ہماری تحریک شروع ہوئے ابھی ٹھیک سے ایک مہینہ بھی نہیں ہوا اور تحریک سے جڑنے والے نوجوانوں نے ایک گھنٹے میں #نوجوان_زندہ_باد ٹویئٹر پر پاکستان کا ٹاپ ٹرینڈ بنا دیا ہے۔
وہ وقت دور نہیں جب نوجوانوں کی یہ تحریک پاکستان کی تقدیر بدل دے گی۔ انشاء اللہ
نوجوان قیادت، جو کسی لیڈر کے احسان یا پسند نہ پسند کی وجہ سے نہیں قابلیت اور میرٹ کی بنیاد پر آگے آئے اور وہ بھی جمہوری طریقے سے۔۔۔ جیسے ساری دنیا میں ہوتا ہے اور اس کے لیے پاکستان میں ایک جمہوری جماعت بنانا ہو گی۔
#نوجوان_زندہ_باد
پاکستان میں ایک نئی جمہوری جماعت کے قیام کی ہماری تحریک ایک مہینے کی عمر کو بھی نہیں پہنچی اور اس تحریک سے جُڑے نوجوانوں کا ٹرینڈ #نوجوان_زندہ_باد آج ٹوئیٹر پر ٹاپ ٹرینڈ ہے۔
نوجوانوں کی یہ تحریک بھی جلد پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت میں تبدیل ہو گی۔ انشاء اللہ
جب فیصلے کسی ایک فرد کے گرد مرکوز ہو جائیں تو اسے آمریت کہتے ہیں اور ہماری سیاسی جماعتوں میں موجود اسی آمریت کی وجہ سے آج تک اسٹیبلشمٹ کا مسئلہ حل نہیں ہو پایا، اس لیے کہ سیاسی آمر فوجی آمروں سے مل کر باریاں لگاتے رہے ہیں۔
ملک میں جمہوریت تب آئے گی جب پارٹیوں میں جمہوریت آئے گی۔
نوجوان نہ تماشہ ہیں اور نہ تماشائی۔ نوجوان اس ملک کے اقتدار کا حقیقی کردار ہیں۔ آج تک یہ اپنی توانائیاں دوسروں کو اقتدار تک پہنچانے کے لیے صرف کرتے رہے ہیں۔۔۔ اب انشاء اللہ یہ جدوجہد ان کے اپنے لیے ہو گی اور جس دن نواجونوں نے اقتدار سنبھالا، ملک سنبھل جائے گا
بلوچستان بھی نوجوانوں کی جمہوری جماعت کی تحریک میں ہمقدم ہے۔ اگلے مہینے تحریک کے نام اور ممبرشپ کے اعلان کے بعد پورا پاکستان اپنے حق کے لیے متحد اور منظم ہونے کا آغاز کرے گا۔۔۔ اور یہ جدوجہد اُس وقت تک جاری رہے گی جب تک سیاست فوجی اور سیاسی اشرافیہ کے تسلط سے آزاد نہیں ہو جاتی۔
یاد رکھیے جسے آپ اور ہم لیڈر مان لیتے ہیں کیا اللہ اُن میں کوئی اسپیشل آلہ فِٹ کر کے بھیجتا ہے؟ وہی غلطیاں کرنے والے عام سے انسان، بلکہ عام انسانوں سے زیادہ غلطیاں کرنے والے انسان۔
آپ میں سے بہت سے لوگ اِن سے بہت بہتر لیڈر ثابت ہو سکتے ہیں۔ صرف ذہنی غلامی سے نکلیں۔
لاڑکانہ یونیورسٹی:
“لیڈر صدیوں بعد پیدا ہوتا ہے” جیسی واہیات باتیں کر کے نام نہاد لیڈرز اور اُن کے گماشتوں نے نوجوانوں کے ذہنوں پر جو تالے لگا دئیے ہیں انہیں کھولنے کا سلسلہ جاری ہے۔ لیڈر انہی نوجوانوں میں سے نکلیں گے، اور اس کے لیے ہم ایک جمہوری نظام بنانے کی تحریک چلا رہے ہیں۔
آج تک سب لوگ یہ نعرہ لے کر نکلے کہ مجھے لیڈر بناؤ، مجھے ووٹ دو، مجھے وزیراعظم بناؤ لیکن میں ملک کے شہر شہر یہ پیغام لے کر جا رہا ہوں کہ نوجوانو تم لیڈر بنو، تم میں سے وزیرِاعظم بنے اور تمہارا ووٹ اور تمہاری جدوجہد تمہارے اپنے لئے ہو۔
سردار، وڈیرے، چوہدری اور مخدوم ہی کیوں ہر پارٹی پر قابض ہیں؟ ملک کی تینوں بڑی جماعتوں میں ایک عام آدمی یا ایک مڈل کلاس نوجوان کو جمہوری طریقے سے آگے آنے کا موقع کیوں نہیں ملتا؟ کیوں پارٹیوں کے اندر شفاف الیکشن کے ذریعے لیڈرشپ منتخب نہیں ہوتی تاکہ ایک عام آدمی بھی لیڈر بن سکے؟؟
ن لیگ، پیلپز پارٹی اور پی ٹی آئی ایک دکان کی طرح چلائی جا رہی ہیں جس کا مالک کوئی ایک شخص یا خاندان ہوتا ہے۔ سیاسی جماعت دکان نہیں ادارہ ہوتی ہے۔ ایک ایسے سیاسی ادارے کی ضرورت ہے جو شخصیات یا خاندانوں کی بجائے نوجوانوں کی ملکیت ہو اور جمہوری طریقے سے چلائی جائے۔
کیوں ایک عام نوجوان لیڈر نہیں بن سکتا؟
کیوں سیاسی جماعتیں صرف شخصیات کے گرد گھومتی ہیں؟
کیوں پارٹیوں میں جمہوریت نہیں؟
کیوں علاقے کا کونسلر بااختیار نہیں ہو سکتا؟
کیوں ایک مڈل کلاس نوجوان وزیراعظم نہیں بن سکتا؟
انڈس یونیورسٹی کراچی میں ٹیم سرعام کے عہدیداران سے ملاقات میں گفتگو۔
میں پارٹی بناؤں گا تو وہ ایک شخصیت کی پارٹی ہو گی۔ ہمیں ایک سیاسی ادارے، ایک سیاسی پلیٹ فارم کی ضرورت ہے، جس پر پہلے نوجوان اکھٹے ہوں اور پھر انٹرنل انتخابات کا طریقہ طے کر کے اپنے درمیان سے لیڈر منتخب کریں۔ میں نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کرنے کا کام کر سکتا ہوں، اور اس کے لیے کوشاں ہوں۔
جمرود میں ٹیم سرعام کے عہدیداران اور صحافیوں سے ملاقات۔
دنیا بھر کی طرح بلدیاتی نمائندے اپنے علاقوں میں تعلیم، صحت اور ڈویلپمنٹ میں بااختیار ہوں اور ایسی جمہوری جماعتیں بنیں جن میں الیکشن کے ذریعے عام آدمی بھی پارٹی سربراہ بن سکے اس کے بعد ہی ملکی سطح پر جمہوریت آ سکتی ہے۔
اقرار الحسن کا جمرود پریس کلب کا دورہ، یوتھ سے سیاسی و جمہوری نظام پر گفتگو
جمرود: مشہور ٹی وی پروگرام "سرعام" کے اینکر پرسن اقرار الحسن نے جمرود پریس کلب کا دورہ کیا اور مقامی یوتھ کے ساتھ پاکستان کے سیاسی و جمہوری نظام کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا
@iqrarulhassan
تین کام کیے بغیر آپ نظام کی بہتری کی امید نہیں کر سکتے۔
1۔ طلباء یونینز کی بحالی
تاکہ حقیقی اور فطری لیڈرز تیار ہو سکیں۔
2۔جمہوری سیاسی جماعتوں کا قیام
تاکہ عام لوگوں میں سے قابل افراد اوپر آ سکیں۔
3۔ لوکل باڈیز/میونسپل گورنمنٹس
تاکہ اقتدار گلی محلے میں منتقل ہو سکے۔
ان کسانوں کے گھر، ڈیرے، ٹریکٹر اور زرعی آلات دریا کی چھوڑی ہوئی کئی کئی فُٹ بلند ریت میں دب گئے ہیں اور یہ کھدائی کر کے اپنے گھر اور ڈیرے تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں حکومت ان کی کوئی مدد نہیں کر رہی۔
آپ ان کے نقصان اور بے بسی کا اندازہ اس ویڈیو سے لگا سکتے ہیں۔
عمران خان صاحب کو اخبار مل رہے ہیں مطلب انہیں اسرائیل کے ایران اور قطر پر حملے اور فلسطین کے معصوم بچوں کی شہادتوں کا علم ہے لیکن اسے کہ باوجود وہ اسرائیل کی مذمت نہیں کر رہے۔۔
امریکی سینیٹرز کی ناراضگی کے خوف نے عمران خان کی بہادری کو ایکسپوز کر دیا ہے۔