تحریک انصاف کو ایک بات سمجھنی ہو گی۔
تحریک انصاف نے پوری دنیا میں فوج کی طرف سے بلیو ایریا میں قتل وغارت پر احتجاج کیا۔ فوج نے کوئی جواب نہیں دیا۔
علی امین گنڈا پور نے اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو فوجی قاتلوں کو للکارا۔ فوج نے کوئی جواب نہیں دیا۔
پی ٹی آئی سوشل میڈیا نے فوج کے ناجائز کاروباروں کے خلاف آواز اٹھائی۔ فوج کی پراڈکٹس کی عوامی سطح پر بائیکاٹ کی مہم چلائی۔ فوراً جواب آیا کہ نہیں، نہیں، گولی ہم نے نہیں چلائی۔
تو آپ بہتر سمجھ سکتے ہیں کہ آپ نے کرنا کیا ہے۔ اور کس طرح کرنا ہے۔ یقیناً صرف بائیکاٹ حل نہیں ہے۔
قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اور کسی قانون کی خلاف ورزی کیے بغیر سیاسی جماعتوں کے شہروں اور قصبوں کے عہدیداران اور تنظیمی باڈیز کو ملک بھر میں تاجروں کی تنظیموں کو ملنا چاہیے، دوکانداروں اور بڑے اسٹورز اور کاروباروں کے مالکان کو ملنا چاہیے اور انہیں قائل کرنا چاہیے کہ وہ قاتلوں کی بنائی ہوئی پراڈکٹس رکھیں ہی نا۔ اور جو دوکاندار اور اسٹور ایسا نہ کرے اور فوجی مصنوعات نہ ہٹائے، اس کے کاروبار کا بھی بائیکاٹ کیا جائے۔ ان مصنوعات سے حاصل ہونے والے منافع سے یہ ظلم کے مزید پہاڑ ڈھاتے ہیں۔
بجائے خون خرابے کے اگر سیاسی جدوجہد قانون اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے جمہوری انداز میں کی جائے تو اسکے زیادہ مثبت نتائج آئیں گے۔
🚨مطیع اللہ جان کا ایک اور گناہ یہ تھا کہ انہوں نے مستعفی ہونیوالے سلمان شاہ کو اپنے پروگرام میں بلایا،سلمان شاہ نے بتایا کہ ان کا فلیت ڈی چوک میں تھا جب نیچے اترے تو قیامت کا سماں تھا میں نہیں چاہتا کہ تاریخ میں اپنا نام ان لوگوں میں لکھواؤں جو اپنے لوگوں پر ظلم کر رہے ہیں ۔۔
“سروں سے میری عورت کے دوپٹے کھینچنے والو
خدا کا ڈر اترنے میں 76 سال لگتے ہیں
تیری Vigo کے صدقے ہم صف بزدل میں بیٹھے ہیں
تمہارا خوف اُدھڑنے میں 76 سال لگتے ہیں”
خلیل الرحمن قمر
جنرل باجوہ پلانٹڈ تھا امریکا کا آدمی تھا CIA کا آدمی تھا پاکستان کو تباہ کرکے گیا ہے پانچ اگست 2019 کو کشمیر بھارت کے حوالے کردیا
حفیظ اللہ نیازی کا خوفناک بیان
“We know with absolute certainty, Allah cares of the martyrs more than us. And we ask Allah to take revenge for the blood of our martyrs. May they be avenged.”
MY DESIRE
Independence from foreign dictations.
Protection from internal excesses.
Are we asking too much ??
This is the minimum that a self respecting and proud nation deserved… SO WHOM SHOULD WE VOTE FOR ? Any doubts !
یزید نے امام حسین سے صرف ایک ووٹ مانگا تھا۔
امام عالی مقام نے پورا کنبہ شہید کروالیا لیکن غلط بندے کو ووٹ نہیں دیا۔
یہ ہے ووٹ کی اہمیت۔
8فروری کو یہ پڑھ کے جائیے گا
ابرار الحق کا نیا ترانہ جاری۔۔۔۔۔۔
انقلاب آئے گا....
دیکھ لو پاکستانیو یہ ویسے تو شیر پاکستان کو چھوڑ گیا لیکن اپنا گانا خان صاحب کے نام کے بغیر نہیں بنا سکا...
اُسے پتہ تھا شیر پاکستان کے بغیر اسکو کسی نے سننا ہی نہیں...
بادشاہ ہذیان بک رہا ہے۔ عمران خان نے مرنا ہوتا تو ۴ نومبر کو مر جاتا۔ بادشاہ جانتا ہے اس کی فرعونیت کو خدائ کا شائبہ بھی ہوتا تو وہ ۱۸ مارچ کو مرجاتا۔ اور کچھ نہ سہی وہ تب مرجاتا جب اُس نے اُس کے ہیلی کاپٹر میں غلط تیل بھروایا۔ تب مرجاتا جب اپنے پیادوں کے زریعے اسے وہ بلٹ پروف دی کہ جس کی وائیرنگ میں گڑبڑ کردی تھی۔ بادشاہ کو بھی یاد ہے ہر وہ موقع جب اس کے بچھائے ہر جال سے وہ اس اعتماد سے نکلا کہ بادشاہ کی اپنی رگوں میں سنسنی دوڑ گئی۔بادشاہ جانتا ہے کہ عمران خان اب مر کر بھی نہیں مریگا وہ جہاں کھڑا ہے وہاں موت اُسے جاوداں کردیگی۔ مگر بادشاہ یہ حقیقت جھٹلا رہا ہے کیونکہ خوف اُسے اپنی موت کا ہے، داؤ پہ جو لگی ہے وہ اُس کی ریت پر کھڑی خدائ ہے کہ جس کی بنیادوں میں وہ چونٹیاں گھر کر گئیں ہیں جنہیں وہ پوروں میں مسل کر نکل جایا کرتا تھا۔ اب وہ چاہتا ہے کہ ان بنیادوں میں پانی چھوڑ دے۔ وہ سوچتا ہے ایسا کرنے سے چونٹیاں بوکھلا جائینگی۔ ڈر جائینگی۔ مر جائینگی۔ بادشاہ عمران خان کےبغض میں یہ بھول بیٹھا ہے کہ چونٹیوں کو پر بھی لگ جاتے ہیں اور کیسے نمرود کی خدائ ایک اڑتے کیڑے کی بدولت دیواروں سے ٹکریں مارتے مارتے ختم ہوگئی تھی۔
ہم جو اِن کی نظر میں حشرات ہیں۔۔ کیڑے مکوڑے۔۔ چونٹیاں۔۔یہ ہماری زندگی موت کے فیصلے کرتے ہیں۔ ہمارے سامنے دانا پکڑ کر ہمیں اس کے گرد گھماتے ہیں۔۔ دوڑاتے ہیں۔ جی چاہے تو کچل دیتے ہیں۔ جی چاہے تو مسل دیتے ہیں۔ ہمارے گِرد نمک کے دائرے کھینچ کر ہماری حدیں مقرر کرتے ہیں۔ ہمیں اپنی اوقات میں رکھتے ہیں۔ یہ بھول جاتے ہیں کہ جب حبس بہت بڑھ جائے تو آسمان برس پڑتا ہے اور جب آسمان برستا ہے تو چونٹیوں کو بھی پر لگ جاتے ہیں۔
بادشاہ اب بھی عمران خان کو اپنا مقابل سمجھ رہا ہے۔ بادشاہ سوچتا ہے اس کو ختم کردیا تو شاید وہ بچ جائے۔ بادشاہ نہیں جانتا کہ اس کے پھیلائے گھٹن میں جو دیمک پل رہا ہے وہ اسی کے وجود کو چاٹ رہا ہے۔بادشاہ کو اپنے پیروں کے گرد گھیرا ڈالتی چونٹیاں کم تر لگتی ہیں وہ سوچتا ہے انہیں تو ایک آن میں کچل دیگا۔ وہ نہیں جانتا کہ اس کی اونچی ناک کے نیچے اس کا دیمک لگا وجود گرنے کو ہے۔ ‘بس ایک عمران خان مرجائے تو وہ سب سنبھال لے گا’۔
بادشاہ کا تکبر اسے بھلا بیٹھا ہے کہ وہ انسان ہے اور انسانوں کو خدائ کا دعوی راس نہیں آتا۔