ٹاؤٹ عقیل یوسفزئی سے کوئی پوچھے:
افغان ایمبیسی کی ایک تقریب سے مولانا فضل الرحمٰن کا خطاب کرنا انہیں غدار کیسے بنا دیتا ہے، جبکہ پاکستان کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں افغان سفیر کو باقاعدہ مدعو کرکے خطاب کروانا محبِ وطن اقدام کیسے بن جاتا ہے؟
معیار اگر ایک ہے تو پھر دونوں کے لیے ایک ہی پیمانہ کیوں نہیں؟
سسٹم کولیپس کرگیا ہے تو یا تو محسن نقوی اپنی حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کریں یا پھر خود استعفیٰ دیکر میدان میں آئیں،
لیکن نہیں ,انہوں نے کام بھی اسی تنخواہ پہ کرناہے اور باتیں بھی بڑی بڑی کرنی ہیں۔
خیبرپختونخوا کی موجودہ حکومت میدان میں صرف ایک (گھڑی چور) کی سیاست بچانے کےلیے نکل آتی ہے،
صوبہ تباہ ہوتا رہے، انہیں کوئی پروا نہیں.
اللہ ہی پختونوں کا حافظ و ناصر ہو۔