خبر کے مطابق رانے عظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی صدر ناراض ہوکر واپس گئے ہیں کیونکہ انکی ملاقات ابو ٹیریان سے نہیں کروائی گئی اور یہاں مورخ لکھے گا کہ رانا چاہے عظیم ہو ایثار ہو گٹے جوڑ کر جھوٹ بولتے ہیں
اس کلپ سے ثابت ہوتا ہے کہ رانا اس گولے کی سب سے وڈی “ جوٹھ “ ہے
اس گستاخی کا جتنا زمہ دار جواد نقوی ہے اتنا ہی بڑا زمہ دار یہ ریحان طارق ہے جو چند لائکس ویوز کیلئے ایسے سوالات پوچھ کر مسلمانوں کی دل آزاری کرتے تا کہ لوگ اس پر بات کریں لوگ اشتعال میں آئیں اور اسکا پوڈ کاسٹ فیمس ہو جائے
یہ ڈالر کمانے والے گِدھ ہیں
جنہیں مرنا بھولا ہے لعنتی🖐🏻
محرم الحرام کے مقدس ایام میں جھلسا دینے والی گرمی کے باوجود پنجاب پولیس کے جوان سڑکوں پر متحرک رہے اور موسم کی سختی کی پروا کیے بغیر عزاداروں کو مکمل تحفظ فراہم کیا۔ ان کی فرض شناسی اور دن رات کی محنت کی بدولت عاشورہ انتہائی پرامن اور خیر و عافیت سے گزرا۔ اس تپتے موسم میں عوام کی خدمت کو ترجیح دینے والے اپنے ان تمام بہادر جوانوں کو شاباش دیتی ہوں۔ آپ ہمارا فخر ہیں۔ جیتے رہیں 👏🏻
سرگودھا بااثر افراد نے مبینہ زیادتی کرنے کی شکایت پر بارہ سالہ بچے کو زندہ دفن کر دیا
زیادتی ماڈل ٹاون میں گھریلو ملازمہ سے ہو یا سرگودھا کے بچے کے ساتھ یا پشاور کی پندرہ سالہ بچی کے ساتھ یا تین سالہ کراچی کی بچی ہے ساتھ “ ملزمان کا انجام ایک جیسا ہونا چائیے
میں نے جواد نقوی اور ریحان طارق کی پوڈکاسٹ کو کئی بار بغور دیکھا اصل مجرم ریحان ہے جس نے ریٹنگ کے حصول کے لیے جان بوجھ کر متنازعہ مذہبی سوالات جواد نقوی سے پوچھے جن پر جواد نقوی نے بھی متنازعہ جواب دیے
ایسے یوٹیومرز پر ریاستی ادارے نہ جانے کیوں خاموش تماشائی بنے ہیں۔
کیا یہ کسی فساد کے منتظر ہیں؟
تو کیا دھرنا جاری ہے؟
دھرنا تو وڑ گیا سر جی
اب معافی مانگ رہے ہیں
حب الوطنی کی قسمیں کھا رہے ہیں
پاکستان کھپے پاکستان کھپے
ڈرامہ ناکام ہو گیا ڈرامہ کوئین
پیپل پارٹی کا
یعلی بن مرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
“حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں ، جو شخص حسین سے محبت کرتا ہے تو اللہ اس سے محبت کرے اور حسین میری اولاد سے ہیں ۔‘‘
(رضی اللہ عنہ)
(مشکوۃ ،۶۱۶۹)
حسنین ؓ کے نانا، فاطمہ الزہرا ؓ کے بابا
کائنات کے سردار امام الانبیاء ﷺ نے فرمایا :
فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے ، اس لیے جس نے اسے ناحق ناراض کیا ، اس نے مجھے ناراض کیا ۔
(بخاری شریف - 3714)
جواد نقوی نامی مجوسی کل رات ایک اینکر کے ساتھ بیٹھا تھا
اینکر نے سوال کیا کہ آپ لوگ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی تکریم کیوں نہیں کرتے۔؟
مجوسی جواب دیتا ہے کہ جو تکریم کے قابل نہیں اسکی تکریم نہیں کرتے۔
کون ہیں معاویہؓ
سیدنا معاویہؓ صحابی رسول ہیں نبی کریمﷺ کے برادر نسبتی ہیں آپ کی ہمشیرہ ام المومنین ام حبیبہ بنت سفیان رضی اللہ عنھا کی شادی نبی کریمﷺ سے ہوئی تھی۔
سیدنا معاویہؓ سے 161 احادیث مروی ہیں۔
سیدنا معاویہؓ کاتب وحی تھے( الإصابة/تاریخ ابن کثیر)
نبی کریمﷺ نے فرمایا
أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ الْبَحْرَ قَدْ أَوْجَبُوأ
ترجمہ : میری امت کا پہلا لشکر جو سمندر میں جہاد کرے گا اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔
جزیرہ قبرص کے لئے پہلا لشکر جو شام سے روانہ ہوا اسکی کمانڈر سیدنا معاویہؓ نے کی۔
حوالے(صحیح بُخاری/البدایہ/تاریخ طبری)
عبداللہ بن عباسؓ سے پوچھا گیا سیدنا معاویہؓ نے ایک وتر پڑھا آپ اس پہ کیا کہیں انہوں کہا بے شک معاویہؓ فقیۂ ہیں(صحیح بُخاری)
ہمارے نزدیک تو کسی صحابی رسول کی شان میں کوئی ایک حدیث بھی نا ہو پھر بھی ہمارے لئے قابل احترام ہیں کیوں کے صحابی رسول ہیں۔
لیکن یہاں مجوسیت کی گندگی اور کبر سے تو جلیل القدر صحابی محفوظ نہیں۔
ہم نا تو کسی سے زبردستی فضائل بیان کروانا چاہتے ہیں نا ہی کسی کو ایسا کرنا چاہیے۔
لیکن اگر کوئی بدبخت کالے منہ والا صحابی رسول کے بارے میں بکواس کرے گا تو اسکو روکا جاے گا ٹوکا جاے گا۔
کیسا اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے کہ جہاں چیف جسٹس کی گستاخی پہ سزا ہو جاتی ہے۔۔وزیر اعلی کے بارے میں نازیبا الفاظ بولنے والے کو گرفتار کیا جا سکتا ہے۔
آرمی چیف یا وزیر اعظم کے بارے میں غلط زبان استعمال کرنے والا بھی مجرم ہے۔
لیکن کُھلے عام ایک زندیق مجوسی کالے منہ والا، صحابی رسول کی گستاخی کرتا ہے اُسے نا تو کوئی گرفتار کرتا ہے نا ہی کوئی مقدمہ درج ہوتا ہے۔
ایک بات بالکل کلئیر کردینا چاہتے ہیں کہ اس ملک میں ہر بریلوی دیوبندی اہلحدیث اصحاب رسول کی عزت و تکریم پہ اکٹھا ہے۔
مجبور نا کریں علما کو احتجاج کرنے پہ اور اس مجوسی کو گرفتار کریں۔
تمام مکاتب فکر کے علما نے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا ہے اور مطالبہ کیا ہے گرفتاری کا۔
حکومت اگر قانون اور آئین کے مطابق گستاخ صحابی کو گرفتار نہیں کرتی تو پھر واضع ہے کہ حکومت ایک مخصوص گروہ کو خود چھوٹ دے رہی ہے کہ بھونکو جو مرضی۔
اور ایسا نہیں ہونے دینگے ان شا اللہ۔
يَمْحَقُ اللّـٰهُ الرِّبَا وَيُـرْبِى الصَّدَقَاتِ ۗ وَاللّـٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِـيْمٍ
" اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے، اور اللہ کسی ناشکرے گناہگار کو پسند نہیں کرتا۔"
سورہ بقرہ ، آیت 276