اگر کوئی آپ سے مختلف سوچنے کی بنیاد پر نفرت کرتا ہے، تو ایسے ہر شخص سے دور ہو جائیں۔ اپنی اس پہلی اور آخری زندگی میں کتابیں پڑھیں، میوزک سنیں، سفر کریں، بہترین سگریٹ پیئیں، دوسروں کو نقصان پہنچائے بغیر آگے بڑھیں، مگر کسی کے تابع مت رہیں۔
آپ کے والدین اب جتنی محبت آپ سے کرتے ہیں اگر آپ خواجہ سرا پیدا ہوتے تو کیا آپ کو اتنی محبت ملتی؟ پھر گھر سے نکال کر دھتکار دئیے جاتے۔ یہاں ہر رشتہ مفادات کیلئے جڑا ہوا ہوتا ہے۔
ہم اس دنیا میں زیادہ سے زیادہ 60-70 سال ہی رہتے ہیں۔ مذہب، قوم اور رنگ کی بنیاد پر کسی سے نفرت نہ کریں۔ اربوں کروڑوں سالوں میں اتفاقاً ملنے والی اس زندگی کو بھرپور جئیں اور جینے دیں۔
والدین کو اولاد سے دوستانہ رویہ رکھنا چاہیے۔ صرف پیدا کر دینا کافی نہیں ہے اپنی اولاد کی بات بھی کبھی سن لیا کریں کہ اس کے ذہن میں کیا ہے، زندگی میں اسے کوئی پریشانی تو نہیں، وہ اداس کیوں ہے، کوئی ایسی بات جو وہ کرنا چاہتا ہے لیکن ڈر کی وجہ سے نہیں کر پا رہا۔
ہم وہی زندگی گزار رہے ہیں جو ہمارے آباؤاجداد نے گزاری ہے۔ شادی، بیوی، بچے اور پھر ساری عمر نوکری، ہم بھی یہی کر رہے ہیں اور ہمارے آنے والے بچے بھی یہی کریں گے۔ کبھی مختلف جینے کی ہمت کرو۔
دنیا کا سب سے بڑا رسک شادی ہے، اگر آپ بے روزگار ہیں تو شادی مت کریں، سب سے پہلے اتنا پیسہ کمائیں تاکہ شادی کے بعد آپ کی بیوی اور بچوں کو مالی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ورنہ ساری زندگی ضروریات پوری کرنے میں گزر جائے گی۔
ہمارے معاشرے میں لوگ اپنی زندگی کی اتنی فکر نہیں کرتے جتنی دوسرے کی زندگی کی کرتے ہیں۔ آپ عبادت کرتے ہیں یا نہیں، آپ کی شادی کیوں نہیں ہوئی، آپ کام کیوں نہیں کرتے، آپ کہاں جاتے ہیں، آپ سگریٹ کیوں پیتے ہیں۔ یہ ہر انسان کے ذاتی معاملات ہیں، جیو اور جینے دو۔
ہم یہ تو لکھتے ہیں کہ غریب کو بچے پیدا نہیں کرنے چاہیے، یا شادی سے پرہیز کرنا چاہیے۔ لیکن ہمیں ان لوگوں کے بارے میں بھی کچھ تو لکھنا چاہیے جن کی وجہ سے غریب اور مڈل کلاس طبقے کی حالت قابل رحم ہے۔