جاناں
جن لمحوں میں تمہیں میرے ساتھ ہونا چاہیے تھا،
تم وہاں ہمیشہ ہی اپنی اَنا کے ساتھ موجود رہے۔
اور میں نے اکیلے رہ کر نہ صرف تمہاری کمی کو،
بلکہ اس اکیلے پن کی حقیقت کو بھی قبول کیا۔
سنو!
محبت کا دعویٰ کرنے میں
اور ہر حال میں ساتھ موجود رہنے میں فرق ہوتا ہے۔
میرے ہم نفس میرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے
میں ہوں درد عشق سے جاں بہ لب مجھے زندگی کی دعا نہ دے
میرے داغ دل سے ہے روشنی اسی روشنی سے ہے زندگی
مجھے ڈر ہے اے مرے چارہ گر یہ چراغ تو ہی بجھا نہ دے
مجھے چھوڑ دے مرے حال پر ترا کیا بھروسہ ہے چارہ گر
یہ تری نوازش مختصر مرا درد اور بڑھا نہ دے
میرا عزم اتنا بلند ہے کہ پرائے شعلوں کا ڈر نہیں
مجھے خوف آتش گل سے ہے یہ کہیں چمن کو جلا نہ دے
وہ اٹھے ہیں لے کے خم و سبو ارے او شکیلؔ کہاں ہے تو
ترا جام لینے کو بزم میں کوئی اور ہاتھ بڑھا نہ دے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شکیل بدایونی
اس سال نے مجھے بڑی نرمی مگر بڑی سختی کے ساتھ
تین سچائیاں سمجھا دیں
وہ سچائیاں جو دل توڑ کر بھی
انسان کو اندر سے مضبوط بنا دیتی ہیں۔
1. جو لوگ جہاں ٹھہرے ہوں،
انہیں وہیں چھوڑ دینا ہی بہتر ہے۔
رابطوں کی عمر بڑھانے سے نہیں،
دل کی سچائی سے ہوتی ہے۔
جو آپ تک آنا چاہتے ہیں،
وہ راستہ خود ڈھونڈ لیتے ہیں
اور جو نہیں آنا چاہتے،
اُن کا پیچھا کرنا بس اپنے آپ کو کھو دینا ہے۔
2. ہر بات کا جواب دینا
ہماری ذمہ داری نہیں۔
کچھ رویّے ایسے ہوتے ہیں
جن کی بہترین سزا صرف یہ ہے
کہ ہم اُنہیں اپنی خاموشی میں دفن کر دیں۔
کچھ جنگیں لڑنے کے لائق نہیں ہوتیں
اور کچھ باتیں ردعمل کے بغیر ہی مر جاتی ہیں۔
3. اور تیسرا سچ…
قبولیت سب سے بڑی آزادی ہے۔
ہر رشتہ، ہر موقع، ہر خواہش
جیسی ہے ویسی مان لینا
یہ تلخ بھی ہے، مگر شفا بھی۔
کیونکہ جو بدلنا ہمارے ہاتھ میں نہ ہو،
اسے تھامے رکھنا بس بوجھ بڑھاتا ہے
سکون نہیں دیتا۔
یہ تین سادہ سے جملے
انسان کو اندر سے ایسے بدل دیتے ہیں
جیسے کوئی دھیرے سے کندن کو آگ میں رکھ کر
پروان چڑھا دے۔
اگر یہ سمجھ آ جائے
تو یہی ہے وہ سکون جو بہت دیر بعد ملتا ہے۔🥀
مخلص لوگ کبھی آپکو بےوقوف نہیں بناتے۔۔وہ کبھی مالی طور پے تباہ نہیں کرتے۔۔۔۔کبھی آپکو انکمفرٹیبل محسوس نہیں کرواتے۔۔۔۔۔کبھی آپکے ساتھ مائنڈ گیمز نہیں کھیلتے۔۔۔۔۔۔