جب میں نے پہلی دفعہ یہ خبر پڑھی تھی کہ شیخ زاید نے اپنی زندگی کے آخر میں بعد از وفات اپنے ترکے میں سے امارات کے مقروض شہریوں کا قرض ادا کرنے کی وصیت کی تھی تو مجھے امارات کی عوام اور حکمرانوں پر دل کھول کر رشک آیا تھا۔
اسی طرح پرسوں ہی یہ خبر پڑھنے کو ملی کہ شارجہ کے حکمران اور متحدہ عرب امارات کی سپریم کونسل کے رکن صاحب السمو شیخ ڈاکٹر سلطان بن محمد القاسمی کی ہدایات پر شہریوں کے مالی بوجھ کو کم کرنے کے لیے مجموعی طور پر 17859829 درہم کے قرضوں کی ادائیگی کا حکم دیا گیا ہے۔
اس اقدام کا بنیادی مقصد مقروض خاندانوں پر مالی دباؤ کم کرنا، ان کے حالات و ضروریات کا خیال رکھنا، خاندانی استحکام کو مضبوط کرنا اور شہریوں کو باوقار زندگی کے وسائل مہیا کرنا ہے۔
یہ 17.86 ملین درہم کا حالیہ فیصلہ کسی ایک وقتی امداد تک محدود نہیں، بلکہ لجنة معالجة ديون مواطني إمارة الشارقة (Sharjah Debt Settlement Committee) کے ذریعے برسوں سے جاری ایک منظم پروگرام کا حصہ ہے۔
فروری 2026 میں کمیٹی نے 30ویں مرحلے کے تحت مزید 141 کیسز کے 76.974 ملین درہم کے قرضوں کی ادائیگی منظور کی تھی۔ اس وقت سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پہلے مرحلے سے 30ویں مرحلے تک:
2,932 شہری اس پروگرام سے مستفید ہوچکے تھے، جبکہ ان کے لیے حل کیے گئے قرضوں کی مجموعی مالیت 1,430,747,153 درہم، یعنی تقریباً 1.431 ارب درہم تک پہنچ چکی تھی۔
اس پروگرام کی وسعت کا اندازہ اس کے بتدریج بڑھتے ہوئے اعداد سے بھی ہوتا ہے۔ 2023 میں 24ویں مرحلے تک 2,086 افراد کے تقریباً 1.051 ارب درہم، نومبر 2024 میں 27ویں مرحلے تک 2,501 افراد کے تقریباً 1.204 ارب درہم، فروری 2025 میں 28ویں مرحلے تک 2,648 افراد کے تقریباً 1.280 ارب درہم اور نومبر 2025 میں 29ویں مرحلے تک 2,791 افراد کے تقریباً 1.354 ارب درہم کے قرضے نمٹائے جاچکے تھے۔
شاید آپ لوگوں کے ذہنوں میں سوال پیدا ہوا کہ آخر کن لوگوں کے قرضے ادا کیے جاتے ہیں؟
اس پروگرام کے آغاز کے وقت خود شیخ ڈاکٹر سلطان القاسمی نے اس کی ترجیحات کی تفصیل بیان کی تھی۔ سب سے زیادہ ترجیح ایسے شہریوں کو دی گئی جو قرض کی وجہ سے جیل میں ہوں۔ ان کے معاملات متعلقہ جیلوں اور اصلاحی اداروں سے حاصل کرکے قرض ادا کرنے اور ان کی رہائی کا راستہ ہموار کرنے کا تصور رکھا گیا۔
اس کے بعد مالی مقدمات کا سامنا کرنے والے افراد، پولیس میں مالی شکایات یا قانونی تعاقب کا سامنا کرنے والے مقروض شہری، غارمین اور حقیقی طور پر ادائیگی سے عاجز افراد اور ایسے فوت شدہ شہری جن پر قرض باقی ہو بھی ترجیحی زمروں میں شامل کیے گئے۔
خصوصاً فوت شدہ معسر شہری کے معاملے میں شارجہ کا سرکاری طریقۂ کار یہ ہے کہ متعلقہ شرعی عدالت اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ متوفی واقعی معسر تھا اور اس کا ترکہ قرض ادا کرنے کے لیے کافی نہیں۔ اس کے بعد معاملہ Debt Settlement Committee کو بھیجا جاتا ہے۔ اس سرکاری سروس کے لیے بنیادی شرط یہ بھی درج ہے کہ متوفی امارتِ شارجہ کا شہری ہو۔
اس نظام کا ایک قابلِ توجہ پہلو یہ ہے کہ اسے محض روایتی بینک قرضوں تک محدود نہیں رکھا گیا۔
اس میں ایسے شہری بھی شامل کیے گئے جنہوں نے سرکاری ہاؤسنگ امداد کے ذریعے گھر بناتے ہوئے مکان مکمل کرنے کے لیے امدادی رقم سے زیادہ خرچ کیا اور اضافی قرض لے لیا لیکن بعد میں اس قرض کی ادائیگی کی استطاعت نہ رہی۔
اسی طرح بینک کے بجائے کمپنیوں یا دوسرے افراد کے مقروض شہریوں کے معاملات بھی زیرِ غور آسکتے ہیں، جبکہ کم آمدنی والے معسر افراد جن پر بڑی خاندانی ذمہ داریاں ہوں بھی ان زمروں میں شامل رہے ہیں جن کے حالات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
مزید یہ کہ ابتدائی پالیسی میں بعض ایسے غارمین کی مثال بھی دی گئی تھی جن پر کسی حادثے کے نتیجے میں مالی ذمہ داری، مثلاً دیت، عائد ہوگئی ہو اور وہ اسے ادا کرنے کی استطاعت نہ رکھتے ہوں۔
البتہ یہ اسکیم ہر طرح کے کاروباری نقصان کی بلاشرط تلافی کا پروگرام نہیں۔ پروگرام کی تشکیل کے وقت کمپنیوں اور کنٹریکٹنگ کاروبار کے مالکان کے تجارتی قرضوں کو عام انفرادی قرضوں کے زمرے سے الگ رکھا گیا تھا۔
امارات کے حکمرانوں کی رعایا پروری کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ قرضوں کی ادائیگی کے ساتھ شارجہ میں شہریوں کی آمدنی اور معاشی تحفظ سے متعلق دوسرے اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔ ستمبر 2026 میں کم از کم Dignified Living Allowance کو 20,000 درہم ماہانہ تک بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا، جس کی سالانہ لاگت 1.187 ارب درہم سے زیادہ ہے۔
اس میں 6,652 سماجی امداد حاصل کرنے والے خاندان، 2,251 شارجہ حکومت کے ریٹائرڈ ملازمین، دیگر اداروں سے ریٹائر ہونے والے 5,300 شہری اور 17,776 شارجہ حکومت کے ملازمین شامل ہیں۔
علمتني الحياة..
في ميزان الإنسانية... لا يقاس الحضور بارتفاع الصوت.. بل بعمق الأثر..
لا يقاس الحضور بمن يتحدث عن آلام البشر.. بل بمن يخففها...
لا يقاس بالحضور في عناوين الصحف... بل بالحضور في حياة الناس...
عملتني الحياة بأن الإنسانية لا تحتاج لمن يتحدث باسمها... بل بمن يعمل من أجلها..
الإمارات اختارت عبر تاريخها... وقيمها... ومنذ تأسيسها عبر زايد الخير وإخوانه أن تكون في الجهة الصحيحة من العمل الإنساني..
وستبقى بإذن الله ذات أثر... وصانعة أمل وحياة
#اليوم_العالمي_للعمل_الإنساني
عاجل :
الإمارات توقف كل الأنشطة التجارية والمالية مع إيران.
التصعيد الإقليمي لن يمر دون رد.
سيادة القرار الاقتصادي جزء من حماية الأمن الوطني و الإمارات تحمي مصالحها وتلتزم بالقوانين الدولية.
علمتني الحياة أن التفكير بطريقة مختلفة، أو بناء شيء لم يعتد عليه الناس أو لا يفهمه الناس في وقته يجلب النقد من أصحاب النظرة الضيقة وممن لا يملكون البصيرة لرؤية المستقبل.
طبيعة العمل العام أنه يجلب النقد.. ولابد أن تتحمل، افعل الصواب.. دعهم يتحدثون، أما إذا أردت رضا الناس الكامل فلا تقل شيئاً.. ولا تفعل شيئاً.. ولا تكن شيئاً.
#من_كتاب_علمتني_الحياة
في اليوم العالمي للشباب، نقول لشباب الإمارات: أنتم رهان الوطن، ومحل ثقة قيادته… وهنا في بلادنا، لا سقف لطموحاتكم، ولا مستحيل أمام إرادتكم…وأنتم الجيل الذي سيكتب فصولاً جديدة في قصة الإمارات بعلمكم وأفكاركم وعزيمتكم، والوطن ينتظر منكم الكثير، فأنتم صنّاع المستقبل، والثروة الحقيقية، وبكم تواصل الإمارات رحلتها نحو الريادة العالمية في مختلف الميادين.
بمناسبة "اليوم الدولي للشباب" نؤكد ثقتنا بشباب الإمارات واعتزازنا بدورهم المحوري وإسهاماتهم الفاعلة في مسيرة تنمية الوطن وتعزيز مكانته وريادته العالمية. الشباب هم صنّاع المستقبل ورواد الابتكار والاستثمار في طاقاتهم وتمكينهم هو استثمار في نهضة الأوطان وتقدم المجتمعات وازدهارها.
On International Youth Day, we reaffirm our deep-rooted confidence in the youth of the UAE and underscore our pride in their ongoing contributions to our nation’s development. By embracing innovation and leadership, young people are central to achieving a future in which opportunity can grow for all. The UAE is determined to continue empowering youth as a lasting investment in the shared progress and prosperity of our world.
علمتني الحياة .. أن أعظم استثمار في الإجازات ليس عدد المدن التي نزورها… بل عدد اللحظات التي نصنعها مع عائلاتنا.
الذكريات الجميلة سعادة وطاقة تدفعنا لمزيد من العمل والإنجاز والنجاح.
في مثل هذا اليوم قبل ستين عاماً، كانت أرضنا وشعبنا على موعد مع لحظةٍ غيّرت مجرى التاريخ... ذكرى تسلّم المغفور له الشيخ زايد بن سلطان، طيّب الله ثراه، مقاليد الحكم في إمارة أبوظبي. ومنذ ذلك اليوم، بدأت مسيرة من الإنجازات التي مهّدت للوحدة، وأرست دعائم دولةٍ أصبحت نموذجاً عالمياً في التنمية... وكان زايد حاضراً في كل إنجاز؛ قائداً برؤيته، ووالداً بعطائه، وصانعاً للمستقبل... وفي هذه الذكرى، نستحضر سيرته العطرة، وإنجازاته الخالدة.
قبل ستة عقود، بدأت من أبوظبي قصة قائد آمن بأن المستقبل يُصنع بالإرادة والعمل، وأن الإنسان هو أعظم استثمار للأوطان. وفي ذكرى تولي الوالد المؤسس المغفور له الشيخ زايد، طيب الله ثراه، مقاليد الحكم، نستذكر إرثاً وطنياً صنع نهضةً متواصلة، ورسخ قيماً ستظل نبراساً لمسيرة الإمارات.
Today marks the 60th anniversary of the accession of the UAE’s Founding Father, the late Sheikh Zayed, as Ruler of Abu Dhabi on 6 August 1966. On this historic milestone, we recall the beginnings that nurtured our collective journey of progress and laid the foundations of the Union. Inspired by Sheikh Zayed’s leadership and vision, we will continue to advance his enduring belief that people must always be placed at the heart of efforts to build a sustainable and prosperous future for our nation.