کوئی چلتا ہے اتنی شان سے کیا
حسن اترا ہے آسمان سے کیا
سلیم طاہر
اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت فرمائے ، جنت الفردوس میں جگہ نصیب عطا فرمائے ۔آمین
کوئی چلتا ہے اتنی شان سے کیا
حسن اترا ہے آسمان سے کیا
تم نے تو بات ہی پکڑ لی ہے
ایسا نکلا میری زبان سے کیا
لوگ مرتے ہیں اس کی آنکھوں پر
ہم بھی جائیں گے اپنی جان سے کیا
ڈوبنے والے کب کے ڈوب چکے
تیرتے ہیں یہ بادبان سے کیا
خاک اڑتی ہے اب در دل پر
آپ نکلے ہیں اس مکان سے کیا
سلیم طاہر
ہمیں وراثت میں اپنا لہجہ ملا ہوا ہے، کلام کر لے جسے بھی کوئی مغالطہ ہے
ہمیں نہ سمجھا، فلاں برا ہے، فلاں برا ہے، ہمارے ہاں درگزر کا رستہ ہے اور کھلا ہے!