پاکستان کا فخر
طارق ملک
دنیا کا 25واں بڑا دماغ
4 مئی کو نیو یارک کے ٹائمز اسکوائر کی اسکرین پر اس کا نام اور پاکستانی پرچم جگ مگ،جگ مگ کرتا چمکے گا۔
کچھ نام تاریخ میں لکھے جاتے ہیں۔ کچھ نام ٹائمز اسکوائر پر چمکتے ہیں۔
4 مئی 2026 کو نیویارک کے ٹائمز اسکوائر کی بڑی اسکرین پر ایک نام جگمگائے گا — طارق ملک۔ پاکستان کا پرچم بلند ہوگا۔
ورلڈ بینک نے دنیا کے 25 ٹاپ ڈیجیٹل دماغوں میں اس پاکستانی کا نام شامل کیاہے۔
یہ کہانی صرف فخر کی نہیں، شرم کی بھی ہے۔
یہ وہی طارق ملک ہے جسے پاکستان کی حکومت نے دو بار دھکے مار کر نکالا۔
2013 — چیئرمین نادرا بنا
کام کیا؟ 3.5 کروڑ بوگس ووٹر پکڑ لیے۔ جعلی شناختی کارڈ، مردوں کے ووٹ، ایک ہی گھر میں 200 ووٹر۔ پورا گند صاف کر دیا۔
لیکن اس کا نتیجہ کیا نکلا ؟
اس وقت کے "شریف" حکمرانوں نے فوراً کرسی سے ہٹا دیا۔ کیوں؟ کیونکہ وہ بوگس ووٹ ان کی "جعلی جیت" کا اصل راز تھے۔
اس نے الیکشن کا نظام صاف اور شفاف کرنا چاہا لیکن اسے ہی بڑی “ صفائی “ سے نکال دیاگیا۔
طارق ملک بڑے عالم۔ بڑے فاضل۔ بڑے ادیب۔ بڑے اسکالر۔ بڑے معلم باپ۔انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آبا د کے سابق ریکٹر پروفیسر فتح محمد ملک کا بیٹا تھا۔ گھر سے اچھی تربیت ملی تھی۔ شریف انسان تھا۔
طارق ملک خاموشی سے اقوامِ متحدہ واپس چلا گیا۔جہاں اس کی جاب تھی۔دنیا نے اسے گلے لگایا۔
پاکستان میں 5 سال بعد حکومت بدلی۔ عمران خان آیا اسے قابل انسان کی قدر تھی — طارق ملک کو واپس بلایا گیا
پھر سے نادرا کا چیئرمین بنایا۔ اس نے پھر سسٹم ٹھیک کرنا شروع کیا۔
چند سال ہی ہوئے تھے کہ حکومت کو جبرا” ہٹا دیا گیا۔ حکومت پرانے چہروں کے حوالے کردی گئی۔ طارق ملک اسی نادرہ کا سربراہ تھا۔اس سے پھر خطرہ محسوس ہوا۔
اب سوال یہ تھا کہ اس ایماندار کو کیسے برداشت کریں جو پھر انتخابی نظام کو شفاف بنا سکتا ہے۔گلے سڑے پرانے نظام کی صفائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جعلی ووٹوں کو انتخابی فہرستوں سے نکال سکتا ہےہمارے لئے پھر رکاوٹیں کھڑی کر دے تو ہم کیسے کامیاب ہوں گے؟ اب نکالنے کا نیا بہانہ تلاش کیا گیا۔
بہانہ بنا: ڈیٹا لیک ہو گیا۔ سرکاری راز افشا ہوگیا۔
الزام لگا کر فارغ کرنے کی تیاری ہوئی۔ طارق ملک کو اس نئی سازش کا علم ہوا۔ اس نے خود استعفیٰ دیا کہ جہاں عزت نہ ہو، وہاں کام نہیں ہو سکتا۔ اور پھر سے اقوامِ متحدہ، پھر ورلڈ بینک چلا گیا۔
ایک طارق ملک ہی اس طرح ملک سے بیرون ملک نہیں گیا۔ذہیں لوگوں کی بڑی تعداد ملک چھوڑ کر جا چکی ہے۔یہی برین ڈرین ہے جو کب سے جاری ہے۔ ان سے دنیا فائدے اٹھارہی ہے لیکن پاکستان نہیں۔
نااہل حکمران قابل لوگوں سے اس لئے ڈرتے ہیں؟
کیونکہ قابل لوگ سوال کرتے ہیں۔ جی حضوری نہیں کرتے۔ "یس سر" نہیں کہتے۔
کیونکہ قابل لوگوں کی ان کی صلاحیت اور اہلیت کے مطابق قدر نہیں کی جاتی۔
کیونکہ قابل لوگ سسٹم ٹھیک کرنے کوشش کرتے ہیں۔ اور نا اہل حکمرانوں کی سیاست گلے سڑے پرانے نظام میں ہی چلتی ہے۔ بوگس ووٹ، جعلی پرچی، دھاندلی۔ فارم 45 کے بجائے فارم 47 سے وہ اپنی جعلی جیت کا اعلان کرتے ہیں۔
کیونکہ قابل لوگوں کے سامنے وہ خو کو بونا سمجھتے ہیں۔
بے چارے کم پڑھے لکھے اور پرچی والے — طارق ملک جیسے MIT لیول دماغ کے سامنے ٹک نہیں سکتے۔تو اسے نکال باہر کرنے کو بہترین آپشن سمجھتے ہیں۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا؟
کہ جو دماغ نادرا کو دنیا کا نمبر 1 ڈیجیٹل ادارہ بنا سکتا تھا، وہ آج ورلڈ بینک کے 195 ملکوں کے لیے پالیسیاں بنا رہا ہے۔
جو شخص پاکستان میں 3.5 کروڑ جعلی ووٹ ختم کر کے الیکشن کا انتخابی نظام صاف اور شفاف بنا سکتا تھا، وہ آج اقوامِ متحدہ کے لیے ڈیجیٹل شناخت ڈیزائن کر رہا ہے۔
پاکستان کے حکمرانو۔
جس طارق ملک کو ، تم نے ملک سے نکالا، اسے عالمی بنک نے گلے لگایا اور اسے دنیا کے چوٹی کے 25 ماہرین میں شامل کر دیا۔
4 مئی کو جب ٹائمز اسکوائر پر "Tariq Malik - Pakistan" لکھا آئے گا، تو دو جذبات ایک ساتھ آئیں گے:
ہر پاکستانی فخر سے کہے گا۔ یہ ہمارا بیٹا ہے۔
لیکن شرم کی بات ہے کہ کہ ہم نے اسے اپنا مانا نہیں۔اس کی ذہانت سے۔ اس کی قابلیت سے فائدہ نہیں اٹھایا۔
اسے نکال باہر کرنے والو۔
طارق ملک پاکستان کا وہ روشن ستارہ ہے
جس کا نام اور پاکستان کا پرچم ٹائمز اسکوائر پر چمکے گا۔
پاکستانیوں کو اب فیصلہ کرنا ہو گا کہ
کوئی اور طارق ملک، ملک چھوڑ کر باہر نہ جائے
اس کو ملک سے نکالنے والو۔اب بس کر دو۔
بہت ہوگیا۔
بہت مال بنا لیا۔
باہر بھیج دیا۔
محفوظ کرلیا۔
اب تو بس کر دو۔
ان اربوں ڈالرز کا آخر کیا کرو گے؟
کیا ان کو قبر میں ساتھ لے جا سکو گے۔؟
ملک کو اور کتنا کنگال کرو گے ؟
کتنا اور مقروض کرو گے ؟
اب تو قابل لوگوں کو کام کرنے دو"
طارق ملک، ہمیں تم پر فخر ہے۔
منقول
PPSC decided to shift the examination centres of 1,216 candidates from Rawalpindi Division to Lahore as part of security measures taken for expected second round of US-Iran talks.
However, late night development, JD Vance postponed his visit to Pakistan. https://t.co/X5canLcElA
My latest for the Washington Post on Imran Khan. The legendary cricketer and politician Pakistan can jail, censor but never erase. @PostOpinions
https://t.co/F5YMqo9I5Y