We talk about revolution, but revolution cannot be brought by men alone, nor can women create it. It is a process where men and women have to walk together, face every difficulty together, then the Baloch National Movement will reach its destination. ,
#LegendsNeverDie
جامعہ کراچی کے چار طلبہ جبری طور لاپتہ
جاوید، زکریہ زائد اور کل مسلم داد کو جبری طور پر اغواء کرکے جو تاحال لاپتہ ہیں۔
کراچی کی حالات اس شدید تشویشناک ہے پچھلے کئی مہینوں کے اندر چار بلوچ طلبہ کو جبراً لاپتہ کیاگیاہے۔
#SaveBalochStudents
ایک اور بلوچ طلبہ کراچی سے لاپتہ
اطلاعات کے مطابق جبری گمشدہ شخص جس کی شناخت مسلم داد سے ہوئی ہے جو ضلع آواران کے علاقے مشکے سے تعلق رکھتے ہیں۔
مسلم کے بارے میں کہہ جارہا ہے کہ وہ جامعہ کراچی کے شعبہ فلسفہ کا طلبہ ہے جسے مسکن گیٹ سے لاپتہ کیا گیا، جو تاحال لاپتہ ہے۔
زائد بلوچ کی والد کیا کہہ رہا ہے؟
زائد بلوچ کی والد کے مطابق زائد کی میڈیاں اکاؤنٹز ریاستی ادارے استعمال کر رہے ہیں۔ ہم انکے دوست عقارب کو علم لانا چاہتے ہے اگر کسی کو کوئی بھی مسیج یا کال آئے تو خیال کریں کہ یہ زائد نہیں ہے۔
#ReleaseZahidBaloch#ReleaseZahidBaloch
علم وادب پبلیشر چنگیز ساحر جبری طور پر لاپتہ
پچھلے کئی دنوں سے خبری آرہی ہیں کہ کراچی کے مختلف علاقوں میں ریاستی ادارے مسلسل چھاپے مار رہی ہیں۔
زرائع کے مطابق کراچی رہائشی زائد بلوچ اور چنگیز ساحر جو علم وادب کے پبلیشر ہے دونوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا ہیں جو تاحال ہے
Zahid, a reader, a writer, a graduate student, a silent face, who is abducted from Karachi.
We are deeply worried about his missing.#ReleaseZahidBaloch
Family of abducted #ZahidBaloch had a press conference to highlight about his missing case, he is my shoulder, my backbone as well as my second eye" said heartfeltly by his father. I want my son, my beloved, where he was forcibly disappeared by the security forces #releasehim
Balochistan where in, neither students, writer's, publisher's as well as teachers are unsaved in it where each day abductions are rapidly growing over there.
Chengaiz Baloch, a book seller, a publisher, has been taken away from his shop whereabouts remain unknown.
#ReleaseHim
کراچی سے ایک نوجوان لاپتہ
کراچی سے تعلق رکھنے والے نوجوان زائد بلوچ جو حالی میں جامعہ کراچی میں شعبہ بین الاقوامی تعلقات سے فارغ التحصیل ہوکر رکشہ چلاتا ہے جو دو روز قبل خفیہ اہلکاروں جبری طور لاپتہ ہے۔
#RelaaseZahidBaloch
غیرت کے نام پر قتل: نوآبادیاتی سوچ کی باقیات
بلوچ وومن فورم
نوآبادیاتی نظام میں غیرت صرف عورت کی ذات تک محدود کی جاتی ہے، اور اس کی زندہ مثال بلوچ عورتیں دن رات بن کر دے رہی ہیں۔
بلوچ معاشرہ، جس کی دلیری کی گواہی آج بھی دنیا دیتی ہے، کبھی عورت کے قتل کو دلیری نہیں سمجھتا تھا۔ یہاں مرد اگر بہادر اور غیرت مند مانا جاتا ہے، تو عورت بھی اسی طرح غیرت مند، باہمت اور باوقار جانی جاتی ہے۔
تاریخی پس منظر میں ھانی اور مھناز نہ تو افسانوی کردار ہیں، نہ محض جنگی یا عشقیہ داستانیں، بلکہ غیرت مندی کی زندہ علامتیں ہیں۔ وہ عورتیں تھیں جنہوں نے سماج کے فرسودہ رسم و رواج کو للکارا، اور ان رسومات کو توڑا۔ مھناز نہ شہداد کی غیرت تھی، نہ ھانی صرف مرید کی۔ مھناز کی جنگ اپنی ذات، اپنی عزت، اور بقا کی جنگ تھی—اور وہ اس میں کامیاب بھی ہوئی
اسی طرح بانڈی چاکر ہو یا بیبو خان آف قلات، ان کی غیرت کا نام گل بی بی کی عزت نہیں تھا، بلکہ یہ سب بلوچستان کے جنگی سپاہی تھے، جو ہر قدم پر بلوچ ہونے کا فرض نبھا رہے تھے۔
آج جو بندوق تھامے مرد خود کو غیرت مند کہلاتے ہیں، وہ درحقیقت نوآبادیاتی نظام کے ذہنی غلام ہیں۔ ان کا بس نوآبادکار پر نہیں چلتا، تو ایک غیرت مند بلوچ عورت پر چلتا ہے—وہ عورت جو بہادری سے گولی اپنے سینے پر کھاتی ہے اور شہید ہو جاتی ہے۔
بلوچ تاریخ اور بلوچ معاشرہ، نہ محبت کے افسانوں کو جھٹلاتے ہیں، نہ عورت کے وجود یا کردار کو۔ تو پھر یہ لوگ کون ہیں جو عورت کے قتل کو غیرت کا نام دیتے ہیں؟ یہ سوال ہم سب کا حق ہے
جس ریاست میں آج بلوچ بستے ہیں، اس کی حفاظت کی ذمہ داری خود ریاست کی ہے۔ تو پھر سوال یہ بنتا ہے کہ جن لوگوں کی جانب سے کھلے عام "غیرت" کے نام پر قتل کی ویڈیوز بنائی جاتی ہیں، ان کے خلاف اسی طرح کھلے عام کارروائی کیوں نہیں ہوتی؟ کیا ریاست صرف تماشائی ہے؟
یا پھر ہم یہ سمجھیں کہ جیسے منشیات فروشی ریاستی غفلت کا نتیجہ ہے، ویسے ہی بلوچ نسل کشی کا ایک منظم حصہ بلوچ عورتوں کے قتل کے ذریعے بھی انجام دیا جا رہا ہے—ایسا طریقہ جس میں نہ سانپ مرتا ہے، نہ لاٹھی ٹوٹتی ہے۔
Forcibly abducting people without any legal notice is itself evidence that the state institutions have no proof to establish the accused individual's guilt. Mah Jabeen’s case is no different, she has been detained unlawfully.
#ReleaseMahjabeenAndYounusBaloch
بلوچ وومن فورم کے آرگنائیزر ڈاکٹر شلی بلوچ نے میڈیا ایکس میں بتاتے ہوئے کہا کہ شہید بانک کریمہ کی چوتھی برسی 21 دسمبر کےدن آواران تیرتیج میں منعقد ہوجائےگا جس سے تمام مخاتب فکر کے لوگوں کو شرکت کی اپیل کرتےہیں
In recent decades the Baloch students aren't save in educational institution. instead of providing the education, Baloch's are being threatened and abducted by the State Authorities.
#SaveBalochStudents