اس ایس ایچ او کو پی ٹی آئی کی کے پی قیادت نے طالبان کے ھاتھوں شہید کروادیا۔ایک ایس ایچ او ھی تو شہید کیا ھے ابھی بھی ان لاڈلوں سے مذاکرات کروائے جائینگے۔
میڈیا اور سوشل میڈیا کیسے ہینڈل کرنا ہے، کیپٹن صفدر نے بتا دیا! فوج کے ریٹائرڈ کیپٹن کم، کسی بڑی میڈیا کمپنی کے ماہر زیادہ لگتے ہیں۔ ارشاد بھٹی جیسے بغض بھرے شخص کو ایسا رولا کہ شاید دوبارہ ایسا مقابلہ نصیب نہ ہو!
میڈم چیف منسٹر یہ ہوتی ہے میڈیا ہینڈلنگ۔۔۔۔
ہیرا گھر میں چھپا ہے اور آپ نے آگے چند طعنے مار بیبیوں کو کیا ہوا ہے۔
پاکستان کی تاریخ کے چند گندے ترین اور متعصب ترین بھانڈ کا جو علاج کیپٹن صفدر نے کر دیا ہے یہی آج کا سکہ رائج الوقت ہے۔
کیپٹن صفدر کا واحد مسلہ مزہب پر بولنا ہے صرف یہ بند کر دے تو یہ کسی سے پکڑا نہیں جاتا۔
ناصر بٹ
کرک میں پی ٹی آئی کے شفیع جان اور ایس ایچ او کے درمیان تنازع کی اصل وجہ جلسے کا بغیر این او سی (NOC) انعقاد تھا، جس پر قانون نافذ کرنے والے افسر نے امن و امان کی خاطر روک ٹوک کی۔ شفیع جان نے قانون کی پاسداری کرنے کے بجائے ریاست کے نمائندے کو کھلے عام دھمکایا، گالیاں دیں اور ہجوم کو اشتعال دلایا۔
اس ہنگامہ آرائی کے فوری بعد اسی ایس ایچ او کا خوارجی دہشت گردوں کے ہاتھوں ٹارگٹڈ قتل ثابت کرتا ہے کہ پی ٹی آئی کا سیاسی غنڈہ گردی کا رویہ الخوارج کے لیے براہِ راست ہٹ لسٹ تیار کرتا ہے!
اس داڑھی والے شخص کی شناخت رسول نواز،کریڈھنڈ،ضلع کرک کے نام سے ہوئی ہے،تعلق TTPسےہےاورشہدا کی قبروں سےقومی پرچم اتارنےاورجلانے کےواقعات میں بھی ملوث رہا اب یہ مبینہ طور پرTTPکی سہولت کاری کر رہاہے۔کیا یہ نہیں پوچھنا چائیے کہ لانگ مارچ کے کنٹینر تک یہ شخص کیسے پہنچا؟؟
👇👇
Strongly condemn the firing incident in Karak in which an SHO and another police official embraced martyrdom in the line of duty. PTI has left Khyber Pakhtunkhwa at the mercy of terrorists. Our @KP_Police1 , Armed Forces and civilians are paying the price for the provincial government’s continued support for and compromises with those responsible for terrorism. How many more lives must be lost before the provincial government takes responsibility?
My deepest condolences are with the families and colleagues of our Shaheed officers.
کہاں ہیں حامد میر اور اسد طور؟
صحافیوں کے حقوق کی باتیں کرنے والے کیا اس نوجوان صحافی حسام الدین کا ساتھ دیں گے جو آج ضلع خیبر موجود تھا لیکن سہیل آفریدی نے باقاعدہ اشارہ کرکے ورکروں کو بھڑکایا جو "چڑیل" کی طرح اس نوجوان سے چمٹے۔
اس صحافی کی کہانی سب دوست شئیر کریں۔
کل ڈیرہ اسماعیل خان میں 4 کسٹم اہلکاروں کو سمگلروں اور منشیات فروشوں نے شہید کیا۔
آج اسی کرک میں جہاں دو دن پہلے سہیل آفریدی ناچ رہا تھا، دہشتگردوں نے ایک SHO اور ایک پولیس اہلکار کو شہید کر دیا۔
کیا تحریک انصاف کے وزیر اعلی نے مزمت کی ہے یا صرف فوج کے خلاف ہی بھونک رہا ہے؟
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا جو خواب تھا وہ الحمد للہ آج حقیقت بن گیا ہے، ان کا عزم ہے کہ وہ 10 لاکھ گھر بنانا چاہتی ہیں، اب دیکھتے ہیں کہ ہمارے معاشی حالات کتنی اجازت دیتے ہیں، ویسے انہوں نے جو ٹارگٹ سیٹ کیا ہے وہ پانچ سال میں 5 لاکھ گھر بنانے کا ہے۔
(وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری)
ویلڈن عمرچیمہ، بہترین تجزیہ 👏👏
پی ٹی آئی کو چاہیے کہ دہشتگرد TTP سے اپنے اتحاد کا اعلان کردے، کل ایک پروگرام میں شفیع جان TTP کیخلاف کچھ بول نہیں سکا، ایسا لگتا ہے PTI اور TTP کا آپس میں کوئی معاہدہ ہے۔ عمران نیازی بھی دہشتگردوں کے دفاتر کا کہتا رہا ہے، اب PTI اپنے صوبے میں دفاتر کھول کر دے دے۔ دہشتگردی ختم کرنے کیلئے PTI کے پاس خود بھی کوئی پلان نہیں، دہشتگردوں نے ہمیشہ مذاکرات سے فائدہ ہی اٹھایا ہے۔
چلو شکر ہے نالائقوں نے کم از کم مریم نواز حکومت کا ایک کام تو کاپی کیا۔ مگر نقل کے لیے بھی عقل چاہیے ہوتی ہے۔ یہ نقل بھی اتنی تاخیر سے کی گئی کہ اصل کام پنجاب میں فروری 2025ء سے کامیابی سے جاری ہے۔
"چیف منسٹر ٹرانسپلانٹ پروگرام" کے تحت اب تک 3,093 مستحق مریضوں کا پنجاب کے 36 بڑے ہسپتالوں میں 100 فیصد مکمل مفت علاج کیا جا چکا ہے۔ اب تک 1,322 رینل (گردے) 424 لیور (جگر)، 926 کوکلیئر امپلانٹ (سماعت)، 68 کارنل (آنکھیں) اور 67 بون میرو ٹرانسپلانٹس شامل ہیں۔ ان پیچیدہ ترین آپریشنز پر حکومتِ پنجاب اب تک 7.173 ارب روپے خرچ کر چکی ہے۔ صرف کاپی پیسٹ کرنے سے حقیقت نہیں بدلتی۔ اب عوام جھوٹے بیانات اور سیاسی فوٹو سیشنز کے دھوکے میں نہیں آئیں گے کیونکہ وہ حقیقی کارکردگی، عمل اور مفت علاج کے فرق کو اچھی طرح پہچانتے ہیں۔
پی ٹی آئی مزاکرات کے لیے ترلوں پر آ چکی۔
کیونکہ انہیں پتا ہے کہ اٹک پہنچے تو صوبائی حکومت ختم
صوبائی حکومت ختم تو رہی سہی پارٹی بھی ختم اور
اصل مشکل تب شروع ہو گی۔
اب PTI کا عامر ڈوگر۔۔محمود اچکزئی کو کہہ رہا ہے کہ اس کی نیوٹرل مقام کی ضد نے
مذاکرات کا راستہ بند کیا ہے۔
دوسری طرف راجہ ناصر عباس کہہ رہا ہے کہ وزیراعظم ہمیں صرف ایک فون کر دے تو ہم غیر مشروط مذاکرات میں بیٹھنے کو تیار ہیں۔
بیرسٹر گوہر۔۔۔کہہ رہا ہے کہ مذاکرات تو جنگوں میں بھی جاری رہتے ہیں۔
اسٹیبلشمنٹ۔۔ٹھان چکی
بس
حکومت اپنے اعصاب پر قابو رکھے اور پیپلز پارٹی کے جھانسے میں آنے سے بچیں تو
پی ٹی آئی چند دنوں میں وہ
موقعہ دے گی جس سے ان کی
پارٹی اور اقتدار کا تیاپانچہ ہو جائے گا۔
(اسد آر چوہدری)
آپ غلط بیانی فرما رھے ھیں ، حقائق مسخ نہ کیے جائیں ، جنرل قمر جاوید باجوہ ، ثاقب نثار اور جنرل فیض ، سعد رفیق اور انکے بھائ کی قید کے ذمہ دار اور عمران خان بطور انتخابی حریف سب سے بڑے بینیفشری تھے، سعد رفیق کے خلاف بھرپور hate campaign ریاستی ایجینسیوں نے سعد رفیق کی کردار کشی کرکے عمران خان صاحب کی جیت کا راستہ بنانے کیلئے چلائ ، وزیر اعظم بننے کے بعد دونوں بھائیوں کی جیل کو طوالت دلوانے کے ذمہ دار عمران خان صاحب ، آپ خود اور انکی حکومت کے سہولت کار ھی تھے ،
اس تقریر کو کاٹ چھانٹ کر اپنے مقاصد کیلئے پیش کیا گیا ھے ، آپ ھی کے دور حکومت میں سعد رفیق اور انکے بھائ کی ڈیڑھ برس قید کے بعد سپریم کورٹ سے ضمانت کا 85 صفحات پر مشتمل فیصلہ اس عہد کے فاشزم کی حقیقی تصویر ھے ،
عمران خان صاحب سے کیا شکوہ کرنا ، انھیں اپنے مخالفین کو کُچلنا اور انتقام لینا اچھا لگتا تھا سو انہوں نے ایسا ھی کیا ، آپ سے کوئ شکوہ نہیں ، پہلی بار طاقت ملی تھی اور اپنے باسز کو خوش کرنا ضروری تھا ، سعد رفیق انتقام اور بدلے پر یقین نہیں رکھتے ، آج بدقسمتی سے آپ لوگ اسی رویے کا شکار ھیں ، سعد رفیق جبر اور انتقام پر یقین نہیں رکھتے اسی لئے درگزر، مکالمے اور برداشت کیلیے تکبیر مسلسل بلند کرتے رھتے ھیں ، Admin