ایک طرف وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف کاروائیاں ڈرون حملے ، کرفیو اور ناکہ بندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔مریضوں کو ہسپتال لے جانے کی اجازت نہیں مگر دوسری طرف اسی وزیرستان کے قدرتی معدنیات کو درجنوں گاڑیوں میں ہزاروں ٹنوں کے حساب سے لے جانے میں کوئی رکاوٹ نہیں ۔۔۔۔ سوال تو بنتا ہے
"Iran doesn't have nukes. Israel does.
Iran is a signatory to the NPT. Israel isn't.
Iran has allowed IAEA inspectors into its country.
Israel doesn't."
But Israel's the victim?
My video for Zeteo on how the media's coverage of this crisis is abysmally biased.
لاپتہ افراد کے کیسز کی پیروی کرنے والے وکیل عمران بلوچ ایڈووکیٹ نے اس قانون کو آئین کے آرٹیکل 9 اور 10 کے تحت فیئر ٹرائل کے بنیادی اور انسانی حق کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ بنیادی طور پر اس قانون سے لاپتہ افراد کامسئلہ حل نہیں بلکہ پیچیدہ ہو گا۔
انسداد دہشت گردی (بلوچستان ترمیمی) ایکٹ 2025 کے عنوان سے بلوچستان اسمبلی سے کثرت رائے سے منظور ہونے والے اس بِل کے تحت گرفتار ہونے والے مشتبہ افراد کو 90 روز کے لیے حراست رکھا جا سکے گا اور ایسے افراد کے لیے حراستی مراکز قائم کیے جائیں گے
بورڈ ہر زیر حراست فرد کے کیسز، نظریاتی مزاج، دماغی، جسمانی اور نفسیاتی حالت کا جائزہ لے گا۔ بورڈ ضرورت محسوس کرنے پر بعض افراد کو حکومت کی جانب سے قائم کیے جانے والے حراستی مرکز میں منتقل کرنے کی سفارش کرے گا۔
ترمیمی مسودہ قانون کے تحت ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ یا وزیر اعلیٰ کی منظوری سے مجاز افسر کی سربراہی میں ایک اوور سائٹ بورڈ تشکیل دیا جائے گا جو دو سویلین اور دو فوجی افسروں کے علاوہ ایک کریمنالوجسٹ اور ایک ماہر نفسیات پر مشتمل ہو گا
قانون کے تحت مجاز حکام تحقیقات کے لیے ایسے افراد کے 90 دن کے پروینٹو حراستی آرڈر جاری کر سکتے ہیں جن پر شک ہو کہ وہ مسلح فورسز، سول آرمڈ فورسز، بلوچستان کی سکیورٹی، دفاع پاکستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں، بم دھماکوں، اہم تنصیبات کو نقصان پہنچانے،
بعض ماہرین نے اس قانون کو ’چینی ماڈل‘ قرار دے رہے ہیں۔ یاد رہے کہ چین پر بڑی تعداد میں اویغور مسلم کمیونٹی کے افراد کو حراستی مراکز میں منتقل کر کے ان کے سیاسی نظریے اور سوچ کو تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈالے جانے کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے تاہم چین ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔
اسمبلی سے پاس ہونے والے اس مسودہ قانون کی کسی شق میں لاپتہ یا جبری گمشدہ افراد کا ذکر تو نہیں لیکن وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس قانون کو ایک اہم پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ لاپتہ افراد کے نام پر ملک کے خلاف جو مسئلہ کھڑا کیا گیا، وہ اس قانون کے ذریعے حل ہو گا۔
@KhawajaMAsif ایک سسٹم میں موجود شخص کا سسٹم پر اس معیار کی بد اعتمادی کا اظہار سسٹم کے ناکارہ ہونے کا ثبوت ہے اگر سسٹم اس حالت تہ پہنچ چکا ہے تو پھر لوگوں کو کیوں جبری طور پر اکھٹے رکھا ہے یا ان کا رہا سہا خون بھی چوس لینا ہے