Free Imran Khan! Imran Khan has been left to languish in a Pakistani prison cell for over three years. Today in the House of Commons I presented a petition calling for his release, as well as the release of all political prisoners in Pakistan.
ستھرا پنجاب کے غریب ورکرز رو رہے ہیں کہ ان کو تنخواہ نہیں ملتی ۔ لیکن اخبارات میں کروڑوں کے اشتہارات دے دیے جاتے ہیں۔
عوام کا پیسہ میڈیا مافیا کو کھلایا جارہا
کوئی پوچھنے والا نہیں
We will join The Abraham Accords only if you establish a Palestinian state in an irreversible manner.
Saudi Arabia gives a clear answer in reference to Trumps’ Abraham Accord statement.
Bravo @KSAMOFA. Bravo. This is the answer we were all expecting.
Now I expect a clear answer like this from Pakistan @ForeignOfficePk.
Waiting……
شیطان العرب، شیخ العرب اور معصوم کپتان
عمیر فاروق @Umairfrooq کی پرمغز تحریر
جب یہاں مشہور کیا گیاکہ رجیم چینج کے پیچھے سعودیہ کی مرضی تھی تو بندہ نے اس امکان کا سختی سے انکار کیا جس پہ جذباتی انصافی بہت ناراض بھی ہوئے حالانکہ بڑی ہوشیاری سے پھیلائی گئی فیک نیوز اس کی تائید کر رہی تھیں۔
اسی طرح جب عمران نے کہا کہ ایم بی ایس نے اسے وارننگ دے دی تھی کہ اس وقت کا آرمی چیف اس کے خلاف سازشیں کررہا ہے تو بندہ نے عمران کی بات پہ اعتبار کیا۔
لٹھ بردار “ وڈی آپی” نے تو بندہ پہ باقاعدہ لٹھ ہی کھینچ لی کہ ایم بی ایس کو رامی کیوں نہیں کہتے ؟ حالانکہ بندہ کے نزدیک عرب دنیا کا رامی شیطان ہمیشہ سے ہی اماراتی ایم بی زیڈ تھا۔
اسکی وجہ صاف ظاہر تھی۔ بندہ ایم بی ایس کی سیاست کو ابتدا سے ہی بہت غور سے دیکھ رہا تھا۔ ایم بی ایس میں دو خوبیاں ہیں جو عمران میں نہیں تھیں ، عالمی سیاست کی حرکیات کی گہری سمجھ اور دھوکہ باز کو جوابی دھوکہ دینے کی صلاحیت جس سے سیدھا سادا دو ٹوک عمران فارغ تھا ورنہ وہ آج جیل میں نہ ہوتا۔
عالمی سیاست اور خصوصاً مشرق وسطیٰ کی سیاست کے سانپ اور سیڑھی کے کھیل کو وہ بہت اچھی طرح سمجھ رہا تھا۔ شاہ فیصل کی شہادت کے بعد سے سعودی حکمران خاندان ہمیشہ سے ہی امریکہ سے خوفزدہ رہا سبھی سعودی بادشاہ خوفزدہ رہے کہ امریکہ جب چاہے سعودیہ کو اندر سے ڈی سیٹبلائز کر سکتا ہے کسی سعودی شہزادے کے ہی ذریعے۔ اسی لئے عرب سپرنگ کا آغاز ہوتے ہی شاہ عبدالہ بیرونی دورہ چھوڑ کر فوری واپس لوٹا اور سعودی عوام کے لئے غیر معمولی مراعات کے پیکیج کا اعلان کیا کیونکہ انکو اپنا ڈر پڑ گیا تھا۔
ایم بی ایس نے بہت کامیابی سے سعودی خاندان کے اس خوف کا خاتمہ کیا۔ اس کی اینٹی کرپشن ڈرائیو جس میں بہت سے اعلیٰ سعودی شہزادے نظربند ہو کر اپنی دولت سرکاری خزانے میں جمع کرانے پہ مجبور ہوئے وہ ایک طرف تو ایم بی ایس کے اپنے ذاتی اقتدار کو مستحکم کرنے کی ڈرائیو تھی تو دوسری طرف مغرب کے گھوڑے یعنی پرنس ولید بن طلال کی کہانی ختم کردی گئی۔
ہمارے لوگ اصل کہانی کو سمجھے ہی نہیں، ولید بن طلال، ابن سعود کا پوتا تھا وہی ابن سعود جو ملک عبدالعزیز کے بعد اگلا سعودی بادشاہ بنا لیکن اسکے رجحانات دیکھتے ہوئے اسکے بھائیوں نے اس سے تخت چھین کر شاہ فیصل کے حوالے کردیا، تب سعودیہ میں دولت کی ریل پیل نہ تھی۔ ابن سعود جلاوطنی کے بعد قاہرہ اور بیروت میں زندگی گزارتا رہا اسکا پوتا ولید بن طلال وہیں پلا بڑھا کچھ خاص پیسہ بھی نہ تھا لیکن یکایک ارب پتی تاجر بن گیا جس کے پیچھے بہت سی کہانیاں مشہور تھیں خصوصاً صیہونی لابی اور بینکرز کی عنایات کی۔ وہ شاید شاہ عبداللہ کے دور میں واپس سعودیہ آیا حالانکہ پہلے انکے سعودیہ واپسی پہ پابندی رہی تھی۔
تب سے مغربی میڈیا مسلسل ولید بن طلال کو نئے ماڈرن سعودیہ کا چہرہ بنا کر پیش کر رہا تھا۔ لیکن اصل کھیل کچھ اور تھی اور وہ یہ کہ شاہ سلمان کی وفات کے ساتھ ہی ملک عبدالعزیز کی اس وصیت کا بھی خاتمہ ہوجانا تھا کہ اس کے بعد بادشاہت اس کے بڑے بیٹوں میں یکے بعد دیگرے منتقل ہوتی رہے گی سو کنگ سلمان کی جانشینی کے بعد اگلے بادشاہ کے انتخاب کا سوال پیدا ہوتا تو ولید بن طلال ملک عبدالعزیز کے بڑے بیٹے کے بڑے بیٹے ہونے کی وجہ فطری طور پہ مضبوط ترین امیدوار ثابت ہوتا اور یہی وہ وجہ تھی کہ صیہونی لابی اور مغرب نے ولید بن طلال پہ اربوں کی سرمایہ کاری کی تھی تاکہ وہ سعودیہ کا ایم بی زیڈ ثابت ہو۔ اور وہ ایم بی زیڈ سے بھی زیادہ ایڈوانس تھا۔ ایم بی زیڈ نے تو شاہی محل سے مفرور ہونے والی بیٹی کو بحیرہ عرب میں انڈین نیوی کی مدد سے پکڑ لیا تھا اور اپنی بیٹیوں کو پابند رکھتا ہے پرنس ولید نے انہیں مکمل مغربی آزادی دی ہوئی تھی اور ان کے لائف سٹائل کے مغربی جریدے بھی گواہ ہیں۔
ایم بی ایس نے اپنی اینٹی کرپشن ڈرائیو کے بہانے ولید بن طلال کی جڑ کاٹ دی۔ اور یہی وجہ ہے کہ عدنان خشوگی( جس نے مغرب کے تعاون سے ناجائز اسلحہ دہشت گرد تنظیموں کو بیچ کر اربوں ڈالر کمائے ) کا بیٹا جمال خشوگی جو صحافت کرنے لگا تھا، ایم بی ایس کا تلخ ناقد بن گیا۔ جس پہ ایم بی ایس نے اسے اپنے انتقام کا نشانہ بنایا۔
یہاں دلچسپ سوال یہ ہے کہ جو بہیمانہ سلوک جمال خشوگی کے ساتھ ہوا اتنا ہی تو ارشد شریف کے ساتھ بھی ہوا۔ تب کیوں عالمی ضمیر نہ جاگا ؟ تب کیوں عالمی جرائد اور مغربی سفارت خانوں نے ویسے ہی پیغامات نہ دیے ؟ تب کیوں کسی امریکی صدر نے یہ نہ کہا کہ جنرل باجوہ اور شریف خاندان ارشد شریف کا قاتل ہے اور ہم انکو حکومت سے فارغ کرنے انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے ؟
پھر یہ سب جمال خشوگی کے ضمن میں کیوں ہوا؟
(جاری ہے۔۔۔۔۔حصہ دوم نیچے 👇)
(حصہ دوم 👇)
جنرل باجوہ ، جنرل ماچھی اور شریف خاندان جیسی کمزور کٹھ پتلیوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی کوشش تو مغرب نہیں کرتا لیکن سعودی ولی عہد پہ اپنے اصول یاد آگیے ؟ کیا راز تھا اس کے پیچھے ؟
وجہ وہی تھی ولید بن طلال جیسی کٹھ پتلی سے محروم ہونے کی۔ تب امریکی اسٹیبلشمنٹ ایم بی ایس کے اتنی خلاف تھی کہ شاہ سلمان کو مجبور کیا گیا کہ ایم بی ایس کو ولی عہدی سے فارغ کردیا جائے تاکہ امریکہ اس پہ مقدمہ چلا سکے۔ لیکن ہوا نہیں۔ یہ وہی دور تھا جب ایم بی ایس نے عمران کو اسکے خلاف فوجی جرنیلوں کی سازش سے آگاہ کیا۔ اور عمران نے نظرانداز کیا۔
ایم بی ایس کے لیے یہ وہ سخت ترین دور تھا جب امریکی اسٹیبلشمنٹ اور صیہونی لابی اس سے سخت نالاں تھی اگرچہ کھل کے بول نہیں سکتی تھی کیونکہ وہ اسی دوران روس اور چین سے بھی برابر کے دوستانہ تعلقات بنا چکا تھا اور چینی یوآن میڻ سعودی تیل بیچنے کے ایم او یو پہ دستخط کرچکا تھا۔ سو اسی دور میڻ ایم بی ایس نے دو افراد کو استعمال کیا ، ایک ٹرمپ اور دوسرا ایم بی زیڈ ، ایم بی زیڈ صیہونی لابی کا اندر کا بندہ اور قابل اعتماد تھا سو اس کی مدد سے انکو مطمئن کیا تو دوسری طرف بائیڈن اور امریکی اسٹیبلشمنٹ کے کاؤنٹر ویٹ کے طور پہ ٹرمپ کو۔
لیکن اندر سے وہ اپنی پالیسی پہ قائم رہا۔ ح ماس کے آپریشن طوفان الاقصی کے بعد اس نے ابراہام اکارڈ پہ اپنا موقف تبدیل کرلیا اور دو ریاستی حل پہ عمل کے بغیر ابراہام اکارڈ کی منظوری دینے سے انکار کردیا۔ اور اگلے سال ہی شرط لگا دی کہ جب تک صیہونی ریاست پہ نتن یاہو یا کوئی بھی دائیں بازو کی حکومت حکمران ہے وہ سرے سے کسی مذاکرات میڻ شامل ہی نہ ہوگا۔
اسی دوران ماچھی کی اندرونی کمزوریاں دیکھتے ہوئے اس نے ماچھی سے اپنے حق میں ایسے معایدہ دفاع پہ دستخط کرا لیے جس میڻ پاکستان تو سعودیہ کی کسی بھی جنگ میں شرکت کا پابند ہوگا لیکن سعودیہ اس کے بدلے کچھ بھی نہ دے گا۔ یہ درست ہے کہ اس یکطرفہ معاہدہ پہ دستخط کرنے کے لیے ماچھی کی اپنی کمزوریاں اور مجبوریاں تھیں لیکن آپ شہزادہ محمد کی سیاسی ذہانت کو داد نہ دیں تو بھی یہ زیادتی ہے۔
اس نے تین سال قبل یہ کہہ دیا تھا کہ اب ہم امریکہ کے مجبور نہیں بلکہ امریکہ ہمارا مجبور ہے جب امریکہ کو ہم سے کوئی کام پڑے گا تو ہمیں اس کے بدلے کچھ دینے پہ مجبور ہوگا۔ اور اس نے کر کے دکھایا روس یوکرائن وار میں جب امریکہ نے اسے تیل کی پیدوار بڑھانے کا کہا تو اس نے امریکہ کی بجائے روس کی مانی کیونکہ امریکہ بدلے میں کچھ دینے کو تیار نہ تھا۔ جو بائیڈن سعودیہ کا دورہ کرنا چاہتا تھا لیکن وہ انکار کرتا رہا اور امریکہ کی ناک رگڑوا کر جو بائیڈن کو دورہ کی اجازت دی۔
اب کھیل اگلے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ صیہونی ایران کے خلاف جنگ ہار چکے ہیں، امریکہ کی مزید سکت نہیں رہی کہ ہرمز مسلسل بند رہے وہ نکلنا چاہ رہا ہے لیکن صیہونی پریشان ہیں۔ انہیں واحد حل یہ نظر آرہا ہے کہ پاکستان اور سعودیہ اسرائیل کو تسلیم کرلیں۔ سینیٹر لنڈسے گراہم اس ضمن میں دھمکی دے چکا ہے( ظاہر ہے کہ ٹرمپ کی ایما شامل ہے ) تو شہزادہ محمد نے سینیٹر لنڈسے گراہم جیسی اہمیت کے حامل سعودی سے اتنا ہی سخت جواب دیا ہے جو بتایا ہے کہ
سعودیہ کسی بھی صورت کسی بھی ایسے حل پہ رضامند نہ ہوگا جس میں دو ریاستی حل کے طور پہ فلسطینیوں کی آزاد ریاست ہو جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو
اور کمال کی بات کہی ہے کہ
بغیر انصاف کے امن ایک جبر ہوتا ہے جسکی سعودیہ حمایت نہیں کرے گا۔
Hats off to King elect شہزادہ محمد بن سلمان
ہم ایٹمی ہتھیاروں کے پیچھے نہيں ہیں۔ ہم اس چیز کی گارنٹی دینے کے لئے تیار ہیں۔
ہم مشرق وسطٰی میں عدم استحکام نہیں چاہتے۔
اسرائیل اس خطے میں "گریٹر اسرائیل" کے منصوبے کے تحت عدم استحکام چاہتا ہے۔
اسرائیل چاہتا ہے اس ریجن میں جنگ، عدم استحکام اور اختلافات برقرار رہیں۔ اس کے لئے مختلف سازشیں کر رہا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشیکان
شہید ارشد شریف دو سال پہلے ہی اپنا کام بخوبی کرگیاتھا۔ آج جو کچھ پاکستان میں ہو رہا ہے شہید ارشدشریف نے دوسال پہلے اِسکی عکاسی کردی تھی۔
بند آکھاں قانون دی ایتھے۔۔
چور لُٹرے پان دھمال۔
غریب بیچارے بوُکھے مَر گئے۔۔
لُچے سارے مال و مال۔
#ShaheedArshadShareef#BehindCloseDoors
🙋♂️تجدید عہد شہید ارشدشریف کے ساتھ۔
🙌 میں پاکستان کا شہری پاکستان کا مالک ہوں
🙌 میں عہد کرتا ہوں کہ میں ہر اس شخص یا ادارہ خواہ اندرونی یا بیرونی جو اس ملک کے خلاف کام کرے گا یا اس کے قانون کو توڑے گا،اس کے خلاف۔۔۔
🙌 اپنی پوری قوت استعمال کرونگا- ---کیونکہ میں پاکستان کا شہری اس کا مالک اس کی بقا کا حتمی ضامن ہوں
#ShaheedArshadSharif
#FreeImranKhan
🔔 🛑 انصاف دا کال۔۔
🙋♂️شہید ارشدشریف،پاکستان کے کرپٹ نظام پر ایک Netflix ڈاکومینٹری فلم پر کام کررہے تھے جسکا نام Behind Close doors تھا۔
فلم کا صرف Title song ہی پورے نظامِ پاکستان کی حققیت پر اتنا بھاری پڑگیا کہ ارشدشریف کو شہید کردیاگیا۔پاکستان کی 77 سالہ تاریخ بدترین اور گواہ ہے جو کوئی بھی عام پاکستانی اشرافیہ سے قبضہ چھڑوانے کےلیے اُٹھ کھڑا ہوا یا کوئی اپنے حق کےلیے بولا تو اُسکو نا حق قتل کردیاگیا۔
#InsafDaKaal
شہید ارشدشریف کی ویڈیو دوسال پہلے ہی پاکستان میں بیمار نظام انصاف اور اشرافیہ کی حقیقت بیان کر چُکے ہیں۔
جیڑی آکھ نے نظر سی رکھنی ۔
اُوسی آکھ اِچ سی سور دا بال ۔
شہد شراب وچ فرق نئی کوئی۔۔
کُتی رَل گئی چوراں نال۔
#ArshadSharifShaheed#BehindCloseDoors#انصاف_دا_کال
#ڈگی_والا کسطرح چھپ کر جاتا تھا،یہ جنوری میں بتایا تھا
اب اعجاز الحق کو دباؤ ڈال کر بیان واپس لینے کا کہا گیا-خفیہ ملاقاتوں کے بعد یہ خود بتاتے تھے کہ ملاقات میں کیا طے پایا-#NRO2 انہی وجہ سے ہوا-
#ڈگی_والا_وزیراعظم 👇🏽👇🏽
شہید ارشدشریف کو بھول تو نہی گئے۔؟
شہید ارشدشریف ایک سال پہلے ہم سب کو آگاہ کر چکا تھا کہ اس ہاتھ کو ملکر روکنا ہوگا۔
ہم اس ہاتھ کو نہی روک سکے اور انجام ہم سب کے سامنے ہے ہماری ماوں، بہنوں، بیویوں اور بہنوں کی عزتوں تک یہ ہاتھ پہنچ چکا ہے۔
#ووٹ_سے_لیں_گے_انتقام
جس قوم میں خالد بن ولید اور صلاح الدین ایوبی پیدا ہوتے تھے اس،قوم کو تماشا دکھا کر تماشائی بنادیا،جس کو نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سنہ پہ عمل کرنا تھا اس کو تعلیم کی جگہ فلم انڈسٹری کوپروموٹ کرنے پہ لگادیا، سیرت النبی نصاب سے ختم کردی گئی اور مسلمان قوم کو تماشائی بنا دیا
ستھرے پنجاب کی پولیس اور ٹریفک کی کسی گاڑیوں کو نمبر پلیٹ نہی لگی ہوئی، ستھرا پنجاب صرف دیکھنے میں ستھرا ہے اندر سے اتنا بدبودار ہے کہ قوم کا خون تک نچوڑ لیا گیا۔۔۔
https://t.co/avrZJMxMee