"ڈاکٹر عظمیٰ خان نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی گرتی ہوئی صحت پر گ��ری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الرٹ جاری کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ معاملہ انتہائی سنگین ہے۔ ٹیسٹ رپورٹس کو چھپایا جا رہا ہے اور اہلخانہ کو مکمل لاعلم رکھا گیا ہے۔ اگر فو��ی طور پر طبی تشخیص نہ ہوئی تو دوسری آنکھ کے ضائع ہونے کا حقیقی خطرہ موجود ہے۔ یہ طبی غفلت کسی بڑے نقصان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔"
آپ اپنی ضرورت کے مطابق ان میں سے جو انداز چاہیں استعمال کر سکتے ہیں۔
عوامی فلاح و بہبود کے منصوبے کسی سیاسی جماعت کی نہیں بلکہ عوام کی ملکیت ہوتے ہیں۔
میانوالی اور سرگودھا ڈویژن کے عوام کے لیے تقریباً 3 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا 200 بیڈز کا 'مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال اور نرسنگ کالج' ایک اہم طبی سہولت ہے، جس کا افتتاح دسمبر 2022 میں سابق وزیراعظم عمران خان نے کیا تھا۔ تاہم، موجودہ حکومت کی جانب سے اس خود مختار ہسپتال کو DHQ ہسپتال میں ضم کرن�� اور مین گیٹ سے افتتاحی تختی ہٹانے جیسے اقدامات سامنے آئے ہیں۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن عوامی منصوبوں کی تاریخی شناخت کو مٹانے کی یہ کوششیں انتظامی اور اخلاقی طور پر درست نہیں ہیں۔
🚨 علیمہ خان کا قوم کے نام اہم ترین اور تفصیلی پیغام!
"چیئرمین عمران خان نے پچھلے تین سال جس خوفناک، کٹھن اور غیر قانونی قید کو انتہائی بہادری اور استقامت سے برداشت کیا ہے، اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ انہوں نے ہر ظلم ہنس کر جھیلا لیکن قوم کے نظریے پر سودا نہیں کیا۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس قربانی کا حق ادا کریں۔ اب گھروں میں بیٹھنے کا نہیں بلکہ اپنی حقیقی آزادی کے لیے میدانِ عمل میں نکلنے کا ��قت ہے۔ قوم اب کسی مصلحت کا شکار نہ ہو، اور اپنی تمام تر توانائیاں، سوچ اور فوکس اب صرف اور صرف 'اسٹریٹ موومنٹ' (عوامی تحریک) پر مرکوز کر دے۔ حقیقی آزادی کا راستہ اب صرف عوامی طاقت سے ہی ممکن ہے!"
پاکستان کی تاریخ کی مقبول ترین سیاسی، سماجی اور کھیلوں کی سب سے بڑی عالمی شخصیت، عمران خان کو اس وقت اڈیالہ جیل کی ایک تنگ اور تاریک 'چکی نما' کال کوٹھڑی میں شدید ترین نامساعد حالات کا سامنا ہے
۔
جیل حکام کی جانب سے بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں عروج پر ہیں:
بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی: سخت گرمی میں نہ تو اے سی (AC) کی سہولت میسر ہے اور نہ ہی ٹھنڈے پانی کا کوئی انتظام۔
��بی غفلت: آنکھوں کی بینائی شدید متاثر ہونے کے باوجود مناسب طبی معائنے اور علاج کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
مذہبی آزادی پر قدغن: وضو کے لیے صاف پانی کی عدم دستیابی سمیت جمعہ کی نماز کی ادائیگی پر بھی پابندی عائد ہے۔
جس شخص نے اپنی زندگی ملک کی خدمت، شوکت خانم جیسے اداروں اور عالمی اعزازات کے نام کر دی، وہ اس نوعیت کے انتقامی سلوک کا حقدار ہرگز نہیں تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کے کسی سیاسی قیدی کے ساتھ ایسا غیر انسانی سلوک نہیں کیا گیا۔
جیل ریفارمز:
یحییٰ آفریدی صاحب کے نام !
یحییٰ آفریدی صاحب، منافق اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ لوگ ہیں۔ امید ہے آپ یہ ثابت کریں گے کہ آپ منافق نہیں۔ مگر آپ کی کانفرنس میں کہی گئی ہر بات آپ کے عمل سے متصادم ہے، اور یہی وہ تضاد ہے جو آپ کو اس منافقت کے کٹہرے میں لا کھڑا کرتا ہے۔
آپ نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ 'جیلیں فوجداری نظامِ انصاف کی حقیقی نبض ہیں۔' اگر واقعی ایسا ہے تو اس نبض کو خود ٹٹول کر دیکھیے۔ اڈیالہ جیل میں ایک سابق وزیرِ اعظم نو فٹ 10 فٹ کی کوٹھڑی میں1000 ہزاردن سے بند ہے۔ اس کی بیوی بشریٰ عمران، جن کا واحد جرم یہ ہے کہ وہ عمران خان کی اہلیہ ہیں، مہینوں سے قیدِ تنہائی میں ایسی کوٹھڑی میں رکھی گئی ہیں جہاں کھلےگٹر ہیں، چوہے ہیں، کیڑے مکوڑے ہیں، اور صبح تک تعفن اتنی ہوتی ہے کہ دروازہ کھولنے والی خواتین خود کھڑی نہیں رہ پاتیں۔ کیا یہ وہ نبض ہے جو آپ کے نظامِ انصاف کی حقیقت بیان کر رہی ہے؟ اگر ہاں، تو یقیناً یہ نظام مر چکا ہے۔
آپ نے فرمایا کہ 'فوجداری نظامِ انصاف انسانی وقار پر مبنی ہونا چاہیے۔' کیسا انسانی وقار؟ بشریٰ عمران کو وضو کے لیے ریت ملا مٹیالا پانی دیا جاتا ہے۔ کھانا اس قابل نہیں کہ کھایا جا سکے۔ نماز کی حالت میں چھت سے چوہے ان پر آ گرتے ہیں۔ دیوار سے ٹیک لگا کر قرآن پاک تک نہیں پڑھ پاتیں کیونکہ کیڑے مکوڑے بھرے پڑے ہیں۔ روزانہ آٹھ سے بارہ گھنٹے بجلی نہیں ہوتی اور شدید گرمی میں کئی بار بے ہوش ہو چکی ہیں۔ جب دم گھ��تا ہے تو تازہ ہوا کے لیے باہر تک نہیں نکلنے دیا جاتا۔ یہ آپ کا 'انسانی وقار' ہے؟
آپ نے فرمایا کہ 'قیدیوں کے حقوق کا تحفظ نظامِ انصاف کا بنیادی حصہ ہے، مگر جھوٹ !
آپ نے فرمایا کہ 'نظامِ انصاف میں احتساب کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔' کیسا احتساب؟ عمران خان نے آپ کو دو خطوط لکھے جن میں اپنے اور بشریٰ عمران کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی تفصیل دی۔ پہلے خط کا جواب یہ آیا کہ معاملہ آرٹیکل 184(3) کے تحت ہے اور آئینی بنچ کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔ نتیجہ؟ کچھ نہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ملاقات کا حکم دیا، مگر اس پر عمل نہیں ہوا۔ توہینِ عدالت کی درخواست دائر ہوئی، مگر سماعت نہیں ہوئی۔ سپ��یم کورٹ نے کہا وفاقی آئینی عدالت میں جاؤ، وہاں بھی تاریخ نہیں لگی۔ دروازے بند کرتے گئے اور عمران خان نے خود لکھا کہ 'ہمارے لیے انصاف کے دروازے بند ہیں۔' آپ کا احتساب کہاں ہے؟
آپ نے خود جیل اصلاحات کی کمیٹی بنائی جس میں خدیجہ شاہ اور احد چیمہ جیسے سابق سیاسی قیدی شامل تھے۔ مگر جب یہ کمیٹی اڈیالہ جیل گئی تو انہیں ��مران خان کی کوٹھڑی تک رسائی نہیں دی گئی۔ خدیجہ شاہ نے خود آپ کو خط لکھ کر شکایت کی۔ آپ کی اپنی بنائی ہوئی کمیٹی کو آپ کے اپنے نظامِ انصاف میں رسائی نہیں ملتی، تو قیدیوں کے حقوق کا کیا حال ہو گا؟
آپ نے فرمایا کہ 'زیرِ التوا مقدمات کم کرنے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔' مگر عمران خان پر تین سو سے زائد مقدمات ہیں جو پاکستان کی تاریخ کا ریکارڈ ہے۔ بشریٰ عمران اور عمران خان دونوں کے بنیادی حقوق کی درخواستیں عدالتوں میں بغیر سماعت پڑی ہیں۔ خیبرپختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کو دس بار عمران خان سے ملاقات سے روکا گیا۔ ایک منتخب وزیرِ اعلیٰ اپنی جماعت کے بانی سے ملنے کی ��جازت نہیں لے پا رہا اور آپ فرما رہے ہیں کہ نظامِ انصاف بہتر ہو رہا ہے؟
سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ یہ کانفرنس آپ نے بلائی، آپ نے چاروں وزرائے اعلیٰ کو ایک چھت تلے جمع کیا، مگر اس کانفرنس میں سیاسی قیدیوں کے معاملے پر کوئی بات نہیں ہوئی۔ سہیل آفریدی نے عمران خان کی حالت بیان کی مختصر، مگر کانفرنس ایک اعلامیے پر دستخط کے ساتھ ختم ہو گئی جس میں بشریٰ عمران اور عمران خان کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ اسی مجلس میں مریم نواز بیٹھی تھیں جن کے زیرِ انتظام جیل میں یہ ظلم ہو رہا ہے، اور آپ نے ان سے ایک سوال نہیں پوچھا۔ عمران خان کی بہنوں پر واٹر کینن چلائے گئے جب وہ اپنے بھائی سے ملنے آئیں، مگر آپ خاموش رہے۔
خان صاحب اور بشریٰ عمران کو آپ کے نظام کی ناانصافیوں کے باعث قید کیا گیا ہے۔ کم از کم ان پر ہونے والی زیادتی رکوا دیجیے۔ اللہ کے حضور آپ کا بھی یہ عذر نہیں چلے گا کہ آپ فوج کے سامنے مجبور تھے۔
اگر ضمیر کی آواز سنیں تو یاد رکھیے، منصب کسی بھی وقت چھوڑا جا سکتا ہے۔ خدارا انصاف نہیں کر سکتے تو منصب چھوڑ دیجیے ورنہ قیامت کے دن یہی منصب آپ کے گلے کا طوق بن جاۓ گا۔
یہ خط میں آپ کو پوسٹ سے بھی بھیج رہی ہوں تاکہ قیامت کے دن حساب رہے
نام اور یہ تصویر دونوں یاد رکھنا
اس نام اور اس شخصیت کو دلوں سے نکالنے کیلے لوگوں کو گولیاں تک ماری گئی کئی نوجوان بزرگ بچے شہید ہوگیے اس محبت میں سینکڑوں ایسے ہیروز آج بھی جیلوں میں قید ہے اس شخص کی محبت میں لیکن آج بھی اس شخص جس کا نام ہے عمران احمد خان نیازی المعروف سسٹم کا باپ دلوں کا بادشاہ اس کی محبت کو کوئی بھی دلوں سے نہیں نکال سکا اور نا نکال پائے گا کوئی ۔۔
#westandwithimrankhan
یہ یادگار لمحہ اور یہ خوشی اور حُب الوطنی سے سرشار مسکراہٹ کوئی عسکری تلوے چاٹنے والا ڈاکٹر تو کیا اس کا باپ بھی تاریخ کے صفحوں اور ہمارے دِلوں سے نہیں مِٹا سکتا۔
اج 92 ورلڈ کپ فائنل میچ دوبارہ وائرل ہے 🔥
کیوںکہ کل آمریکی اوورسیز پڑھے لکھے جاہل ڈاکٹروں نے عاصم منیر کو خوش کرنے کے لیے عمران خان کے چہرے کو Blur کیا تھا! @APPNA
بیشرم تنخواہ دار ڈاکٹر تمھاری ہمت کیسے ہوئی!!
عمران خان، وہ نام جو 1992 میں پاکستان کے ہر دل کی دھڑکن بن گیا تھا۔ وہ ہیرو جس نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا اور ہمیں وہ ورلڈ کپ جیت کر دیا جس کی ہمیں سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ ان کی قیادت، ان کا جذبہ، اور ان کی محنت آج بھی ہماری یادوں میں تازہ ہے۔
لیکن آج... وہی چہرہ، وہی ہیرو، حکومت کے ڈر اور خوف کی وجہ سے چھپایا جا رہا ہے۔ ایک ایسا لیڈر جس نے ملک کی خاطر سب کچھ قربان کر دیا، اسے آج ایک قیدی کی طرح رکھا جا رہا ہے۔
کیا یہ انصاف ہے؟ کیا ہم اپنے ہیروز کے ساتھ یہی سلوک کرتے ہیں؟