کربلا میں حال ہیں میں دریافت ہونیوالا ایک پتھر ۔۔ جس سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ شیعہ زائرین حسین کے پیروں کا دھوون پیویں گے، اور انہیں مقدس متعوں کے لیے اپنے گھر لے جاویں گے ۔۔
گناہ ناقابل معافی ہے، دنیا میں سزا پائی، آخرت کا انتظار کرے، وہاں یہ زیادہ سزا پائے گا، کیونکہ ہدایت اس کے گھر میں اتری اور صاحب ہدایت کے کندھوں پر سواری کرتا رہا۔ اللہ ہر ذی روح کو تکبر سے بچائے۔
@AdvSahibaRana طوائف اور گاہک میں جھگڑا چل رہا تھا۔قیمت اور شرائط طے نہیں ہو پار ہی تھیں۔چکلہ کا کاروبار دھندلا گیا تھا۔بس ایک دلال دونوں کو راضی کرانے کی کوشش میں لگا ہوا تھا۔آخر دلال نے اعلان کیا کہ اسنے معاملات طے کروادئیے ہیں اور جمعہ کے دن وہ دونوں کو کمرے میں بند کروا دےگا
پاکستان میں شادی کا گھٹیا اور جاہلانہ کلچر
ہمارے معاشرے میں شروع سے ایک منظم نظام کے تحت لڑکے اور لڑکیوں کو علیحدہ رکھا جاتا ہے
کسی بھی جگہ پر کسی نوجوان لڑکے یا لڑکی کا ایک دوسرے سے بات کرنا یا ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنا گناہ تصور کیا جاتا ہے
ساری زندگی لڑکیوں کو یہی بتایا جاتا ہے کہ سب مرد تمہارے دشمن ہیں اور مرد کے دل میں عورت کے متعلق وسوسے ڈالے جاتے ہیں
اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دونوں جنس میں ایک دوسرے کی عداوت اور نفرت بڑھتی جاتی ہے
پھر وہی گھر والے جو ساری زندگی آپ کو مخالف جنس سے دور رہنے کا درس دیتے رہے زبردستی ایک اجنبی سے شادی کرواتے ہیں
اگر غلطی سے کوئی لڑکا یا لڑکی ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنے کے بعد شادی کرنا چاہیں تو گھر والے اس کو ناممکن بنا دیتے ہیں
جو شخص واقعی آپ کی اولاد سے محبت کرتا ہے اس کو مذہب فرقے نسل پیسے اور ذات کی بنیاد پر رد کر دیا جاتا ہے
پھر اپنی اولاد کو کسی ایسے انسان کے سپرد کر دیتے ہیں جس کے دل میں ان کے لیے کوئی خاص احساس یا محبت نہیں ہوتی
ایسے رشتے جو کھوکھلی بنیادوں پر قائم ہوتے ہیں ایک غصے نفرت اور ذہنی سکون سے عاری گھر اور خاندان کو جنم دیتے ہیں
ایسا معاشی نظام سیکس اور جنسی زندگی کو بھی متاثر کرتا ہے جس سے معاشرے میں ذہنی تناؤ اور جنسی درندگی بڑھتی ہے
پھر یہی لوگ آگے مزید اپنے جیسی تنگ نظر نسلوں اور گھرانوں کو جنم دیتے ہیں جس سے سارے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے
اس کا بہترین حل یہ ہے کہ ان تمام رکاوٹوں کو دور کیا جائے جو مرد اور عورت کے درمیان بات چیت اور اٹھنے بیٹھنے میں حائل ہیں
اس چھوٹی سوچ کو دور کیا جائے جو عورت یا مرد کے تعلق کو صرف اور صرف جنس کی نظروں سے دیکھتی ہے
شادی کے معاملات میں والدین کا اثر ورسوخ ختم کیا جائے تاکہ نوجوان اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کے قابل ہوں
والدین کو سکھایا جائے کہ اپنے بچے کو اپنی مرضی کی زندگی کی بجائے ان کی مرضی کی زندگی حاصل کرنے میں مدد کریں
مذہبی نظام کو اپنی ذات تک محدود رکھا جاۓ اور دوسروں کی زندگی پر اپنا مذہب تھوپنے کی عادت ختم کی جائے
ایسے ادارے قائم کیے جائیں جو عورتوں کو جنسی اور ذہنی استحصال سے محفوظ رکھنے کے لیے دن رات کام کریں
اپنے معاشرے کے مردوں کی بہتر تربیت کی جائے تاکہ وہ عورت کو ذاتی غلام سمجھنے کی بجائے اپنا شریک حیات سمجھیں
جنسی معاملات پر کھل کر بات کی جائے اور ان پر بات کرنے کو برائی سمجھنے کی جاہلانہ روش کو بھی ختم کیا جاۓ
خاندانی نظام کی بنیادوں کو اس طرح تشکیل دیا جائے کہ لوگ ایک دوسرے کی راہ میں رکاوٹ بننے کی بجائے سہارا بن جائیں
کیونکہ فرد سے ہی خاندان بنتا ہے اور خاندان سے معاشرہ بنتا ہے اور معاشرے سے قوم بنتی ہے اور قوم ہی ملک بناتی ہے
@PAKTiBB دلچسپ بات یہ ہے کہ اجتناب اور بچنے کا حکم ہے؛ممعانعیت نہیں ہے۔گویا کہ گنجائش ہے ؟اب شروع ہو جائیں ملا حضرات اپنی تعویلیں او منطق سےاجتناب کو ممعانیت کےبرابر ثابت کرنے کو۔