گورنر راج لگنے سے آج تک تقریبا 13 روز ہوگئے حیات آباد میں یا تو انٹرنیٹ ہے ہی نہیں یا پھر انتہائی سست ہے
حیات آباد والوں کا قصور صرف اتنا ہے کہ اس کیساتھ باڑہ نزدیک ہے اور باڑہ والوں نے گورنر راج اور ایمرجنسی کیخلاف احتجاج کیا تھا
چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس عتیق شاہ صاحب کی عدالت نے 11 اکتوبر کو لاپتہ ہونے والے وزیر اعلی کی بازیابی کے لیے 3 نومبر کی تاریخ رکھ رک ریکارڈ قائم کیا ہے
کیا کل کسی جج کے ساتھ (اللہ نا کرے ایسا ہو) بھی ایسا ہو جائے تو کیا پھر ہائی کورٹ ایسے ہی لمبی تاریخ ڈالے گی ؟؟؟؟
سوال تو بنتا ہے
پشاور سے 5 ماہ سے لاپتہ بچے کا کیس، پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عتیق شاہ کا پولیس کو مزید مہلت دینے سے انکار
آئی جی کی غیر حاضری پر سی سی پی او عدالت میں پیش
پانچ ماہ گزر جانے کے باوجود بچہ غائب کیوں ہے؟ چیف جسٹس عتیق شاہ کا استفسار
بچے کی بازیابی کے لیے کچھ وقت دیں، سی سی پی او
مزید مہلت نہیں دی جا سکتی، آئندہ پیر تک ہر صورت بچہ بازیاب کرکے عدالت میں پیش کیا جائے، چیف جسٹس عتیق شاہ
نوٹ: چیف جسٹس صاحب! دو ہفتوں سے صوبے کا وزیراعلی بھی لاپتہ ہے، اس پر کوئی ایکشن لینے کا ارادہ ہے یا مزید 5 ماہ انتظار کی ضرورت ہے؟
پشاور یونیورسٹی مشاعرے میں جب ایک سٹوڈنٹس نے کہا
یہ نظم نیلسن مینڈلہ کے نام
یہ نظم باچا خان کے نام: نوجوانوں نے تالیاں بجانا شروع کی
لیکن جیسے ہی کہا: یہ نظم خاص کر عمران خان کے نام تو پورا حال تالیوں اور نوجوانوں کے نعروں سے گونج اٹھا ♥️
پختون خوا پولیس کے بہادر بیٹے DSP عمران الدین آج دہشتگردوں کے حملے میں شہید ہو گئے، کیریئر میں ہمیشہ فرنٹ لائن پر دہشتگردوں کا مقابلہ کیا، جوانوں کیلئے بڑی ڈھال رہے۔
انا لله و انا الیه راجعون
کرک میں شہید ہونیوالے پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کردی گئی
آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی جواد قمر، آر پی او کوہاٹ شاکر حسین داوڑ اور دیگر کی شرکت
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی اور انکی مشاورتی کونسل کے کسی بھی رکن نے شرکت نہیں کی
ہم کہیں نہیں جائیں گے یہی پر انکا مقابلہ کریں گے، یہ بزدل لوگ ہیں اپنی بزدلانہ کارروائیوں سے ہمیں ڈرا نہیں سکتے، شہید ڈی ایس پی CTD عمران الدین کے الفاظ 💔
پختون قوم اپنے اس بہادر آفیسر پر فخر کرتی ہے اور ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گا!!!
DSP شہید عمران الدین آخر تک دہشتگردوں سے لڑا۔ خیبر پختونخواہ پولیس کے اس بہادر بیٹے نے اپنے کیریئر میں بے شمار آپریشنز کئے۔ کئی بار جان خطرے میں ڈالی اور آج شہید ہوگیا۔ عمران الدین دہشتگردوں کے خلاف دہشت کی علامت تھا۔
شہید عمران الدین کو سب سے بڑا ایوارڈ نشان حیدر دینا چاہیے۔
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
ڈی ایس پی عمران الدین شہید (کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ - خیبر پختونخوا پولیس)
آج پاکستان نے ایک غیرت مند اور بہادر بیٹا کھو دیا ہے اور خیبر پختونخوا پولیس ایک ایسے نڈر، بااصول اور جری افسر سے محروم ہو گئی ہے جس کی شجاعت، دیانت داری اور قربانی کو تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔
ڈی ایس پی عمران الدین شہید کا شمار ان بے باک افسران میں ہوتا تھا جنہوں نے ملک و قوم کی سلامتی کے لیے ہمیشہ خطرات کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ متعدد قاتلانہ حملوں، بم دھماکوں اور فائرنگ کے واقعات میں زخمی ہونے کے باوجود ان کے پایہ استقلال میں کبھی لغزش نہ آئی۔
جب ایک حملے کے بعد انہیں محفوظ مقام پر تبادلے کی پیشکش کی گئی، تو انہوں نے کہا: "دہشت گرد سمجھیں گے کہ میں ڈر گیا ہوں!" وہ ایک بااصول اور پیشہ ور افسر تھے جنہوں نے فرنٹ لائن پر رہ کر ہمیشہ اپنے فرض اور قومی غیرت کو مقدم رکھا۔
وہ ایک بااصول اور پیشہ ور افسر تھے جنہوں نے فرنٹ لائن پر رہ کر ہمیشہ اپنے فرض اور قومی غیرت کو مقدم رکھا۔
ضلع کرک کے علاقے چارپارہ (خُرّم محمد زئی) میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کی جانب سے خفیہ اطلاع پر کیے جانے والے سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن کے دوران شدت پسندوں اور پولیس کے درمیان زبردست فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ ڈی ایس پی عمران الدین شہید نے اگلی صفوں میں قیادت کرتے ہوئے اپنے رفقائے کار کے ساتھ بہادری سے مقابلہ کیا اور فرض کی راہ میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔
خاطر خواہ مواقع میسر ہونے کے باوجود انہوں نے خطرے سے پیچھے ہٹنے کی بجائے آخری سانس تک میدانِ عمل میں ڈٹے رہنے کو ترجیح دی۔ ان کی یہ عظیم قربانی خیبر پختونخوا پولیس کی اعلیٰ روایت اور پاسبانِ وطن کی بے مثال شجاعت کا روشن باب ہے۔
اللہ تعالیٰ ڈی ایس پی عمران الدین شہید اور ان کے شہید رفقاء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ ترین مقام عطا فرمائے اور سوگوار خاندانوں و کے پی پولیس کو یہ عظیم صدمہ صبرِ جمیل کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
بلی بلے کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں تھیلے سے برآمد ۔
آج فیصلہ ہوا کہ مدارس کو ریگولرائز کیا جائے گا ہمیں چیک رکھنا پڑے گا کہ مدارس میں کیا پڑھایا جا رہا ہے کیا سکھایا جا رہا ہے اور ان کے پیچھے کس کے ساتھ لنکس ہیں ! ثمر عرفان اللہ مروت ۔
امن و امان کا بہانہ بنایا گیا ہے اصل مقاصد ان کے کچھ اور ہیں ۔۔
مینا خان نے تو صرف پشاور کیلئے 200ارب کا پیکیج دیدیا تھا
سہیل آفریدی نے قبائل کیلئے ایک ہزار ارب، ہزارہ کیلئے 206 ارب کا پیکیج اورمردان کیلئے 50 ارب کا پیکیج کا اعلان کیا تھا