ان شاءاللہ سب کٹھ پتلیوں کو عوام کی عدالت میں پیش کریں گے اور حساب ہوگا
چاہے کوئی بھی جج، جرنل، جرنلسٹ، سیاستدان یا کسی بھی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتا ہو جس نے مدد کی ملک کو تباہی کے اس دہانے پہ ایک سیلیکٹڈ کو وزیراعظم کی کرسی تک لایا ہو وہ ذمہ دار ہے
#سیاسی_انجینرنگ_نامنظور
میرے دوست میں عام سا بندہ اور رپورٹر ہوں پتہ نہیں آپ نے مجھ سے ایسی اپنی طرح احمقانہ توقعات کیوں باندھ رکھی ہیں کہ ہر چند دن کے بعد آپ میرے کسی ٹوئٹ سے ہرٹ ہوجاتے ہیں جیسے کوئی عاشق اپنی معشوق کی کسی بات پر ہو جاتا ہے۔
آپ کو علم ہے میں کبھی انقلابی نہیں رہا نہ میرے دماغ کو خناس چڑھا ہے کہ میری مرضی سے فیصلہ ہوگا کون آرمی چیف یا ڈی جی آئی ایس آئی یا وزیراعظم ہوگا۔
ہم بقول ہمارے محترم نصرت جاوید صاحب دوٹکے کے رپورٹر ہیں جو چھوٹی موٹی صحافت کرتے رہتے ہیں۔ ہم کہاں آپ جیسے مہان کلاکار سے میچ کرسکتے ہیں۔ اپ بہت بڑے ہیں ہمیں اگنور مارا کریں۔ عاشقوں کی طرح behave نہ کیا کریں۔
باقی میرے دوست اگر آپ جیسے سابقہ ملازم جی ایچ کیو کو بہت زور سے انقلاب آیا ہوا ہے تو آپ اپنے انقلاب کے لیے خود کوشش کریں۔ میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔ جس دن مجھے انقلاب آئے گا میں آپ کو زحمت نہیں دوں گا جیسے آپ اور آپ جیسے دیگر جی ایچ کیو اور آب پارہ کے سابقہ ملازمین دوسروں کو دیتے رہتے ہیں۔
ویسے حیرانی مجھے بھی ہے کہ ساری عمر آپ انہی فوجیوں کی چھتری تلے پلتے رہے، انہی کا شہد ملا دودھ پیتے رہے، انہی فوجیوں سے لاکھوں کروڑں روپوں کے فائدے لیے، ٹی وی چینلز پر نوکریاں انہی فوجیوں نے آپ کو دلوائیں، آپ کے تھرڈ کلاس میگزین کو کروڑوں کا بزنس ملا جس کی آپ سب کو فری کاپیاں بھیجتے تھے، اس میگزین کا کام ہی فوجی اسٹبلشمنٹ کے پراپگنڈہ کو انگریزی کا رنگ دے کر پروموٹ کر کے سفارت خانوں میں پوسٹ کرنا تھا اور اس کے عوض آپ نے لمبے نوٹ کمائے لیکن آج مجھے طعنے دینے آگئے ہیں کہ تھپڑ والی ویڈیو کیوں لگائی۔ واہ۔
کسی دن انہی فوجی جرنیلوں کی مسلسل چاپ لوسی سے بھرے اپنے پرانے ٹی وی شوز ہی دوبارہ سن لیں جو آپ ہمیں ریجنل سیکورٹی والے ڈرامے روز سناتے تھے تو شاید شرم کے مارے کبھی گھر سے نہ نکلیں آپ۔
جتنے آپ بہادر صحافی تھے وہ میں ذاتی طور پر خوب جانتا ہوں اور 92 چینلز پر پروگرام سے پہلے جو رٹے لگا لگا کر انٹرو پڑھتے تھے اور پورا دفتر سنتا اور ہنستا تھا اس کا بھی گواہ ہوں۔ آپ کی تو چینل کے ڈائریکٹر نیوز کے آگے گھگی بندھ جاتی تھی چینل مالک تو دور کی بات ہے کہ میں آپ کی کونسلنگ کرتا تھا تو آپ کی گھگی ختم ہوتی تھی۔
اب آج کل آپ ہمارے نجات دہندہ ہیں۔ واہ۔ کتنا برا وقت ہم پر آیا ہوا ہے۔
آپ کا وہی حال ہے ایک بندے کی پشت پر درخت اگ آیا۔ کسی نے اسے بتایا تو ہنس کر کہا کوئی بات نہیں اگلے سال اس کی چھائوں میں سوئوں گا۔
کم از کم آپ تو ہمیں فوجیوں کا ٹاوٹ ہونے کا طعنہ نہ دیں اے میرے بہت ہی بہادر اور باضمیر انسان۔ 🙏
امریکیوں نے مجھے دھمکیاں دینا شروع کیں تو میں نے ہلکا سا تبسم کیا اور اسٹیو ویٹکوف سے پوچھا:
کیا تم کسی ایسے جلسے میں گئے ہو یہاں پر ہر وقت بمباری کا خدشہ ہو کہ کب دشمن مذاکرات کی میز کو اڑا دے؟
کیا تم ہر میٹنگ سے پہلے اپنی فیملی کو کال کر کے خدا حافظی کرتے ہو اور کہتے ہو کہ شاید یہ آخری بار گفتگو ہو، کہا سنا معاف کر دینا؟
پھر میں نے ویٹکوف سے کہا کہ ہم ان حالات میں مذاکرات کر رہے ہیں۔ ہمیں دھمکی نہ دو۔ ہم ایرانی ان دھمکیوں کی پرواہ نہیں کرتے۔ ہم اپنے لوگوں کے حقوق سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی
اس ویڈیو میں دیکھیں کیسے بی ایل اے کے بزدل بھگوڑے دُم دبا کر بھاگ رہے ہیں اور سیکیورٹی فورسز کا کوارڈ کاپٹر اِن کا شکار کررہا ہے۔
زہری میں ان دہشتگردوں کی نقل و حرکت کی اطلاع ملی تو سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کی،کوارڈ کاپٹر کا بھی استعمال کیا گیا،سرمچار بھاگتے پھر رہے ہیں،جان بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔اِس دوران ایک دہشتگرد مارا گیا،ایک زخمی ہوگیا
مدرسوں کے نام پر مانگنے والے دو نمبر مولوی آپکو جہاں پر بھی نظر آئیں اس کی اطلاع مقامی پولیس کو دیں جب ان سے مدرسے کا نام پوچھا گیا کلمہ پڑھ کر کہتا ہے میرا مدرسہ بہاول پور میں ہے تصدیق کرنے کے لیے ڈاکومنٹ چیک کرنے کی کوشش کی تو بھاگ نکلا
ھمیں تو اتنا پتہ ھے کہ نواز شریف کا پکڑا کلبھوشن ابھی بھی جیل میں ھے مگر
عمران خان کا پکڑا ابھینندن دوسرے ھی دن اس لنگڑے نے بنا سنوار کر انڈیا کو لوٹا دیا تھا
قوم کو مزید تم پھدو نہیں بنا سکتے
بھٹی تیرے اندر اگر غیرت ہوتی تو تھوڑے سے پانی میں چھلانگ لگا کر ڈوب جاتا حفیظ اللہ نیازی نے اس بھٹی کو کہی کا نہیں چھوڑا اس پر لعنت بیج کر آتما پھاڑ کر رکھ ڈالی جیو حفیظ اللہ نیازی صاحب دل کو ٹھنڈ پڑ گئی
اصل معاملہ یہ ہے کہ آزاد کشمیر کا الیکشن بھی انہوں نے ہی جتوانا ہے، جنہوں نے کراچی مئیر، بلوچستان۔ گلگت بلتستان کا انتخاب زندہ بھٹو کوجتوایاہے۔ سنا ہے رانا شرافت نے موٹر وے پولیس کے گریبان کو ہاتھ بھی ڈال دیا ہے۔اقتدار کی شراب پی نہیں ہوئی بلکہ ابھی تو لینے بھیجا ہوا ہے۔
😁😁
قوم پرستی لعنت ہے اختر مینگل قوم پرستی کا شکار ہے اس کے نزدیک اگر قاتل اس کی قوم سے ہے تو وہ قاتل بھی زندہ باد ہے اور مظلوم اگر دوسری قوم کا ہے تو وہ مظلوم بھی برا ہے،،
20 روز سے وڈھ بازار بند ہے وہ کس نے اور کیوں بند کیا ہے اختر مینگل بتانا پسند کرے گا؟ مولانا ہدایت اللہ
قطر اور سعودیہ کے تجارتی جہازوں پر حملے کر کے جنگ شروع کروانے والے ایران کے باندران نے عمان کے قریب دو جہازوں کو گزرنے پر دھماکے سے اُڑا دیا ہے
اس کے بعد برینٹ آئل کی قیمت 90.28 پر پہنچ گئی ہے
ایرانی معاشی دہشتگردی کے اثرات اب پھر پاکستانی عوام تک پہنچیں گے ایرانی قیادت اس خطے کی پلید ترین مخلوق بن چکی ہے
شہداء پر تنقید کرنا یا ان کی قربانیوں کو سیاسی بحث کا حصہ بنانا کسی طور مناسب نہیں۔ کارگل کے شہداء ہوں یا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جان قربان کرنے والے جوان، ان کی قربانیاں پوری قوم کا سرمایہ ہیں۔ اختلافِ رائے اپنی جگہ، مگر شہداء کے احترام پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔
یہ فضل الرحمٰن کی کل سیاسی اوقت ہے یعنی میٹھا میٹھا ہپ ہپ کڑوا کڑوا تھو تھو۔ آج اچانک جلسے جلوسوں میں انقلابی بننے والے، اصولوں کی سیاست سکھانے والے سے جب خیبرپختونخواہ میں پی ٹی آئی کی دس مخصوص نشستیں لینے پر سوال ہوا تو اچانک سانپ سونگھ گیا اور موصوف بھاگ کر گاڑی میں جا دبکے۔
اسوقت مولانا فضل الرحمن کی جماعت میں جو بات چل رہی ہے وہ یہ ہے کہ مولانا اپ نے جو لائن لے لیا ہے وہ بڑی ٹھیک ہے وہ لین بڑی پاپولر ہے اور اپ اس لائن کو لے کر اگے بڑھے دوسری بات اس وقت ملک میں اپوزیشن کا خلاف ہے کبھی کبھار بلاول بھٹو دھمکی دے دیتے ہیں لیکن باقاعدہ اپوزیشن لیڈر کوئی نہیں تو مولانا اہستہ اہستہ یہ کام کر رہے تھے لیکن ایک دم سے ان انہوں نے یہ بیان دے دیا جس کی بہت سے فوائد ہیں اور جب سیاسی لیڈر کو کسی بات کا فائدہ ہو تو وہ اپنے قد سے بڑے کام کرنے شروع کر دیتا ہے طعلت حسین
کشمیری پرانا دور یاد کرتے ہیں جب ن لیگ کی حکومت تھی تو کشمیریوں کا بھرپور ساتھ دیا گیا۔ کشمیری چاہتے ہیں کہ نواز شریف کا وہ دور اور مریم نواز جیسے پنجاب میں ترقی کر رہی ہیں وہ دور کشمیر میں آئے۔ وفاقی وزیر امیر مقام
ممکن ھے نورین خان ایف آئی اے میں پیش نا ھو انکو گرفتار کرنا پڑے علیمہ خان کو بھی سزا ھو جائے گی یہ دونوں بہنیں اڈیالہ جائیں گی یا پھر انکو میانوالی جیل میں بھیجا جائے گا
آخر وجہ کیا ہے کہ جمائما بھابی خبروں سے اچانک غائب ہوچکی ہیں قاسم سلیمان بھی اپنے پاپا کیلئے اب میڈیا پر دستیاب نہیں ہیں اور شاید اسکی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ جمائما شادی کے نئے بندھن میں بندھ چکی ہیں لیکن دونوں لڑکے آجکل دکھائی کیوں نہیں دے رہے
کیا بچوں کو نواں ابا مل گیا ہے