وکیل ہو، ٹک ٹاکر تو نہیں!
آج حزب الشیطان کے پورنوگرافک توہین کے مقدمات میں ملوث ملزمان کے وکلا اور نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسلام آباد پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کی۔ توقع تھی کہ شاید اس مرتبہ کوئی نیا قانونی نکتہ، کوئی قابل اعتبار شہادت یا کوئی ایسی ٹھوس بات سامنے آئے گی جسے عدالت میں بھی پیش کیا جا سکے۔ مگر فکری غربت کا عالم یہ تھا کہ وہی پرانی ون ٹائم شیئرنگ کی کہانی دہرائی گئی اور انہی رپورٹوں کے سہارے لینے کی کوشش کی گئی جن میں سے کوئی عدالت میں معطل پڑی ہے، اور کوئی سنی ��نائی ڈکلیئر ہوچکی ہے۔
اس پوری پریس کانفرنس میں کوئی ایسی بات سامنے نہیں آئی جو مقدمات میں موجود ڈیجیٹل فرانزک مواد، موبائل فونز سے حاصل ہونے والے شواہد، گروپوں کی سرگرمیوں، مسلسل مواد کی تیاری و ترسیل اور ملزمان کے تفصیلی اعترافی بیانات کا جواب بن سکے۔ ون ٹائم شیئرنگ کا نعرہ بھی اس وقت بے معنی ہو جاتا ہے جب کئی کئی سو صفحات پر مشتمل فرانزک اور ٹیکنیکل رپورٹس نکل آتی ہیں۔
لیکن اس پریس کانفرنس کی سب سے نمایاں بات وہ تھی جس پر ایک لفظ بھی نہیں بولا گیا۔
مقدمات میں بطور شواہد محفوظ قرآن مجید کے قریب چالیس نسخے معاذ اللہ انسانی غلاظت میں آلودہ حالت میں موجود ہیں۔ کیا ان کے فوری غسل اور شرعی تطہیر کا مطالبہ انسانی حقوق کا مسئلہ نہیں؟ کیا مذہب اور مقدسات کا احترام انسانی حقوق میں شامل نہیں؟ کیا کروڑوں پاکستانی مسلمانوں کے دلوں کو پہنچنے والی اذیت کوئی اہمیت نہیں رکھتی؟
ہمیں ان تنظیموں سے کسی خیر کی توقع نہیں، لیکن یہ سوال بہرحال اپنی جگہ موجود ہے کہ حزب الشیطان کے پورنوگرافک توہین کے مقدمات پر ہونے والی ہر پریس کانفرنس میں قرآن مجید کے ان نسخوں کا ذکر کیوں گول کر دیا جاتا ہے؟ اور ہر مرتبہ اس بنیادی سوال سے فرار کیوں اختیار کیا جاتا ہے کہ ملزمان اپنے خلاف عدالت میں جمع کرائے گئے ڈیجیٹل، فرانزک اور دیگر شواہد کو قانونی طور پر چیلنج کیوں نہیں کرتے؟
عثمان وڑائچ سمیت پریس کانفرنس میں موجود تمام وکلا سے ایک سادہ سا سوال ہے:
عدالت میں کرنے والا کام آپ سوشل میڈیا اور پریس کلب میں کیوں کرتے ہیں؟ جن شواہد کو عدالت میں چیلنج کرنا چاہیے، وہاں ان پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے، پھر اپنی اسی بری قانونی کارکردگی کو مظلومیت کی داستان بنا کر کیمروں کے سامنے پیش کر دیا جاتا ہے۔ اگر تفتیش غلط ہے تو عدالت میں ثابت کیجیے۔ اگر فرانزک شواہد ناقابل اعتبار ہیں تو ان کے خلاف قانونی اعت��اض اٹھائیے۔
مقدمے دلیل اور شہادت سے لڑے جاتے ہیں، پریس کانفرنسوں، سوشل میڈیا مہمات اور جذباتی اداکاری سے نہیں۔
آپ وکیل ہیں، ٹک ٹاکر تو نہیں!
🙂🙂🙂
اسماء امان اللہ کے لیے انصاف کی اپیل
تصاویر میں نظر آنے والے چوٹ اور نیل کے نشانات انتہائی تشویشناک ہیں ایک بیٹی کے ساتھ مبینہ ظلم کی یہ صورتحال ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے
متعلقہ حکام سے اپیل ہے کہ اسماء امان اللہ کے معاملے کی فوری اور شفاف تحقیقات کی جائے
The summary of his video is that partition was wrong, Muslims started violence and there were no sacrifices for Pakistan.
As usual, no evidence provided and the ranting is wrapped in “analysis”.
I am occupied for a few days but will provide all the historical evidence to show how this harbinger of doom is lying yet again.
جیو نیوز بنا LGBTV
گورنمنٹ پاکستان سے التماس ان کھسرے مظلوم لوگوں کی حمایت کے لیے پاکستانی تمام اشیا خردونوش پر آبادکاری ٹیکس لگایا جائے
اور امید کرتے ہیں ان کی اباد کاری جاتی عمرہ کے علاقے میں کی جائے گئی
تمام فالورز میری آواز میں اپنی آواز ملائیں
آخر کار جیو نیوز LGBT کو کھل عام پروموٹ کرنے لگے!!
جیو نیوز پاکست��ن میں ہر اس کام کو پرموٹ کرتی ہے, جو یورپی ممالک میں بھی اچھا نہیں سمجھا جاتا!
جیو نے کچھ دن پہلے ایک بہت بڑا جرم کرچکا ہے, جس پر جیو کو بین بھی کیا تھا, لیکن جیو نیوز کے سہولت کار یہی حکومت اور PEMRA ہے!!
A Pakistani content creator offered ordinary Pakistanis a wad of cash to burn the Indian flag.
Every single person refuses.
You can manufacture outrage. You can monetize hatred. But sometimes ordinary people remind you that patriotism does not require dehumanising your neighbour.
That is the Pakistan I recognise.
@MujahidNaama@qaiseraraja@ShahNawaz576 یہ گھٹیا بوڑھا اپنے آپ کو پروفیسر اور بڑا عالم بتا کر پیش کرتا ہے لیلن اس جاہل کو یہ بھی نہیں پتہ کے برتری کا دارومدار خاندان پر نہیں اعمال پر ہے! ابوجہل کی اولاد۔