@ajmaljami This doesn't mean FBR is charging Rs.195 tax per 1,000 views. Rs.195 is the estimated income, which is then used to calculate the applicable income tax.
@mrsejaz2004 حفظ کرنا عظیم نعمت ہے، رسول اللہ ﷺ نے حافظ قرآن کی فضیلت بیان فرمائی۔ اسے رٹا کہہ کر اہمیت کم نہیں کی جا سکتی۔ سمجھنا اور عمل کرنا اگلا ضروری قدم ہے، دونوں ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ تکمیل ہیں۔ بیٹا حفظ کرے، ساتھ عمر بڑھنے پر ترجمہ و تفسیر بھی پڑھائیں تاکہ الفاظ سمجھ میں ڈھلیں.
@Tasawar03936180@RoymukhtarRoy عمل اور جماعت بندی تینوں کو شامل کرتی ہے۔
بدعت جب گروہ کی پہچان اور علیحدہ فرقہ بندی کی بنیاد بن جائے تو وہ گناہ سے آگے بڑھ کر تفرقہ کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اسے محض گناہ کہہ کر تفرقہ کے دائرے سے نکال دینا دلیل نہیں، تعریف کو تنگ کر کے نتیجہ بدلنے کی کوشش ہے۔
@Tasawar03936180@RoymukhtarRoy تفرقہ کی تعریف صرف اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی نفی تک محدود کرنا قرآن کے مفہوم سے میل نہیں کھاتا۔ سورہ روم میں فرقہ در فرقہ ہونے اور ہر گروہ کا اپنے عقیدے پر مطمئن ہو جانے کو تفرقہ کہا گیا، اور سورہ آل عمران میں دین میں فرقے بنانے سے روکا گیا۔ یہ تعریف عقیدے
Prime Minister @andyburnham and Foreign Secretary @Ed_Miliband : how much longer will Britain remain silent?
For three years the father of my two sons, and Pakistan’s former Prime Minister, Imran Khan, has been brutally penalised by his political opponents, in a personal vendetta by Army Chief, Asim Munir, which according to the UN, amounts to torture and which is now taking a potentially fatal toll on his physical and mental health.
He has endured 3 years of solitary confinement. For nearly ten months now his family has been denied contact with him. He has been deprived of the most basic human contact, denied access to books, lawyers and doctors.
The international human-rights standards are unequivocal. Under the UN’s Nelson Mandela Rules, solitary confinement lasting more than 15 consecutive days is prohibited and amounts to torture.
He has endured this treatment not for 15 days, but for three years.
Pakistan’s own Supreme Court has now intervened: ordering comprehensive medical treatment, access to his personal doctor, regular family visits and twice-weekly calls with his sons.
Yet those orders are being defied.
This is no longer simply a Pakistani political matter. It is a human-rights emergency.
He has deep and lifelong ties to Britain. He studied at Oxford University, captained Oxford University cricket and spent years playing county cricket in England. His relationship with this country stretches back more than half a century. His charitable activities were internationally recognised, and include building the only free cancer hospital in Pakistan as well as a university.
His sons, my two boys, Sulaiman and Kasim, are British citizens. They have been forced to watch their father’s health decline from thousands of miles away, prevented from visiting him, denied visas, publicly threatened by government officials with arrest themselves, and even denied court-mandated regular phone calls.
I have repeatedly appealed to the UK government to intervene. Purported attempts at back channelling have evidently failed. The previous Foreign Secretary @DavidLammy informed me in writing that Britain would not intervene if my sons, British citizens, are arrested when they travel to Pakistan to visit their father.
@FCDOGovUK: Britain must now speak out publicly and unequivocally. Demand that Pakistan comply with its own Supreme Court; restore Imran Khan’s medical access, his right to see his family, end his prolonged isolation and uphold his fundamental human rights.
Pakistan is a Commonwealth country. Britain has a long and proud tradition of standing against arbitrary detention, inhumane treatment and the denial of fundamental rights. Those principles mean very little if we invoke them only selectively and neglect them when inconvenient.
This an appeal to the new Burnham government to please now do the right thing.
کیا ہم واقعی بدل گئے ہیں یا صرف بےنقاب ہوگئے ہیں؟
آج کل جھوٹ، بےحسی اور بےضمیری اتنی عام ہوچکی ہے کہ لوگوں کو اب یہ پرواہ ہی نہیں رہی کہ کوئی ان کے بارے میں کیا سوچے گا، خاص طور پر ہمارے معاشرے پاکستان میں۔ سوال یہ ہے کہ کیا انسان واقعی پہلے سے زیادہ بےضمیر ہوگیا ہے، یا صرف وہ خوف ختم ہوگیا ہے جو کبھی اسے چھپا کر رکھتا تھا؟
اصل مسئلہ دل کے اندر کا ہے۔ جب اللہ اور آخرت کا یقین صرف زبان تک محدود رہ جائے اور عمل سے نکل جائے، تو یہ احساس ہی ختم ہوجاتا ہے کہ کوئی دیکھ رہا ہے۔ پہلے لوگ معاشرے کے سامنے شرمندہ ہونے سے ڈرتے تھے، اب وہی خوف آزادی کے نام پر خود اپنے ہاتھوں مٹا دیا گیا ہے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا نے جھوٹ اور دکھاوے کو اتنا عام کردیا ہے کہ نئی نسل اسے معمول سمجھ کر سیکھ رہی ہے۔ اور جہاں سچائی اور محنت سے عزت ملنی مشکل ہو مگر جھوٹ اور سفارش سے آسانی سے مل جائے، وہاں لوگ مجبوری یا لالچ میں وہی راستہ اپنا لیتے ہیں۔
سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ حلال اور حرام کی تمیز ہی مٹتی جارہی ہے۔ رزق کہاں سے آرہا ہے، معاملہ کس بنیاد پر ہو رہا ہے، یہ سوال اب کسی کے ذہن میں آتا ہی نہیں۔ جب تک نتیجہ مل جائے، ذریعہ چاہے سود ہو، دھوکا ہو یا جھوٹ، اسے نظرانداز کردیا جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ عزت اور ذلت سے بھی ایک عجیب لاپرواہی پیدا ہوگئی ہے۔ نہ کسی کام کے حرام ہونے کی شرم رہی، نہ کسی برے فعل پر رسوائی کا خوف۔ جو کبھی معیوب سمجھا جاتا تھا، وہ اب اعتماد سے کیا جاتا ہے، اور جو باعزت طریقہ سمجھا جاتا تھا وہ پرانی سوچ قرار دے دیا گیا ہے۔
اس کا حل کسی نئے نظام یا قانون میں نہیں بلکہ اپنی ذات سے شروعات میں ہے۔ سب سے پہلے یہ یاد رکھنا کہ اللہ دیکھ رہا ہے، چاہے دنیا نہ دیکھے، اور یہ سوال خود سے پوچھنا کہ جو کچھ ہم کما رہے ہیں، کھا رہے ہیں یا کر رہے ہیں، وہ حلال ہے یا نہیں۔ یہی وہ مضبوط ترین نگرانی ہے جو باہر سے نہیں بلکہ اندر سے آتی ہے۔ اپنے گھر اور اولاد کی تربیت پر توجہ دینا، ایسی صحبت اختیار کرنا جہاں سچائی اور اخلاق کی بات ہو، اور جتنی توقع ہم دوسروں سے سچائی کی رکھتے ہیں اتنی ہی خود اپنے معاملات میں سچے رہنا۔ معاشرے کی اصلاح ایک دن میں نہیں ہوتی، یہ فرد فرد سے شروع ہوکر آگے بڑھتی ہے۔
یہ مسئلہ نیا نہیں، ہر دور میں لوگوں نے اسے محسوس کیا ہے، مگر اس کا حل بھی وہی ہے جو ہمیشہ سے رہا ہے: اپنی ذات سے شروعات اور اللہ کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط رکھنا۔
@Intl_Mediatior@MirMAKOfficial
پانی کا نظام: اللہ کی حکمت اور انسانی فطرت
الحمدللہ، اللہ تعالیٰ نے پانی کی تقسیم کا جو نظام بنایا ہے وہ محض ایک قدرتی عمل نہیں بلکہ انسانی فطرت کی گہری سمجھ پر مبنی ایک حکیمانہ انتظام ہے۔
سمندر کا کھارا پانی زمین کی ستر فیصد سے زیادہ سطح پر پھیلا ہوا ہے، مگر اسے براہ راست پینے کے قابل نہیں بنایا گیا۔ اس کے بجائے سورج کی حرارت سے بھاپ بنتی ہے، بادل بنتے ہیں، اور پھر بارش کی صورت میں یہ پانی زمین پر برستا ہے۔ یہ ایک طویل اور بظاہر پیچیدہ عمل ہے، مگر اسی میں انسان کے لیے سبق ہے۔
اگر یہ نظام نہ ہوتا اور سمندر کا سارا پانی از خود میٹھا اور پینے کے قابل ہوتا تو انسان کی فطرت کیا رنگ دکھاتی، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
سب سے پہلے تو ساحلی علاقے دنیا کی سب سے قیمتی زمین بن جاتے۔ جن ممالک کی سرحدیں سمندر سے ملتی ہیں وہ راتوں رات طاقتور ٹھہرتے، اور خشکی میں گھرے ممالک ان کے محتاج بن جاتے۔ آج جو جنگیں تیل اور دریاؤں کے پانی پر ہوتی ہیں، وہی جنگیں ساحلوں پر قبضے کے لیے مزید شدت سے چھڑتیں۔ طاقتور ممالک کمزور ساحلی ریاستوں پر فوجی قبضے کرتے تاکہ سمندر تک رسائی حاصل کر سکیں۔ سمندری راستے اور بندرگاہیں محض تجارت کا نہیں بلکہ بقا کا ذریعہ بن جاتیں، اور ان پر قابض ہونے کے لیے خون خرابہ عام ہو جاتا۔
دوسری طرف جو پانی بے حد و حساب اور بغیر محنت کے دستیاب ہوتا اس کی بےقدری بھی اسی قدر بڑھ جاتی۔ انسان کو جو نعمت مفت اور لامحدود ملے وہ اسراف کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ آبادیاں بلا سوچے سمجھے پانی استعمال کرتیں، صنعتیں بغیر احتیاط کے سمندر سے پانی نکالتیں، اور اس کثرت استعمال سے سمندر کی سطح اور نمکیات کا توازن بگڑ جاتا، جس سے سمندری حیات کو شدید نقصان پہنچتا۔
مزید یہ کہ جو قومیں سمندر سے دور تھیں وہ ہمیشہ کے لیے پسماندہ رہ جاتیں۔ پانی جیسی بنیادی ضرورت پر انحصار کے باعث وہ ساحلی طاقتوں کے رحم و کرم پر ہوتیں، معاہدوں کی محتاج ہوتیں، اور کمزور ممالک پر یہ دباؤ ڈالا جاتا کہ وہ اپنی سیاسی اور معاشی آزادی کی قیمت پر پانی کے حقوق حاصل کریں۔ غرض یہ کہ ایک نعمت جو سب کے لیے مساوی ہونی چاہیے تھی وہ طاقت اور استحصال کا ہتھیار بن جاتی۔
اسی لیے بارش کا نظام دراصل ایک میزان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پانی کو بادلوں اور بارش کے ذریعے پوری زمین پر یکساں اور منصفانہ طریقے سے تقسیم کیا، چاہے کوئی ساحل کے قریب ہو یا سینکڑوں میل دور۔ نہ کسی کو سمندر پر قبضے کی ضرورت پڑی، نہ کسی کو دوسرے کی محتاجی میں رہنا پڑا۔ محنت، انتظار، اور بعض اوقات قحط کی صورت حال انسان کو یاد دلاتی ہے کہ پانی نعمت ہے، حق نہیں، اور اسی احساس نے انسانیت کو ایک بڑی جنگ اور استحصال کے دائرے سے محفوظ رکھا۔
الحمدللہ کہ رب کائنات نے نہ صرف پانی پیدا کیا بلکہ اس کی تقسیم کا طریقہ بھی ایسا بنایا جو انسان کی سرکشی، لالچ اور ناشکری کے میلان کو مدنظر رکھتا ہے۔ یہ نظام اس بات کی دلیل ہے کہ کائنات کا خالق محض تخلیق کرنے والا نہیں بلکہ ہر مخلوق کی طبیعت کو جاننے والا اور اسی کے مطابق تدبیر فرمانے والا ہے۔
یہ سوال دراصل عقل اور نفس کے درمیان ایک آزمائش ہے۔ منطقی اعتبار سے دیکھا جائے تو حق اور باطل کی حیثیت اس بات سے متعین نہیں ہوتی کہ وہ کس کی زبان سے نکلے، بلکہ اس بات سے متعین ہوتی ہے کہ وہ فی نفسہ درست ہے یا غلط۔ سچ اپنی ذات میں سچ ہے چاہے دشمن کہے، اور جھوٹ اپنی ذات میں جھوٹ ہے چاہے محبوب ترین شخص کہے۔ قائل اور مقول کو خلط ملط کر دینا ایک منطقی مغالطہ ہے جسے genetic fallacy کہا جاتا ہے، یعنی کسی بات کی صداقت کو اس کے ماخذ کی بنیاد پر جانچنا۔
اسلامی فکری روایت میں بھی یہی اصول ملتا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منسوب قول ہے کہ حق کو پہچانو تو حق والوں کو پہچان لو گے، نہ کہ لوگوں کو دیکھ کر حق کو پہچانو۔ یعنی معیار حق ہونا چاہیے، شخصیت نہیں۔ قرآن میں بھی عدل کا حکم اس وقت بھی دیا گیا جب گواہی اپنے خلاف یا اپنے والدین اور رشتہ داروں کے خلاف جانی ہو، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ذاتی تعلق یا مخالفت کو حق کے فیصلے میں دخل نہیں دینا چاہیے۔
عملی طور پر جب کوئی مخالف سچ بولے تو اسے تسلیم کرنا دراصل انصاف اور فکری دیانت کی علامت ہے، اور جب کوئی پسندیدہ شخص جھوٹ بولے تو اس پر خاموش رہنا یا اسے قبول کر لینا نفاق اور تعصب کی طرف لے جاتا ہے۔ اس لیے منطقی اور اخلاقی دونوں اعتبار سے ساتھ سچ کا دیا جائے گا، خواہ وہ کسی بھی زبان سے نکلے۔
مروجہ اسلامی بینکاری، حقیقی متبادل یا سود کا نیا لباس؟
آج کل جب کوئی بینک اپنے نام کے ساتھ اسلامی کا لاحقہ لگا لیتا ہے تو عام مسلمان یہ سمجھ لیتا ہے کہ اب معاملہ شرعی طور پر درست ہو گیا۔ حالانکہ کسی چیز کے ساتھ اسلامی کا لفظ جوڑ دینے سے وہ چیز خود بخود اسلامی نہیں بن جاتی۔ دیکھنا یہ پڑتا ہے کہ اس کے اندر کا نظام کیسا ہے۔
یہ کوئی نئی یا باہر کی بات نہیں۔ خود جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن اور ملک کے بیشتر جید علما نے مروجہ اسلامی بینکاری کو مروجہ سودی نظام ہی کا حصہ قرار دے کر اس کے عدم جواز کا فتوی دیا ہے۔ ان کا مؤقف یہ ہے کہ جو فقہی بنیادیں اس نظام کے لیے شرط رکھی گئی تھیں، عملی طور پر بینکاری کا یہ نظام ان بنیادوں پر چل ہی نہیں رہا۔ حیلوں کے ذریعے معاملے کو شرعی شکل دے دی جاتی ہے، مگر نتیجہ وہی رہتا ہے جو روایتی سودی قرض کا ہوتا ہے، طے شدہ منافع، وقت پر واپسی، اور تاخیر پر اضافی رقم۔
جن حضرات نے اس نظام کی تائید کی، ان کا اپنا استدلال یہ رہا ہے کہ یہ ایک عبوری دور کی ضرورت ہے، جب تک بہتر متبادل نہ آ جائے۔ مگر سوال یہ ہے کہ عبوری دور کب تک چلے گا، اور کیا حرام کو حلال کرنے کا کوئی حیلہ اس کی حقیقت بدل سکتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سود لینے والے اور دینے والے دونوں پر لعنت فرمائی، اور قرآن نے اسے اللہ اور رسول سے جنگ قرار دیا۔ اتنے سخت حکم میں محض نام بدل دینے یا معاہدے کی شکل تبدیل کر دینے سے حقیقت نہیں بدلتی۔
اصل بات یہ ہے کہ سود کی تعریف اس کے نتیجے سے ہوتی ہے، نہ کہ کاغذ پر لکھے گئے الفاظ سے۔ اگر رقم دے کر طے شدہ اضافی رقم واپس لی جا رہی ہے تو چاہے اسے مرابحہ کہیں یا اجارہ یا کوئی اور نام دیں، جوہر وہی رہتا ہے۔ اسی لیے علما کا ایک بڑا حلقہ برسوں سے یہ کہہ رہا ہے کہ مسلمانوں کو ان بینکوں سے بھی اتنی ہی احتیاط برتنی چاہیے جتنی روایتی سودی بینکوں سے برتی جاتی ہے۔
عام آدمی کے لیے سب سے آسان راستہ یہ ہے کہ وہ کسی بھی مالی معاملے میں شامل ہونے سے پہلے یہ نہ دیکھے کہ ادارہ خود کو کیا کہتا ہے، بلکہ یہ دیکھے کہ لین دین کی حقیقت کیا ہے۔ نام بدلنے سے حکم نہیں بدلتا۔
علم کا معیار سند نہیں دلیل ہے۔ کئی حضرات نے پی ایچ ڈی کر کے بھی سود کو حیلوں کے ذریعے حلال قرار دیا اور کئی عام پڑھے لکھے لوگ محض قرآن و حدیث کے واضح دلائل دیکھ کر حق بات کہہ دیتے ہیں۔ اگر ڈگری ہی معیار ہوتی تو سود پر اختلاف والے تمام مفتیان کرام ایک ہی نتیجے پر پہنچتے۔ اصل بات یہ ہے کہ دلیل کیا ہے، کس نے کہا یہ اتنا اہم نہیں۔ سند کا رعب دکھا کر دلیل کا سوال ٹالنا خود علمی کمزوری کی علامت ہے۔
مرد کو پیسوں سے گھر کا "فرد" ثابت کرنا پڑتا ہے، یہ تکلیف دہ سچ ہے۔
مگر عورت کو "اچھی بیوی / اچھی بہو" ثابت کرنا پڑتا ہے، یہ بھی اتنا ہی تکلیف دہ سچ ہے۔
گھر میں مرد سے پوچھا جاتا ہے "کمایا کتنا" اور عورت سے "سنبھالا کتنا"، کسی سے نہیں پوچھا جاتا کہ "دل خوش ہے یا نہیں"۔
یہ مرد یا عورت کا مسئلہ نہیں، یہ اس ذہنیت کا مسئلہ ہے جو انسان کو اس کے کردار سے الگ نہیں دیکھ سکتی۔
گھر اسی دن گھر بنتا ہے جب وجود، کردار سے پہلے، قبول کیا جائے۔
آج پاکستان عالمی اداروں کے دباؤ میں ہے اور یہ حقیقت ہے۔ لیکن ہر برائی کو فوراً دجالی نظام قرار دینا علمی احتیاط کے خلاف ہے۔ اور یہ سوچنا کہ معاملہ اللہ کے ہاتھ میں چلا گیا اب ہم کچھ نہیں کر سکتے، یہ قرآن کے مزاج سے میل نہیں کھاتا۔ اللہ فرماتا ہے کہ قوم خود کو بدلے تب حالات بدلتے ہیں۔ توکل کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ دھرنا نہیں، سعی اور عمل ہی اصل ایمان کی علامت ہے۔
جناح صاحب نے 1942 میں کہا مسلمان اور ہندو الگ قومیں ہیں اور 1948 میں کہا پاکستان میں سب ایک قوم ہیں۔
سوال یہ ہے: کیا یہ "وژن" تھا یا برطانوی تربیت یافتہ ایلیٹ کی وہ سوچ جو پہلے تقسیم کروائے، لاکھوں کو خون میں نہلائے، اور پھر ایک ایسی ریاست دے جس کا ڈھانچہ، قانون، اور اشرافیہ آج بھی colonial ہو؟
تقسیم کوئی accident نہیں تھی۔ Radcliffe نے 5 ہفتوں میں borders کھینچیں۔ Mountbatten نے جلدی کی اور جناح نے مانی۔
سوال صرف یہ ہے: کس کے فائدے کے لیے؟
آپ نے جو کتابیں پیش کی ہیں وہ انسانی تصنیفات ہیں، قابلِ احترام، لیکن حجت نہیں۔ اصل کسوٹی قرآن اور ثابت شدہ احادیث ہیں۔
اور قرآن کیا کہتا ہے؟
"وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ"
(البقرہ: 155-156)
اور نبی کریم ﷺ نے کیا فرمایا؟
"لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَطَمَ الْخُدُودَ وَشَقَّ الْجُيُوبَ وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ"
(صحیح بخاری: 1294، صحیح مسلم: 103)
یعنی جو رخساروں پر مارے، گریبان پھاڑے، اور جاہلیت کی طرح نوحہ کرے، آپ ﷺ نے ایسے شخص کو "ہم میں سے نہیں" فرمایا۔ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔
اب ذرا سوچیں، نبی ﷺ کے اپنے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتقال ہوا۔ آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہے، لیکن زبانِ مبارک سے نکلا:
"إِنَّ الْعَيْنَ تَدْمَعُ وَالْقَلْبَ يَحْزَنُ وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يَرْضَى رَبُّنَا"
(صحیح بخاری: 1303)
آنکھ روتی ہے، دل غمگین ہوتا ہے، لیکن زبان سے وہی نکلتا ہے جو رب کو پسند ہو۔
یہی رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے۔ اور حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا غم، جو ہر مسلمان کے دل میں ہے، اسی سنت کے دائرے میں ہونا چاہیے۔
اب ان دلائل کا جائزہ لیں جو ماتم کو جائز ثابت کرنے کے لیے پیش کیے جاتے ہیں:
پہلی دلیل: حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دانت توڑنے کا واقعہ۔
محدثین کی تحقیق یہ ہے کہ یہ روایت بے بنیاد ہے۔ اس کا کوئی مستند سلسلہ سند موجود نہیں۔ ملا علی قاری رحمہ اللہ نے لکھا کہ اس واقعے کی علماء کے نزدیک کوئی اصل نہیں اور یہ شریعت کے خلاف ہے۔ اس کا قدیم ترین ماخذ فریدالدین عطار کی تذکرۃ الاولیاء ہے جو بلا سند ہے۔ بے سند واقعے کو شرعی دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔
دوسری دلیل: حضرت سارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا منہ پر ہاتھ مارنا (سورۃ الذاریات: 29)۔
یہ واقعہ تعجب کے لمحے میں پیش آیا، نہ غم میں اور نہ کسی کی شہادت پر۔ حضرت سارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو خوشخبری ملی کہ بڑھاپے میں بچہ ہوگا تو حیرت میں خود بخود ہاتھ لگ گیا۔ قرآن نے اس عمل کی نہ تعریف کی نہ اسے حکم بنایا۔ ایک فطری لمحے کو شرعی دلیل میں بدلنا علمی انصاف نہیں۔
تیسری دلیل: حضرت یعقوب علیہ السلام کا رونا اور آنکھیں سفید ہو جانا۔
قرآن نے حضرت یعقوب علیہ السلام کے آنسوؤں کا ذکر کیا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ انہوں نے کہا "میں اپنی تکلیف صرف اللہ سے بیان کرتا ہوں" (یوسف: 86)۔ یعنی ان کا غم اللہ کی طرف تھا، سینہ کوبی اور خود کو زخمی کرنے کی طرف نہیں۔ رونا اور ماتم ایک چیز نہیں ہیں۔ کوئی بھی آنسو بہانے کو منع نہیں کرتا۔
چوتھی دلیل: یہ کہ ہم شہادت کا نہیں، ظلم کا غم مناتے ہیں۔
یہ ذہین لیکن کمزور جواب ہے۔ قرآن و سنت نے غم منانے کا طریقہ متعین کر دیا ہے، صبر، استرجاع اور ذکرِ الہی۔ غم کا جذبہ سچا ہو سکتا ہے لیکن اس کا اظہار شریعت کے دائرے میں ہونا ضروری ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے خود ظلم سہا، صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے تکالیف اٹھائیں، لیکن کسی نے بھی سینہ کوبی یا خود کو زخمی کرنے کو غم کا اظہار نہیں بنایا۔
کوئی بھی انسانی کتاب، چاہے کتنے ہی صفحات ہوں، چاہے کتنی ہی جامع اور منطقی لگے، بہرحال ہے تو انسان کی لکھی ہوئی، ردوبدل اور غلطی کی گنجائش کے ساتھ۔ ایسی کوئی بھی کتاب نبی ﷺ کے واضح فرمان کو نہیں بدل سکتی۔
اصل اور حتمی حجت قرآن اور مستند احادیث ہیں۔ جو بات یا عمل ان سے ٹکرائے، وہ دین میں فتنہ پیدا کرتا ہے اور ہر اس بات اور عمل کو رد کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے جو دین میں فتنے کا باعث بنے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایتِ عظیم اور ہدایتِ خاص کے خزانے عطا فرمائے۔ آمین۔
@ImranRiazKhan ڈاکٹروں سے میری التجا ہے جب بھی کوئی جج بیمار ہوتا ہے اس کو دوائی دینے کے بجائے اس کو اگلی تاریخ دے دیں آپ کا عدالتی نظام خود بخود ٹھیک ہو جائے گا