یہ جو باحجاب بہن ہے یہ خواجہ فرید یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹ ہے ہوا یوں کہ
خواجہ فرید BS فزکس (4th سمسٹر) کی طالبہ علیزہ علی کو یونیورسٹی کے سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کے ایک کمرے میں 3 سے 4 گھنٹے کے لیے غیر قانونی طور پر قید رکھا گیا۔
علیزہ کے مطابق اس کی بڑی بہن اسی یونیورسٹی سے فزکس میں PhD کر رہی تھی اور اسے HEC کی طرف سے 13 لاکھ روپے کا اسکالرشپ ملا تھا۔
یونیورسٹی کے VC (سلیمان طاہر) اور HOD (بلال طاہر) نے اس اسکالرشپ میں سے اپنا حصہ وصول کرنے کے لیے اس کی بہن پر دستبردار ہونے کا دباؤ ڈالا اور انکار کرنے پر شدید ذہنی اذیت دی اور رجسٹریشن منسوخ کرنے کی دھمکیاں دیں
18 مئی کو جب علیزہ یونیورسٹی کی ایک نمائش میں موجود تھی، تو سیکیورٹی انچارچ خرم شہزاد مسلح اہلکاروں اور لیڈیز سیکیورٹی کے ساتھ وہاں آیا
اور علیزہ سے اپنی بہن کو بلا کر اسکالرشپ سرنڈر کرنے والے کاغذات پر دستخط کروانے کا کہا۔
علیزہ کے انکار پر اسے زبردستی گھسیٹتے ہوئے سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ لے جایا گیا، اس کا موبائل اور پرس چھین کر ایک کمرے میں بند کر کے باہر سے لاک لگا دیا گیا
اور باہر سیکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے گئے۔ بعد میں زبردستی لاؤڈ اسپیکر پر اس سے گھر والوں کو فون کروا کر بلانے پر مجبور کیا گیا۔
اطلاع ملنے پر علیزہ کی بہن اسماء علی نے عدالت سے رجوع کیا، جس کے نوٹس پر پولیس نے فوراً کارروائی کرتے ہوئے علیزہ کو بند کمرے سے بازیاب کروایا۔
کیس اس وقت عدالت میں زیرِ التوا ہے،
تاہم علیزہ اور اس کے والد شوکت علی کا الزام ہے کہ انتظامیہ ان پر کیس واپس لینے اور صلح نامہ کرنے کے لیے مسلسل دباؤ ڈال رہی ہے اور تعلیمی مستقبل تباہ کرنے کی دھمکیاں دے رہی ہے۔
کیا کوئی ہے کو اس بہن کو انصاف دے سکے؟؟؟
بندہ پرور میرے مسائل ہیں
خوف اور ڈر میرے مسائل ہیں
اک زمیں زاد سے محبت کی
اب میرے پَر میرے مسائل ہیں
مشورے دے رہا ہوں لوگوں کو
اور گھر پر میرے مسائل ہیں