اڈیالہ جیل میں بیمار قیدی کے ساتھ جیل حکام نے کیا کیا عجیب داستان سامنے آئی ہے پڑھیں سر پکڑ لیں گے
قیدی نے طبی بنیادوں پر ضمانت کے لئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی جس میں موقف اختیار کیا کہ اس کا علاج جیل میں نہیں ہو سکتا اسے ضمانت دی جائے تاکہ وہ علاج کرا سکے اس پر پہلی سماعت 8 دوسری 15 تیسری آج 24 جون کو ہوئی
جیل حکام سے میڈیکل رپورٹ منگوانے کے لیے اسلام آباد کو سپریڈنٹ اڈیالہ جیل کو شوکاز نوٹس جاری کرنا پڑا پھر میڈیکل رپورٹ سامنے آئی آج عدالت میں پیش کی گئی جس میں بڑا انکشاف ہوا کہ 14 مئی کو دو ڈاکٹرز نے تجویز کیا تھا کہ قیدی کی حالت خطرے میں ہے اس کو پمز منتقل کریں آج پھر جسٹس خادم حسین سومرو نے جیل حکام سے پوچھا آپ نے پھر کیا کیا ؟
اڈیالہ جیل حکام نے ہائیکورٹ کو بتایا کہ 14 مئی کے ڈاکٹرز کے مشورے کے مطابق ہم نے قیدی کو ہسپتال منتقل کرنے کے لئے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ کو لکھ دیا عدالت نے پوچھا ہوم ڈیپارٹمنٹ نے کیا کہا پھر ؟ جیل حکام نے کہا جواب کا انتظار ہے عدالت نے کہا آپ کو پتہ ہے 14 مئی کے بعد آج کیا تاریخ ہو گئی ہے ؟ ڈاکٹرز نے لکھا تھا قیدی کے آنکھ اور کان کو شدید مسئلہ ہے اگر قیدی کو کچھ ہو گیا تو ایف آئی آر آپ لوگ پر ہو گی اس کا کوئی جواب جیل حکام کے پاس نہیں تھا پھر عدالت نے کہا ہوم ڈیپارٹمنٹ سے رپورٹ لیکر عدالت کو بتائیں سماعت ملتوی ہو گئی قیدی ادھر کا ادھر رہ گیا
مطلب 14 مئی ڈاکٹرز نے مشورہ دیا قیدی کو ہسپتال منتقل کریں جیل حکام آج 24 جون کو ابھی ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب سے جواب کے انتظار میں بیٹھے ہیں ویسے حد ہی ہو گئی ہے انسانیت بھی کہیں گم ہو چکی ہے
وزیر آئی ٹی شزا فاطمی بضد ہیں اور فرماتی ہیں کہ وہ کسی کے دباؤ میں نہیں آئیں گی اور سرمایہ کاری کو تحفظ دیں گی۔۔
جس طرح یہ ایشو سامنے آیا اور جو نااہلی سب کے سامنے آئی کوئی اور ملک ہوتا تو وزیر اب تک استعفیٰ دیکر گھر چلا گیا ہوتا۔
@DurraniViews Is muzamil aslam ka jhoota hone ki tasdeeq isi bat se laga lo k kon is ki hamait kar rahe.. ye takla kon ha sb ko pata ha… fojion ka kutta begherat..
شہباز شریف عام ڈکٹیٹروں سے زیادہ خطرناک شخص ہے اسکے 4 سال پاکستانی تاریخ کے ظالم ترین سال ہیں کوئی ایسا ظلم نہیں جو اسکی حکومت کے دوران نہیں ہوا لیکن یہ جب بھی بولتا ہے لگتا ہے بڑا ہی بھلا مانس انسان ہے اسکی یہی خوبی فوج کو پسند ہے کے زبان شیریں رکھتا ہے!
@SahirBalochf@Aadiiroy2 Jitni chaplusi baloch sardar karte ha itni koi bi ni karta.. phele apne gareban ma jhanko.. sardron k aage tm logon ki bolti babd rehti ha.
سعودی عرب کی سب سے بڑی اسٹیل کمپنی ’حدید‘ ہے، جس کی مالک سعودی حکومت ہے، دوسری بڑی کمپنی ’ الاتفاق اسٹیل پروڈکٹس‘ ہے، جس کا مالک ہلال حسین الطویرقی ہے، پھر Al-Rajhi Steel ہے، Zamil Steel ہے، Solb Steel ہے، Al Yamamah ہے پھر Alnafie ہے
ایسا جھوٹ بولتے ہیں کہ بندہ سر پکڑ لے
افسوسناک 💔
"ہمارا سٹیٹ آف دی آرٹ بس سٹینڈ تیار پڑا ہے NHA والے NOC نہیں دے رہے۔ ہمارا ڈیم تیار پڑا ہے صرف NOC چاہئے لیکن ہمیں نہیں دے رہے ڈیم سے صرف خیبرپختونخوا کو نہیں پورے ملک کو فائدہ ہوگا۔ یہ خیبرپختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کررہے ہیں"۔ وزیراعلی سہیل آفریدی
All the news circulating on social media that a former Army Chief met Imran Khan in Adiala Jail are fake.
We have checked with Barrister Gohar and he has also confirmed that this is totally fake!
It is disinformation especially spread to distract from the fact that Imran Khan is being tortured through total isolation.
A distraction from the fact that:
1) He is not allowed proper treatment for his eye in a proper hospital.
2) He has not been allowed to speak to his sons.
3) He has not been allowed books for the past 6 months.
4) He has no television
5) He has not been allowed contact with anyone from the outside world in the past 6 months, except two visits by his lawyer on the orders of the court.
There is a full bench court order that allows for at least 18 people to visit him every week. 6 family members and 6 lawyers on Tuesdays, and 6 party members on Thursdays.
All above are Imran Khan’s lawful rights, under Pakistan’s laws and the International laws.
اس بہن کے لیے آؤاز اٹھائیں۔
یہ اداکارہ مومنہ اقبال نہیں جس کی ایک انسٹاگرام سٹوری کے بعد قانون حرکت میں آ جائے۔ یہ عام عوام میں سے کسی کی بیٹی اور بہن ہے۔ اس سے پہلے کہ ایک اور حوا کی بیٹی ظلم کی بھینٹ چڑھ جائے۔
پلیز @OfficialDPRPP ان سے رابطہ کر کے ان کی مدد کریں۔
پر بھی بنگش کی صیحح دھلائی ہوئی تھی ہسپتال اندر۔
پھر سنہ 2017 میں میری کینسر کی مریضہ بھابھی کو غلطی سے اس ہسپتال میں لے جایا گیا۔۔۔۔چار دن کا بل چار لاکھ بنا اور پھر اس بنگش کا پالتو ٹاؤٹ ڈاکٹر علی (جو اس وقت ICU کا انچارج تھا) نے کہا مریضہ کی زندگی خطرے میں ہے لہزا ventilator پر منتقل کرنا لازمی ہے۔۔۔۔ڈاکٹر علی کا ڈرامہ ملاحظہ ہو۔۔۔۔۔جب آئی سی یو باہر لواحقین کا رش ہوتا تو ایک موٹا تازہ بابا (شکل و لہجے سے افغانی) ہاتھ میں لاٹھی اٹھائے مٹک مٹک کر آتا اور دوڑ کر ڈاکٹر علی کے گلے لگ جاتا اور سب لواحقین سے مخاطب ہوتا کہ “میں ہر ہفتے ڈاکٹر علی سے ملنے اس لئے آتا کہ انہوں نے مجھ وینٹی لیٹر پر منتقل کر کے سات دن بعد میری زندگی بچا لی تھی۔۔۔۔جوکہ سراسر جھوٹ تھا اور ڈاکٹر بنگش/علی و اس فراڈی بابے کی سازش تھی کہ عوام کو QAIH کے اندر ICU میں نیو زندگی ملتی
ایک چیز نوٹ کرنے قابل کہ کرمنل بنگش اپنے آبائی علاقہ (KPK) سے ہی اپنا پرسنل سٹاف یا گن مینز بلاتا ہے
شوکت بنگش سونے کا بھی بن جائے مگر وہ چوری لازم کرے گا (جاری ہے)
ڈاکٹر شوکت علی بنگش پاکستان کا دشمن؛ افغان دھشت گردوں کا دوست۔۔۔۔۔۔۔۔اب گردے چوری کرنے والا مکروہ کردار
دو دن قبل سوشل میڈیا پر خبر وائرل ہوئی کہ ایف آئی اے نے جڑواں شہروں میں قائم ایک نجی ہسپتال پر ریڈ کر کے گردہ چوری گینگ کو گرفتار کر لیا جبکہ ساتھ ہی سوشل میڈیا پر چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں کہ فلاں ہسپتال ہو سکتا مگر ساتھ ہی چند صحافیوں نے قائد اعظم انٹرنیشنل ہسپتال متعلق نیوز دی کہ ریڈ ہوا؛ غریب افراد کو جنوبی پنجاب سے ادھر لاکر تھوڑے سے پیسے دے کر ان کے گردے چوری کیے جارہے تھے
غرضیکہ ہر صحافی نے اپنی اپنی معلومات شیئر کرنا شروع کردی جن میں سینئر صحافی زمان مغل صاحب کی خبر نظر سے گزری کہ QAIH پر FIA کا ریڈ؛ گردے چوری کرنے میں ملوث گینگ گرفتار؛ سی ای او ڈاکٹر شوکت علی بنگش فرار
یعنی ایک بار پھر سب سے بڑا مجرم و مکروہ شخص قانون کے شکنجے سے بچ نکلا۔۔۔۔۔
اس کے ساتھ ہی مجھے CEO قائد اعظم انٹرنیشنل ہسپتال کے کرمنل/ملک دشمن/افغان دھشت گردوں کے دوست/خوبصورت لیڈی ڈاکٹر کو ہراساں کرنے والے ڈاکٹر شوکت علی بنگش کا مکروہ چہرہ یاد آگیا
میں بطور کرائم رپورٹر ڈاکٹر شوکت علی بنگش و اس کے سیاہ کرتوتوں سے 2015 سے واقف ہوں جب ایک نہایت ہی معتبر، ملک دوست، نیشنل سکیورٹی ایکسپرٹ سورس نے کال کہ اور اپنی خوبصورت جوشیلی آواز میں کہا “بھرا شام کو ملو!!!! گھر آجاؤ کھانہ ساتھ کھائیں گے” بس یہ سننا تھا کہ میں خوشی سے نہال اور بے چینی سے شام ہونے کا انتظار کرنے لگا کہ یہ سورس ماہ یا دو ماہ بعد یا کبھی کبھی تین چار یا چھ ماہ بعد ملتا اور پھر چار گھنٹے کی ملاقات میں خبروں و ایکسلیوزیو معلومات کا خزانہ آجاتا اور جونہی میں کوئی خبر چھاپتا تو ملک/شہر میں تھر تھلی مچ جاتی اور مجھ پر مقدمہ درج یا پھر قتل کی دھمکیاں ملنا شروع۔۔۔۔۔خیر اللہ اللہ کر کے شام ہوئی۔۔۔صدر آفس سے بائیک کی کک لگائی اور آدھے گھنٹے بعد سورس سامنے بیٹھا تھا۔۔۔۔اس بار جو خبر سننے کو ملی اور جب سورس نے مجھے کسی ہسپتال کے وی وی آئی پی روم میں نیلے رنگ کی مریضوں والی شرٹس پہنے اجلے سفید بیڈ پر نیم دراز۔۔۔۔۔یعنی ایڈمنٹ بغرض علاج۔۔۔۔سورس نے میرے چہرے پر تجسس لہراتا دیکھا تو بولے “بھرا (brother) یہ جو آپ تین مختلف مریض دیکھ رہے۔۔۔یہ Afghan National Army (ANA) کے دھشت گرد ہیں یعنی کرنل رینک کے افسر ہیں۔۔۔جوکہ پاکستانی فورسز ساتھ لڑائی میں شدید زخمی ہوئے اور یہاں گولڑہ موڑ میں قائم قائد اعظم انٹرنیشنل ہسپتال کے وی وی آئی پی پرائیویٹ رومز میں زیر علاج ہیں۔۔۔۔بھرا انکا علاج ڈاکٹر شوکت علی بنگش کر رہا اور فی مریض بارہ لاکھ لے رہا۔۔۔۔بنگش کو یہ افغانی دھشت گرد سعودیہ میں بیٹھا ایک شخص “حاجی” دیتا ہے اور اپنا کمیشن رکھتا ہے۔۔۔۔بھرا ANA کے یہ دو کرنل ہیں جو ISI نے اس وقت گرفتار کیے جب یہ QAIH سے بنگش کے ہاتھوں روبہ صحت ہونے بعد واپس براستہ طور خم بارڈر افغانستان فرار ہو رہے تھے۔۔۔۔اب آئی ایس آئی پاس ہیں”۔۔۔
میرے لیے یہ خبر حیران کن تھی۔۔۔۔پھر میں بطور کرائم رپورٹر مزید کھوج میں لگا تو چند غیر مصدقہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ ڈاکٹر شوکت علی بنگش نے QAIH کا پروجیکٹ ایک امریکن نیشنل ڈاکٹر سے اسکا اکلوتا بیٹا اغواہ کر کے اپنے نام کر لیا اور اس ڈاکٹر کو ائیرپورٹ پر بچہ واپس کیا اور امریکہ بھگا دیا۔۔۔۔۔لیکن یہ معلومات آج تک میں ثابت نہیں کر سکا۔۔۔۔بہت کوشش کی امریکہ میں QAIH کے اصل مالک کو ڈھونڈ سکوں مگر آج بھی کوشش باجود سرا کھرا نہیں مل رہا
یہ بنگش کا پہلا جرم نہ تھا۔۔۔۔اس کے بعد پتہ چلا کہ ڈاکٹر شوکت بنگش خوبصورت لیڈی ڈاکٹرز کا دشمن ہے اور انہیں جنسی طور پر ہراساں کرتا۔۔۔۔۔پھر یقین تب آیا جب میرے سابق اخبار دی نیشن کے ایڈیٹر سلمان مسعود نے مجھے بتایا کہ ان کے دوست کی کزن QAIH میں ڈاکٹر ہے اور CEO شوکت بنگش اسکو ہراساں کر رہا ہے۔۔۔
پھر بنگش کا ایک اور سیاہ کارنامہ بھی خبروں کی زینت بناتا جب خوشاب کی پندرہ سولہ سالہ لڑکی اس کے ہسپتال میں وفات پاگئی لیکن اس حرام خور نے مردہ بچی کو وینٹی لیٹر پر چڑھا دیا کہ والدین سے لاکھوں روپے بل وصول کرسکے۔۔۔۔۔شومئی قسمت اس بچی کے والدین کی کہ ایک فوجی افسر جوکہ اس لڑکی کا دور پار کا رشتہ دار تھا اسکی تیمار داری کرنے ہسپتال آیا اور حیران رہ گیا کہ کیسے مردہ بچی کو Ventilator پر چڑھا دیا گیا۔۔۔اس نے تھوڑا شور مچایا تو فوری طور پر بنگش گینگ نے ڈیڈ باڈی کو بیسمنٹ میں چھپا دیا اور والدین سے کہا کہ پیسے دو اور لاش لے جاؤ۔۔۔۔خیر فوجی افسر وہاں سے نکلا اور پھر دو گھنٹے بعد تین چار جیپ میں واپس آیا؛ ڈاکٹر بنگش و گینگ کو صیحح فٹ بال بنایا اور لاش لے کر چلے گئے
اس کے علاوہ معمولی ہرنیاں (اپینڈکس) کے آپریشن کروانے والے مریضوں کا چار چار بار آپریشن کر کے بل 62 لاکھ بنانے اور مریض
عجیب صورتحال ہے
ایک چوھدری نعیم اعجاز نامی کرمنل ہے جو بلیو ورلڈ ساتھ میں افغان دھشت گرد ملیشیاء زریعے انسانوں کو قتل کروا کر اجتماعی قبروں میں دفن کر دیتا ہے اور @RwpPolice میں سنگین نوعیت کے 216 مقدمات درج ہونے باجود @pmln_org کا MPA اور سی ایم @MaryamNSharif کی کیبنٹ میں سیکریٹری بن جاتا ہے
اور ایک یہ ہیں ثاقب چدھڑ جو انسانی گردوں کے مکروہ کاروبار سے اربوں روپے کما چکے اور کما بھی رہے اور چنیوٹ میں سب سے بڑا گھر اور سب سے زیادہ قیمتی گاڑیاں رکھتے ہیں اور ایک اینکر کو بڑے فخر سے انٹرویو دے رہے کہ لڑکیاں اب بھی انہیں پروپوز کرتی ہیں
میں حیران ہوں اپنی قوم پر کہ کیسے کیسے کرمنلز مسلط کر دیے گئے ان پر لیکن اف نہیں کرتی
کیا بنے گا اس ملک کا؟ کب عوام کو جرائم پیشہ سیاہ ست دانوں سے نجات ملے گی ؟
نوٹ: تصاویر میں دونوں جرائم پیشہ افراد بڑے فخر سے اس ملک کی ترقی کے دعویداروں میاں نواز شریف و مریم نواز ساتھ کھڑے ہیں
@IamHaiderSN Sb pakistanio se guzarish ha k kisi k sath bi bhes karne se phele ye check kar len k us ko tamgha e imtiaz mila huwa ha k ni.. agar tamgha mila huwa ha to smjh jaen.. ye la ilaj ha.. in ko haram khane ki lat ha.. ye foji tout ha or un ki tarah haramkhor ha..