🇵🇰 Youm-e-Takbeer 28 May, is more than a date, it’s a declaration written in the courage of a nation. A declaration that our sovereignty is non-negotiable. That our unity cannot be broken. That our commitment to peace, for our region and beyond will never waver.
Today, we stand together as one people, honoring the past and building toward a future worthy of every sacrifice made.
Long Live Pakistan 🇵🇰🇵🇰🇵🇰
#PakistanZindabad #YoumeTakbeer
ایران کو اب یاد رکھنا ہوگا ایران ہمیشہ بھارت کے ساتھ کھڑا رہا دفاعی معاہدہ کیا چاہ بہار بندرگاہ دی سستا تیل دیا کشمیر پر بھارتی موقف کی تائید کی لیکن جب ایران پر مشکل وقت آیا تو انڈیا نے سسرائیل کی حمایت کی اور پاکستان ایران کے ساتھ ڈٹ کر کھڑا ہوا یہ کلپ ایرانیوں کو بھولنا نہیں
ٹی ایل پی کے لیے سبق
کسی بھی حساس مذہبی مسئلے پر لوگوں کو سڑکوں پر نکالنا درست نہیں نا ملک کے لیے درست نا دین کے لیے درست
یہاں سیاسی شعبدے باز اپنی سیاست کی دکان چمکانے کے لیے مسئلے کو اُٹھاتے ہیں خود انکو کچھ نہیں ھوتا دوسرے کے گھر برباد ھو جاتے ہیں
1937 میں انگلینڈ میں چیلسی اور چارلٹن کے مابین فٹ بال کا لیگ میچ کھیلا گیا اور میچ کو 60 ویں منٹ میں شدید دُھند کی وجہ سے روک لیا گیا،
لیکن چارلٹن ٹیم کے گول کیپر سیمے بارٹرم کھیل کو روکنے کے 15 منٹ بعد بھی گول کے سامنے موجود رہے کیونکہ اُس نے اپنے گول پوسٹ کے پیچھے ہُجوم کی وجہ سے ریفری کی سیٹی نہیں سنی تھی، وہ اپنے بازوؤں کو پھیلائے ہوئے اور اپنی توجہ مرکوز کر کے گول پوسٹ پر کھڑا رہا، غور سے آگے دیکھتا رہا اور پندرہ منٹ بعد جب سٹیڈیم کا سیکورٹی عملہ اُس کے پاس پہنچا اور اُسے اطلاع دی کہ میچ منسوخ کردیا گیا ہے تو سیمے بارٹرم نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا،
”کتنے افسوس کی بات ہے کہ جِن کے دفاع کے لیئے میں کھڑا ہوا تھا وہ مُجھے ہی بُھول گئے 😰“
زندگی کے میدان میں کتنے ہی ایسے ساتھی موجود ہوتے ہیں جن کے مفادات کے دفاع کیلیئے ہم نے اپنا وقت، صلاحیت اور توانائی صرف کی ہوتی ہیں لیکن حالات کی دُھند میں وہ ہمیں بھول جاتے ہیں،
رشتے دار، دوست اور ساتھی چاہے کھیل کے میدان کے ہوں یا زندگی کے حالات و واقعات کے سرد اور گرم میں ایک اعلٰی ظرف انسان کی طرح ہمیشہ اُنہیں یاد رکھ کر ساتھ لے کر چلنا چاہیئے
چار چیزیں جو مثبت ہیں مگر وہ ہماری ویلیو ڈاؤن کرتی ہیں
1, جب کوئی ہمارا شکریہ ادا کرے اور ہم اسے وصول کرنے کے بجائے غیر ضروری عاجزی دیکھائیں کے نہیں کوئی بات نہیں، یہ کون سا بڑی بات ہے، ایسا تو سب کرتے ہیں.
Not a big deal
اس سے لوگ واقعی یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ہاں ایسی بھی کوئی بڑی بات نہیں۔ جب کوئی شکریہ کہے تو اسے کہیں
So nice of you
2 غیر ضروری معذرتیں کرنا بات بات پے سوری بولنا ویلیو ڈاؤن کرتا ہے۔
جہاں غلطی ہو وہاں ضرور معذرت کریں مگر ہر وقت ہر جگہ صرف معاملہ رفع دفع کروانے یا دوسرے کی انا کو تسکین دینے کے لیے معافی نا مانگیں۔
3.جو شخص ہر وقت دستیاب رہتا ہے لوگ اسے فارغ سمجھتے
ہیں اس کے وقت اور کام کی قدر نہیں کرتے۔ جب ہم خود اپنے وقت کی اہمیت کو نہیں سمجھیں گے اور دوسروں کو نہیں سمجھائیں گے کہ ہمارا وقت قیمتی ہے ایک پکار پہ بھاگے چلے آئیں گے اور YES سر ولا رویہ اپنائیں گے تو کچھ عرصے میں لوگ ہمیں for granted لینا شروع کر دیں گے۔
4، لوگوں کے کام ضرور آئیں مگر ان کے ہاتھوں استعمال مت ہوں صاف صاف منع کرنا سیکھیں زبان سے، اگنورنس سے، باڈی لینگویج سے، چہرے کے تاثرات سے۔
جب لگے کہ بندے کے پاس اپنے لیے کافی ریسورسز موجود ہیں مگر وہ انہیں استعمال کرنے کے بجائے بار بار آپ کو کام کہہ رہا ہے۔ جیسے اکثر لوگ اپنے بچوں کو کام کہنے کے بجائے دوسروں کو گرمی سردی میں کام بتا کے دوڑاتے رہتے ہیں یا اپنے پاس سواری موجود ہوگی مگر دوسرے کے کندھوں پہ سوار رہیں گے جن کی اپنی اولادیں سکون کر رہی ہو اور وہ دوسروں کو کام بتا رہے ہوں وغیرہ وغیرہ ایسوں کو منع کرنا سیکھیں۔ ان کو بتائیں آپ کا وقت بھی قیمتی ہے اور یہ کہ آپ استعمال کے لیے نہیں ہیں۔
لوگوں کو بندوق چلانے کے لیے اپنا کندھا ہرگز مہیا نا کریں.
#موناسکندر
کیا آپ جانتے ہیں کے پاکستان کی قومی ایر لائن PIA کس شخصیت نے حکومت پاکستان کو تحفے میں عطیہ کی تھی
یہ ہیں ہندوستان سے پاکستان ہجرت کرنے والے مہاجر جناب ابوالحسن اصفحانی جو متحدہ ہندوستان میں اورینٹ ایرویز کے مالک تھے
پاکستان کے قیام کے وقت حکومت پاکستان مالی طور پر اس قابل نہ تھی کے اپنی ایرلائن بنا سکے
سو ابولحسن ا صفحانی نے وقت کی پکار کو لبیک کیا اور اپنی ایرلائن اورینٹ ایرویز کے ساتھ پاکستان میں آبسے
اور اپنی ایرلائن کو مکمل طور پر نئی مملکت پاکستان کو عطیہ کر دیا جو پاکستان کی قومی ایرلائن بنی اور اس کا نام پاکستان انٹرنیشنل ائر لائن رکھ دیا گیا۔
محسن پاکستان ابوالحسن اصفحانی کو ہمارا سلام
یہ جناح کے زیارت میں قیام کے زمانے کی بات ہے کہ ڈاکٹر کرنل الٰہی بخش نے فاطمہ جناح سے پوچھا: ’آپ کے بھائی کو کچھ کھانے پر کیسے آمادہ کیا جائے، ان کی خاص پسند کا کوئی کھانا بتائیں۔”
فاطمہ جناح نے بتایا کہ بمبئی میں ان کے ہاں ایک باورچی ہوا کرتا تھا جو چند ایسے کھانے تیار کرتا تھا کہ بھائی ان کو بڑی رغبت سے کھاتے تھے، لیکن پاکستان بننے کے بعد وہ باورچی کہیں چلا گیا۔ انھیں یاد تھا کہ وہ لائل پور (موجودہ فیصل آباد) کا رہنے والا تھا اور کہا کہ شاید وہاں سے اس کا کچھ اتا پتا مل سکے۔
یہ سن کر ڈاکٹر صاحب نے حکومت پنجاب سے درخواست کی کہ اس باورچی کو تلاش کر کے فوراً زیارت بھجوایا جائے۔ کسی نہ کسی طرح وہ باورچی مل گیا اور اسے فوراً ہی زیارت بھجوا دیا گیا تاہم جناح کو اس کی آمد کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔
کھانے کی میز پر انھوں نے اپنے مرغوب کھانے دیکھتے ہوئے تعجب کا اظہار کیا اور خوش ہو کر خاصا کھانا کھا لیا۔ جناح نے استفسار کیا کہ آج یہ کھانے کس نے بنائے ہیں تو ان کی بہن نے بتایا کہ حکومت پنجاب نے ہمارے بمبئی والے باورچی کو تلاش کر کے یہاں بھجوایا ہے اور اس نے آپ کی پسند کا کھانا بنایا ہے۔
جناح نے بہن سے پوچھا کہ اس باورچی کو تلاش کرنے اور یہاں بھجوانے کاخرچ کس نے اٹھایا ہے۔ عرض کیا کہ یہ کارنامہ حکومت پنجاب نے انجام دیا ہے، کسی غیر نے تو خرچ نہیں کیا۔ پھرجناح نے باورچی سے متعلق فائل منگوائی اور اس پر لکھا کہ ’گورنر جنرل کی پسند کا باورچی اور کھانا فراہم کرنا حکومت کے کسی ادارے کا کام نہیں ہے۔ خرچ کی تفصیل تیار کی جائے تا کہ میں اسے اپنی جیب سے ادا کرسکوں‘ اور پھر ایسا ہی ہوا!!”
خصوصی رپورٹ “قائدِ اعظم کی زندگی کے آخری 60 دن” سے اقتباس ۔
بی بی سی اردو
🔴 غزہ میں دنیا کا سب سے مختصر جمعہ خطبہ دیا گیا:
امام نے کہا: "اے لوگو! میں بھوکا ہوں، بولنے کی طاقت نہیں، تم بھی بھوکے ہو، سننے کی طاقت نہیں۔ نماز پڑھو" — اور منبر سے اتر کر نماز پڑھا دی۔
ان صاحب کا کہنا ہےPPحکومت نے گڈو بیراج کےدروازے بند کر دئے ہیں۔پیچھے سے8لاکھ کیوسک پانی آنے والا ہے لیکنPPسیلاب کی سیاست کرنا چاہتی ہے۔پیچھے سے آنے والے پانی کو موجود پانی کےساتھ ایک دم چھوڑا جائے گا تاکہ سندھ ڈوبے اور یہ کرپٹ بھکاری بھیک مانگیں دنیا سے اور پھر امداد کھا جائیں۔
ایک بادشاہ کے دربار میں ایک اجنبی نوکری کی طلب لیے حاضر ہوا
بادشاہ نے اس کی قابلیت پوچھی تو اس نے جواب دیا: "میں سیاسی ہوں"
(یاد رہے، عربی زبان میں "سیاسی"
اس شخص کو کہتے ہیں جو افہام و تفہیم سے مسئلے حل کرنے والا معاملہ فہم ہو.
چونکہ بادشاہ کے پاس پہلے ہی بہت سے سیاستدان موجود تھے،
👇
موٹر سائیکل کا مالک جلدی میں میڈیکل سٹور سے ایمرجنسی میڈیسن لینے گیا اور بائیک لاک کرنا بھول گیا، پیچھے سے پكے کے آ گئے اور قبضہ کر لیا اور تھانے لے جانے لگے تو سلام ہے اس خاتون کو جس نے کھری کھری سنا ڈالیں شرمندہ تو ہوئے لیکن جب منہ کو حرام لگ چکا ہو تو کیا صحیح کیا غلط۔حکومت سے درخواست ہے کہ خدارا ان کے لئے بھی کوئی اسپیشل فورس بنائیں ۔