ہر نیا سال، سال بھر ہم نے
ایک ہی آس میں گزارا ہے
سانس در سانس لمحہ لمحہ ہمیں
ہجر کی لذتوں نے مارا ہے
یہ جو کارِ حیات ہے جاناں
تیرے بن مستقل خسارہ ہے
زندگی ہم خرید بیٹھے تھے
قرض ہر سانس نے اتارا ہے
کیا مناؤں میں سالِ نو ابرک
یہ وہی سال پھر دوبارہ ہے۔
سالِ نو صرف استعارہ ہے
وقت ہر ایک سا ہمارا ہے
وقت نے صرف پلک ہے جھپکی
آنکھ میں ہو بہو نظارہ ہے
خامشی میں وہی تعفن اک
گفتگو میں وہی غبارہ ہے
حال بگڑا ہے اور بھی اپنا
ہم نے جتنا اسے سنوارا ہے
اپنے سائے کے ساتھ چلتے رہے
اور سمجھتے رہے تمہارا ہے
اس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی
آج پہلی بار اس سے میں نے بے وفائی کی
ورنہ اب تلک یوں تھا، خواہشوں کی بارش میں
یا تو ٹوٹ کر رویا یا پھر غزل سرائی کی
دکھ ہوا اس در پر جب کل فراز کو دیکھا
لاکھ عیب تھے اس میں، خو نہ تھی گدائی کی
فراقِ یار کی بارش ملال کا مموسم
ہمارے شہر میںں اترا کمال کا موسم
بہت دنوں سے مرے نیم وا دریچوں میں
ٹھہر گیا ہے، تیرے خیال کا موسم
محبتیں بھی تیری دھوپ چھاوں جیسی ہیں
کبھی یہ ھجر، کبھی وصال کا موسم
مفاہمت نہ سکھا جبرِ نا روا سے مجھے
میں سر بکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے
رچا ہوا ہے بدن میں ابھی سرور گناہ
ابھی نہ خوف آئے گا سزا سے مجھے
زباں نے جسم کا کچھ زہر تو اُگل ڈالا
بہت سکون مِلا تلخیِ نوا سے مجھے
میں خاک سے ہوں مجھے خاک جزب کر لے گی
اگرچہ سانس ملے عمر بھر ہوا سے مجھے
غزا اسی میں میری، میں اسی زمیں کی غزا
سدا پھر آتی ہے کیوں کیوں پردہِ خلا سے مجھے
میں جی رہا ہوں ابھی اے زمینِ آدم خور
ابھی نہ دیکھ تو اتنی اشتہا سے مجھے