تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی نے اپنے ذاتی مفادات کی خاطر عمران خان کا ساتھ چھوڑا یا انہیں دھوکہ دینے کی کوشش کی، وہ سیاست کے افق سے ہمیشہ کے لیے غائب ہو گیا۔
قاسم خان سوری کا یہ بیان موجودہ سیاسی حالات کا بالکل سچا نقشہ کھینچتا ہے۔ عمران خان ایک نظریے کا نام ہے، اور نظریے سے غداری کرنے والوں کا حشر ہمیشہ عبرتناک ہوتا ہے۔ بڑے بڑے سیاسی قد کاٹھ کے دعویدار آج خان کو چھوڑ کر بونے بن چکے ہیں اور ان کی سیاست ہمیشہ کے لیے دفن ہو چکی ہے۔
جو لوگ خان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہیں، تاریخ انہیں ہی سچے لیڈر کے طور پر یاد رکھے گی!
بیرسٹر گوہر خان کی میڈیا سے اہم گفتگو! 📌
پی ٹی آئی اراکینِ اسمبلی نے عمران خان، بشریٰ بی بی اور تمام اسیران کی رہائی سمیت تحریک چلانے کی حکمتِ عملی پر تفصیلی مشاورت مکمل کر لی ہے۔ محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے؛ وہ ڈائیلاگ کریں یا تحریک چلائیں، پارٹی ہر فیصلے کی تائید کرے گی۔ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی صحت اور انہیں رسائی نہ ملنے پر شدید تشویش ہے، یہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے۔ جہاں تک پارٹی عہدوں کا تعلق ہے، پی ٹی آئی میں صرف اور صرف خان صاحب کے احکامات چلتے ہیں اور انہی کی ہدایات پر عہدے دیے یا لیے جاتے ہیں۔ وزیرِ اعلیٰ کے خلاف کوئی بھی پٹیشن کامیاب نہیں ہو گی، انہیں خان صاحب کا پورا اعتماد حاصل ہے۔
عمران خان کی حقیقی آزادی کی جنگ اور ان کی 3 سالہ بے گناہ قید پر قاسم خان سوری کا اہم پیغام۔ انہوں نے واضح کیا کہ قوم اپنے لیڈر کے ساتھ کھڑی ہے اور اب یہ ظلم مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔ فارم 47 کی حکومت اور موجودہ نظام نے ملک میں قانون اور عدالتوں کا جنازہ نکال دیا ہے، لیکن عوام اب گولیوں اور جھوٹے مقدمات سے ڈرنے والی نہیں۔ 2 جون کو خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کی قیادت میں عوام بڑی تعداد میں باہر نکلے گی اور اس غلامی کے نظام کے خلاف احتجاج کو وسیع کیا جائے گا۔ تحریک انصاف پاکستان کی خودداری، آزاد خارجہ پالیسی اور غریب عوام کی واحد آواز ہے، اور ہم اپنے کپتان کی رہائی تک پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
آئی ایم ایف کی کرپشن رپورٹ کو نیب چیئرمین نے بکواس کہہ کر رد تو کر دیا، لیکن تلخ حقائق نہیں چھپ سکتے۔
آج ملک کو کہاں لا کھڑا کیا ہے؟
دہشت گردی میں برکینا فاسو کو پیچھے چھوڑ کر دنیا میں نمبر 1!
دنیا کے بدترین پاسپورٹس میں نیچے سے تیسرے نمبر پر!
3 کروڑ بچے اسکولوں سے باہر!
لاہور دنیا کا آلودہ ترین شہر!
اب فراڈ، دھوکے بازی اور جعل سازی کے عالمی انڈیکس میں بھی پاکستان (7.48 اسکور کے ساتھ) پہلے نمبر پر آ چکا ہے!
دوسری طرف حکمران طبقہ پرامید اور پرشکوہ ڈنرز اڑا رہا ہے، جبکہ غربت اور بھوک کی وجہ سے ایک ہفتے میں 10 غریب اپنی زندگیاں ختم کر چکے ہیں۔ یہ ہے حکمرانوں کی اصل کارکردگی۔
ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر عمران ریاض خان کا اہم تجزیہ:
روسی صدر کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ آمادہ ہو تو ایران کو دوبارہ قائل کیا جا سکتا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے واضح کیا ہے کہ افزودہ یورینیم کسی صورت ملک سے باہر نہیں جائے گا۔
دوسری طرف امریکی میڈیا دعویٰ کر رہا ہے کہ بات چیت جاری ہے اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا دورہ ایران بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
دنیا کے لیے جنگ کا خاتمہ ضروری ہے، مگر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پوری تہذیب مٹانے کی خوفناک دھمکیاں سامنے آ رہی ہیں۔
ٹرمپ کا یہ دعویٰ بھی سچائی سے دور ہے کہ ایران میں رجیم چینج ہو چکا ہے، جبکہ موجودہ قیادت اب بھی مضبوط کھڑی ہے۔
گندم کا سنگین بحران اور ملکی تاریخ میں قرضوں کا ریکارڈ اضافہ پاکستان کو تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ عاصم منیر کی زیرِ نگرانی موجودہ رجیم حقائق کو چھپا رہی ہے، لیکن آنے والی نسلیں بھی اس بوجھ تلے دبی رہیں گی۔
ان کی معاشی پالیسیوں کا یہ حال ہے کہ صرف زیرو بانڈز کے ذریعے لیے گئے 80 ارب کے بدلے 15 سال بعد عوام کو ساڑھے 500 ارب روپے چکانے پڑیں گے! معیشت کو ایسے شکنجے میں جکڑ دیا گیا ہے کہ کوئی بڑا معیشت دان بھی آ جائے تو عوام کی بے پناہ قربانیوں کے باوجود 15 سال تک نکلنا ممکن نہیں۔ یہ جتنے دن اقتدار میں رہیں گے، معیشت کا مزید ستیاناس کریں گے اور اس کی قیمت عوام کو مہینوں نہیں، سالوں چکانی پڑے گی۔
عدالتوں میں انصاف کا قتل عام جاری ہے اور بعض ججوں کو نہ قانون کا پاس ہے نہ اللہ کا خوف۔ دنیاوی فائدوں، گھر، گاڑی اور پیسوں کی خاطر منصف کی کرسی پر بیٹھ کر ناانصافی کرنے والے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ انہیں ایک دن مرنا ہے؟ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں قانون کا مذاق اڑایا؛ جہاں جج کا اپنا فائدہ تھا وہاں دستخط کا حکم دے دیا لیکن فیئر ٹرائل اور اپیل کے حق کو یکسر نظر انداز کر دیا۔ ایسے جانبدارانہ فیصلوں پر تاریخ بھی شرمندہ ہے اور ایسے ججوں کو تاریخ اور ان کی اپنی اولاد بھی کبھی اچھے لفظوں میں یاد نہیں رکھے گی۔ اللہ کی پکڑ بہت سخت ہے۔
شیر افضل مروت کی جانب سے وزیراعلیٰ کے پی کے کو ہٹانے کی درخواست پر بیرسٹر گوہر کا موقف سامنے آ گیا، انہوں نے اسے ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیا ہے۔ بیرسٹر گوہر کے مطابق وزیراعلیٰ کی تبدیلی کا فیصلہ صرف بانی پی ٹی آئی عمران خان ہی کر سکتے ہیں۔ دوسری طرف شہزاد اکبر نے پہلے ہی انکشاف کیا تھا کہ چک شہزاد فارم ہاؤس پر ایک اہم ملاقات میں یہ سب طے پا چکا تھا۔ اس وقت کے پی کے حکومت کو گرانے اور ناکام بنانے کے لیے گندم، گیس کی بندش اور دہشت گردی جیسے ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
پاکستان میں کچھ رہنماؤں کے سوشل میڈیا پیجز پر پولیس پروٹوکول، گاڑیوں کے ششکے اور ڈیرے پر شان و شوکت دکھانے کا ایک نیا ٹرینڈ چل پڑا ہے۔ مجھے ذاتی طور پر اپنی دولت اور طاقت کی ایسی بے تحاشہ نمائش انتہائی گھٹیا اور سستی حرکت لگتی ہے، کیونکہ کوئی خاندانی شخص ایسا نہیں کرتا۔ مریم نواز اور شہباز شریف کفایت شعاری کے دعوے کرتے ہیں، لیکن ان کے وزراء اور مشیروں کے ساتھ ایلیٹ پولیس کا جو پروٹوکول پھر رہا ہوتا ہے، وہ ان دعووں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ میں خود ایک صحافی ہوں اور مجھے کئی بار پولیس گارڈ اور اسلحے کے لائسنس کی پیشکش ہوئی، مگر میں نے ہمیشہ انکار کیا کیونکہ میرا ہتھیار تو صرف میرا قلم ہے۔ میں نے آج تک کسی ناکے یا جگہ پر اپنا تعارف کروا کر وی آئی پی بننے کی کوشش نہیں کی، تو پھر ان ایم این ایز اور ایم پی ایز کو یہ بات کیوں سمجھ نہیں آتی کہ سادگی اور اچھے اخلاق ہی اصل پہچان ہیں، نہ کہ پروٹوکول کی جھوٹی نمائش!
پاکستان میں پچھلے 3-4 سالوں سے مین سٹریم میڈیا بالکل بے اثر اور ناکارہ ہو چکا ہے۔
ایک دور تھا جب لوگ خبروں کے لیے اخبار پڑھتے تھے، مگر اب وہاں صرف جھوٹی حکومتی تعریفیں اور اشتہارات ملتے ہیں۔
یہی حال ٹی وی چینلز کا ہے جہاں صرف حکومتی پروپیگنڈا یا ڈکٹیٹ کی گئی باتیں دکھائی جاتی ہیں۔
میڈیا اب صحافت نہیں بلکہ مالکان کے لیے محض ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔
حالیہ دور میں تو زیادہ تر میڈیا مالکان رئیل اسٹیٹ کے بزنس سے منسلک ہیں۔
عوام کو سچی خبروں اور تجزیوں سے دور رکھنے کے لیے اس نظام کو برقرار رکھا جا رہا ہے۔
سچ بولنے والے صحافی گھر بیٹھنے پر مجبور ہیں یا خاموش کر دیے گئے ہیں۔
اے پاکستانیو! اس سائفر کو کبھی مت بھولنا۔ اسے بار بار پڑھیں اور سوچیں کہ جو ملک ایٹمی قوت ہونے اور اسلامی دنیا کا واحد مضبوط ترین ملک ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، وہ آج کہاں کھڑا ہے؟
کیا ایک مضبوط ملک ایسا ہوتا ہے جہاں کے وزیراعظم کو ایک امریکی اسسٹنٹ اسٹیٹ سیکریٹری دھمکی دے اور اس کے نتیجے میں پورے ملک کے اندر رجیم چینج آپریشن ہو جائے؟ ایک چلتی ہوئی حکومت کو گرا کر ملک کو پستی کی طرف دھکیل دیا گیا۔ ہمیں اس غلامی اور مداخلت کے خلاف بیدار ہونا ہوگا!
عمران ریاض خان کا شیر افضل مروت کی حالیہ پٹیشن پر بڑا انکشاف! 🚨
شیر افضل مروت ایک طرف کہتے ہیں کہ عمران خان کے کہنے پر ہی قومی اسمبلی کی سیٹ چھوڑیں گے، مگر دوسری طرف عدالت میں دائر پٹیشن میں عمران خان کو 'سزا یافتہ اور نااہل شخص' قرار دے کر ان کے دباؤ پر لیے گئے استعفے کو غیر قانونی کہہ رہے ہیں۔
یہ تضاد مضحکہ خیز بھی ہے اور افسوسناک بھی۔ مروت صاحب اپنے لیے خان صاحب کا حکم ماننے کو تیار ہیں، مگر علی امین گنڈاپور کے معاملے میں خان صاحب کے فیصلے کو آئینی حیثیت دینے سے انکاری ہیں۔ اس پٹیشن نے کئی چہرے بے نقاب کر دیے ہیں اور پارٹی کے اندرونی خلفشار کو عیاں کر دیا ہے۔ 🔥
ڈرون حملوں اور غزا فلوٹیلا پر عمران ریاض خان کا اہم ترین تجزیہ:
غزا میں جنگ بندی کی حتمی کوششیں، عاصم منیر کا دورہِ ایران متوقع۔
ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ایران سے یورینیم نکالنے تک مستقل معاہدہ نہ کرنے کا مبینہ اتفاق۔
سعودی عرب اور یو اے ای پر عراق سے ڈرون حملے، اسرائیل کے دو خفیہ فوجی اڈے بے نقاب۔
غزا جانے والے 'گلوبل سمودھ فلوٹیلا' کے کارکنان کے ساتھ اسرائیلی بدسلوکی پر پورے یورپ میں شدید احتجاج۔
اسرائیلی وزیر اتمار بن غفیر کی ویڈیو پر عالمی سطح پر تہلکہ، اسرائیل شدید دباؤ کا شکار ہو کر بیک فٹ پر چلا گیا۔
ٹرمپ پیس کونسل کے سربراہ نکولے ملاڈینوف نے اس حرکت کو شرمناک اور ٹرمپ کے غزا پیس پلان کے خلاف قرار دے دیا۔
انڈیا میں نوجوانوں کی زبردست تحریک کا آغاز! چیف جسٹس سوریا کانت نے عدالتی کارروائی کے دوران پڑھے لکھے نوجوانوں کو 'کاکروچ' (لال بیگ) سے تشبیہ دی، جو نوکریاں نہ ملنے پر سوشل میڈیا اور ایکٹوزم کا رخ کرتے ہیں۔
اس توہین آمیز طعنے کے جواب میں انڈین نوجوانوں نے 'کاکروچ جنتا پارٹی' بنا ڈالی، جس نے محض 4 دنوں میں 10 ملین (ایک کروڑ) سے زائد فالوورز اکٹھے کر لیے۔ 30 سالہ ابھيجيت دیپک کی قیادت میں نوجوان اب مودی حکومت کی گزشتہ 10-12 سالہ پالیسیوں پر سوال اٹھا رہے ہیں کہ انہیں روزگار اور بہتر مستقبل کیوں نہیں ملا؟ دنیا جہاں نوجوانوں کو آگے بڑھا رہی ہے، وہیں انڈیا کا نظام انہیں برباد کر رہا ہے۔ نوجوانوں نے اپنے خلاف دیے گئے طعنے کو ہی اب سب سے بڑا ہتھیار بنا لیا ہے!
نئی پٹوارن لانچ ہوئی ہے، جس نے لالی پاؤڈر لگا کے سائفر کے خلاف پروپیگنڈا شروع کیا ہے۔
ان کا دعویٰ ہے کہ عمران خان نے آکسفورڈ سے صرف بیچلرز کیا ہے، وہ بھی سپورٹس کوٹے پر۔
اگر بیچلرز سے مسئلہ ہے تو آسکر وائلڈ، جے آر آر ٹولکین، ایلڈس ہکسلے، ہیو گرانٹ، اور بل کلنٹن نے بھی صرف بیچلرز ہی کیا تھا۔
اندرا گاندھی اور مارگریٹ تھیچر جیسی شخصیات بھی آکسفورڈ سے صرف بیچلرز کر کے ہی نکلیں اور وزیر اعظم بنیں۔
جہاں تک کرکٹ کوٹے کی بات ہے، تو آکسفورڈ میں ایسا کوئی کوٹا نہیں ہوتا بلکہ وہاں 'آکسفورڈ بلوز' کے لیے سلیکشن ہوتی ہے۔
منصور علی خان پٹودی، افتخار علی خان، کولن کاؤڈری اور عبدالحفیظ کاردار جیسے لیجنڈز نے بھی آکسفورڈ کی ٹیم کی قیادت کی یا وہاں سے کھیلے۔
پٹوارنیں سچ سے کبھی مطمئن نہیں ہوتیں، اس لیے انہی کی زبان میں بتانا ضروری تھا کہ آپ جھوٹی ہیں۔
میں خود حیران ہوں کہ میں نے پٹوارنوں کے لہجے میں اتنی مہارت سے بات کیسے کر لی!
@WajSKhan
صوبائی کابینہ کا بڑا مطالبہ: عمران خان اور ان کی فیملی کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ خان صاحب اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی صحت سے متعلق معلومات چھپائی جا رہی ہیں، جو کہ سراسر ناانصافی ہے۔ بشریٰ بی بی ایک غیر سیاسی خاتون ہیں جنہیں صرف خان صاحب کو جھکانے کے لیے ناحق قید رکھا گیا ہے۔
ہم عدلیہ، قومی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ جیل مینوئل اور پاکستانی آئین کے مطابق عمران خان کو تمام بنیادی حقوق اور طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ ان کے ساتھ جاری غیر انسانی سلوک اور سیاسی انتقام کو فوری طور پر بند کیا جائے۔
گلگت بلتستان کے ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کے امیدواروں کو ڈرانے، دھمکانے اور پرچے کاٹنے کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ ظلم امیدواروں پر نہیں بلکہ عمران خان کی عوامی مقبولیت کے خوف اور بغض میں کیا جا رہا ہے۔ بلے کا نشان چھننے کے بعد اب یہاں کئی حلقوں میں تحریک انصاف کے نئے اور فریش چہرے میدان میں ہیں۔ عوام یہ یاد رکھیں کہ یہ الیکشن کسی امیدوار کا نہیں بلکہ "عمران خان ورسز باقی سب" کا ہے۔ مایوس ہونے کے بجائے 7 جون کو گھروں سے نکلیں اور پور پاکستان کی طرح جنون کے ساتھ ووٹ دے کر ایسا سرپرائز دیں کہ انہیں معلوم ہو جائے کہ گلگت بلتستان کے عوام بھیڑ بکریاں نہیں بلکہ باشعور ہیں۔ اپنے ووٹ سے ثابت کریں کہ آئین و قانون کی پامالی ہمیں کسی صورت منظور نہیں۔
لالد خرشید
1️⃣ اگر یہ آزاد الیکشن لڑ رہے ہوتے تو ان پر کوئی سختی نہ ہوتی اور دوسری پارٹی میں ہوتے تو بڑی آسائشیں اور سپورٹ حاصل ہوتی۔
2️⃣ پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑنے والے یہ تمام لوگ صرف اور صرف عمران خان کے نظریے اور وفاداری کی وجہ سے یہ سختیاں برداشت کر رہے ہیں۔
3️⃣ گلگت بلتستان کے بزرگوں، ماؤں، بہنوں اور نوجوانوں کے لیے میرا پیغام ہے کہ آپ خود کو اکیلا مت سمجھیں۔
4️⃣ آپ کے ساتھ 25 کروڑ عوام کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے، آپ نے یہ نہیں دیکھنا کہ یہ الیکشن چوری کر لیں گے۔
5️⃣ اگر آپ ووٹ نہیں دیں گے تو انہیں چوری کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی اور انہیں کوئی شرمندگی بھی نہیں ہوگی۔
6️⃣ یاد رکھیں کہ ہماری مزاحمت اور خان صاحب کی طاقت 8 فروری کا وہ مینڈنٹ ہے جو بے شک چوری ہوا مگر وہ حقیقت نہیں چھپا سکتے۔
7️⃣ اس الیکشن سے ثابت ہو گیا کہ 80 فیصد پاکستانی عمران خان کے ساتھ ہیں اور جنہوں نے مینڈنٹ چوری کیا وہ مجرم ہیں۔
8️⃣ ان پر آرٹیکل 6 لگتا ہے، 7 جون کو گلگت بلتستان کے عوام کھڑے ہوئے تو طاقتور حلقوں کو پتہ چلے گا کہ یہاں بسنے والوں کی بھی اپنی ایک رائے اور موقف ہے۔
سرفراز ڈوگر صاحب نے آج عدالت میں قانون کی دھجیاں اڑا دیں۔ ڈیڑھ سال سے التواء میں پڑے القادر کیس میں عمران خان کی سزاؤں کو مستقل کرنے کے لیے اچانک اتنی جلدی مچائی جا رہی ہے؟ جب بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ کلائنٹ سے رابطے کے بغیر وہ کیس کیسے آرگیو کریں، تو جج صاحب بولے "یہ میرا مسئلہ نہیں"۔ کسی بھی کرمنل اپیل میں ہدایات کے بغیر بحث ممکن ہی نہیں ہوتی۔ جج صاحب کا یہ رویہ کسی قانون دان کا نہیں بلکہ کسی حوالدار جیسا لگ رہا ہے، جس سے صاف ظاہر ہے کہ ان پر شدید دباؤ ہے۔
سرفراز ڈوگر صاحب شدید دباؤ کا شکار نظر آ رہے ہیں، جس کے باعث قانونی معاملات پر کھل کر بات ہونا ناممکن ہو چکی ہے۔ 🚨
دوسری جانب، بیرسٹر سلمان صفدر کی عدالت میں عدم پیشی اور آنکھ کے انفیکشن کی عذرداری نے کئی شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔
یہ امر انتہائی عجیب اور قابلِ تشویش ہے کہ جو انفیکشن پہلے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو ہوا، اب وہی ان کے وکیل کو بھی ہو گیا۔
عدالتی نظام کی موجودہ صورتحال اور فیصلوں پر اب سنجیدہ نوعیت کے سوالات اٹھ رہے ہیں۔
آج سلمان اکرم راجہ کی بھرپور تگ و دو اور قانونی جدوجہد کے باوجود ملاقات کی اجازت نہ ملنا مایوس کن ہے۔
اس پورے عمل میں واضح طور پر جانبداری اور ناانصافی کی جھلک نظر آتی ہے جو کہ سراسر ایک دھوکہ ہے۔