@Hpolitics99 @balochi5252@ImranARaja1 @ShahzadGill202 ہاں یہ عجیب گٹھیا حرکت ٹویٹر پر نظر آئی لوگ خود فالو کرکے فالو بیک لیکر، ان فالو کرتے ھیں۔۔۔
اسکا کوئی مقصد سمجھ نہیں آتا اور ہم تو عمران خان کی وجہ سے ہیں تو ان باتوں کی پرواہ نہیں لیکن ایسے لوگوں کو واپس ان فالو پھر ضرور کرنا چاہیے۔
ن لیگ نے 75 کروڑ روپے میں حلقے کی سیٹ بیچی اور یہ کروڑوں روپے اسحاق ڈار کے بیٹے علی ڈار نے برطانیہ میں وصول کیے۔
ن لیگ کے اپنے اندر سے اب شریف خاندان اور ڈار خاندان پر سنگین الزامات عائد کیے جا رہے ہیں
لگتا ہے "باس" کی ساری حقیقت ہی اب سامنے آنے والی ہے
ہائی پروفائل ریپ کیس میں اسحاق ڈار کے نواسے کے 1.5 ملین ڈالر کی کرپٹو کرنسی انویسٹمنٹ کا معاملہ ہے لیکن یہاں نیب اور ایف آئی اے خاموش ہیں۔ CCD جو ہر ایسے کیس میں گھٹنے میں پسٹل چلاتی ہے، یہاں بکری بن چکی ہے جبکہ غریبوں کے سامنے شیر بن جاتی ہے۔ ٹاؤٹ صحافی کہہ رہے ہیں کہ اس کیس میں راضی نامہ ہو گیا ہے جبکہ 345 CrPC کہتا ہے ریپ کیس میں کوئی راضی نامہ نہیں ہو سکتا۔ بے شرمی کی انتہا یہ ہے کہ جن لڑکیوں پر دو دن پہلے جبری ریپ ہوا، ڈی آئی آپریشن لاہور کہتا ہے وہ پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا کر گئیں۔
بیرسٹر ابوذر سلمان نیازی
@SalmanKNiazi1
ٹائم نوٹ کر لیں ہم تین سے پہلے پہنچ گئے ہیں اپنی ملاقات کے لئیے پھر نیوز چینل جھوٹ چلا دیتے ہیں کہ وقت پر آئے نہیں تھے، اے آر وائے خاص طور پر۔
ڈاکٹر عظمی خان۔
بڑی خوبصورتی سے ساری توجہ رضا ڈار معاملے سے ہٹا کے بلیو پاسپورٹ کی طرف لگوا دی گئی اور مجھ سمیت سب ہی سمجھ ہی نہیں پائے کہ کیا گیم کھیل دی گئی ہے گجنی قوم اب ڈار ریپ کیس کو بھول جائے گی
https://t.co/NsYx7t8FQ0
"یہ سارے پیغامات عمران خان کے آئے ہوئے ہیں اور ان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر موجود ہیں شاید آپ لوگ بھول گئے ہیں اس لیے ہم وہ پیغامات عمران خان کے اکاؤنٹ سے دوبارہ ریٹوئٹ کروائیں گے۔ آج پہلا ٹوئٹ ریٹوئٹ ہو بھی چکا ہوگا"۔
علیمہ خان
@Aleema_KhanPK#مزاحمت_سے_ہوگی_خان_کی_رہائی
#چلو_چلو_اڈیالہ_چلو
مبینہ طور پر 13 صحافیوں کے خلاف غیرملکی خواتین اغوا اور زیادتی سکینڈل کے مرکزی کردار/باس کا نام لینے پر پیکا ایکٹ کے تحت کاروائی کی تیاری۔ مگر ایسے ہتھکنڈوں سے شریف خاندان اب نہ اپنے "ڈار لنگز" کو بچا پائے گا اور نہ خود بچ پائے گا۔
کہانی پروفیسر احسان آقبال کی۔ اک انجینئیر جب ملک کی پلاننگ کا چاچا بنا دیا جائے۔ لوگ مزاق میں پروفیسر کہتے رھے۔موصوف نے سچ سمجھ کر دس سال منصوبے سے لے کو سو سالہ منصوبے دینے شروع کر دئے۔ حالانکہ پاکستان کو تباہ کرنے میں اس پروفیسر کلیدی کردار ہی۔ قرضہ سمیتhttps://t.co/0eD0WDBTUd
عذر گناہ بدتر از گناہ
بجائے شرمندہ ہونے کے، الٹا جھوٹ اور گمرااہ کن اور مضحاک خیز وضاحتیں؟؟؟
ہمیں عمران خان نے یہ نہیں سکھایا تھا۔
اتنا ہی سیدھا تھا یہ سارا معاملہ تو 30 اپریل سے لے کے اب تک اس واردات کو چھپانے کی کیا وجہ تھی؟
جہاں پٹواریوں نے دس ارب کے جہاز کا ، اسحاق ڈار کی اولاد کا ، جعلی الیکشن مینڈیٹ کا ، ووٹ کو عزت دو کے فضلے کا بوجھ اپنے سروں پر ڈھویا وہاں یوتھیوں نے مراعات لینے پر پختونخواہ اسمبلی کو اڑا کر رکھ دیا۔
فرق صرف غیرت کا ہے !
"بھیڑیوں کے حوالے کرنے والا، اس کا پلان کرنے والا، سہولت کار کون ہے؟ وہ ہے احمد رضا ڈار۔ اس کی وجہ سے وہ لڑکیاں پاکستان آئیں، اسلام آباد سے نتھیا گلی گئیں، اس کی وجہ سے لڑکیاں ڈیفنس کے گھر کے اندر گئیں اور پورا واقعہ احمد رضا ڈار کی وجہ سے پیش آیا۔ کسی صورت اس کی بچت نہیں ہو سکتی۔ اگر اسے بچانے کی کوشش کی جائے تو یہ پنجاب حکومت کے لیے بیک فائر کرے گا"۔ منصور علی خان
سورس جاننے کیلئے QR Code سکین کریں
میرا اکاؤنٹ روکنے سے کیا مسلہ بغل ہو جائے۔ گا۔ کچھ شرم کرو۔ بچوں کو بھی پتہ چل جاتا ہے کہ یہ گھٹیا حربے ہیں۔ مجھے پہلے بھی کسی نے بتایا تھا۔ بلکہ پورا اکاؤنٹ throttle کیا ہے۔ مگر یقین نہی آیا۔ کرنے دیں۔ کب تک کریں گیں۔ کیا اس سے سچ چھپ جاتا ہے۔ تکلیف یہ ہوتی ہے کہ یہ نالائق اپنے آپ کو ہمارے سے بڑا پاکستانی سمجھتے ہیں۔ حالانکہ کل آڈر بدل جائے تو ان کا قبلہ بدل جائے گا۔ یہ ہے ان کی حب الوطنی جو آڈر پر چلتی ہے۔ عقل پر نہی
سید مہدی بخاری بین الاقوامی اداروں سے وابستہ ہیں. ملک کے مختلف علاقوں میں جاتے رہتے ہیں. ان کے کچھ مشاہدات:
خدا شاہد ہے کہ میں نے نوشکی کے اطراف میں سر تا پا برقعہ پوش عورت کے ہاتھوں میں رسی بندھی دیکھی جس کی مہار آگے چلتے مرد کے ہاتھ میں تھی اور عورت کے پیچھے بچے چل رہے تھے۔ یہ سڑک سے گزرتا ایک خاندان تھا۔ معلوم کرنے پر پتہ لگا کہ یہ عورت کے ہاتھ پر رسی باندھ کر مرد کا آگے پکڑ کر چلنا رواج یا روایت کا حصہ ہے۔
سوات مٹہ کی یونین کونسل شوال یا شول( میں درست نام اب بھول رہا ہوں) کے ایک گاؤں میں یو این ڈی پی کے پراجیکٹ پر پہنچا تو دیکھا کہ عورتوں نے سر پر بھاری پیتل اور سلور کے گھڑے اٹھائے ہوئے ہیں جن میں نجانے کیا تھا( پانی یا خالی مجھے نہیں معلوم) اور دو مرد ان پانچ عورتوں کو درخت کی ٹہنی سے ہانکتے چلے جا رہے تھے۔ خود خالی ہاتھ تھے۔ معلوم کرنے پر پتہ لگا کہ یہاں معمول ہے۔
ڈی ایچ کیو کوئٹہ میں ایک عورت لائی گئی جو دور کہیں پہاڑوں پر رہنے والی تھی۔ اس نے چارپائی پر ہی تین سال میں تین بچے پیدا کیے تھے اور اس کی بیماری کا یہ حال تھا کہ کمر کی جِلد چارپائی کے ساتھ جڑ چکی تھی جس میں پیپ پر چکی تھی۔ اس کو اسی چارپائی سمیت اٹھا کر لایا گیا تھا کیونکہ اس کا جسم چارپائی سے الگ ہی نہیں ہو سکتا تھا اور نیم برہنہ حالت میں لایا گیا تھا۔ وجہ یہ کہ وہ جہاں بستی تھی وہاں مرد ڈاکٹر کو دکھانے یا ہسپتال جانے کا رواج نہیں ہے۔
اپنے کھاتے پیتے پنجاب میں میں نے ایک تیرہ چودہ سالہ بچی دیکھ رکھی ہے جس کو گھر میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا وہ بھی سگے رشتوں کے ہاتھوں۔ اس بچی کو چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے ذریعہ بازیاب کروایا گیا تھا اور آپ کو بتاؤں کہ کیسے ؟ گھر کا ہی وہ فرد جو خود اس کارِ شیطانی میں کبھی ملوث تھا اس نے سارا ماجرا بیورو کو اس واسطے جا سنایا کہ اب اس کا “نمبر” نہیں آتا تھا۔ اس بچی کو یونیسف نے اسلام آباد منتقل کیا اور ایک بہترین ادارے کے سپرد کیا جو یتیم و لاوارث بچوں کو پالتا ہے۔
میں نے اس معاشرت میں بہت کچھ دیکھا ہے۔ عینی شاہد ہوں۔ کوئٹہ سے خنجراب اور کراچی سے پشاور تک بلا تفریق رنگ و نسل و ذات پات المئیے دیکھے ہیں۔بہت سے واقعات ذہن سے محو ہو چکے ہیں۔ اس بات کو آپ مانیں یا نہ مانیں مگر ننگی حقیقت یہی ہے کہ دیہی علاقوں اور شہروں سے دور بستی عورت کی زندگی جانور سے بدتر ہے۔ شہری علاقوں کی صورتحال مختلف ہے۔ یہاں مرد گھریلو استحصال کا شکار ہے۔ یہاں قدم قدم پر “عورت کارڈ” کی ڈھال بنائے مرد مار قسم کی برائے نام عورتیں بھی ہیں جن کے پاس یہی لیوریج ہے کہ جسمانی خدوخال عورت والے ہیں مگر یہ مملکتِ خداداد پچھہتر فیصد دیہی علاقوں پر مشتمل ہے۔
ایسا کیوں ہے ؟ ۔ اگر آپ کہیں کہ تعلیم سے دوری یا تعلیم کی کمی کے سبب ہے تو میں کہوں گا ہرگز نہیں۔ ماڈرن تعلیم جب نہیں تھی تب بھی سماج تھے۔ آج سے صدیوں قبل کا انسان بھی مہذب تو تھا۔
🚨🚨کہتے ہیں کے پی کے ۔کی نوجوان قیادت بلیو پاسپورٹ پر بک گے یا کمپرومائززہو گی ہے ۔۔
یعنی خان کی رہائی پر کمپرومائز ہو گےاورعہدے ،
نوکری ،گاڑیاں ،گھر ،تنخواہیں ،سہولتوں کو ترجیع دے رہے ہیں ۔
کیا آپ جانتے نہیں ہم اس قوم سے تعلق رکھتے ہیں جہاں اپنے پیاروں کا پیسے لے کر خون معاف کرنا عام سی بات ہے ۔
بہت لاتعداد فیملی ایسی ہیں جھنوں نے کروڑوں روپے اور باہر کی نیشلٹی لے کر قاتلوں میں معاف کیا ۔
جو قوم انصاف اور خون کا سودا کر دے وہ ایک جیل میں قید لیڈر پر کمپرومائزکر کے اپنا اور اپنی غریب فیملیوں کا کیوں نہ سوچیں ؟
ہم لالچی ،خودغرض ،مطلبی ،مفاد پرست ،موقع کی تلاش اور اپنا اپنا دا لگانے والی قوم ہیں ۔@PTIofficial
کور کمانڈر کانفرنس میں کسی ایک جرنیل نے بھی یہ کہنے کی جرات نہ کی کہ بس کر دو عاصم منیر!!
یہ بدقسمت ملک اب مزید تمہاری ضد انا اور ذہنی مرض کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا