور خوف میری "ملک الموت" جیسی موجودگی کا!"
پھر اچانک سینما کا پردہ ہلا اور
"بلانڈ" (Blonde) نمودار ہوئی!
لڑکی نے جیسے میں جیسے ہی بائیں پھیلائیں، لڑکے نے فوراً ہاتھ کے اشارے سے بریک ماری۔ کیوں؟ کیونکہ پبلک سروس میسج یہ تھا:
"شرم کر، سامنے ایک اور پاکستانی بیٹھا ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا ہے!"
بے چارہ شرم اور خوف کے مارے جپھی بھی نہ پا پایا
جیسے ہی ہماری نظریں ملیں، وہ تو ایسے
"نسیا" کہ سیدھا کیفے کے اندر جا کر ہی بریک لگی
شرط تو میں جیت گیا، پر دل سے ایک آہ نکلی۔۔۔
ہائے! اب تو ہمیں لڑکوں کی ٹانگوں کے پھڑکنے اور سٹائل سے پتا چل جاتا ہے کہ:
"مُنڈے نوں چُھری پِھرن والی اے
تے قصائی راستے وچ اے!"
Copied
The Economic Survey provides the government with a defensible claim: Pakistan’s economy has moved from crisis management to controlled recovery.
Growth has returned. Inflation, although rising again recently, remains well below the peaks witnessed during the crisis period. The fiscal deficit has narrowed, the exchange rate has remained broadly stable, remittances have strengthened and the country has remained on track under the IMF programme.
These achievements should not be understated. Just two years ago, Pakistan was confronting an acute balance-of-payments crisis, rapidly declining reserves and a loss of investor confidence. The outgoing fiscal year has demonstrated that disciplined policymaking can restore a measure of stability.
Yet the Survey also tells a more important story.
Pakistan has achieved stabilisation without building sufficient protection against future shocks.
The economy is no longer in intensive care. It is, however, far from healthy.
Recovery Is Real
GDP growth accelerated to 3.7 percent from 3.18 percent a year earlier. Agriculture expanded by 2.89 percent, industry by 3.51 percent and services by 4.09 percent.
The fiscal position improved significantly. The fiscal deficit fell to 0.7 percent of GDP during July–March compared with 2.6 percent during the same period last year, while the primary surplus reached 3.2 percent of GDP.
Remittances rose by 8.2 percent to US$30.3 billion, providing critical support to external balances.
The message is straightforward: fiscal discipline, expenditure restraint and IMF programme continuity have worked.
The government deserves credit for avoiding politically attractive but fiscally damaging measures. Subsidies were contained, energy prices were adjusted and spending controls remained largely intact.
The result was not rapid growth, but restored credibility.
That matters.