مسرت ہلالی اُس کٹھ پتلی ٹولے کا حصہ تھی جس نے بڑے اطمینان، بیشرمی اور بے حسی کے ساتھ جمہوریت، آئین اور قانون کی حکمرانی کی گردن کو آخری جھٹکا دیا، یہ ٹولہ آخری وقت تک سب کچھ کرتا رہا کہ کہیں کوئی کسر باقی نہ رہ جائے، انہوں نے پوری تسلی کی کہ کہیں عمران خان بچ نہ جائے، فائز عیسی کالی آندھی کی طرح آیا جو سب کچھ جڑ سے اکھاڑ گیا۔ یہ آسیب زدہ لوگ جن کی منحوس پرچھائی اس ملک کی ساری میراث کھا گئی، قاضی زندہ لاش کی طرح پھر رہا ہے اور یہ بھی عدالتی تاریخ کے شرمناک اور گھٹیا ترین کرداروں میں شامل ہو کر بطور ضرب المثل یاد رکھی جائے گی جس طرح جسٹس منیر اور مولوی مشتاق جیسے خبیث لوگ آئے
علیحدگی پسند تحریکیں خلا میں پیدا نہیں ہوتیں ۔ انہیں زرخیز زمین سیاسی افراط وتفریط سے میسر آتی ہے ۔ اسکے برعکس ، جب عوام کو یقین ہو کہ انکا ووٹ بااختیار ہے، ان کی رائے قابلِ احترام ہے اور وہ حکومت میں برابر کے شراکت دار ہیں، تو بیرونی مداخلت اور علیحدگی پسند بیانیے کو سر چھپانےکی جگہ نہیں ملتی، حفیظ اللہ نیازی
سلمان صفدر صاحب نے جج سے کہا کہ جیل سپریٹنڈنٹ سے پوچھیں کہ انہوں نے گزشتہ تین برس میں عمران خان کو عید کی نماز کیوں نہیں پڑھنے دی؟ لیکن جج صاحب نے سامنے کھڑے جیل حکام سے یہ سوال نہ پوچھا
علیمہ خان کی آواز بنیں 🚨
ہمیں پکا یقین ہو گیا ہے یہ کچھ چھپا رہے ہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ شفا انٹرنیشنل ہسپتال سے فیملی اور ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں عمران خان کا علاج کروائی جائے۔
سوشل میڈیا اس پر زیادہ سے زیادہ آواز اٹھائیں
منیب فاروق عوام کو ڈراتے ہوئے کہ اگر آپ سہیل آفریدی کے ساتھ احتجاج میں آئے تو 26 نومبر، 2024 والی (خونریزی) دوبارہ ہو گی۔
بھئی واہ۔ کیا زبردست معیار ہے صحافت کا۔
👏👏👏
آج حفیظ اللہ نیازی صاحب کا کالم کافی فکر انگیز ہے۔۔ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس میں ریاست کے لئے اہم مسائل سے نکلنے کے لئے رہنمائی موجود ہے۔اگر کوئی نکلنا چاہے تو۔
جس دن عمران خان کو وزارت اعظمیٰ کے عہدے سے ہٹایا گیا،
تو تحریک انصاف کے ایم این ایز افسردہ تھے، سب اپنے اپنے گھروں میں بیٹھے تھے آرام سے، یہاں تک کہ عمران خان بھی اپنے گھر آرام کر رہے تھے،
لیکن پورے پاکستان میں عوام عمران خان کے حق میں بہت بڑی تعداد میں باہر نکل آئی،
اس رات کے بعد سے عمران خان کی سیاست کا منظر نامہ بدل گیا تھا، شہزاد اقبال
موجودہ ججز کو یہ احساس کرنا چاہیئے کہ طاقتوروں کے سامنے جو آپ جھک کر فیصلے لے رہے وقتی طور پر تو آپکو ہار پہنائے جا رہے کل یہی ہار پہنانے والے آپ کی بربادی کے قصے لکھیں گے۔
قاضی فائز عیسی اور جسٹس منیر کا نام بری مثال کے طور پر لیا جاتا ہے ، ہم تو آج بھی انکی مخالفت کر رہے لیکن انکے اپنے لوگ کل انکی کہانیاں سنائیں گے کہ کس طرح انہوں نے طاقتوروں کے ساتھ ملکر ظلم کیا؛
بیرسٹر ابوذر سلمان نیازی
"وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم آپکو Trap کریں گے" - شاہ محمود قریشی
"کردیں کردیں" - عمران خان کا مسکراتے ہوئے جواب
یہ تب کا واقعہ ہے جب عمران خان پشاور میں پریس کانفرنس کر رہے تھے اور اسٹیبلشمنٹ کے ایک اعلی عہدیدار کا شاہ صاحب کو فون آیا کہ آپ لوگ خاموش ہو جایئں ورنہ اپکو ہم ٹریپ کریں گئے اور خان صاحب نے دلیری سے کہا کہ کردیں ، پھر دنیا نے دیکھا کہ واقعی 9 مئ کا ڈرامہ رچا کر اسکی آڑ میں اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان کے ساتھ سب سے گندہ کھیل کھیلا۔
فل کورٹ ریفرنس کے بعد جسٹس مسرت ہلالی سے ہم چند صحافیوں کی ایک مختصر ملاقات ہوئی۔ @saqibbashir156 صاحب نے جج صاحبہ سے سوال کیا: "میڈم! آپ کے جوڈیشل کیریئر کے وہ کون سے فیصلے ہیں جو آپ کو ہمیشہ یاد رہیں گے؟" جج صاحبہ نے صرف دو فیصلوں کا ذکر کیا: پہلا، جس میں انہوں نے تنسیخِ نکاح کو خلع میں تبدیل کرنے کیخلاف فیصلہ دیا، اور دوسرا، جس میں 16 سال سے قید ایک بے گناہ شخص کو بَری کرتے ہوئے نہ صرف غلط سزا دلوانے والوں پر مقدمے کا حکم دیا بلکہ متاثرہ شخص کو ہرجانہ بھی ادا کرایا۔
ذرا اندازہ کیجیے! جسٹس مسرت ہلالی 11 سال پشاور ہائی کورٹ اور 3 سال سپریم کورٹ میں رہیں، لیکن اپنے 14 سالہ طویل عدالتی کیریئر کا نچوڑ ان کے نزدیک صرف یہی دو فیصلے تھے۔ وہ فیصلے ان کے حافظے سے اتنی جلدی کیسے محو ہو گئے جنہوں نے ملکی سیاست کا رخ ہی موڑ دیا؟ جیسے 'بلے' کا انتخابی نشان واپس لینا، سویلنز کیلئے ملٹری کورٹس کی بحالی، یا مخصوص نشستوں کا کیس، جہاں عوامی منشا پر طاقتوروں کی مرضی کو مسلط کیا گیا۔ کیا اتنے بڑے آئینی و سیاسی اثرات کے حامل فیصلے واقعی بھلائے جا سکتے ہیں؟ یا پھر جج صاحبہ کے اس جواب میں ایک خاموش اعتراف چھپا تھا کہ ان فیصلوں کی اخلاقی اور آئینی حیثیت ایسی نہیں کہ ان کی بوجھ اٹھانا آسان نہیں ؟
علیمہ خان گزشتہ دس ماہ کے دوران تقریباً چالیس مرتبہ ہر منگل اڈیالہ جیل گئیں، مگر ہر بار انہیں عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔اڈیالہ جیل سے آج جاری ہونے والی رپورٹ حقائق کے برعکس اور گمراہ کن ہے، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کو اپنی قانونی ٹیم سے بھی ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ بیرسٹر سلمان صفدر
ہمارا ویزہ اور نائیکاپ مسلسل Deny کیا جا رہا ہے وزیر دفاع نے کہا ہمیں عمران خان کے بیٹوں کے آنے سے کوئی مسئلہ نہیں انکو مسئلہ ہونا بھی نہیں چاہیے لیکن یہ ویزہ نہیں دے رہے ہم اپنی کوشش جاری رکھیں گے۔
قاسم خان کی CNN سے گفتگو
جسٹس مسرت ہلالی ریٹائر ہو گئیں، جج صاحبہ نے بلے کا نشان نہ دینے، ملٹری کورٹس ٹرائل کی اجازت، ن لیگ/پیپلز پارٹی کو مخصوص نشستیں دینے سمیت کئی اہم فیصلے سنائے۔ قوم خدمات پر مقروض ہے۔