وہ ایک فوجی تھا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک شوہر اور پشتون بھی تھا۔ عزت اور غیرت ہر انسان کو عزیز ہوتی ہے۔ یہ عمل شاید قانون کی نظر میں خلاف ورزی ہو، لیکن انسانی فطرت کے بالکل عین مطابق ہے۔کرنل اسفندیار ولی جو چارس��ہ کے ایک بہادر سپاہی ہیں نے اپنے اور اپنی پشتون بیوی کے دفاع و حفاظت کے لیے ہوائی فائرنگ کی۔ لیکن افسوس کہ فوج کے ادارے نے ان کی اس مجبوری کو سمجھنے کے بجائے الٹا انہیں ہی حراست میں لے لیا، جو کہ ایک انتہائی غیر مناسب اقدام ہے۔طلباء کے روپ میں موجود چند غنڈوں نے ایک پختون خاتون کے ساتھ جو بدسلوکی کی، وہ نا قابلِ معافی ہے۔ اگر کرنل صاحب کی جگہ کوئی اور ہوتا، تو خدا کی قسم شاید ان بدقماشوں کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال میں پڑی ہوتیں۔ہم کرنل صاحب کے اس اعلیٰ ضبط اور صبر کو سلام پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے شدید اشتعال کے باوجود قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے سے گریز کیا۔
ایک سال پہلے نہروں کے معاملے پر قوم پرستوں کو باہر نکال کر سڑکیں بلاک کروا کر جلاؤ گھیراو کروانے والوں نے ہی آج انہیں باہر نکالا ہے اور سلام ہے اُس پھدو دماغ کو جس نے بلوچستان اور پختونخواہ میں لگی آگ بجھانے کے بجائے صوبوں کی نئی شُرلی چھوڑ دی
پنجاب کی تقسیم کی بات کروا کر یہاں بھی حالات کون خرا�� کروانا چاہ رہا ہے ؟ کیا پھدو دماغ یہاں بھی انتشار چاہتا ہے ؟
صوبوں کی تقسیم کی بات تو تب ہوتی جب باقی صوبوں میں امن ہوتا بات چیت سے آغاز ہوتا لیکن ایک نااہل وزیر محسن نقوی نے نیا کٹا کھلوا دیا
پرائم منسٹر صاحب یہ آپ کی بھی نااہلی ہے آپ کی اس پر خاموشی بھی نااہلی ہے
مشرقی روایات کا تقاضا یہی ہے کہ عزت اور ناموس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ اگر کسی کی اہلیہ کے ساتھ سرِعام دست درازی کی کوشش ہو، تو غیرت اور حمیت کا تقاضا یہی بنتا ہے کہ انسان اپنا سب کچھ داؤ پر لگا کر اپنی اہلیہ کی حفاظت کرے۔
میں نے سرحد یونیورسٹی (روات کیمپس) کے واقعے پر دن بھر کی تحقیق کی، شواہد اکھٹے کیے اور زمینی حقائق کا جائزہ لیا۔ اصل حقائق یہ ہیں کہ معاملے کی شروعات ایک سنگین اخلاقی مسئلے سے ہوئی۔ یونیورسٹی کے الائیڈ ہیلتھ سائنسز ڈیپارٹمنٹ میں ڈاکٹر جدون خان نے شعبہ اسٹوڈنٹ افیئرز کی سربراہ ڈاکٹر آئینہ کو ہراساں کیا۔ ڈاکٹر آئینہ نے خاموش رہنے کے بجائے قانونی اور اصولی راستہ اپناتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ کو باضابطہ شکایت درج کرائی، جس پر انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ ایچ او ڈی کو معطل کر کے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی—جو کہ ایک بالکل آئینی اور درست قدم تھا۔
معاملے نے اس وقت خطرناک رخ اختیار کیا جب معطل استاد کی بحالی کے لیے طلبہ نے احتجاج شروع کر دیا۔ ڈاکٹر آئینہ جب معاملے کو سلجھانے کے لیے مظاہرین کے پاس گئیں، تو بپھرے ہوئے ہجوم نے تمام اخلاقی حدود پامال کرتے ہوئے ان کے ساتھ تذلیل آمیز رویہ اختیار کیا، گالیاں دیں اور سرِعام دست درازی کی کوشش کی، جہاں یونیورسٹی گارڈز بھی مکمل طور پر بے بس نظر آئے۔ ڈاکٹر صاحبہ نے جب اپنے شوہر لیفٹننٹ کرنل اسفندیار ولی کو اس کی اطلاع دی جو بنیادی طور پر چار سدہ کے ایک معزز گھرانے سے تعلق رکھنے والے غیور پختون اور پاک فوج کے حاضر سروس افسر ہیں، اسفندیار ولی نے پشتون روایات اور تحفظِ ناموس کے تقاضوں کو نبھایا وہ کسی عسکری دستے، نفری یا پیشگی پلاننگ کے بغیر، تنِ تنہا ایک شوہر کی حیثیت سے موقع پر پہنچے۔ آپ ویڈیو دیکھ لے ، ویڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ لیفٹننٹ کرنل اسفندیار ولی کی اہلیہ ڈاکٹر آئینہ کو گھسیٹا جا رہا ہے اور وہ اپنی اہلیہ کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں، اسی دوران مشتعل ہجوم کی جانب سے ان کی وردی بھی پھاڑ دی جاتی ہے۔ اپنی اور اپ��ی زوجہ کی ناموس کو شدید خطرے میں پا کر افسر نے آئینی و قانونی حقِ خود دفاعی (Right of Self-Defense) کے تحت ہجوم کو دور رکھنے اور اپنی اہلیہ کو بحفاظت نکالنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر آپ ایک پختون ہیں، ایک باضمیر شوہر ہیں اور ایک افسر ہیں، تو ایسی ناگزیر صورتِ حال میں آپ کا رد��عمل کیا ہوتا؟ کیا قانون کسی انسان کو اپنی اہلیہ کی تذلیل پر خاموش تماشائی بنے رہنے کا درس دیتا ہے؟ افسر نے بحیثیتِ فوجی کسی پر براہِ راست فائرنگ کی اور نہ ہی ادارے کی قوت کا سہارا لیا، بلکہ بحیثیتِ شوہر اور غیور انسان سیلف ڈیفنس میں اپنی اہلیہ کے تحفظ کا فرض نبھایا۔
واقعے کے فوراً بعد عسکری حکام کی جانب سے اپنے افسر کو تحویل میں لے کر تحقیقات کا آغاز کرنا فوج کے اندرونی شفاف نظام، اعلیٰ نظم و ضبط اور قانون کی بالادستی کا بین ثبوت ہے، اور اعلیٰ عسکری حکام کا یہ فیصلہ قابلِ تحسین ہے۔ تاہم، انصاف کا ترازو تبھی برابر ہوگا جب سوشل میڈیا پر یکطرفہ پروپیگنڈا بند کیا جائ��۔ حقیقی اور کامل انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ عسکری ڈسپلن اور طریقہ کار کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ایک خاتون کو گھسیٹنے، قانون ہاتھ میں لینے اور افسر پر تشدد میں ملوث مشتعل جتھے کے خلاف بھی بلا تفریق سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
مظفر گڑھ میں رحمان ہاجرہ شوگر مل کو فروری میں گنا دیا تھا۔ آج تک پیسے نہیں ملے۔قریبی عزیز کا 25 لاکھ پھنسا ہوا ہے۔ ڈپٹی کمشنر تک جا کر فریاد کی لیکن تاحال پیسے نہیں ملے۔ بار بار معلوم کرنے پر بتایا جاتا ہے کہ جب ہوں گے دے دیں گے۔ ہاں البتہ کمیشن وغیرہ دینے والوں کو مل رہے ہیں۔
بھائ مجھ سے پوچھ لیا کریں۔ تین سال سے یہ مل غریب کسانوں کے 60 کروڑ سے زائد پیسے ادا نہیں کر رہی۔ اس سال بھی کچھ دن مل چلائ اور کسانوں کو ان کی ادائیگی نہیں کی۔ قانون کے مطابق کین کمشنر اور ایڈیشنل کین کمشنر نے ایکشن لیکر کسانوں کو ان کے بقایا جات کی ادائیگی کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہزاروں غریب کسانوں کے بقایا جات قانونی طریقے سے دلوائے جائیں گے۔ آپ بتا دیں کسان کا پیسہ اسے ملنا چاہئے یا نہیں @MohUmair87 ??
آزاد کشمیر کا وزیراعظم کوئی عوامی سیاستدان ہونا چاھئے تاکہ حالیہ بحران کی شدت میں کمی آئے، ایسٹیبلشمنٹ بلاوجہ انوارالحق اور فیصل راٹھور وغیرہ کا بوجھ اٹھاتی آئی ہے، نتیجتاً عوام انکی نااہلی کی وجہ انکو قرار دیتی تھی۔
منتخب وزیراعظم مسائل بھی حل کرےگااوراپنابوجھ بھی خود اٹھائے گا۔
درد دل اور شائستگی تب آئی جب پورا ملک جلانے کی کوشش کر چکے، ہر شہید پر لاکھوں کتے چھوڑ چکے اور سیاسی اختلاف رکھنے والے ہر شخص کے پائنچے میں فِٹ کرنے کے لیے ہر گھر میں 1-2 باولے کتے پیدا کر چکے؟
اس خنزیر پر 1 پل کےلیے بھی اعتبار نہیں کرنا چاہیے، اندر ہی رکھیں اور یہ کتے مرنے دیں۔
اس کے بعد راحیل بھائی کیا آپشنز ھیں؟
پیپلزپارٹی ؟پی ٹی آئی؟مذھبی جتھے؟
تنقید آپ کی سب جائز ھے اور سب ھی کررھے ھیں کیونکہ کچھ اقدامات سے واقعی نقصان پہنچا ھے اور وہ مہنگائی کے علاوہ ھیں ،ان کے آگے پیچھے جو ھیں وہ بھی نکمے ھیں ،لیکن ان سے بہتر کیا آپشن ھے؟
کوٹ لکھپت جیل لاہور میں قید محمد زبیر نے لاہور ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی ہے جس میں فوری طبی معائنے اور علاج کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے مطابق وہ ٹی بی اور سانس کی بیماری کی علامات میں مبتلا ہے جس سے دیگر قیدیوں کی صحت کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ درخواست میں 18 اگست 2026 کے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا حوالہ دیا گیا ہے جس کے تحت عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
اب بنیادی سوال یہ اٹھتا ہے کہ:
کیا پاکستان کے آئین (آرٹیکل 4، 9، 14، 25) کے تحت تمام شہریوں اور قیدیوں کے ��یے قانون یکساں ہے؟
کیا عدالتی نظائر (Precedents) کا فائدہ عام قیدیوں کو بھی ملے گا یا سہولیات صرف مخصوص شخصیات کے لیے ہیں؟
لکی مروت میں کانسٹیبل خالد خان کی سربراہی میں قائم نام نہاد امن کمیٹی کے حقیقی کردار کو خیبر پختونخوا کے سینئر صحافی عبداللہ خان نے بے نقاب کیا ہے۔ ڈسپلن فورسز کے کچھ عناصر اس حد تک بے لگام ہوچکے ہیں کہ انہوں نے گزشتہ روز سکیورٹی اداروں کے خلاف کھلم کھلا نعرے بازی کی، جو نہ صرف خطے کے امن اور شہدا کی عظیم قربانیوں کی نفی ہے بلکہ ایک سنگین سوال بھی کھڑا کرتی ہے کہ آخر کوئی نظم و ضبط کی پابند فورس کسطرح بغاوت پر اتر سکتی ہے؟
پولیس ایک منظم اور ڈسپلن فورس ہے جہاں کانسٹیبل سے لے کر آئی جی تک ایک باقاعدہ سلسلۂ کمان (Chain of Command) ہوتا ہے۔ کسی کانسٹیبل کا ڈسپلن اور آئین و قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے خود ساختہ کمیٹی بنانا، پولیس افسران و انتظامیہ کے سامنے غیر جواب دہ ہونا اور مغوی اہلکار کی بازیابی کے وقت سکیورٹی جوانوں سے بدتمیزی اور ہوائی فائرنگ کرنا قانون کو ہاتھ میں لینے کے مترادف ہے، جس پر آئی جی پی اور حکومت کو سخت ترین قانونی نوٹس لینا چاہیے۔ دلچسپ بات یہ ہے نام نہاد کمیٹی کے صدر حیدر خان نے پاک فوج کی جانب سے تعمیر کی جانے والی سڑک کو عوام کے خلاف سازش اور قلعہ بندی کا پیش خیمہ قرار دیا۔ کسی بھی ترقیاتی منصوبے پر ذاتی زمین، معاوضے یا معیار کے حوالے سے سوال اٹھانا ہر شہری کا آئینی حق ہے، لیکن محض فوج کے استعمال کی وجہ سے سڑک کو عوام دشمن کہنا بالکل غیر منطقی اور گمراہ کن بیانیہ ہے۔
سکیورٹی فورسز کی محفوظ آمد و رفت کے لیے بننے والی سڑکیں مقامی آبادی، بیماروں، طالب علموں اور کسانوں کے بھی کام آتی ہیں۔ سابق فاٹا میں ایف ڈبلیو او (FWO) کے زیر اہتمام 1,205 کلومیٹر طویل شاہراہوں، سکولوں اور ہسپتالوں کی تعمیر اس بات کا ثبوت ہے کہ متاثرہ علاقوں کی بحالی ہمیشہ ریاست کی ترجیح رہی ہے۔
پاک فوج کوئی سیاسی جماعت نہیں جو جلسے جلوسوں میں نعرے بازی ک�� جواب دے؛ اس کا اصل کام دہشت گردی کا قلع قمع کرنا ہے۔ اصل تشویش اس سوچ سے ہے جو ہر سکیورٹی و ترقیاتی اقدام کو شک کی نظر سے دیکھ کر عوام اور ریاست کے درمیان بدگمانی پیدا کرتی ہے۔
گزشتہ ��ال پنجاب کے سرکاری اسپتالوں میں 10 کروڑ سے زائد مریضوں کا علاج کیا گیا ہے ان میں دوسرے صوبوں سے آئے لوگوں کا علاج بھی شامل ہے یہ ڈیٹا بھی سامنے آنا چائیے
ہر صوبہ فنڈ لیتا ہے تو اپنے اپنے صوبے میں حالت بہتر کیوں نہیں کرتے ؟ اُن کی نااہلی کا بوجھ پنجاب کیوں اُٹھائے ؟
ایمل ولی جیسے کوڑ مغز پنجاب کی تقسیم پر بھونکنے کے بجائے اپنے صوبے میں سہولیات کا مطالبہ کیوں نہیں کرتے ؟
بھائی چارہ اپنی جگہ پر ہے لیکن اس چارے چورے کے چکر میں پنجاب کے مکینوں کی حق تلفی بند ہونی چائیے پنجاب نے ٹھیکہ نہیں اُٹھا رکھا ہے ان کے علاج بھی کرو اور پھر گالیاں بھی کھاؤ
چھبیس نومبر کو جس نے رکھ کے پھینٹا لگایا اُسے توہین عدالت کی درخواست میں ہی شامل نہیں کیا
جس محسن نقوی کا نام آتے ہی سانپ کی طرح تڑپ جاتے تھے آج اُسے بہنوئی بنا لیا
جو پہلے ہر چیز کا زمہ دار ہوتا تھا اب وہ زمہ دار نہیں ہے
یہ پڑا ہے آنٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ 😂😂
ڈاکٹر خرم یوسفزئی صاحب، قوم پرستوں کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ وہ دوسروں پر انگلی اٹھاتے وقت کبھی آئینے میں اپنی شکل نہیں دیکھتے۔ اگر برطانوی دور کے تعلقات ہی ایجنٹ ہونے کا معیار ہیں، تو ذرا یہ بھی بتائیے کہ کیا خان بہادر غلام حیدر خان نے ڈاکٹر خان صاحب (عبدالجبار خان) کی طرح انگریز فوج میں بطور کپتان باقاعدہ نوکری کی تھی؟ کیا انہوں نے برطانوی تاج کے لیے پہلی جنگِ عظیم میں عسکری خدمات سرانجام دی تھیں؟ جب باچا خان کے والد محترم بہرام خان کے برطانوی انتظامیہ اور مقامی حکام سے استوار اور خدمت گزارانہ تعلقات ہوں تو وہ محترم زمیندار، لیکن اگر غلام حیدر خان تعلق رکھیں تو وہ ایجنٹ ؟ یہ کھلا دوہرا معیار اور منافقت ہے۔ کیا آپ کو باچا خان کے فرزندان کے رشتوں کا پتہ ہے؟
آپ ملا ملٹری الائنس کے نعرے لگانے سے پہلے ان حقیقی اسباب اور وجوہات کا ذکر کیوں نہیں کرتے جہاں سے ہمارے خطے میں تشدد اور فتنہ انگیزی کا بیج بویا گیا؟ جب قوم پرستوں نے روسی کمیونسٹوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کیا اور پاکستان کو توڑنے کے لیے پختون زلمی عسکری تنظیم قائم کی، تو اسی دن سے سرحد )موجودہ خیبر پختونخوا )اور بلوچستان میں بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کی شروعات ہوئی۔ اس پرتشدد لہر کا پہلا شکار خان بہادر غلام حیدر خان کا جوان بیٹا گورنر سرحد حیات محمد خان شیرپاؤ شہید بنا، اور اسی فتنے کے ہاتھوں خان عبدالصمد خان اچکزئی شہید ہوئے۔ 70ء کی دہائی میں ہمارےعلاقوں میں جو دھماکے شروع ہوئے، ان کے تار کابل اور روسی کمیونسٹوں سے جڑے ہوئے تھے۔ تاریخ پر جب بھی سوال پوچھا جائے، تو آپ جیسے لوگ اصل وجوہات کو چھپا کر تاریخی مغالطوں اور الزامات کے پیچھے فرار کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب، تنقید سے پہلے وجوہات اور تاریخی پس منظر بھی لکھا کریں تاکہ حقیقت کھل کر سامنے آ سکے۔
@RShahzaddk شوکت خانم ہسپتال اور لیبارٹری جو الگ کاروبار ہے ہسپتال سے، وہ بھی اسی طرح ٹیکس بچاتا ہے۔ ریاست اور ہر حکومت ساتھ ملی ہوئی ہے عمران خان فاشسٹ کے۔ کوئی اس کی زکات اور ٹیکس چوری پر ہاتھ ڈالنے کو تیار نہیں۔
پاکستان میں الیٹ کیسے لوٹتے ہیں یہ اس کی ایک مثال ہے کروڑوں روپے فیس لینے والی بیکن ہاؤس یونیورسٹی کو چیرٹی یعنی خیراتی ادارے کے طور پر رجسٹر کرنے کا بل پنجاب اسمبلی کی کمیٹی میں ڈسکس ہو رہا ہے اب خیراتی ادارہ بنے گا تو اربوں کے ٹیکس معاف اور بیرون ملک سے امداد بھی لے سکیں گے اور جب ایسے ادارے ٹیکس نہی دیتے تو مہنگا پیٹرول بجلی گیس عوام کو بیچنے پڑتے ہیں بیکن ہاؤس سمیت تمام اکیٹ ادارے اسلام آباد میں اسی چیرٹی کے نام پر پوش سیکٹر میں بڑے پلاٹ بھی لے چکے ہیں