یہ پاکستان ہے،،پاک سرزمین!
مگر افسوس، اس پاک سرزمین کو غلیظ سوچ، گھٹیا کردار اور بدعنوان ذہنیت رکھنے والے افراد نے گندستان بنا کر رکھ دیا ہے۔
مسئلہ پاکستان کی مٹی میں نہیں،
مسئلہ اُن لوگوں میں ہے جو اس ملک کو اپنی جاگیر سمجھ بیٹھے ہیں۔
یہ ملک پاک تھا، پاک ہے اور پاک رہے گا،،
بس ضرورت ہے تو اس گندگی کو صاف کرنے کی!
سندھ میں کروڑوں لوگ خان کیلئے باہر نکل ائے
سندھ کے ہر علاقہ سے عوام نے خان کیلئے جان دینے کا اعلان کردیا اگلی منزل بلوچستان اور پنجاب ہے
اور ناظرین اڈیالہ کے باہر اسی عمران کیلئے تین عدد باجیاں دو کیمرہ مین تین عدد راہگیر موجود ہیں
عوام کا ٹھاٹھیں مارتا نالا لئی اڈیالہ پہنچ گیا
اختلاف ضرور کریں مگر پاکستان میں کوئی لیڈر کوئی صحافی کوئی شہری غدار نہیں ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے اس گندے کھیل کا مزید حصہ مت بنیں۔ غدار صرف وہ ہیں جنہوں نے اپنا حلف اور ملک کا آئین توڑا۔
اور ناظرین ڈرگ پیڈلر منشیات فروش پوست فروش زن فروش سہیل آفریدی نے سندھ کی عوام اور حکمرانوں کو بیغیرت قرار دیا ہے
بلاول بھٹو زرداری کیسا لگا یہ والا “ جیسچر “
بلال غوری کے خلاف فوج کے اندرونی معاملات ٹرانسفر پوسٹنگ بارے فیک نیوز ڈس انفارمیشن پھیلانے پر کاروائی ہوئی لیکن پاک بھارت جنگ دوران صدیق جان جمیل فاروقی ثمینہ سٹرابری حسنین رفیق جیسے کرداروں نے کھل کر پاکستان مخالف بیانیہ بنایا لیکن ریاست ستی پئی ہے
جس بات پر آج شور مچایا جارہا ہے وہی بات صدیق جان ملیحہ ہاشمی ڈنکے کی “ چوٹ “پر چکے ہیں اور پنجاب کو یہ دھمکی کھلے عام دے چکے ہیں کہ اگر پختونخوا سے مجاہد اگئے تو پنجاب پولیس اور ریاست دیکھتی رہ جائے گی اور یہی بات ہم کررہے ہیں کہ دہشتگردوں کی سب سے بڑی سہولتکار پختونخوا حکومت ہے
شریف خاندان کے دلوں سے ہمیشہ بھارت کے لیے پیار ابھر کر نکلتا ہے اور اپنے ہی چھوٹے صوبوں کے لیے نفرت۔ پنجاب کی جعلی وزیراعلی آج کھل کر اس بات کا اظہار کررہی ہے کہ اس کو انڈیا سے نہیں اپنے پڑوسی صوبوں سے خطرہ ہے ۔ ان کی نیت ایک بار پھر پاکستان کو توڑنے کی ہے۔
پاکستان کا اصل دشمن کون ہے، اس کا فیصلہ اب ان اقتدار بھوکوں کی پسند و ناپسند پر ہونے لگا ہے۔ پنجاب کی جعلی وزیراعلیٰ کا اپنے ہی ملک کے پڑوسی صوبوں سے خطرہ محسوس کرنا اور ان کے خلاف سخت زبان استعمال کرنا انتہائی افسوسناک اور غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔ جب ایک صوبائی سربراہ اپنے ہی ہم وطنوں کے ساتھ اتحاد اور یکجہتی قائم کرنے کے بجائے ان کے خلاف نفرت اور تفریق کو ہوا دے، تو اس سے وفاق کی بنیادیں ہل جاتی ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ شریف خاندان کا یہ رویہ نیا نہیں ہے۔ ماضی میں بھی نریندر مودی جیسے متعصب بھارتی رہنما کے ساتھ ذاتی مراسلت، بغیر ویزا جاتی امرا میں ان کی میزبانی اور بھارتی جارحیت پر مسلسل پراسرار خاموشی نے ہمیشہ شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔ ایک طرف روایتی دشمن سے لچکدار رویہ اور پینگیں بڑھانے کی کوششیں کی جاتی ہیں، تو دوسری طرف اپنے ہی چھوٹے صوبوں اور ہم وطنوں کو خطرہ قرار دے کر نشانہ بنایا جاتا ہے۔
یہ طرز عمل ثابت کرتا ہے کہ اقتدار کی بقا کے لیے ملکی سالمیت اور صوبائی ہم آہنگی کو داؤ پر لگانا ان کا پرانا طریقہ کار ہے۔ اگر اپنے ہی ملک کی اکائیاں اور اپنے ہی لوگ آپ کو دشمن اور خطرہ نظر آنے لگیں، تو مسئلہ پڑوسی صوبوں میں نہیں بلکہ آپ کی اپنی سوچ اور ترجیحات میں ہے۔
فوج کو شرم آنی چاہیئے کہ ایک ایسی گھٹیا، منافق، نسل پرست اور متعصب عورت کو ملک کے سب سے بڑے صوبے پر مسلط کیا جو ملک کے دشمن کو اپنا کہہ رہی ہے اور اپنے ملک کے ایک صوبے کو دشمن کہہ رہی ہے، مودی اتنا تمہارا یار ہے تو جاؤ بھارت اس کی گود میں بیٹھ جاؤ یہاں کیا کر رہی ہو۔
اینکر ۔ کیا TTP دہشتگرد جماعت ہے ؟
شفیع جان ۔ یئی یئی یئی یئی یئی یئی یئی یئی یئی یئی یئی یئی
سہولت کاری تم کرو وٹہ سٹہ تم کرو “ امارا زبان امارا کلچر تم بیچو “ رہائش تم دو اور آپریشن ہونے پر جرگہ جرگہ تم کھیلو اور گالیاں پنجاب کو ؟
سندھ کے ہوٹلوں پر چائے کا اپنا ہی مزہ ہے، کمال کی چائے ملتی ہے! ☕
اور سندھی کھانوں کا تو کوئی جواب ہی نہیں،،ذائقہ ایسا کہ ایک بار کھائیں تو بار بار دل کرے۔ ❤️