Retweets is not endorsement, PhD scholar, management and employee relation - Life is a series of mysteries, finish line of the one is the start line for another
🚨 BREAKING: This INSANE blockbuster is about to EXPLODE into a theater near YOU- #Elon, will you share the viral bomb or get left behind?! @elonmusk#musk
إعلامي أمريكي، رغم توجهه السياسي، يعترف بصراحة:
الحوثيين (أنصار الله)يتقدمون للسيطرة على كامل الأراضي اليمنية… ويستعدون لاستعادة جازان ونجران، الأراضي التي يعتبرونها يمنية محتلة.
التحول أكبر مما يُقال.
یہ پشاور ہے۔ جرنیلوں کو اتنی آسانی سے خیبر پختونخوا کی حکومت اور خیبر پختونخوا کی معدنیات پر قبضہ نہیں کرنے دیں گے۔ مزاحمت کریں گے۔ خیبر پختونخوا میں صرف عمران خان کا راج چلے گا۔
Additional Advocate General Khyber Pukhtunkhawa Shah Faisal Ilyas submits his resignation in protest against unconstitutional imposition of emergency in the province.
🚨 مردان: کالج چوک میں شدید عوامی ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ علاقے میں انٹرنیٹ بند ہونے کی وجہ سے اس وقت کوئی بھی براہ راست یا میڈیا کوریج ممکن نہیں ہو پا رہی۔۔
اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی سپیکر ہاؤس سے گرفتار، سپیکر ہاؤس میں توڑ پھوڑ کر، چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کر کے سپیکر بابر سلیم سواتی کو اغوا کر کے نامعلوم مقام پر لے جانا کھلی دہشت گردی ہے، یہ عمل صوبائی خودمختاری، پارلیمنٹ اور جمہوریت پر براہ راست حملہ ہے، سپیکر بابر سلیم کے بھتیجے کمال سلیم سواتی کا پیغام
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan
🇵🇰 “A Coup Dissguised as Emergency": Pakistan suspends Imran Khan's party's provincial government
President Asif Ali Zardari declared a state of emergency on Sunday in Khyber Pakhtunkhwa, a northwestern province bordering Afghanistan and the only one governed by Khan's party, Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI).
The order removed its chief minister and cabinet, and a federally appointed governor will run the province for an initial six months. Islamabad accuses the provincial government of failing to confront militant attacks.
The move came a week into a PTI march on Islamabad demanding Khan's release. The army was authorized to deploy across the province, and phone and internet service was cut in the provincial capital, Peshawar, and in Swabi, according to local media.
PTI says ousted Chief Minister Sohail Afridi has been detained. A party spokesperson called the move "a coup disguised as emergency."
🚨 تحریک انصاف کو لانگ مارچ ختم کرنے پر منوا لیا تھا، وہ تمام باتوں پر متفق ہوگئے تھے، میں رات آکر سو گیا، صبح نو بجے وزیراعظم نے بتایا کہ ہم ایمرجنسی لگا رہے ہیں، مولانا فضل الرحمان کا تہلکہ خیز انکشاف
میں نے ابھی وفاقی حکومت کے نمائندوں کی پریس کانفرنس سنی ہے اور اس حوالے سے چند بنیادی حقائق اور اپنے مؤقف کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں۔
میرے حوالے سے جو بات کی گئی ہے، میں اس کی تائید کرتا ہوں کہ ہمارے لیے پاکستان کا امن، سلامتی اور دہشت گردی کا مکمل خاتمہ سب سے اہم ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم کسی قسم کے سمجھوتے کے قائل نہیں۔ لیکن میرا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ جب کوئی پالیسی مسلسل ناکامی کا شکار ہو، جب اس کے نتیجے میں امن قائم ہونے کے بجائے بدامنی بڑھتی جائے، تو اس پالیسی پر نظرثانی کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔
آج ہمیں سنجیدگی سے یہ سوال پوچھنا ہوگا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کے باوجود خیبر پختونخوا میں امن کیوں قائم نہیں ہو سکا؟ دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کی بنیادی وجوہات کیا ہیں؟ اور کیا موجودہ پالیسی واقعی مطلوبہ نتائج دے رہی ہے؟
خیبر پختونخوا کے عوام گزشتہ چالیس سال سے مختلف جنگوں اور پالیسیوں کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔ کبھی افغان جنگ، کبھی وار آن ٹیرر اور کبھی دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے نام پر ہمارے صوبے کو مسلسل آزمائشوں سے گزارا گیا۔ ان پالیسیوں کے نتیجے میں ہمارے لوگوں نے اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھائیں، کاروبار تباہ ہوئے، لاکھوں خاندان متاثر ہوئے اور ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل غیر یقینی صورت حال کا شکار ہوا۔
آخر خیبر پختونخوا کے عوام کا قصور کیا ہے؟ ہمارا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ ہمیں جینے دو، ہمارے بچوں کو امن دو اور ہمارے صوبے کو مزید تجربہ گاہ بنانا بند کرو۔
اس سلسلے میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور اسپیکر صوبائی اسمبلی کی قیادت میں ایک وسیع البنیاد امن جرگہ منعقد ہوا، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں، بار ایسوسی ایشنز، تاجر تنظیموں، کاروباری نمائندوں، حکومتی شخصیات اور گورنر خیبر پختونخوا سمیت تمام متعلقہ حلقوں نے شرکت کی۔ تفصیلی مشاورت کے بعد متفقہ اعلامیہ اور قرارداد منظور کی گئی، جس میں امن کے قیام کے لیے واضح سفارشات اور مطالبات پیش کیے گئے۔
یہ قرارداد اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے وزیراعظم اور وفاقی حکومت کو بھی ارسال کی گئی۔ سوال یہ ہے کہ ان متفقہ سفارشات پر عمل کیوں نہیں کیا گیا؟ صوبے کی سیاسی قیادت اور عوامی نمائندوں کی اجتماعی آواز کو کیوں نظرانداز کیا جا رہا ہے؟
افسوس کی بات ہے کہ ہمارے ہاں قومی مسائل کے حل کے بجائے اختلافی آوازوں کو دبانے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ پہلے غداری کے سرٹیفکیٹ تقسیم کیے جاتے تھے اور اب دہشت گردی کے الزامات کے ذریعے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کا تاثر پیدا کیا جا رہا ہے۔ یہ رویہ نہ قومی یکجہتی کے لیے مفید ہے اور نہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی کا متبادل۔
ایک طرف ہمارے صوبے کے وزرا، منتخب اراکین قومی اسمبلی اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں اور مبینہ غیر قانونی حراستوں کے واقعات سامنے آتے ہیں، دوسری طرف صوبائی حکومت پر انتظامی ناکامی کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔ اگر صوبے کے منتخب نمائندوں کے آئینی اختیارات اور قانونی تحفظ کو ہی نظرانداز کیا جائے تو وفاق اور صوبے کے درمیان اعتماد کیسے قائم ہوگا؟
اسی طرح خیبر پختونخوا کے مالی حقوق کا معاملہ بھی انتہائی سنگین ہے۔ سابق فاٹا کے انضمام کے بعد صوبے کی آبادی، انتظامی ذمہ داریوں اور مالی ضروریات میں نمایاں اضافہ ہوا، لیکن این ایف سی کے تحت صوبے کے حصے اور ضم شدہ اضلاع کے لیے درکار وسائل کا مسئلہ تاحال حل طلب ہے۔
وفاقی حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ صوبے کے آئینی اور مالی حقوق کوئی خیرات نہیں بلکہ وفاقی نظام کے تحت اس کا جائز حق ہیں۔ امن و امان کی ذمہ داریاں صوبے پر ڈال کر اسے مطلوبہ وسائل سے محروم رکھنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
پولیس کی استعداد بڑھانے کے لیے بھی صوبائی حکومت نے اپنے حصے کے وسائل فراہم کیے ہیں، جبکہ وفاق کے ذمہ واجب الادا فنڈز کی فراہمی کا معاملہ اٹھایا جا رہا ہے۔ اگر وفاق واقعی دہشت گردی کا خاتمہ چاہتا ہے تو اسے سیاسی بیانات کے بجائے عملی تعاون، وسائل کی فراہمی اور مشترکہ حکمت عملی پر توجہ دینا ہوگی۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے فیصلے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ یہ صوبے کے عوامی مینڈیٹ، صوبائی خودمختاری اور جمہوری عمل کے لیے ایک انتہائی خطرناک قدم ہے۔
لانگ مارچ صرف اور صرف عمران خان کی رہائی کے لیے ہے، اور اِس کی آخری تقریر عمران خان خود کریں گے: شفیع جان
@ShafiJanPTI
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan#ImranKhan