ترکیہ نے آئندہ سال کے لئے تعلیمی اسکالر شپس کی درخواستیں وصول کرنا شروع کردی ہیں۔
دیانت کی اسکالر شپ کے لئے آٹھویں جماعت کے بچےاپلائی کرسکتے ہیں
اس کے علاوہ اسلامیات میں بیچلرز اور ماسٹرز کرنے کے خواہشمند طلباء اس سے مستفید ہوسکتے ہیں ۔
جب کے برسلاری میں ہر شعبہ کے طلباء و طالبات درخواست جمع کروا سکتے ہیں۔
⭕ شدید سردی اور برفباری کے باوجود ناروے میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف ہزاروں افراد کا مارچ غزہ کی حمایت میں نعرے لگائے اور غزہ پر فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا
🔴 غزہ میں خونریز جنگ کو 100 روز مکمل
🔻اسرائیلی سفاکیت جاری، مزید 125 فلسطینی شہید
🔻شہداء کی مجموعی تعداد 23 ہزار 968 ہوگئی
🔻100 روز میں 500 سے زائد اسرائیلی فوجی ہلاک
"ہم خوفزدہ نہیں ، ہمارا خون ہماری زندگی اقصٰی پر قربان"
امریکہ و برطانیہ کے یمن پر فضائی حملے کے بعد لاکھوں شہری دارالحکومت صنعا میں غزہ سے یک جہتی پر قائم رہنے کا عزم کر رہے ہیں
جیسے آج آپ کے احساسات ہیں ۹ اپریل کی رات ہمارے بھی تھے۔ ہم نہیں جانتے تھے قوم کیا سوچ رہی ہے ہم نے جو سُنا تھا پچھلے اودوار کے بارے میں ہمیں ویسے ہی ردعمل کی توقع تھی۔ جو منظر آپ ٹی وی ��ر دیکھ کر ٹوٹے تھے ہم اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہے تھے۔ ہمارے سامنے وہ اٹھا تھا اور خالی ہاتھ وزیر اعظم ہاؤس سے نکل گیا تھا۔ ہم دل شکستہ خود سے نظریں نا ملا پارہے تھے۔ پھر کیا ہوا؟ کیا ۹ اپریل کو عمران خان ہارا تھا یا ۹ اپریل کو عمران خان کی اب تلک کی سب سے بڑی فتح ہوئ تھی؟
آپ نے لکھی تھی عمران خان کی جیت کی عبارت۔ وہ یونہی آپ کے حوالے اپنی جنگ نہیں کرکے گیا۔ وہ ہمیشہ سے جانتا تھا کہ جس دن اللہ نے آپ کے دل اس کی جانب موڑے دنیا کی کوئ طاقت اس کو شکست نہیں دے سکے گی۔ اس کی جنگ کبھی بھی اقتدار کے لیے نہیں تھی۔ اس کی جنگ اقتدار کی ہوتی تو وہ پانچ مہینے سے ایک تنگ و تاریک کال کوٹھری میں اپنے تقوی کی ڈھال تلے نہ بیٹھا ہوتا۔ اس کی جنگ محظ طاقت کے حصول کی ہوتی تو وہ گولیاں کھا کر مسکراتے ہوئے آپ کا حوصلہ نہ بحال کرتا۔ اس کی جنگ وزیر اعظم کی کرسی کے لیے ہوتی تو اُس کرسی کو دوام دینے والے سارے مہرے اس کی آنکھوں کے سامنے ۹ اپریل کو سجنے والی بساط پر پڑے تھے اور ایک عرصے تک پڑے رہے ت��ے۔۔ اس کی جنگ کا مقصد ہمیشہ سے آپ کو ایک عظیم قوم بنانا تھا۔ وہ جس دن دنیا کے سامنے کھڑے ہو کر لا الہ الا للہ کہہ رہا تھا اسی منبر پر کھڑے کھڑے اس کے پیروں سے سانپ لپٹنے لگے تھے۔ پھر بھی اس کی للکار سست نہیں پڑی۔ وہ جب مغرب کی جمہور پسندی کے نقاب نوچ رہا تھا، تو اُن کے خون آشام دانتوں کو اس نے اپنی شہہ رگ پر تب ہی محسوس کرلیا تھا مگر اس نے آپ کا سر نیچا نہیں ہونے دیا۔ وہ جب اپنے نبی پاک (ص) کی حُرمت کے لیے آواز اٹھا رہا تھا تو بھی جانتا تھا کہ وہ آتشِ نمرود میں کود رہا ہے لیکن وہ مانتا تھا کہ اولادِ ابراہیم (ع) کو بس یہی شیوہ دیتا ہے۔ اور تاریخ کا سبق بھی یہی ہے کہ وقت کے یزید کتنے ہی طاقتور ہوں حسین (رض) کی للکار ان کی تلواروں سے زیادہ زور آور رہتی ہے۔ اُس کی جیت تو اُسی دن ہوگئ تھی جس دن آپ نے کوفی بننے سے انکار کردیا تھا۔ اب اپنی جیت کو امر آپ نے اُس للکار سے کرنا ہے جس کا درس حسین (رض) اپنے خون سے لکھ گئے ہیں۔ جو پیادے آج آپ کے سامنے ناخدا بنے بیٹھے ہیں ان میں کسی کا قد نہیں اُس کو شکست دینے کا۔ اُس کا مقابلہ خدائ کے دعویداروں سے ہے اور اِس مقابلے میں اُس کا ہتھیار آپ ہیں؛ خلقِ خدا۔ جہاں ابھی تک آپ کے قدم نہیں ڈگمگائے ویسے ہی اب آپ کی آواز نہیں کمزور پڑنی چاہئے۔ گلی، مُحلے، چوک، چوراہے میں آپ کی للکار گونجنی چاہئے۔ ہر دیوار، ہر مکان، ہر چوبارے پہ آپ کی پُکار نشر ہونی چاہئے۔ یہ ہم پر اُس آدمی کا قرض ہے جس نے تخت و تاج ٹھکرائے ہمارا سودا نہیں کیا۔ جس نے خنجر سہے، تیر کھائے ہم پر آنچ نہیں آنے دی۔ جس نے خود کو تاراج کردیا ہماری نسلوں کی آبادی کی خاطر۔ جو کشمیر سے لے کر فلسطین اور افغانستان تک کے مظلوموں کی آواز بنا۔ جو ہر اُس مسلمان کی آواز بنا کہ جس کے لیے اُس کے امن و آشتی کے مذہب کو تہمت بنا دیا گیا تھا۔
یاد رکھیں ہم اس کی جنگ میں اللہ کے بھروسے اترے تھے۔ اپنے ایمان کے سہارے ڈٹے رہے ہیں اور اب اپنے آباء کی میراث کو اپنے سینوں میں سمو کر اسے لڑیں گے۔ ہم نہیں جھکیں گے!!!!
بڑا انکشاف 🚨
ایک قابل اعتماد ذرائع نے بتایا ہے کہ جسٹس اعجاز الاحسن صاحب نے کہا ہے کہ چیف جسٹس کیساتھ کام کرنا ممکن نہیں رہا، کیونکہ چیف جسٹس آئین کی خلاف ورزی کررہے ہیں، یہ بات کہی گئی ہے اور ہماری انفارمیشن ہے
ترجمان پاکستان تحریک انصاف
@RaoofHasan
عمران خان کا وکلا کے ذریعے اہم پیغام عوام کے نام
’’میں نے ڈیل نہیں کی، نہ ٹوٹا ہوں، نہ کہا لندن بھیج دو، مجھے کمزور کرنے کیلئے اور پراپگینڈہ کیلئے یہ بات پھیلائی جارہی ہےکہ میں ٹوٹ گیا ہوں‘‘
نواز شریف کو لانے کے لیے جو مدد اس بار ہو رہی ہے اسکی کوئی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ پاکستان میں سیاست اور جمہوری رویوں کے پنپنے کے خلاف سب بڑی سازش ہمیشہ نواز شریف اور اسکے خاندان کی خاطر ہوئی اور بار نئے ریکارڈ بن رہے ہیں مگر لکھ لیجیئے نواز شریف انقریب بہت بد مزہ ہونے والے ہیں۔
چیف جسٹس آف پاکستان صاحب صرف آپ کے پہلو میں کھڑی خاتون عورت نہیں ۔۔۔بلکہ ہر گھر میں موجود خواتین کسی کی ماں ہے۔۔ کسی کی بیٹی ہے۔۔ کسی کی بیوی ہے کسی کی بہن ہے ۔۔۔ تو اگر اپ اپنے ملک کی خواتین کی عزت محفوظ نہیں کروا سکتے تو دے چھوڑ دیں
#عورتوں_کو_عزت_دیں
مجھے بتایا گیا کہ چار خواتین صحافیوں نے ریاستی جبر کے خلاف گاہے بگاہے محتاط انداز میں آواز اٹھائی ہے۔
ثمینہ پاشا، ملحیہ ہاشمی، فریحہ ادریس، اور پارس جہانزیب نے۔
چاروں کا شکریہ!
مجھے افسوس مہر بخاری، نسیم زہرہ، ثناء بچہ، ماریہ میمن، عاصمہ چودھری، منیزہ جہانگیر، صفدر جبار، یاسمین منظور اور ثنا مرزا سے ہے۔
عاصمہ شیرازی اور غریدہ فاروقی ٹائپ سے کوئی گلہ نہيں ہے۔
"چیف جسٹس صاحب میں آپ سے مخاطب ہوں ، میرے گھر پر سی ٹی ڈی پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کا حملہ پاکستان کے محافظوں نے میری فیملی پر ظلم ڈھائے 3 گھنٹے تک پوری فیملی کو یرغمال بنائے رکھا ،میری بیوی کو ننگا کیا میرا 10 ماہ کا بچہ زارو قطار روتا رہا ظلم کی انتہا ہو گئی ہے میں پاگل ہو چکا ہوں میں مرنا چاہتا ہوں، موبائل فون چھینے کیمرے اور جو کچھ ہاتھ لگا ساتھ لے گئے "جمشید د��تی کا ویڈیو پیغام
@jamshaidAdasti #ImranKhan #qazifaezisa
Video Link : https://t.co/dhbVh4v0VU