مہنگائی کے خلاف عوامی تحریک جاری رہے گی، خواتین ہر محاذ پر صفِ اول میں اپنا کردار ادا کرتی رہیں گی۔
الحمدللہ! ایک ماہ کے نجی دورے کے بعد وطن واپسی ہوئی ہے۔
اس موقع پر میں حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کی تمام ارکان و کارکنان کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہوں، جنہوں نے میری غیر موجودگی میں بھی مہنگائی کے خلاف جاری عوامی تحریک کو پوری استقامت، فرض شناسی اور عزم کے ساتھ آگے بڑھایا۔
جولائی سے جاری اس تحریک میں ہماری کارکنان نے جس ذمہ داری اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے، وہ قابلِ تحسین ہے۔ تحریک کے حوالے سے کارکنان کی گرمجوشی اور عوامی دلچسپی میں دن بدن اضافہ خوش آئند ہے۔
مہنگائی نے عام آدمی، بالخصوص خواتین کے لیے گھریلو اخراجات پورے کرنا دشوار بنا دیا ہے۔ ایسے حالات میں عوامی حقوق کے لیے آواز بلند کرنا اور مہنگائی کے بوجھ میں کمی کے لیے جدوجہد جاری رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مجھے اس بات پر اطمینان ہے کہ حلقہ خواتین جماعت اسلامی کی ارکان و کارکنان روزِ اول سے اس تحریک میں اپنے بھائیوں کے شانہ بشانہ صفِ اول میں موجود ہیں۔ ہماری خواتین نے استقامت اور عزم کے ساتھ تحریک کو آگے بڑھانے میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا ہے اور ان شاء اللہ آئندہ بھی عوامی حقوق کی اس جدوجہد میں اپنا مؤثر کردار ادا کرتی رہیں گی۔
مجھے امید ہے کہ اوکاڑہ میں منعقد ہونے والے جلسہ عام میں ہماری ارکان، کارکنان اور عام خواتین بھرپور شرکت کریں گی۔ خواتین کی فعال شرکت اس تحریک کی قوت اور تسلسل کا اہم ذریعہ ہے۔
میں اپنی تمام کارکنان سے توقع رکھتی ہوں کہ وہ اسی جذبے، نظم و ضبط اور ثابت قدمی کے ساتھ عوامی رابطہ مہم جاری رکھیں گی، تاکہ مہنگائی سے متاثرہ عوام کے مسائل مؤثر انداز میں اجاگر کیے جا سکیں۔
عوامی حقوق کی یہ جدوجہد جاری رہے گی، ان شاء اللہ
پاکستان کو بے نظیر انکم سپورٹ نہیں ایجوکیشن سپورٹ، اسکل سپورٹ اور اے آئی سپورٹ پروگرام کی ضرورت ہے۔ قوم کے بچوں کو معیاری تعلیم اور اسکلز کی ضرورت ہے۔ ایک طرف صوبائی حکومتیں تعلیمی ادارے آؤٹ سورس کررہی ہیں دوسری طرف غریبوں کا نام لیکر سیکڑوں ارب روپے ایک ایسے پروگرام کے لیے رکھے جارہے ہیں جو غربت میں کمی کے بجائے اضافہ کا سبب بن رہا ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق ملک میں گذشتہ تین برس میں غربت میں 33 فیصد اضافہ ہوا اور ایک کروڑ 30 لاکھ نئے افراد غربت کی سطح سے نیچے چلے گئے ہیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام قوم کو بھکاری بنانے کا فراڈ پروگرام ہےاور پی پی اور ن لیگ کی ملی بھگت ہے۔ پیپلزپارٹی کے طرز حکمرانی نے یہ بات ثابت کردی کہ اگر وہ کسی پراجیکٹ کے لیے پیسے مانگ رہے ہے تو سمجھ لیں کرپشن کرنےکے لیے مانگ رہے ہیں ۔اور وڈیرہ سسٹم کو مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔
*بدل دو نظام ممبر شپ ڈرائیو 2026"
جلسہ عام
PP-154, ضلع شرقی لاہور
الحمدللہ خواتین کی کثیر تعداد نے جماعت اسلامی پر اعتماد کا اظہار کیا اور ممبر شپ فارم فل کئے
لیسکو والوں سے گزارش ہے اپنے کھمبے اور تاریں اتار لیں اللہ تعالیٰ پرندوں کے بیٹھنے کا کوئی اور وسیلہ بنا دے گا۔
اگر لاہور کی یہ صورت حال ہے تو باقی پنجاب کا کیا حال ہو گا؟
#لوڈشیڈنگ#بجلی#بل
پیپلزپارٹی کے چیئرمین سینیٹ کے لیے 9 کروڑ کی مہنگی گاڑی خریدی گئی ہے، ن لیگ کی وزیر اعلٰی کے لیے 11 ارب کا طیارہ! جبکہ غریب عوام پر پٹرول بم گرا دیا۔ عوام سے قربانی کا مطالبہ کرنے والے حکمران عوام کے ٹیکسوں پر عیاشیاں کررہے ہیں
ملک میں آخری چھ سال میں غربت
21.9 فیصد سے بڑھ کر 28.8 فیصد پر پہنچ گئی گویا اصلاً اضافہ 31.5 فیصد ہوا ہے۔ ایک طرف ملکی قرضہ آسمان کو چھو رہا ہے دوسری طرف غربت کا گراف ریکارڈ تیزی سے اوپر جارہا ہے۔ یہ ہے حکمران اتحاد کی رپورٹ کارڈ! آخری 6 سال میں آئی ایم ایف پروگرامز کے تحت اربوں ڈالرز کا قرض لیا گیا، کھربوں روپے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت غریبوں میں تقسیم کے نام پر عملاً فراڈ کیا گیا، مگر نتائج ہولناک ہیں۔صوبائی سطح پر بھی غربت میں اضافے میں تیزی دیکھی گئی۔ درحقیقت ملک کی حکمران جماعتوں کے پاس عوام کی بہبود کا کوئی پروگرام سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ یہ پارٹیاں صرف ذاتی مفادات کا تحفظ کرتی ہیں اور ان کی پالیسیاں اشرافیہ کو فائدہ پہنچانے کے گرد گھومتی ہیں۔ انھیں پرتعیش اڑان کے لیے 11 ارب روپے کا طیارہ چاہیے، چاہے قوم کی حالت کچھ بھی ہو۔
کراچی میں پیپلزپارٹی کی فسطائیت کا مظاہرہ پورا ملک دیکھ رہا ہے، پرامن شہریوں پر آنسو گیس کی شیلنگ اور سندھ اسمبلی پر دھرنے سے روکنے کی کوشش سندھ حکومت کی ناکامی اور بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے۔ بااختیار شہری حکومت کراچی کا حق ہے اور اہل کراچی اپنا یہ حق لیکر رہیں گے۔
#Karachi
نیٹ میٹرنگ کا خاتمہ عوام دشمن فیصلہ ہے، حکومت نے عوام کو دھوکا دیا ہے، جس کا مقصد IPPs مافیا کو بچانا اور عوام سے سستی بجلی کا حق چھیننا ہے۔ اب سولر صارفین اپنی پیدا کردہ بجلی سستے داموں فروخت کریں گے، جبکہ اپنی ضرورت کی بجلی مہنگے ٹیرف پر خریدنی پڑے گی۔ یہ واضح معاشی دہشت گردی ہے۔ پاور سیکٹر میں حکومت کی تمام پالیسیاں ناکام ہو چکی ہیں اور اب اس کا سارا بوجھ عوام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ ہم حکومت اور نیپرا کے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں
یونیورسٹی آف لاہور میں طالبہ کی خودکشی کی کوشش،ایک ہی ہفتے میں دوسرا واقعہ تشویشناک اور لمحہ فکریہ ہے۔
ڈاکٹر حمیرا طارق
#UniversityChallenge#UOL#StudentLife
لاہور ،پنجاب کی سرزمین ہمیشہ مہمان نوازی اور برداشت کی روایات کی علامت رہی ہے۔ کے پی وزیرِاعلیٰ اور دیگر شرکاء کے ساتھ روا رکھا گیا رویہ ان روایات اور جمہوری اقدار کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ مینا خان اور شفیع اللہ جان پر تشدد قابلِ مذمت ہے،اختلاف ہو سکتا ہے، تشدد نہیں۔
ذرا سوچیے ؟؟
دلیل سے بات کرنا کوئی @NaeemRehmanEngr سے سیکھے کچھ دن سے جماعت اسلامی پر اعتراض کرنے والے لوگوں کو بہترین جواب دیا ہے پیپلزپارٹی اپنی بیڈ گورننس اور جرائم کو اجرک کے پیچھے چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی ہے
اجرک عزت والی چیز ہے حافظ نعیم الرحمن نے بہترین جواب دیا
ووٹ کو عزت دینے اور جمہوریت کی چیمپئن بننے والی ان جماعتوں کا حال یہ ہے کہ یہ بلدیاتی نمائندوں سے خوفزدہ ہیں، تمام بلدیاتی اختیارات پر قبضہ کر لیتے ہیں، پنجاب حکومت نے تو حد کردی، انھیں ایک یوسی کا چیئرمین بھی براہ راست عوام کے ووٹوں سےمنتخب ہونا گوارا نہیں۔ لاہور میٹرو پولیٹن کارپوریشن ختم کرکے پورے لاہور کو ٹاؤن کا درجہ دے دیا۔ یہ میئر اور سٹی ناظم کے ٹائٹل سے بھی خوفزدہ ہیں کہ کہیں عوام میں سے حقیقی لیڈر شپ نہ سامنے آجائے۔ یہ تو اپنی پارٹی کے لوگوں سے بھی خوف زدہ رہتے ہیں۔ یہ ہے خاندانی اور وڈیرہ شاہی سوچ۔ جماعت اسلامی نے پورے پنجاب میں بلدیاتی کالے قانون کے خلاف تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔