قومی سروے 🚨🚨
اس وقت حق پر کون ہے؟ عوام کس کے ساتھ کھڑی ہے؟ کون عوام کا حقیقی خیر خواہ ہے؟
1- عمران احمد خان نیازی ❤️
2- فیلڈ مارشل سید عاصم منیر 🥺
اپنی قیمتی رائےسے آگاہ کریں ✍️
بوری بند لاشیں متعارف کروانے والا
انکار پر سزائے موت سنانے والا ، کراچی کو منٹوں میں بند کروا سکنے والا یہ شخص
آج بستر مرگ پہ پڑا ہے
پارٹی قطع تعلقی کرچکی ،متعدد بار جیل جاچکا
کیسز ہیں ، مالی حالات تنگ ہیں
لہذا دماغ مفلوج ہوچکا ۔
دنیا میں کسی کا احتساب ہمارے لیئے سوچنے کا موقع ہے
الطاف حسین بننے سے پہلے سوچ ضرور لینا۔
"منگ پناہ محمد بخشا بے پرواہ جنابوں۔۔"
الطاف حسین مالی مشکلات کی وجہ سے ذہنی دباؤ کا شکار ہو کر ہسپتال داخل۔۔۔
اللہ اکبر۔
"گردش دوراں تو دیکھیے"
کیا دور تھا کہ کراچی کا میئر صرف الطاف بھائی کے ساتھ دستر خوان پر بیٹھ کے حلیم کھا لیتا تو فخر سے پھولے نہ سماتا۔۔
پورا کراچی آن واحد میں شہر خموشاں بن جاتا۔
کسی چوہدری، وڈیرے کی جرات نہ تھی کہ الطاف بھائی کی کال پہ ’’نہ’’ بھی کہہ سکتا۔
کتنے لاشے الطاف بھائی کی ہاں میں ہاں نہ ملانے پہ اٹھے،
کتنے سہاگ الطاف بھائی کی مرضی کے خلاف قدم اٹھانے پہ لٹے،
کتنی ماؤں کے لخت جگر زیر زمین جامکین ہوئے وجہ الطاف بھائی کے خلاف زبان سے لفظ نکل گیا،
نہ معافی نہ تلافی سیدھا ٹھاہ۔۔۔
آج الطاف بھائی ہیں
مالی مشکلات کا شکار بھی اور ذہنی دباؤ بھی۔
اللہ اکبر۔۔
آسماں اتنی بلندی پہ جو اتراتا ہے
بھول جاتا ہے زمین سے ہی نظر آتا ہے
عرصہ قبل ایسی ہی ایک ویڈیو جناب شیخ رشید کی نظر آئی تھی
جس میں وہ زمانے کا شکوہ کرتے نظر آئے اور بہت کرب سے روتے دکھائی دیے ۔ وہ شیخ رشید جن کے تکبر کا عالم یہ ہوتا کہ وہ قرآن خوانی پہ ہاتھ سے سگار نہ نکالتے۔
تاریخی بات ہے ایک اداکارہ کو فیملی سمیت لاہور سے اسلام آباد بلا کر صرف اس لیے ایوارڈ کی دوڑ سے باہر نکال پھینکا کہ وہ شب میں شیخ صاحب کے روم میں نہ جا سکی۔ مگر وہی شیخ رشید جیسے کرب کے ساتھ رویا تو پتھر دل بھی ہل گئے ۔۔۔۔
یہی شیخ رشید تھے کہ سوال کیا گیا کہ
"شادی کیوں نہیں کرتے ؟"
تو جواب ملا کہ
" جس کو صبح شام تازہ دودھ میسر ہو اسے بھینس پالنے کی کیا ضرورت"
آج وہ بلک بلک کر روتے پھرتے ہیں کہ
تین دن ہو گئے ہیں کوئی ملنے نہیں آیا ۔
تو ثابت ہوا کہ صرف دودھ ہی سب کچھ نہیں ہوتا ،
کچھ کٹے وچھے بھی ضروری ہوتے ہیں
جو کمزور لمحے میں آپ کے لئے توانائی کا سورس ہوتے ہیں ۔
ورنہ بندے کو گلہ کرنے کے لئے بھی کوئی دستیاب نہیں ہوتا ۔
شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشا ہے
جس ڈال پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے
”اَلْمُسْتَطْرَف فِیْ کُلِّ فَنٍّ مُسْتَظْرَف“
“حضرت شہاب الدین محمدبن احمدشافعی علیہ الرحمۃ (مُتَوَفّٰی۸۵۰ھ)کی عظیم اور اپنی نوعیت کی عجائبات دنیا پر منفرد اور انوکھی تصنیف ہے۔
لکھتے ہیں
"ایک امیر شخص اپنی اہلیہ کے ساتھ بیٹھ کر عمدہ قسم کے کھانے کھا رہا تھا کہ فقیر نے خیرات کی صدا لگائی۔
فقیر کی ندا کی آواز اسے بہت بری لگی ۔
اسے جھڑک کر دروازے سے دھتکار دیا۔
بے چارہ سائل فقیرانہ آیا تھا اور صدا کر کر چلا
گردش دوراں دیکھیے ،
قدرت نے انگڑائی لی یا کہیے فطرت نے پلٹا کھایا
یہ شخص خود فقیر ہو گیا ،
مال و دولت جاتا رہا، حسن جوانی سب خاک ہوگیا،
وزیر مشیر سب رفو ہو گئے۔ ہم نشیں بیگانے اور اپنے ، اجنبی بن گئے ۔
بیوی کو طلاق دے دی اور منظر سے غائب ہو گیا۔
بیوی نے کسی اور بندے سے نکاح کر لیا
یہ دونوں میاں بیوی ایک دن اسی طرح عمدہ کھانا کھا رہے تھے ایک فقیر نے صدا لگائی ،
شوہر نے کہا "یہ کھانا اسے دے آؤ، وہ کھانا دے کر واپس لوٹی تو رونے لگی،"
میاں نے وجہ پوچھی تو گویا ہوئی ۔
"سرتاج!! یہ فقیر میرا سابق شوہر تھا۔ اس حالت میں اسے دیکھ کر رونا آگیا۔ اور سائل کو جھڑکنے کا پورا واقعہ بھی کہہ سنایا۔
اتنا سننا تھاکہ شوہر پھوٹ پھوٹ رویا
عورت سہم گئی کہ مبادا کوئی غلطی ہوگئی ہو۔ رونے کی وجہ پوچھی تو اس کے شوہر نے نے بخدا وہ فقیر میں تھا۔
پژمردگئ گل پہ ہنسی جب کوئی کلی
آواز دی خزاں نے، کہ تو بھی نظر میں ہے
یہ سب یہاں رہ جائے گا،
یہ فراٹے بھرتی گاڑیاں،
یہ پروٹوکول،
یہ اقتدار،دولت ،حرص ہوس سب۔۔۔۔
فاعتبروا یا اولی الابصار۔۔۔
"اللہ کریم ہمیں ہمہ قسمی تکبر سے محفوظ رکھے۔ اور ہر اس عمل کی توفیق بخشے جس سے وہ راضی ہو۔
جو خاص ہوں اُنھیں احساس دلانے کی کوشش کریں ،
دو دن پہلے ہمارے خاندان کی سب سے ذہین،مہذب اور پیاری بچی تاجور جو میرے بڑے بھتیجے کی بیٹی ہے کی سالگرہ تھی،اُس کے سُلجھے رویے، اخلاص اور اپنائیت کی وجہ سے سب چھوٹے بڑے اُسے پسند کرتے ہیں مگر میری بیٹی پریا کو وہ بہت عزیز ہے بلکہ اُس کا نام بھی میری بیٹی نے رکھا تھا ،رات بارہ بجے فیملی گروپ میں اس کی سالگرہ کا میسج شئیر ہوا وٹس ایپ پر کیک اور تحفوں کے ڈھیر لگ گئیے .
پریا نے حقیقتا شدید گرمی میں بڑی محبت اور محنت سے کوکیز اور براونیز تیار کیں. سچ کہوں تو دونوں چیزیں اتنی مزیدار تھیں کہ میں حیران رہ گئی،
آج کل کے بچے یوٹیوب اور دیگر آن لائن ذرائع سے وہ مہارتیں سیکھ لیتے ہیں جن کا ہم اپنے زمانے میں تصور بھی نہیں کر سکتے تھے لیکن اس سارے معاملے میں میرے لئے سب سے زیادہ خوشی کی بات پریا کا تاجور کی خوشی کو اپنی خوشی سمجھنا اور اُسے خاص محسوس کرانے کی کوشش کرنا ہے.
ورکنگ ڈے ہونے کی وجہ سے سالگرہ باقاعدہ طور پر نہیں منائی جا سکی،ان شاء اللہ چھٹی والے دن سب مل کر یہ خوشی منائیں گے،میری بیٹی نے بوعدہ کیا ہے کہ وہ دوبارہ کوکیز، براونیز اور ایک خوبصورت کیک خود بیک کرے گی،
بچوں سے محبت صرف لفظوں سے نہیں جتائی جاتی بلکہ اپنے عمل، رویّے، توجہ اور احساس کے ذریعے ظاہر کی جاتی ہے،دوسروں کی خوشیوں میں شریک ہونا اور انہیں اہمیت دینا ایک خوبصورت انسانی وصف ہے اور یہی اوصاف ہمارے بچوں کی اصل تربیت کا آئینہ ہوتے ہیں.
مجھے خوشی ہے کہ جس طرح میں اپنے پیاروں کا احساس کرتی تھی وہ گُن میری اولاد میں بھی ہے.
خوش رہیں اور دوسروں کی خوشیوں کو اپنی خوشیوں کا حصہ بناتے رہیں.
عرصہ پہلے کی بات ھے ایک دکان پر لسی کا آرڈر دینے کے بعد ہم سب دوست آرام سے بیٹھے ایک دوسرے کو چھیڑ رہے تھے اور ہنسی مذاق کر رہے تھے کہ ہمارے سامنے ایک 70-75 سال کی بزرگ خاتون آ کھڑی ہوئی اور ہاتھ پھیلا کر بھیک مانگنے لگی ۔
اس کی کمر جھکی ہوئی تھی،
بھوک چہرے کی جھریوں میں تیر رہی تھی
آنکھیں اندر ہی اندر دھنسی ہوئی تھیں لیکن جاندار تھیں۔
اسے دیکھ کر پتہ نہیں میرے ذہن میں کیا آیا کہ میں نے جیب میں سکے نکالنے کے لیے جو ہاتھ ڈالا تھا اسے واپس کھینچتے ہوئے پوچھا: دادی آپ لسی پئیں گی؟
اس بات سے دادی تو کم حیران ہوئی لیکن میرے دوست زیادہ کیونکہ اگر میں انہیں پیسے دیتا تو میں صرف 5 یا 10 روپے دیتا لیکن لسی 120 روپے کی تھی۔
اس لیے میرے لسی پی کر غریب ہونے اور اس بوڑھی دادی کے دھوکے سے امیر ہونے کے امکانات بہت بڑھ گئے تھے۔
دادی نے ہچکچاتے اور ڈرتے ہوئے ہاں میں گردن ہلا دی اور 6-7 روپے جو انہوں نے بھیک مانگ کر اپنی جھولی میں جمع کئے تھے کانپتے ہاتھوں سے میری طرف بڑھائے۔
مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا تو میں نے ان سے پوچھا یہ کس لیے ہے؟
بیٹا...........، میری لسی کے دام میں یہ پیسے ملا کر چکا دینا ۔
میں پہلے ہی انہیں دیکھ کر جذباتی ہو گیا تھا -
جو کچھ ادھورا رہ گیا،
اس کی کمی اس چیز نے مکمل کر دی۔
اس غریب خاتون کی خودداری دیکھ میری آنکھیں نم ہو گئیں میری آواز رندھ گئی بھرے گلے سے میں نے دکاندار کو لسی کا گلاس لانے کو کہا۔
وہ اپنے پیسے دے کر پاس ہی زمین پر بیٹھ گئی۔
اب مجھے اپنی بے بسی کا احساس ہوا کیونکہ وہاں موجود دکاندار،
میرے دوست اور بہت سے دوسرے گاہکوں کی وجہ سے میں انھیں کرسی پر بیٹھنے کے لیے نہیں کہہ سکتا تھا۔
مجھے ڈر تھا کہ کہیں کوئی ٹوک نہ دے ۔
ایسا نہ ہو کہ کسی غریب بھکارن عورت کو اپنے پاس بٹھانے پر لوگوں کو یا دکاندار کو اعتراض ہو۔
لیکن جس کرسی پر میں بیٹھا تھا وہ مجھے کاٹ رہی تھی۔
جیسے ہی کلڑوں میں بھری ہوئی لسی ہم سب دوستوں اور بوڑھی دادی کے ہاتھ میں آئی،
میں اپنی کرسی سے اٹھ نیچے اس بوڑھی دادی کے پاس زمین پر بیٹھ گیا اور یہ میرا اٹل فیصلہ تھا کیونکہ میں ایسا کرنے کیلئے آزاد تھا۔
اس پر کوئی اعتراض نہیں کر سکتا تھا۔
ہاں، آس پاس بیٹھے کچھ لوگ اور میرے دوست ایک لمحے کے لیے مجھے گھورتے رہے،
اور عجیب نظروں سے مجھے دیکھتے رہے
لیکن اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتے،
دکان کے مالک نے آگے بڑھ کر دادی کو اٹھا کر کرسی پر بٹھایا اور ہاتھ جوڑ کر میری طرف مسکراتے ہوئے کہا:
بیٹھیں جناب..........!
میری دکان پر بہت سے گاہک آتے ہیں،
لیکن انسان کبھی کبھار ہی آتے ہیں۔ ❤️