مولانا فضل الرحمان کی انتشار کی سیاست کے بجائے قومی سلامتی، دہشتگردی کے خلاف دوٹوک مؤقف اور پاکستان کے استحکام کو ترجیح دینی چاہیے! 🇵🇰 #قومی_یکجہتی#پاکستان_زندہ_باد
مولانا فضل الرحمان کی منافقت، بلیک میلنگ اور سیاسی انتشار کی سیاست اب مزید برداشت نہیں کی جائے گی!
مولانا فضل الرحمان کا حالیہ غصے سے بھرپور بیان کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ آخر پاکستان کی جانب سے افغان طالبان حکومت اور پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے عناصر کے خلاف دوٹوک پالیسی انہیں اس قدر کیوں کھٹک رہی ہے؟
مولانا کے مدارس، چندہ مہمات، سرحد پار روابط اور افغان طالبان حکومت کے ساتھ نظریاتی قربت ہمیشہ سے بحث کا موضوع رہے ہیں۔ لیکن جب ان کے اثاثوں، مبینہ کرپشن، اقربا پروری اور سیاسی کردار پر سوالات اٹھتے ہیں تو جواب دینے کے بجائے اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ شروع کر دیا جاتا ہے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہداء کی قربانیوں پر سوالات اٹھانا، ریاستی مؤقف کو مسخ کرنا اور یہ تاثر دینا کہ ریاست انہیں خود میدانِ جنگ میں اترنے کا کہہ رہی ہے، محض سیاسی توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔
مولانا فضل الرحمان اور ان کے حواریوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ اب سیاسی بلیک میلنگ، مذہب کے نام پر دباؤ اور ہر سوال کے جواب میں نیا تنازع کھڑا کرنے کا دور ختم ہونا چاہیے۔
اب وقت سیاسی بلیک میلنگ کا نہیں، عوامی احتساب، شفافیت اور جواب دہی کا ہے۔