@RShahzaddk بھیا LPG کی سرکاری اور ریٹیل پرائس میں زمین آسمان کا فرق ھے وھاں کسی کی کوئی پھرتی نظر نہیں آ رھی ۔ ویسے یہ کام فوڈ اتھارٹی کا ھے چیکنگ کرنا اور فوڈ سیفٹی کا معیار برقرار رکھنا ۔
Gaurav Arya says: "We are the real brother of Israel and we want Israel to drop 100 bombs on Lebanon and 50 bombs on Gaza."
🔹@majorgauravarya brotherhood with a genocidal and occupying regime has no credibility.
It’s the classic gaslighting circular argument: Israel invades → people resist → Israel blames the resistance to justify even more invasions
ناتمام
ہارون الرشید
میں بھارت ماتا کا فرزند
دنیاکو کیا ہو گیا ہے۔؟ کیایہ مرنے والی ہے؟ میں بھارت ماتا کا فرزند سوچتا ہوں اور سمجھ نہیں پاتا.
یہ محمڈن لوگ کس طرح کی باتیں کرنے لگے ہیں �� اس ن میں سے ایک بڑبڑا رہا تھا
"غزہ کےجہاد کا کوئی نتیجہ کیوں نہیں۔قاتل کامیاب کیوں ہیں۔ تو کیا یہ سب کچھ مٹی میں مل کر مٹی ہو جائے گا؟
کیسی چونکا دینے والی خبر ہے۔۔ہمارے پندرہ فوجی افسر مستعفی ہو گئے۔اپنے احتجاجی خط میں ایک نے لکھا ہے: مجھے سونپی گئی ذمہ داری معاہدے کی خلاف ورزی ہے یہ تو غزہ جیسی صورت حال ہے۔نہتے شہریوں کی نسل کشی۔
وہ کوئی مجاہد تو نہیں ایک ملازم ہے۔ چلئے مستعفی ہو جائے مگر خط لکھنے اور میدیا کو بھیجنے کی تک کیا ہے؟ چلئے خط ہی لکھ ڈالے مگر غزہ سے تشبیہ دینے کا کیا جواز؟
وہ ایسا کوئی باضمیر آدمی تو نہیں۔ خوشی سے اس فوج میں بھرتی ہوا تھا، اٹھ��تر برس سے اسی دیار میں جو یہی کچھ کرتی آئی ہے جس پہ اسے اعتراض ہے یہ پندرہ ادمی یکے بعد دیگرے برہم ہوئے۔ تمام استعفے بہتر گھنٹوں کے اندر لکھے گئے۔
فوجی افسر اور جوان بھاگ جایا کرتے تھے۔ کشمیر کی ہولناک ٹھنڈ میں ناقص کھانا اور بد تمیزی کا ارتکاب کرنے والے اعلیٰ افسر۔ وہ بھاگ جاتے اور کبھی کبھار کوئی خود کشی بھی کر لیا کرتا۔ کبھی کبھار ان میں سے چند ایک باہم مشورہ کرکے احتجاج ریکارڈ کراتے اور کسی ٹی وی چینل۔کو بھیج دیتے۔ دال کی پلیٹ اور کچی پکی یا جلی ہوئی روٹیاں ان کے سامنے دھری ہوتیں" یہ ہے وہ کھانا جو اس سر زمین میں ہم پہ ٹھونساجاتا ہے، دنیا بھر میں جس کے پکوانوں کی دھوم ہے"
ہماری فوج کے اعلیٰ افسر کیا سوچ رہے ہوں گ؟ سری نگر اور دلی کے حکمران؟ کیا دنیا کی ممتاز ترین خفیہ ایجنسیوں میں سے ایک کے صدر دفتر میں کوئی غور و فکر میں مبتلا ہو گا، جس کے بازو سات سمندر پار تک پھیلے ہیں۔
ممکن ہے، ہاں ممکن تو ہے۔ اس عالم میں شاید ڈھاکہ شہر کی تصاویر اس کے خیالات میں در آئی ہوں۔کسی بھی لیڈر سے زیادہ پر اعتماد شریف عثمان ہادی کا گرجتا ہوا لہجہ جو ہجوم سے ہم آہنگ ہے" خون اور خلوص سے سینچی گئی کوئی تحریک کبھی نہیں مرتی"
لیکن اس نوجوان کو جو ابھی چند ماہ پہلے تک بے نام تھا نعروں اور تالیوں کی گونج میں موت کا خیال کیوں آیا اور وہ بھی اپنی موت کا ۔ تالیاں اور نعرے تو خواب آلود اور نشہ آور ہوتے ہیں۔ فردوس گم گشتہ کی یاد دلاتے والے، خمار الود۔
دنیا کو کیا ہو گیا ہے؟ بھارت کی مسلمان ناریاں آئے دن بھڑک اٹھتی ہیں۔ پہلے تو کبھی ایسا نہ ہواتھا۔ چلئے ان پہ پاگل پن سوار ہے تو ہندو ��ہلاوں کو کیا ہوا۔ ان کی حمایت میں وہ کیوں تڑپ رہی ہیں۔ان میں سے ایک نے یہاں تک کہہ دیا"جوگی جی اگر میں آپ کی دھوتی اتار پھینکوں جیسے نتیش کمار نے مسلمان لڑکی کا نقاب نوچ پھینکا تو آپ کیا سوچیں گے؟" ۔
ہے ہے کل جگ ہے کل جگ۔
اور یو ٹیوب پر وہ امریکی دانشور اس قدر بے چین کیوں تھا۔ اس نے یہ کیوں کہا کہ اگلے تیس برس میںںاکثر یورپی شہر مسلم اکثریت کے شہر ہوں گے،کیا واقعی؟.
کیا نام ہے اس لمبے سے لڑکے کا جوہنستا ہی رہتا ہے ظہیر،ممدانی! ہمیشہ وہ ہنستا کیوں رہتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور ایلن مسک کی مخالفت کے باوجود وہ کیسے جیت گیا۔ نیویارک شہر کا الیکشن طنزاً ہی سہی، جسے کبھی جیویارک بھی کہا جاتا تھا۔ حد ہے بھئی غزہ کا ذکر کرنے اور ہمارے حلیف نیتن یاہو کو گرفتاری کی دھمکی دینے والے اس آدمی کو یہودیوں نے اپنے ہاں کیوں مدعو کیا؟ وہ آپ اپنے دشمن کیوں کر ہو گئےاور اس وقت ہو گئے جب عرب بادشاہوں نے اسرائیل کے سامنے ہتھیار ڈال دئے تھے۔
ہاں ہاں جب میں دلی والے دفتر میں تھا تو سی آئی اے کی ایک رپورٹ میں نے ۔پڑھی تھی : مسلمان جب بوڑھے ہو جاتے ہیں تو ان میں سے بعض پر پاگل پن سوار ہو جاتا ہے، تب وہ اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے حتیٰ کہ وہ تانا شاہ ضیاء الحق بھی نہیں ڈرتا تھا ۔مگر ظہیر ممدانی تو نوجوان ہے برکینا فاسو کا ابراہیم طرارے بھی جواں سال ہے اور ڈھاکہ کا شریف عثمان ہادی تو بالکل ہی نوجوان تھا۔
یہ لوگ مرنے سے کیوں نہیں ڈرتے۔۔موت ایسی ہڑپ کر لینے والی کالی سیاہ چیز سے تو کوئی بھی ڈرے گا، یہ لوگ کیوں نہیں ڈرتے۔
اس روز سری نگر میں ایک چھوکرے کے ہاتھ میں پاکستان کی چھپی ہوئی ایک کتاب تھی۔ The soward of Allah اس میں کیا لکھا تھا: میں وہسوار لے کر آتا ہوں جنہیں موت اتنی عزیز ہے جتنی ک تمہیں زندگی۔
آدمی کو موت کیوں کر عزیز ہو جاتی ہے؟
میں بھارت ماتا کا فرزند سوچتا ہوں اور سمجھ نہیں پاتا۔
دنیا کا سب سے زہریلا سانپ ہاتھی تک کو مار سکتا ہے . لیکن ایک جانور ایسا ہے . جو بچ جاتا ہے . گھوڑا! چاہے سانپ کتنا ہی زہریلا کیوں نہ ہو .یہاں تک کہ خطرناک کنگ کوبرا بھی ، گھوڑا اس کے ڈسنے سے نہیں مرتا . ڈسنے کے بعد ، گھوڑا تقریباً تین دن تک ہلکا بیمار ہو سکتا ہے . لیکن ! اس کے بعد وہ مکمل صحت یاب ہو جاتا ہے . جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو . یہ اللّٰہ کی سب سے حیرت انگیز تخلیقات میں سے ایک ہے .اور اسی مخلوق کے اندر ایک ایسا راز چھپا ہے . جو انسان کی جان بچا سکتا ہے .
تریاق (زہر کا توڑ) یہ تریاق بنتا کیسے ہے ؟ سب سے پہلے سانپ کا زہر جمع کیاجاتا ہے . پھر اس زہر کی تھوڑی مقدار گھوڑے کو لگائی جاتی ہے . گھوڑے کا مدافعتی نظام رد عمل دیتا ہے . اور اس زہر کو ختم کرنے کے لئے اینٹی باڈیز بناتا ہے . دو سے تین دن بعد ، یہ اینٹی باڈیز گھوڑے کے خون میں پائی جاتی ہیں . پھر گھوڑے کا خون لیا جاتا ہے . اور اس میں سے سُرخ خلیے نکال دیے جاتے ہیں . سفید حصہ یعنی پلازما کو پروسیس کر کے تریاق تیار کیا جاتا ہے . اس تریاق کو پھر ان لوگوں کو لگایا جاتا ہے . جنہیں زہریلے سانپ نے کاٹا ہے . تاکہ ان کی جان بچائی جا سکے .صرف بھارت میں ہی ایسی کئی لیبارٹریاں موجود ہیں جو سینکڑوں گھوڑوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں . تاکہ یہ زندگی بچانے والا تریاق تیار کیا جا سکے .
اللّٰہ کے فضل اور اس پیارے جانور کی بدولت ہم زمین کے کچھ مہلک ترین زہروں سے محفوظ ہیں ۔ سبحان اللہ، عظیم خالق ! ☝️❤️
نعتیہ کلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ♥��
اج سِک متراں دی ودھیری اے
کیوں دلڑی اُداس گھنیری اے
لُوں لُوں وِچّ شوق چنگیری اے
اج نیناں لائیاں کیوں جھڑیاں
الطَّیف�� سَریٰ مِنْ طَلْعَتِہ
وَاشَّدْ وُبَدیٰ مِنْ وَّقرتِہ
فَسکَرْتُ ھُنَامِنْ نَظْرَتِہ
نیناں دیاں فوجاں سر چڑھیاں
مُکھ چند بدر شعشانی اے
مَتھّے چمکے لاٹ نُورانی اے
کالی زُلف تے اَکھّ مستانی اے
محّموُر اکھّیں ہن مَدھ بھریاں
دو اَبرُو قوس مثال دِسّن
جیں تُوں نوکِ مثرہ دے تیر چھُٹن
لباس سُرخ آکھاں کہ لعلِ یمن
چِٹّے دند موتی دیاں ہِن لڑیاں
اس صورت نوں میں جان آکھاں
جاناں کی جانِ جہان آکھاں
سچ آکھاں تے رب دی شان آکھاں
جس شان تھیں شاناں سب بنیاں
ایہہ صورت ہے بے صورت تھیں
بے صورت ظاہر صورت تھیں
بے رنگ دِسّے اس مورت تھیں
وِچ وحدت پُھٹیاں جد گھڑیاں
دَسّے صو��ت راہ بے صورت دا
توبہ راہ کی عین حقیقت دا
پر کمّ نہیں بے سُو جھت دا
کوئی ورلیاں موتی لے تریاں
ایہا صورت شالا پیش نظر
رہے وقت نزع تے روزِ حشر
وِچّ قبر تھے پُل تھیں جد ہوسی گُزر
سب کھوٹیاں تھیسن تد کھریاں
یُعْطِیْکَ رَبُّکَ داس تُساں
فَتَرْضیٰ تھیں پوری آس اساں
لج پال کریسی پاس اساں
وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ صحیح پڑھیاں
لاہو مُکھ توں مخّطط بردِ یمن
من بھانوری جھلک دکھائو سجن
اوہا مِٹھیاں گالیں الائو سجن
جو حمرا وادی سَن کریاں
حُجرے توں مسجد آئو ڈھولن
نُوری جھات دے کارن سارے سِکن
دو جگ اکھیاں راہ دا فرش کرن
سب اِنس و ملک حُوراں پَریاں
اِنہاں سِکدیاں تے کُر لاندیاں تے
لکھ واری صدقے جاندیاں تے
اِنہاں بَردیاں مُفت و کاندیاں تے
شالا آون وت بھی اوہ گھڑیاں
سُبْحَانَ اللہ مَا اَجْمَلَکَ
مَا اَحْسَنَّکَ مَا اکْمَلَکَ
کِتّھے مہر علی کِتّھے تیری ثنا
گُستاخ اکھّیں کِتّھے جا اڑیاں
پیر مہر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ
@Riazhaq تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا
اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا
کوئی ٹھہرا ہو جو لوگوں کے مقابل تو بتاؤ
وہ کہاں ہیں کہ جنہیں ناز بہت اپنے تئیں تھا
(حبیب جالب)
@mazhar_barlas خالد نثار مٹھو ڈوگر کا سگا بھانجا ھے ۔ ھمارے ایک بزرگ دوست تھے حاجی ارشاد ڈوگر مرحوم انکا بھی یہ بھانجا ھے ۔ ا��کے چھوٹے بھائی صابر شاکر کے ھم زلف ھیں ۔
بینظیر بھٹو کو پسند کرنے والے کچھ صحافی بلاول زرداری کی چھوٹی سی خوبی دیکھ کر بھی آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں۔ اور بلاول کے صدقے واری جانا شروع ہو جاتے ہیں۔ کرن تھاپر کے ساتھ انٹرویو پر بھی ایسا ہی کیا۔
مجبورا مجھے انٹرویو دیکھنا پڑا۔
یہ کرن تھاپر کا بدترین انٹرویو تھا۔ ایک گھنٹے تک بلاول اور کرن تھاپر ایک دوسرے پر چیختے ریے۔ بلاول جگتیں مارتا رہا۔ کچھ سمجھ نہيں آیا کیا کہہ رہا ہے۔
چار بار بلاول نے تکبر سے انٹرویو چھوڑ کر بھاگ جانے کی دھمکی دی۔
مجھے محسوس ہوا کہ بظاہر مسکراتے ہوئے نرم و ملائم بلاول کے اندر بھی ایک غلیظ وڈیرہ ہے جو دوسروں کو ہمیشہ نیچا دکھانے پر تلا رہتا ہے۔
ہر طریقے سے اس نے سئینر انڈین صحافی کی توہین کرنے کی کوشش کی۔ کبھی کہتا میں تمہاری نسل سے نہيں ہوں۔ کبھی گلابی اردو میں جگتیں مارتا۔ کبھی نقلیں اتارتا۔ کبھی پرندوں کی طرح آوازیں نکالتا۔
کبھی گانے لگ جاتا۔
کبھی کہتا ماضی کو ڈسکس نہ کرو لیکن پھر خود جنرل ضیاء الحق کی پالیسی کو ڈسکس کرنا شروع کردیتا۔
کرن تھاپر کے کسی سوال کا بلاول کے پاس کوئی شافی جواب نہيں تھا۔ ہو بھی نہيں سکتا تھا۔ بلاول جس رجیم کا نمائندہ بن کر گیا تھا اسے کوئی کیسے دفاع کرسکتا ہے۔
اس لئے بلاول پریشان ہو کر کبھی حملہ کرتا۔ کبھی بھیگی بلی بن جاتا۔ کبھی دم دبا کر بھاگنا چاہتا لیکن کرن بھاگنے نہ دیتا۔
پھر بیٹھ جاتا۔ پھر کہتا میری ماں کو دہشتگردوں نے مارا تھا۔ لیکن یہ نہ بتاتا کہ وہ اب ان دہشتگردوں کے ساتھ کیوں بیٹھا ہے۔
ایک بات سمجھ میں آئی بلاول کوئی علمی بحث intellectual discourse نہیں کر سکتا صرف پسندیدہ پلیٹ فارمز پر بیٹھ کر مونولاگز کرسکتا ہے۔
ڈائیلاگ مار سکتا ہے۔
کرن تھاپر کا یہ ایسا انٹرویو تھا جسے بلاول جیسے مسخرے نے اپنی حرکتوں اور بےبسی سے پھکڑ بازی کے مقابلے میں
تبدیل کردیا تھا۔
اور حیرت ہے بینظیر بھٹو کے پرستاروں اور عسکری قیادت دلفگاروں پر کہ کیسے اس کارٹون کے عشق میں گرفتار ہوجاتے ہیں۔
@BBhuttoZardari@KaranThapar_TTP@thewire_in
قوم کی ماں کا غریبوں کی ماں پہ تشدد
آخر یہ کون لوگ ہیں جو اس قوم پر مسلط کر دیے گئے ہیں؟
جب اقتدار ووٹ سے نہیں، بلکہ کسی خفیہ ڈیل کے نتیجے میں ملے، تو پھر عوام کی تذلیل ہی ان کا رویہ بن جاتی ہے۔
اب فیصلہ عوام کو کرنا ہے
ظلم سہنا ہے یا اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنی ہے