جو صاحب تمام اہم اداروں کی ڈوریاں تھامے بیٹھے ہیں، اگر ان میں ذرا سی بھی اخلاقی جرات اور غیرت باقی ہے تو پہلے اپنے تمام عہدوں سے مستعفی ہوں، قوم کے سامنے اپنی نااہلی کا اعتراف کرتے ہوئے معافی مانگیں اور پھر میرٹ یا اصلاحات کا وعظ دیں۔ خود نظام کی خامیوں کا فائدہ اٹھا کر کرسیوں سے چپکے رہنا اور ساتھ ہی سسٹم کی ناکامی کا ڈھونگ رچانا—اب قوم کو مزید بیوقوف بنانے کی یہ کوششیں بند ہونی چاہئیں
کیا یہ لڑائ اصلی ہے یہ جعلی۔ کافی دنوں سے اشارے آ رہے ہیں کہ یہ دکان چلتی نظر نہی آ رہی۔ لانے ولوں کو نظر آ رہا ہے کہ یہ نالائق لوگ ہیں اوراب محسن نقوی نے یہ بات کھلے عام کر دی۔ کہ شہباز شریف کی آنیاں جانیاں منیر نیازی والی ہیں کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ۔ انہوں نے سیدھے الفاظ میں کہا ہے کہ شہباز شریف جس ڈگر پر ہیں اس سے ملک نہی چل پا رہا۔ان کی اک سے دوسری شاخ تک چھلانگیں چھوڑ دیں۔ یہ فیل ہو چکے۔ یہ بڑا سنجیدہ مسلہ ہے۔ میں ان سے سو فیصد متفق ہو سکتا ہوں۔ مگر اس کے بعد کیا ہو گا یا کیا ہونا چاہیے۔ شہباز شریف کو ان کو طلب کر کے کیبینٹ سے نکال دینا چاہیے یا استعفی دینا چاہیے۔ با عزت جمہوریت میان ایسا ہی ہوتا ہے۔ یہ کیا مزاق ہے کہ اک وزیر اپنے باس یعنی وزیر اعظم کو نالائق کہے اور یہ بھی کہ دے کہ ان کے ہوتے ہوے مسلئے حل نہی ہو سکتے۔ اور پھر بھی رہ پائے۔ کچھ نہ کچھ تو ہونا چاہیے۔ شہباز شریف مانا کے ربڑ کا بنا ہے اور ہر قسم کی بے عزتی سے عاری ہے۔ کانوں میں سیسا ڈال رکھا ہے جہاں تک بے عزتی پہنچ نہی پاتی۔ صرف تعریف نکل پاتی ہے۔ مگر یہ ٹو مچ نہی ہے کیا؟؟؟ اتنی بے عزتی۔ کیا فائدہ اتنی دولت کا۔ اس طرح تو گھر کے ملازم کی بے عزتی نہی کی جاتی جواب دو شہباز شریف۔ برطانیہ میں تو اس کے دو پر سنٹ بے عزتی پر لوگ استعفع دے کر گھر چلے جاتے ہیں۔ کب تک برداشت کرو گے۔ کب جاگے گی کشمیری غیرت۔ لاہوری غصہ۔ کب وہ مائک ٹوٹیں گیں اور جالب کی نظمیں دہرائ جائیں گیں۔ جاگو شہباز شریف۔ جواب دو یا حساب دو
محسن نقوی نے کہا ہے کہ یہ سسٹم برباد ( collapse ) ہوچکا ہے
قومُ یہ فقرہ پہلی دفعہ نہیں سن رہی ۔ جنرل ایوب نے اکتوبر 1958, جنرلُ یحییٰ نے مارچ 1968جنرل ضیاء نے جولائی 1977 اور جنرل مشرف نے اکتوبر 1999 میں قوم سے یہی کہا کہ یہ سسٹم برباد collapse ہوچکا اورپھر ہر ایک نے اس ملک کی عمارت کو گرانے میں اپنا حصہ ڈالا اور آج اسکی چھت گر چکی ہے اور یہ قوم ننگے آسمان تلے پڑی ہے
یہ بات کوئی اور کرے تو اس کو اغواہ کر لیا جاتا ہے، ان کی ماں بہنوں سے بدتمیزی کی جاتی ہے اور ان کے گھر میں توڑ پھوڑ کی جاتی ہے!
ڈی جی صاحب، یہ نہیں پوچھ رہے کہ ویگو ڈالا یہاں کیوں نہیں پہنچا، بس یہ کہنا تھا کہ اپنے ریڈار کی سیٹنگ PTI only سے ہٹا کر universal کر لیں۔
پہلا اعتراف ۔۔ دونوں جماعتوں نے تسلیم کر لیا مینڈیٹ جعلی ہے
دوسرا اعتراف۔۔ نظام کے نمبر 2 مرکزی کردار نے تسلیم کر لیا کہ ہم سے نظام نہیں چل سکا۔ تباہ ہو گیا۔
After 4 & a half years in power & experimenting Mohsin Naqvi has admitted this system has collapsed.
Big statement from someone so powerful.
We always knew it will collapse. The solution - time to dissolve the assemblies, release all political prisioners and work towards free, fair & transparent elections
کشمیر میں ہونے والی قتل و غارت پر چپ رہنا پاکستان سے دشمنی کے مترادف ہے۔ پی ٹی آئی لیڈرشپ کو 5 اگست کا انتظار کئیے بغیر فوری پر امن احتجاج کی کال دینی چاہیئے۔
آج کشمیری بھائیوں کے زخموں پر مرحم رکھنے کا وقت ہے۔ اگر دیر کردی تو وہ منہ موڑ لیں گے۔ عمل کرنے کا یہی وقت ہے۔ مزید دیر کی گنجائش نہیں۔
جرنیلوں کو خوش کرنے کے چکر میں ملک کو مزید نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا۔
پی ٹی آئی فوری طور پر پر امن احتجاج کی کال دے۔ عوام نکلے یا نہ نکلے یہ عوام کی مرضی۔ آپ اپنا فرض پورا کریں۔
عمران خان جیل سے باہر ہوتے تو ہرگز اس وقت تک چپ نہ رہتے۔
اگر آج پاکستانی عوام حقوق کے لیئے کھڑی نہ ہوئی تو پھر بہت دیر ہو جائے گی۔
The dilemma of this military regime in Pakistan is that it wants to have elections, but it also wants to rig them.
This dichotomy is deeply problematic because a rigged election is far more dangerous to national stability than having no election at all.
Elections are the single most important trust- and consensus-producing events in a country. Every time they are rigged, manipulated, or stolen, they contribute to the erosion, and eventual collapse, of both public trust and societal consensus, which ultimately leads to state collapse.
By definition, therefore, the only real anti-state elements are those within the state who rob the public of their mandate and, in doing so, undo the country itself.
نو ، دس مہینے کی خاموشی اور مصلحت کے بعد سہیل آفریدی چاہتا ہے کہ اسے دس مہینے پہلے والی پذیرائی ملے ۔نہیں ملے گی ۔ عمران خان کے یہ دس مہینے قید تنہائی اور سخت اذیت میں گزرے۔ سہیل آفریدی اڈیالہ تک نہ پہنچ سکا۔ شہر شہر ریلیوں کا سلسلہ ختم کردیا۔ نا ڈرون حملوں پر احتجاج کیا نا فوجی آپریشن پر۔ کبھی پی ایس ایل کے نام پر فوجی افسران کے ساتھ بیٹھا نظر آیا کبھی امیج بلڈنگ کے لیے کٹھ پتلی حکمرانوں کیساتھ۔ سہیل آفریدی اب پنکچر ہوچکا ہے۔
Congratulations! Both ruling parties now agree the mandate is fake.
One still gets the Presidency, the other the Prime Minister’s Office. What a remarkable democracy. Welcome to Pakistan.
They've put their heads so deep in the sands of the Middle East that they can't see the public anger reaching the tipping point back home.
They will only end up feeling it.
ہمیں امن عمران خان کے دور والا چاہیے
ہمیں گندم کا ریٹ اور ادائیگی عمران خان کے دور والی چاہیے
ہمیں صحت کی سہولیات عمران خان کے دور والی چاہییں
ہمیں گروتھ ریٹ عمران خان کے دور والا چاہیے
ہمیں ایکسپورٹس عمران خان کے دور والی چاہییں
ہمیں نیت اور اہلیت عمران خان کے دور والی چاہیے
ہمیں عمران خان چاہیے !