کل ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید صاحب، اعجاز چوہدری صاحب اور عمر سرفراز چیمہ صاحب کے اہل خانہ سے گفتگو میں احساس ہوا کہ چاروں اسیران اور انکے خاندان اللہ تعالیٰ کے منصف اعلی ہونے پر کامل ایمان کی وجہ سے ہر ظلم کا مقابلہ مسکراتے ہوئے کر رہے ہیں۔ اللہ تعالی کا وعدہ ہے کہ ظلم غرق ہو گا۔
ہمارے والد اس کرسی پر بیٹھ کر میری نانی کے ساتھ بہت مزاق کیا کرتے تھے اور ہم سب اس پر بہت ہنستے تھے لیکن اب یہ ساری یادیں بہت غمزدہ کرتی ہیں۔
فادرز ڈے پر قاسم خان کی یہ گفتگو یاد آئی 💔
شہباز شریف حرامخور کو جیسے ہی موقع ملا تو اس نے ساتھ ہی ٹرمپ کے جوتے منہ میں ڈالنا شروع کردیے
یہ بے شرم عالمی سطح پر پاکستان کیلئے مسلسل شرمندگی کا باعث بن چکا ہے
یہ پیرا فورس کا اہلکار اس نے سرکاری موٹر سائیکل سروس اسٹیشن سے دھلوائی اور پھر جب پیسے مانگے تو دھمکیاں دے رہا الٹا سروس اسٹیشن کی ویڈیو بنانے لگ گیا کہ سیل کروادونگا۔
یہ مریم نواز کا تحفہ ہے پنجاب کے غریبوں کے لئے
اسلام آباد 13 سالہ سلیمان راولپنڈی پولیس کی تحویل میں مبینہ تشدد کے باعث جاں بحق ہوگیا۔ لواحقین کے مطابق اسے ایک ہفتہ قبل گرفتار کیا گیا تھا، پولیس کی حراست میں آنکھیں گردے نکال دئے گئے ہیں اور آج پولیس نے لاش ہسپتال سے لینے کی اطلاع دی۔ اہلِ خانہ نے انصاف کا مطالبہ کیا ہیں۔
شہزاد اکبر نے گوہر خان کو تن دیا🔥
گوہر نے اپنے اکاؤنٹ سے تصاویر پوسٹ کی, جس میں وہ شہباز شریف اور جعلی حکومت سے ہنسی خوشی گلے مل رہےہیں, جو لوگ عاصم منیر کے ساتھ ساتھ عمران خان پر غیر ٹارچر میں ملوّث ہے!
اور یہ عمران خان کا نظریہ بھی نہیں
گوہر استعفی دے اگر نطریہ چھوڑا
فوج کو ایک بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیئے عمران خان وزیر اعظم بننے کا محتاج نہیں ہے یہ کرسی اب عمران خان کیلئے بہت چھوٹی ہوچکی ہے اب یہ سوچ نسلوں میں منتقل ہوچکی ہے فوج کو بیرکوں میں جانا ہی جانا ہے اور اقتدار عوام کے حوالے کرنا ہی کرنا ہے دوسرا کوئی رستہ ہے ہی نہیں!
2023 سے پہلے ہماری حکومت تھی تو " ماشاءاللہ ساری اپوزیشن بستروں پہ تھی ، کسی کو ڈرپ لگی ہوتی تھی، کوئی پورا پٹیوں پہ لپٹا ہوتا تھا، لیکن جیسے ہی ان کی حکومت آئی تو سارے فٹ ہوگئے پتا نہیں کونسی گولی ان کو دی گئی ہے "،
فرخ جاوید مون
لاہور میں احتجاج کے دوران ایک خاتون سابق اڈیالہ جیلر انجم غفور کی تصویر اٹھائے سڑکوں پر نظر آئیں
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کے ذمہ دار یہی شخص ہیں اور اس کا بھی وہی حال ہوگا جو اس نے عمران خان کا کیا ہے
#HappyFathersDayImranKhan
Thank you for sacrificing so much for your Nation. I don’t know how we will ever pay you back for giving it all for Pakistan.
What’s most endearing is how your sons @Kasim_Khan_1999 & #SulaimanKhan show your values. Kudos to you & @Jemima_Khan!
شاہ دین، 75 سالہ، پی آئی اے میں ڈرائیور ہیں۔
وہ پہلے ایک مقدمے میں کیمپ جیل میں قید رہے، پھر دوسرے مقدمے میں انہیں 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
ان پچھتر سالہ بزرگ پر الزام تھا کہ انہوں نے پولیس گاڑی کے ڈرائیور کو فلائنگ کک مار کر نہر میں گرا دیا، اور چھبیسویں اور ستائیسویں ترمیم زدہ کینگرو کورٹس نے اس الزام کو مانتے ہوئے سزا سنا دی۔
یہ کہانی صرف شاہ دین کی نہیں بلکہ ایسے نظام کی عکاسی کرتی ہے جہاں عقل، عمر اور حقائق سے زیادہ الزام کی اہمیت ہوتی ہے۔ مقصد انصاف کے بجائے زمینی آقاؤں کی خوشی ہوتا ہے۔ جب ایسے فیصلے ہونے لگیں تو لوگ قانون سے نہیں بلکہ قانون کے نام پر ہونے والی ناانصافی سے ڈرتے ہیں۔
ایک اور مقدمے میں 17 سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے، جس کے بعد مجموعی سزاؤں کی مدت 280 سال تک پہنچ گئی ہے۔ میرے خلاف کوئی ثبوت موجود نہیں-
میں نے اپنی پوری زندگی پاکستان کے غریب عوام کو بہتر صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے وقف کر دی۔
تاریخ ان اقدامات کا فیصلہ ضرور کرے گی۔