now that former Ikhwan figurez are increasingly being presented as the face of everything. I wonder how many ppl remember the story of a girl who was reportedly raped, dismembered, and then hung from a tree cuz her brother was a rebel.
Stop writing Urdu in the Roman script, please! It’s EXTREMELY important to preserve our language or we’ll end facing the same cultural and ideological quagmires as the Turks!
@rimmel_f@chaiiiguevara Bab Geelani sab always pointed out the hypocrisy of umar farooq. Full marks for the audacity of umar farooq who has included Mirwaiz Molvi Yousuf Shah RA in the dp @mirwaizmanzil despite the fact his stance, most of the times is contrary to Yusuf Shah.
As Masarrat sb, who's now in Tihar, said about you in 2007, when you advocated for normalization and trade at the cost of the freedom struggle:
"ایسے لوگوں کوہم نے کبھی حریت پسند تصور نہیں کیا. یہ بھارت اور پاکستان کے نادان حکمرانوں کی پشت پناہی پر ایسا ڈھونگ رچا رہے ہیں."
Some retired diplomats should perhaps retire from their outdated thinking as well. Both during service and after retirement, they remain wedded to myopic views and fail to smell the coffee in the room. Amb Katju, who attended the dialogue in Colombo, believes Pakistan's coveted prize is dialogue with India. What a bizarre assessment.
https://t.co/o4X9w1guG1
No to the betrayal of the cause, the martyrs, and the prisoners. No to any normalization measures. No to the Srinagar-Muzaffarabad bus service, which Geelani sb so strongly opposed on account of these aman-ki-asha measures being a distraction from the occupation.
Wonder if they read history or not, salatura, is the ancient name of Lahor, a small town in district swabi. The word "India" is derived from the Indus River, whereas the Ganga-Yamuna Plains, and the Brahmaputra plains forms the heart of modern day bharat!
It must be embarrassing to live in a perpetual state of delusional.
Panini पाणिनि was Vedic Hindu Father of Linguistics scholar born in the village of Śālātura in Ancient India/Bharat.
His own writings mark his place of origin. They are a lot smarter than the bunch skewing his perception and reputation online.
Ensconced in Swabi, Lahor (Salatura) straddles the roiling Indus-Kabul. This unassuming hamlet was no mere crossroads; it midwifed history’s ultimate linguistic colossus. Here, in Gandhara’s crucible, Rishi Panini first drew breath, circa the 5th century BCE.
کشمیر کاز یا مفادات کی سیاست؟
1846 میں ایک گھناؤنے اور انسانی تاریخ میں اپنی نوعیت کے ایک معاہدے جسے بیعہ نامہ امرتسر کہتے ہیں کی وساطت سے ڈوگرہ ریاست کے بانی مہاراجہ گلاب سنگھ ایک ایسی ریاست کو اکٹھا کرکے جموں و کشمیر لداخ ریاست ہائے تبت بنا ڈالی جو بعد میں ریاست جموں و کشمیر کے نام سے منسوب ہوئی۔ اس ریاست میں نہ صرف مختلف قومیں بلکہ مختلف مذاہب کے لوگ رہ رہے ہیں۔ انیسویں صدی میں ہی نسلی اور نصبی کشمیریوں نے اس زبردستی کی "شادی" کے خلاف عدم بغاوت شروع کی۔ برصغیر کے سیاسی حالات نے اسے ایک متنازعہ حیثیت دی اور جموں و کشمیر کو ایک قوم بنا دیا۔ اور ان قوموں نے پہلی بار ایک مشترکہ جدوجہد شروع کی۔ مگر اس قوم کی جدوجہد اس وقت کمزور پڑ گئی جب اجتماعی مقصد پر ذاتی مفادات غالب آ گئے۔ بدقسمتی سے آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک ایسا طبقہ برسوں سے موجود ہے جس نے کشمیر کے نام پر سیاست کو خدمت کے بجائے کاروبار بنا دیا ہے۔ اس طبقے کے لیے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہونے والی ہر نئی سانحہ خبر، ہر ظلم اور ہر انسانی المیہ سیاسی سرمایہ بن جاتا ہے، مگر عملی طور پر کشمیری عوام کی زندگی میں تبدیلی دکھائی نہیں دیتی۔
ایک طرف بیرون ملک پاکستان کے پاسپورٹ پر سفر کیا جاتا ہے اور پھر انہی ممالک میں پاکستان کے خلاف سیاسی پناہ لے کر معاشی فوائد حاصل کیے جاتے ہیں، جبکہ دوسری طرف پاکستان کے سامنے خود کو "نظریاتی سرحدوں کا محافظ" قرار دینے والے اربوں روپے کے فنڈز اور مراعات حاصل کرنے کیلئے "نظریات" کے چورن کو دن رات بیچنے میں لگے ہوئے ہیں سوال یہ ہے کہ اگر یہ دعوے اتنے ہی مخلص ہیں تو پھر دہائیوں بعد بھی آزاد جموں و کشمیر بنیادی ترقی، شفاف حکمرانی اور مضبوط اداروں سے کیوں محروم ہے؟
اس تمام کھیل کا سب سے بڑا نقصان عام عوام کو اٹھانا پڑتا ہے۔ نوجوان روزگار کی تلاش میں دربدر ہیں، تارکین جموں و کشمیر شناخت کے تنازعات میں الجھے ہوئے ہیں اور عام آدمی بنیادی سہولیات کے لیے ترس رہا ہے، جبکہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ قومی جذبات کو اپنی سیاسی بقا کے لیے استعمال کرتے رہتے ہیں۔
گلگت بلتستان کے عوام بھی برسوں سے یہ شکایت کرتے آئے ہیں کہ ان کے آئینی حقوق کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ اگر یہ تاثر درست ہے تو پھر یہ سو��ل ضرور پیدا ہوتا ہے کہ کشمیر کے نام پر سیاست کرنے والے خود انصاف اور برابری کے اصولوں پر کس حد تک قائم رہے ہیں۔
آج ایک نئی بحث "مہاجرین" مقیم پاکستان کے ووٹ اور آزاد جموں و کشمیر کی سیاسی شناخت کے گرد بھی کھڑی کی جا رہی ہے۔ اگر مقصد واقعی ایک الگ قومی تشخص کا قیام ہے تو اس پر بحث آئینی اور جمہوری انداز میں ہونی چاہیے، نہ کہ کروڑوں لوگوں کے حقوق کو متنازع بنا کر یا ایک دوسرے کے خلاف نفرت پیدا کرکے۔
کشمیر کا مقدمہ اس وقت مضبوط ہوگا جب اس کی قیادت احتساب، دیانت اور اصولوں کی بنیاد پر کھڑی ہوگی، نہ کہ ایسے بیانیوں پر جو ہر بحران کو سیاسی فائدے میں تبدیل کرنے کی کوشش کریں۔ قوموں کی نمائندگی نعروں سے نہیں بلکہ کردار، شفافیت اور عوامی خدمت سے ہوتی ہے۔