اگرچہ دیکھا گیا ہے کہ وائس چانسلر پر ایچ ای ڈی یا سی ایم آئی ٹی اور نیب وغیرہ جرائم ثابت بھی کردے وہ اپنا کانسٹیٹیوشنل عہدے کا دورانیہ پورا کرتے ہیں۔ وہ الگ بات ہے کہ آگے جا کر مسائل میں دوبارہ نیا عہدہ نہ ملے۔۔۔ پنجاب یونیورسٹی میں پروفیسروں اور وائس چانسلر کے مابین بڑھتی ہوئی تشویش ملک کی سب سے بڑی یونیورسٹی کو سرد جنگ کی آماجگاہ کو غالب بنا دیا ہے اور دانش گاہ کو مغلوب۔۔۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب کو اس کا نوٹس لے کر ان تمام عناصر کو فارنزک ٹیسٹ اور غیر جانبدار انکوائری سے گزارنا چاہئے جو جامعہ ، طلبہ، تحقیق اور انصاف کو داؤ پر لگائے بیٹھے ہیں۔ عظیم درسگاہ میڈیا ٹرائل پر ہے وائس چانسلر اور مخالف دھڑا دونوں باقاعدہ میڈیا کمپین کیلئے میڈیا کے ممتاز لوگوں سے روابط میں مصروف ہیں۔ کیا ایسے جامعات چلتی ہیں؟ ان دنوں مختلف ڈیپارٹمنٹس میں ان تجزیہ کاروں کو جو حکومتی دفاتر میں رسائی رکھتے ہیں انہیں طلبہ کی ذہن سازی کے بجائے اپنی لابنگ کیلئے بھی بلایا جا رہا ہے۔ قانون اور انصاف سے متعلق ادارے اس بات سے بھی آشنا ہیں کہ یونیورسٹی ترجمان گروپ اور ایک دوسرا دھڑا پہلے ہی عدالتوں اور اینٹی کرپشن فلور پر تھے یا ہیں۔ کیا ترجمان جامعہ پنجاب ان حالات میں ترجمانی میں نیوٹرل ہو سکتا ہے؟ پیچیدگیاں یہ بھی ہیں کہ دھڑوں کی کھینچا تانی میں وی سی آفس اصل نام چھوڑ جہاں ڈومین سے باہر والے معاملات یعنی ہاؤسنگ سوسائٹی سیاست اور اساتذہ سیاست میں دلچسپی کو عہدیدارانہ رنگ و روپ دے رہے ہیں وہاں اساتذہ بھی تحقیق و تدریس میں کیسے سو فیصد دل لگا سکتے ہیں۔ نقصان جامعہ ، اساتذہ ، جامعہ اسٹیبلشمنٹ کا نہیں کہ دونوں کو تنخواہیں مل رہی ہیں۔۔بیڑا غرق والدین ، طلبہ اور جامعہ کے وقار کا ہو رہا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق دو نامور صحافی تصفیہ کرانے کے درپے ہیں جن سے رابطہ وائس چانسلر صاحب نے ازخود کیا ہے۔ اگر وہ جلتی پر پانی ڈال سکتے ہیں، اور زخم دبے دبے ناسور نہیں بنے گا ، تو یہ نہایت شاندار اور تعلیم دوست اقدام ہوگا۔۔۔ ورنہ موجودہ حالات میں جب وائس چانسلر صاحب من پسند دھڑے کی کمیٹیاں بنا بنا کر مخالفین پر پیڈا ایکٹ کی تیاری میں ہوں گے ، تو ان بطورِ سربراہ سنڈیکیٹ بیٹھنے پر بھی سنگین سوالات کھڑے ہوں گے۔ آج کے فیصلے کل عدالتوں میں ہوں گے ، وی سی صاحب کما کھا کر دورانیہ پورا کر کے گھر چلے جائیں گے اور عالمی و قومی سطح کے پروفیسران جانے کے بعد بھی عدالتوں اور چانسلر آفس کے چکروں میں ہوں گے جبکہ جامعہ میدانِ جنگ۔ مانا کہ ایک وی سی فون کال پر لا اینڈ آرڈر والے جامعہ میں لاٹھیاں اور بندوقیں لے کر آجاتے ہیں مگر کن کیلئے؟ طلبہ کے خلاف نا ؟ کیا قوم کے بچے پنجاب میں بندوق اور لاٹھی ہی کا سامنا کرنے کیلئے رہ گئے ہیں اور ہوسٹل بھوت بنگلے؟
محترمہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب! سے التماس ہے کہ کوئی غیر جانبدار تفتیشی کمیٹی بنادیں یا وہی صحافتی و دانشور جرگہ جو محترم وائس چانسلر صاحب چاہتے ہیں، واضح رہے کہ یونیورسٹی ایک کمیونٹی سنٹر بھی ہے لہذا سِول سوسائٹی اور ایمینینٹ حیثیت کے مالک دانشور و تجزیہ کار حضرات بطور جرگہ بیٹھ سکتے ہیں (اگر ان میں سے کسی کے کوئی یونیورسٹی میں ذاتی سٹیکس نہ ہوں) ۔
عزت مآب وزیرِ اعلیٰ پنجاب بصورتِ دیگر جو آپ بہتر سمجھیں، بناؤ کیلئے وہی کردار ادا کریں، کیونکہ وائس چانسلر پر سنگین مالیاتی و اقرباء پروری کے الزامات ہیں اور مخالف دھڑا پر نافرمانی کے جن میں ہر دن ایک نئی شدت اور بگاڑ لے کر آتا ہے۔
محترمہ وزیرِ اعلیٰ! پنجاب یونیورسٹی کی نگرانی ، ترجمانی اور مطالعاتی کہانی نفسیاتی آگ کی آنچ پر ہیں۔ ازراہِ کرم عظیم درس گاہ پر مہربانی فرمائے! شکریہ
@MaryamNSharif@Marriyum_A@PunjabHed@PHEC_official@hecpkofficial@gabolizm@ranamashhood@RanaSikandarH@MohsinnaqviC42
ہمارے دل کی دھڑکن میں، ہیں مکہ اور مدینہ اب
اسی عشق و عقیدت سے، ہے چلتا یہ سفینہ اب
نا ٹوٹیں گے کبھی یارو، وفا کے سچے یہ ہالے
ہم حرمین کے رکھوالے
کیا خوبصورت نغمہ ہے! ❤️❤️
ڈاکٹر صاعقہ امتیاز، ایک عہد ، ایک قومی و تعلیمی اثاثہ!
نعیم مسعود
یقیناً یہ ایمرسن یونیورسٹی ملتان کے لئے قابل فخر ہے کہ پروفیسر ڈاکٹر صاعقہ امتیاز نے بطور پروفیسر امریطس جوائن کر لیا۔۔۔
لیکن حکومت (اور حکومتی تعلیمی مشاہیر) کی بدقسمتی ہے کہ وہ ایسی مثالی اور تجربہ کار شخصیت سے بطور وائس چانسلر استفادہ نہیں کر سکی جس کا احساس حکومتی "مشاہیر و مخلصین" کو بہت جلد ہو گا!
بہرحال سرِ دست دیکھنا یہ ہے کہ مقامی سطح پر ایمرسن یونیورسٹی ملتان ان سے کیسے استفادہ کرتی ہے، اور پھر پروفیسر صاحبہ لینگویجز ، ادب اور سماجی علوم کی خدمات میں کیسے لوہا منواتی ہیں!
ان کا بنیادی تعلق بہاولدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے ہے ، جہاں انہوں نے عام استاد سے ڈین تک کی خدمات سرانجام دیں۔ گورنمنٹ صادق کالج وومن یونیورسٹی بہاولپور میں بطور وائس چانسلر ، جامعہ کی شروعات اور ابتدائی تعمیرات و ترقیات، تحقیقات و تحصیلات اور وومن ایمپاورمنٹ و انٹرنیشنلائزیشن میں بنیادی اور کلیدی کردار ادا کیا۔ کئی چیلنجز کا سامنا کیا اور اپنی بساط سے بڑھ کر امور نمٹائے!
( ان کی خدمات کی بدولت میں نے اپنی کتاب " ہائیر ایجوکیشن لیڈرشپ" میں ایک باب ان کے نام کیا ، اور 2020 کا ایک انٹرویو بھی راقم کے یوٹیوب چینل پر موجود ہے۔ لنک کمنٹس میں ملاحظہ فرمائیے)
آج، اپنے قارئین کی نذر پروفیسر امریطس کی تاریخ ، افادیت اور اہمیت قلم بند کرنا بھی مقصود ہے:
پروفیسر امریطس (Professor Emeritus) ایک اعزازی عہدہ ہے۔
اور یہ عہدہ یا لقب ان کے اثرانگیز محققین اور ریٹائرڈ پروفیسرز کی نذر کیا جاتا ہے جو تعلیمی و تحقیقی میدان اپنی صلاحیتوں کو متعدد پلیٹ فارمز پر منوا کر نمایاں مقام کے حامل رہے ہوں۔۔۔
'امریطس' (Emeritus) کا تعلق لاطینی زبان سے ہے، اس کا بنیادی مفہوم : " اعلیٰ خدمات کے بعد ایک باوقار ریٹائرمنٹ" یا " ایک باعزت معزولی"۔۔۔۔۔
اس خطاب اور اعزاز کا مقصد ایک قابل ستائش سے ہائیر ایجوکیشن اور تحقیق میں مزید استفادہ کرنا ہے۔ استفادے کا تسلسل یہ تسلیمات ہیں کہ یہ سب محض رسمی یا اعزازی خطاب نہیں ، ایک تاریخ اور تحریک کو تقویت ہے!۔۔۔
تاریخ کہتی ہے کہ Emeritus لفظ قدیم رومن فوج میں ایسے سپاہیوں کے لیے تھا جو اپنی پیشہ ورانہ خدمات کی احسن انجام دہی کے بعد اعزازات و مراعات کے ساتھ ریٹائر ہوتے ۔
پروفیسر امریطس کا باقاعدہ سلسلہ 18ویں و 19ویں صدی کے دوران میں برطانیہ اور جرمنی کی جامعات سے نمو پاتا ہے۔
بعد ازاں بیسویں صدی کی ابتدا سے یہی سسٹم نارتھ امریکہ اور پھر دیگر اقوام عالم کی جامعات و تحقیقات کا حصہ ہو گیا۔ اس سے ایم فل، پی ایچ ڈی ، ریسرچ اور ریسرچ پیپرز میں رہنمائی حاصل کی جاتی۔ نیشنل و انٹرنیشنل کانفرنسوں اور سیمینارز میں بطور کی_نوٹ اسپیکر اور ججز کے تعلیمات و تحقیقات کے مادہ کی ذہنوں میں آبیاری اور رہنمائی کرتے ہیں۔۔۔۔۔ اہل علم اور حسد سے پاک باصلاحیت اور علمی قدردان وائس چانسلرز ان کا استعمال کرتے ہوئے عمدہ پالیسی سازیوں اور نصاب سازیوں میں کام لیتے ہیں اور ان کے ساتھ ون ٹو ون ، ون آن ون ملاقاتوں اور محافل کا اہتمام کرتے ہیں۔۔۔
اپنی ذات میں لیبارٹریز اور لائبریریز پروفیسر امریطس اداروں کے اندر ایک ادارہ کی حیثیت رکھتے ہیں جنہیں بیدار مغز قیادت اعزاز کے ساتھ سہولیات و مطالعہ جات تک رسائی دیتی ہے!
یقین کیجئے وائس چانسلرز تک ان سے انفرادی ملاقاتوں میں سنڈیکیٹس، سینیٹ ، اکیڈمک کونسل، فیکلٹی کونسل ، فنانس مینجمنٹ میں بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔۔۔انٹرنیشنل فنڈنگ، ایچ ای سی کیلئے 'پراجیکٹ سازی' ، انٹرنیشل و نیشنل لنکججز اور کنسورشیم فارمیشن میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ:
سفارشی و سیاسی بنیادوں پر بھرتی ہونے والے وائس چانسلرز جو کبھی ڈین نہ رہے ہوں ، کبھی چیرمین نہ بنے ہوں ، کبھی یونیورسٹی سطح کا بڑا عہدہ نہ نبھایا ہو ، کبھی فنانس کو ڈیل کیا ہو نہ بڑے پیمانے کی دنیاداری اور انتظامی امور میں رہے ہوں۔۔۔۔۔ وہ پروفیسر امریطس کے سامنے "بونے" نہیں ہوں گے کیا؟
لہذا پاکستان میں بیشتر پروفیسر امریطس کو اپنے اعزاز و مرتبہ کا دفاع بھی کرنا ہوگا ، کہ جہاں ان کے سامنے ناقدری اور نابالغ لیڈرشپ ہو !
#HEC #HED #PHEC #QSRankings #analysis #NaeemMasood
یہ اتنا بڑا معاہدہ ہے کہ کم از کم ڈیڑھ سو سال کی تاریخ کا دھارا بدل گیا ہے۔
بخدا اس وقت جس قدر دل شکر سے معمور ہے اتنا ہی شدید غصہ بھی اس نااہل ترین حکومتی کارندوں پر جو میڈیا پر ٹائیں ٹائیں بھی نہیں کر سکتے اور نئی نسل کو بھی نہیں بتا سکتے کہ مشرق سے نیا سورج طلوع ہو رہا ہے
جن کو حالاث کا پتہ نہیں مختلف جگہوں پہ بیٹھ کر تقریریں کرتے ہیں میں ان سے پوچھتا ہوں آپ کے بچے کا کوئی سینہ چاک کر کے اس کی انتڑیاں باہر نکال کر اوپر ڈانس کرے اور آپ سے کہیں کہ اب وی لاگ کرے اور بتائیں جس کا سینہ چاک کیا تھا جس کو زندہ جلایا گیا تھا وہ تو ظالم تھا اور جنہوں نے اس کی لاش پہ ڈانس کیا تھا وہ مظلوم ہیں تو آپ کریں گے ایسا؟
بتائیں قوم کو آپ کے بیٹے کو ذبح کرنے والے مظلوم تھے اور آپ کا بیٹا جو ذبح ہو رہا تھا وہ ظالم تھا
آئی جی آزاد جموں و کشمیر کی دل چیرنے والی تقریر
کشمیر الیکشن میں رانا ثناءاللہ خان اور انجینئر امیر مقام صاحب کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا، ایک ہی بات کہوں گا: Old is Gold
دونوں سینئر رہنماؤں نے جس محنت، تجربے اور محبت سے پنجاب اسمبلی کے کوآرڈینیٹرز کو ساتھ لے کر چلایا، وہ قابلِ تحسین ہے۔ یہ فتح سینئرز کے تجربے، جونیئرز کے جذبے اور پوری ٹیم کے اتحاد کا نتیجہ ہے۔ اس کامیابی میں رانا ثناءاللہ اور امیر مقام کا اپنا نمایاں حصہ ہے۔
بات یہ نہیں کہ کون الیکشن جیتا کون ہارا۔ اہم بات یہ ہے کہ جس پر پورا پاکستان فخر کرتا ہے کہ مسلم لیگ ن وہ واحد جماعت ہے جس نے مشکل علاقے میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا، ہزاروں کشمیریوں نے لبیک کہا۔ اصل بات یہ ہے
Beautification of Jhang Bazar, Faisalabad has commenced. It will be completed in next 03 months Insha’Allah.
Video shows the proposed design and ongoing work.
Suthra Punjab has stepped up its door-to-door domestic waste collection drive, while simultaneously raising public awareness about responsible waste disposal and waste segregation. As an incentive for compliance, households that actively follow proper waste management practices will be recognized and labeled as “Environment-Friendly Homes.”
میں ںڑے بڑے اسکالرز کو کہتا ہوں کہ آئیں آپ اس عاقب شہید کے والد کا انٹرویو کریں جو اپنے بیٹے کی لاش لینے گیا تو اس کو خاندان سمیت اغوا کر کے کہاں لے جایا گیا ان کے کپڑے اتار کر ان کی ویڈیو بنائی گئی ان کو تشدد کیا گیا اور دھرنے میں بیٹھے لوگوں کو بھیجی گئی ایسا کام تو اسرائیل فلسطین میں نہیں کر رہا جو یہاں ہو رہا ہے جس کا بیٹا فرض کی ادائیگی میں شہید ہو گیا اس کی لاش اس کے حوالے نہیں کی گئی چار دن تک اس کی لاش کو روکا گیا وہ زخمی تھا تو اس کی ایمبولینس کو وہاں سے چلنے نہیں دیا گیا اس نے ایمبولنس کے اندر دم توڑا
آئی جی آزاد کشمیر
حلقہ ایل اے 17 حویلی فاروڈ کہوٹہ میں پاکستان مسلم لیگ ن کا سب سےبڑا جلسہ۔ انجنیئر امیر مقام،رانا ثنا اللہ ،ایل اے 17 سے مسلم لیگی امیدوار انجنیئر محسن عزیز اور دیگر قیادت نے خطاب کیا۔ اس موقع پر چوہدری محسن عزیز نے
ہم پاکستانی ہیں
پاکستان ہمارا ہے
کے واشگاف نعرے بھی لگائے۔