رانا ثناءاللہ کہتے ہیں اسمبلی میں ملک کے لئے قانون سازی کرنا اور ووٹ ڈالنا برابر کی ذمہ داری ہے۔ گاڑی چلانے کی عمر 18 ہے تو گاڑی میں بیٹھنے کی بھی 18 کر دیں ۔ خوف نوجوانوں سے ہے کہ وہ ان کا بیانیہ ماننے کو نہیں تیار۔ الیکشن جیتنا چاہتے ہیں تو اب ان کے لئے صرف فارم 47 کا راستہ ہے
اٹھارہ سال کے لڑکے اور لڑکی کی شادی ہوسکتی ہے اللہ اپنا فضل رکھے تو پچیس سال کی عمر تک وہ پانچ سات بچوں کے والدین بن سکتے ہیں ۔سولہ سترہ سال کا لڑکا فوج میں لفٹین بھرتی ہوسکتا ہے ، اٹھارہ انیس سال کا لڑکا پولیس میں اے ایس آئی ، سب انسپکٹر بھرتی ہوسکتا ہے ، بائیس تئیس سال کا لڑکا مقابلے کے امتحان میں بیٹھ سکتا ہے ۔ لیکن اس ملک میں ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے انہیں پچیس برس کا ہونے کا انتظار کرنا ہے۔
کیوں؟
کیونکہ ملک پر ان نااہلوں کا قبضہ ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ ملکی معیشت فوجی پریڈ ہے جو بڑے باگھے والے حوالدار کی ببکار پر اٹینشن ہوجائے گی یا عدم استحکام اور لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال دوسرے ببکار پر ہالٹ ہوجائے گی۔ یہ نااہل چار سال کے فوجی قبضے کی لگاتار ناکامیوں کے بعد سٹھیا گئے ہیں۔
یعنی بندہ پوچھے اے ناخدائی مخلوق ، اے ہوائی مخلوق ، اے وبائی مخلوق جب مینڈیٹ ہی چھین لینا ہے تو ووٹر کی عمر پچیس سال ہو یا پچاس کیا فرق پڑتا ہے؟ اورووٹر کی عمر کی حد بڑھانے سے آپ کو فرق کیا پڑنے والا ہے؟ جن بیس اکیس بائیس سال کے ووٹرز نے آپ کو 2024 میں شکست دی اگلے عام انتخابات 2029 میں وہ ایک بار پھر ووٹ دینے کے اہل ہوں گے۔ آپ روک کن لوگوں کو رہے ہیں؟
آپ ان کو روک رہے ہیں جن کے مستقبل کو آپ نے مکمل برباد کردیا ہے۔ ایک صوبہ علیحدگی پسندوں کے قبضے میں کے دوسرے میں شدت پسند ہیں۔ تیسری ریاست کشمیر ہے جو اب آپ سے بھی آزادی چاہتی ہے۔ معیشت جام کردی ہے۔ اس ملک کا دوسرا بڑا ایمپلائر امارات آپ نے ناراض کردیا ہے اور پاکستانی نوجوان وہاں سے نکالے جارہے ہیں۔
اگلے پانچ سال میں دو کروڑ نوکریوں کا شارٹ فال ہوگا۔ تین کروڑ گھروں کا شارٹ فال ہوگا۔ چالیس لاکھ بچے سکول سے باہر ہوں گے۔ تجارت آپ نے بند کررکھی ہے۔ آپ نے صحت کارڈ جیسی سہولت چھین لی ہے ، آپ نے سرکاری سکول ٹھیکے پر چڑھا دیے ہیں ، آپ نے آپ کی نااہلی نے اور آپ کی ناکامی نے اس ملک کو جکڑ لیا ہے۔
جن سے آپ نے سب کچھ چھین لیا ہے انکو دینے کے لیے آپ کے پاس پاک فوج میں بھرتی کا سنہری موقع والا اشتہار بچا ہے۔ اس میں بھی اب کشش نہیں بچی۔ مدتوں بعد آپ سکولوں کالجوں میں جا جا کر بھرتی اسٹال لگا رہے ہیں مساجد میں اعلان کررہے ہیں۔ آپ بلاتے ہیں کوئی آتا نہیں۔ ایک دن یہ محروم آئیں گے ، بن بلائے آئیں گے۔
پٹوار خانے کا نیا پکوان !!
۱۸ سال والا شادی کر سکتا ہے، کاروبار کر سکتا ہے نوکری کر سکتا ہے بچے پیدا کر سکتا ہے بینک سے لون اپلائی کر سکتا ہے، کوئی نئی ایجاد کر کے Patent رجسٹر کروا سکتا ہے، بس ووٹ نہیں ڈال سکتا!!
بھائیوں ووٹ تو ۳۰ سال والے نے بھی آپکو نہیں دینی !
ایسے کریں الیکشن صرف فوج میں کروا لیا کریں کہ پانچ سال کس سیاستدان کو ملازم رکھنا ہے؟؟
میں عموماً موٹیویشنل ٹائپ باتوں کا قائل نہیں کہ ان میں حقائق سے زیادہ فریب پر مبنی میٹھی باتیں کی جاتی ہیں؛ جیسے حق جیت جاتا ہے، سکون صرف ایماندار کے پاس ہے، برے لوگ کارم�� کا شکار ہوتے ہیں وغیرہ۔ لیکن اگر آپ اشرافیہ نہیں تو 1 منٹ نکال کر یہ ضرور سنیے گا، زندگی کا بہت اہم سبق ہے:
So @LindseyGrahamSC did tell @KarimKhanQC that the ICC is "is for Africa and thugs like Putin, it is not for democracies like Israel and the United States."
Watch the ICC chief prosecutor's full and exclusive interview with me:
https://t.co/LCNrnaw2wS
تحریک انصاف کو سالگرہ مبارک
تحریک انصاف کا لیڈر روایت کے برعکس نا جاگیردار تھا نا سرمایہ دار اور نا ہی کسی گدی یا مذہبی ٹولے کے سہارے سیاست میں اترا تھا۔ تحریک انصاف پاکستا�� کی وہ واحد سیاسی جماعت ہے جس کو طویل جدوجہد کے بعد مرکز میں اقتدار ملا۔ پیپلزپارٹی ، ن لیگ ، و لیگ پیدائش کے ابتدائی سالوں میں ہی فوجی شفقت کے باعث اقتدار میں تھیں یا انکی پیدائش ہی فوج کی جھولی میں تھی۔
تحریک انصاف نے ملک میں ٹوپارٹی سسٹم توڑا۔ تحریک انصاف نے ابھی تک پانچ وزرائے اعلی دیے ہیں۔ کوئی ایک بھی پارٹی لیڈر کا رشتہ دار نہیں تھا۔ اس وقت پارلیمان میں سب سے زیادہ مڈل کلاس تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے ہے۔ سٹوڈنٹ لیڈرز سب سے زیادہ تحریک انصاف کے پلیٹ فارمز سے ہیں۔ دھڑے اور برادری کی سیاست کو تحریک انصاف نے جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے۔
تحریک انصاف کے لیڈر نے وہ نہیں کیا جو نواز شریف ، زرداری ، بینظیر کرتے رہے یعنی ملک سے فرار ۔ آفت گرنے کے بعد ن لیگ کی بیس اور پیپلزپارٹی کی سترہ سیٹیں رہ جایا کرتی تھیں۔ تحریک انصاف نے بغیر نشان ، بغیر کیمپین ، بغیر کسی جلسے کے اس حالت میں ایک سو اسی سیٹیں جیت لیں کہ فوج خلاف تھی ، عدلیہ خلاف تھی ، انتظامیہ خلاف تھی، میڈیا خلاف تھا آدھی پارٹی تتر بتر تھی، آدھی زبردستی گھر بٹھائی جا چکی تھی، یعنی تحریک انصاف نے اس ملک کی سیاسی تاریخ بدل دی۔
تحریک انصاف مل�� گیر جماعت ہے۔ یہ ہر فرقے ، ہر زبان ، ہر شناخت کی جماعت ہے۔ اس پر کسی علاقے کی کسی قوم کی جماعت ہونے کی چھاپ نہیں۔ تحریک انصاف ملک کی واحد سیاسی جماعت ہے جس کا صرف نام چلتا ہے۔ اس کے نام پر کوئی بھی امیدوار کسی بھی شخص کو ہرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس وقت جماعت مشکل میں ہے ، کیونکہ اس پر بدترین فسطائیت توڑی گئی۔ لیڈر جیل میں ہے تو ��ماعت یتیم سی بنی ہوئی ہے۔ حرکتیں بھی ویسی ہی۔ ہماری مایوسی اسکے رہنماوں سے ہوسکتی۔ اسکا نام استعمال کرنے والوں سے ہوسکتی ہے ۔ لیکن تحریک انصاف ہماری چھت ہے۔ تحریک انصاف ہمارا گھر ہے۔ ہم تحریک انصاف ہیں اور تحریک انصاف ہماری ہے۔ تحریک انصاف عمران خان کا پلیٹھی کا پتر ہے۔ اگر اسکی ناکامیاں ہماری ناکامیاں ہیں تو اسکی کامیابیاں اور وہ کامیابیاں جو اس ملک کی سیاسی تاریخ میں کسی جماعت کو میسر نہیں آئیں وہ ہماری کامیابیاں ہیں۔
پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں انکے اپنے لاگو نظام کے تحت 25 سے 30 روپے لیٹر کمی بنتی تھی مگر انہیں نہ پاکستان کی عوام کی مشکلات کا احساسِ ہے اور نہ ہی انہیں معلوم ہے کہ اس ملک میں کتنے لوگ غربت کا شکار ہیں اور کس طرح وہ زندگی گزار رہے ہیں ہاں یہ ان کو احساس ضرور ہے شریف خاندان کے کس کس بندے کو اقتدار میں شامل کرنا کیوں ضروری ہے۔
Even wars have rules.
The Geneva Conventions protect civilians in conflict and help ensure assistance reaches those in need, without discrimination.
https://t.co/Jh9e5nxBVl
2/2
امارات میکہ ، امارات سسرال ، امارات بچپن ، امارات لے اوور ، امارات ڈیزرٹ سفاری ، امارات نوکری کی تلاش ، امارات ایک ایک کمرے میں سونے والے نو نو لوگ اور پھر انہی میں سے نکلنے والےکروڑ پتی ۔ امارات جی ٹی روڈ بیلٹ کا یورپ نہیں ہے۔ یہ کشمیریوں اور پوٹھوہاریوں کا انگلینڈ نہیں ہے۔ یہاں ہر کیٹگری اور ملک کے ہر کونے کے لوگ ہیں۔ ہمارے ملک کے پندرہ لاکھ لوگ امارات میں مقیم ہیں۔ سالانہ چھ سے سات ارب ڈالرز ترسیلات کی مد میں پاکستان آتی ہیں۔ پندرہ لاکھ خ��ندان براہ راست اور ایک کروڑ لوگ بلواسطہ امارات سے آنے والی آمدن سے جڑے ہوئے ہیں۔ شیوخ کا رویہ اب مدتوں سے پاکستان کی طرف آقاؤں والا ہے۔ لیکن کبھی یہ نوبت نہیں آئی کہ یہ پندرہ لاکھ لوگ اپنے مستقبل سے خوفزدہ ہوئے ہوں۔
اس خوف کی وجہ بہت سادہ سی ہے۔ ایک غاصب اور ایک قابض کو بس کسی بھی قیمت پر اقتدار سے چمٹے رہنا ہے۔ اس کے لیے حد سے گری ہوئی خوشامد اور حد سے بڑھے ہوئے جھوٹے وعدے ، ایک پینترا ادھر اور دوسرا ادھر ، صبح کچھ اور شام کچھ، دنیا میں معاملات ایسے نہیں چلتے۔ ڈنڈا پکڑ کر ایک مردہ معاشرہ میں ہنیر تو مچایا جاسکتا ہے پاکستان میں ضمیر فروشوں کی مدد سے جھوٹی کامیابیوں کے دعوے تو گھڑے جاسکتے ہیں دنیا کو قائل نہیں کیا جاسکتا۔ معلوم نہیں اس اوسط درجے کی سوچ نے کونسے وعدے کیے اب تقاضے کیا ہیں اور نوبت یہاں تک کیوں پہنچی لیکن اس شخص کے ہر پنگے کی طرح یہ بھی بالآخر پاکستان کے غریب عوام کو الٹا پڑنے والا ہے۔
یہاں کچھ لوگ اپنا نو چار کا منہ اٹھا کر آسکتے ہیں کہ جب ہم ترسیلات کی یہی مجبوریاں بتاتے ہیں تو تم کیوں نہیں مانتے۔ نہیں حضور ہمیں فلپائن اور بنگلہ دیش جیسی ترسیلات چاہییں اور ویسے ہی تعلقات۔ ہم نا پراکسی بنیں نا ہی بنائیں نا جھوٹے وعدے کریں نا ہی لمبے چوڑے لارے لگائیں ، نا جنگوں میں حصے دار بنیں نا ہی لڑائیوں میں۔ ہم اپنے کام سے کام اور مطلب سے مطلب رکھیں۔ ہمارے مفادات چوبیس کروڑ پاکستانیوں کے مفادات ہوں ایک گھس بیٹھیے آمر کے نہیں۔ ایسی ہی صورتحال سعودی عرب سے رہے اور ایسی ہی امریکہ سے۔ انڈیا اور افغانستان سے بھی انہی بنیادوں پر۔
میں لاکھوں کروڑوں لوگوں کو مزید خوفزدہ یا مایوس نہیں کرنا چاہتا۔ میں انہیں نہیں بتانا چاہتا کہ یہ شخص اس حد کو عبور بھی کرجائے تو اسی کوئی پرواہ نہیں۔ اگر آپ کی نوکریاں، آپ کے کاروبار ، آپ کے خواب ریزہ ریزہ ہوجائیں تو اسے کوئی فکر نہیں۔ اس سے پہلے یہ ایسی کتنی ہی کرچیوں کے پہاڑ پر کھڑا ہے۔ امید صرف اتنی ہے کہ ایک دن اسکی پھیلائی ہوئی بربادی پورے ملک کو روندت�� ہوئی اس کے گریبان تک آپہنچے گی۔
جو جو پاکستانی اس ساری مہنگائی کا اصل زمہ دار شہباز شریف مریم نواز یا بلاول کو سمجھتا ہے۔ اسے علاج کی ضرورت ہے۔
یہ بیچارے تو اداکار ہیں۔ اصل زمہ دار جنرل صاحبان ہیں۔
اس گروہ سیاست کاراں کا کہنا تھا کہ اسے معیشت کاُبہت پتا ہے۔ اسی بل بوتے پر آسمان سے اس نے حکومت مانگی تھی جو عطا کر دی گئی۔ اب نہ معیشت ہے نہ حکومت بس ایک ہڑبونگ ہے۔ یہ لوگ حضرت قائد اعظم کے عہد میں ہوتے تو انہیں کان پکڑوا دیے جاتے۔ اس عہد میں انہیں مدبری کا دعوی ہے۔
My sons Sulaiman & @kasim_khan_1999 applied for visas in January (again… ) to allow them to visit their father @ImranKhanPTI in Pakistan. The Pakistan consulate states that online visa processing normally takes 7–10 working days. It has now been 60 days. This despite the public promise that they could safely travel there to see their father after 4 years, made by both Defence Minister @khawajaMAsif to @mehdirhasan & PM spokesperson @mosharrafzaidi to @SkyYaldaHakim
Meanwhile, they are not allowed to speak to him on the phone, nor send him a letter. They haven’t seen him since 2022 after he was shot in an assassination attempt.
This is an appeal directly to Pakisan’s PM @CMShehbaz to please allow Imran Khan’s two sons to see their father asap, particularly since, by all accounts, his health is in decline.
As my X account has been “throttled” acc to @grok - after a deal was done between @elonmusk & the Pakistani government to lift their x ban, this is a request to UK based Pakistanis an any of those who are able to read this tweet (unlike those in Pakistan) to please RT and help get this message out.