یہ وہ اعلامیہ ہے جو خیبر پختونخوا اسمبلی میں ہونے والے جرگے نے مشترکہ طور پر جاری کیا، جس میں تمام سیاسی جماعتوں، گورنر صاحب، صوبائی اپوزیشن لیڈر، مذہبی رہنماؤں، قبائلی عمائدین، وکلا، تاجروں اور میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی۔ جرگے میں سب نے متفقہ طور پر صوبے میں امن کی بحالی کے لیے قرارداد منظور کی۔
بند کمروں کے فیصلے نہ پہلے ہمیں منظور تھے، نہ آج ہیں اور نہ کل ہوں گے۔ ان بند کمروں کے فیصلوں اور پالیسیوں نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے۔ بند کمروں میں بنائی جانے والی پالیسیوں کی وجہ سے آج دنیا میں پاکستان دہشت گردی کے حوالے سے نمبر ون بن چکا ہے۔
ملک کی واحد عوامی منتخب صوبائی حکومت پر اپنی ناکام پالیسیاں مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو ہمیں کسی صورت قبول نہیں۔
🇵🇰 Thousands are BACK ON THE STREETS in PAKISTAN-administered Kashmir.
The region has been in turmoil since elections this summer that IMRAN KHAN'S PTI boycotted over allegations of electoral fraud and interference.
The protests have also been fueled by a brutal crackdown on Kashmir's own protest movement, with organizers reporting dozens killed in clashes with security forces.
Now this is unfolding on the eve of PTI's nationwide march demanding Imran Khan's release.
Two political crises that Islamabad has spent months trying to contain are increasingly colliding:
Kashmir's revolt over how it is governed.
And PTI's fight over how Pakistan is governed.
@PTIofficial / Writer: Oliver
یہ فراڈ الزامات ہیں۔۔۔ناکامی کا ملبہ صوبائی حکومت پر ڈالنے کا پہلے سے طے شدہ منصوبہ ہے،ایمرجنسی/گورنر راج لگانے کی پہلے سے ترتیب شدہ سکرپٹ ہے۔۔۔دہشتگردی کیخلاف سب سے زیادہ قربانیاں خیبر پختون خوا کے عوام،پولیس اور حکومت نے دی ہیںاور ابھی تک دے رہی ہیں،خیر پختون خوا حکومت/پولیس دہشتگردی کیخلاف فرنٹ لائن میں ہے اور فرسٹ ڈیفنس لائن کا کردار ادا کررہی ہے ۔۔۔گزشتہ 24 سالوں میں 24 ملٹری آپریشنز اور 7 معاہدے کیوں ناکام ہوئےوفاق پہلے خیبر پختون خوا کے عوام کو اس کو جواب دے۔۔۔حقیقت یہ ہے کہ حکومت پی ٹی آئی مذاکرات میں پی ٹی آئی کی طرف سے غیر معمولی لچک کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ مارچ کی تاریخیں مؤخر کرنے اور مارچ کے مستقبل کے حوالے سے بات چیت کے لیے صرف دو شرائط رکھی گئی ہیں: اول، عمران خان سے ملاقات؛ اور دوم، عمران خان کی بہنوں کی رہائی۔ عمران خان سے ملاقات ان کا قانونی حق ہے، جو گزشتہ ایک طویل عرصے سے بلاجواز غیر قانونی طور پر معطل ہے۔ اسی طرح عمران خان کی بہنوں کو نوآبادیاتی دور کے قانون MPO کے تحت چادر اور چاردیواری کا تحفظ پامال کرکےگرفتار کیا گیا ہے، جو ایک غیر قانونی اور بلاجواز اقدام ہے۔ اس کے باوجود اگر حکومت ان دو انتہائی ابتدائی، معمولی اور جائز مطالبات کو بھی پورا نہیں کر سکتی تو اس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومتی مذاکرات ایک ڈھونگ اور فراڈ ہے، جنہیں حکومت تاخیری حربے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ مزید برآں، حکومت اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے مذاکرات کی ناکامی کا ملبہ پی ٹی آئی پر ڈالنے کی کوشش کررہی ہے تاکہ ایمرجنسی لگانے،جمہوری مارچ کو کچلنے کی اپنی غیر قانونی اقدامات کے لیے جواز تراشے۔
تحریک انصاف کی وفاقی حکومت میں پاکستان اور خیبر پختونخواہ terrorism نہیں tourism کے لیے جانے جاتے تھے۔ رجیم چینج کے بعد دہشتگردی کو دوبارہ جان بوجھ کر خیبر پختونخواہ پر مسلط کیا گیا۔ جب ۲۰۲۲ کی گرمیوں میں ہم نے آواز اٹھائ تو آپ نے ہمیں جھوٹا کہا لیکن آج اسی دہشتگردی کو بہانہ بنا کر معصوم پختونوں کا خون بہایا جارہا ہے-
جنہوں نے پاکستان پر دوبارہ دہشت گردی مسلط کی، جن کا جعلی وزیرِ اعظم کسی شہید کے جنازے میں نہیں گیا، جن کا بھگوڑا قائد اور اس کی بیٹی انڈیا سے جنگ کے دوران خاموش رہے، جن کی پوری جماعت پاکستان کے پختونوں کو دہشت گرد کہتی ہے، اور جنہوں نے پاکستان کو تباہی کی طرف دھکیل دیا ہے، وہ اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے پاکستان میں آگ لگا رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan #SohailAfridi
دہشت گردی خیبرپختونخوا پر مسلط کی گئی ہے۔ وفاق کی ناکام پالیسیز سے ہمیشہ خیبرپختونخواہ گولہ بارود اور آگ کے لپیٹ میں رہی ہے۔ ملٹری آپریشن اور ڈرون حملوں سے میرے صوبے کے معصوم لوگ شہید ہوتے ہیں جس کو کولیٹرل ڈیمج کا نام دے دیا جاتا ہے اور ایک سوری سے بات ختم کردی جاتی ہے۔ پالیسی یہاں صرف عمران خان کی چلے گی۔ اُسی پالیسی میں ملک اور قوم کی بھلائی ہے۔
انتشار پھیلانے والے دیکھ لیں ایک عوامی نمائندے کے مطالبات۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ تب کامیاب ہو گی جب تمام ادارے قانون اور آئین کے نیچے کام کریں۔
عسکریت کسی مسئلے کا حل نہیں، ڈرائیونگ سیٹ پہ عوامی نمائندوں کو بیٹھنا ہو گا
چوکیدار گھر چلانے کی صلح نہیں دے سکتا۔
اگر حکومت دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ ہے تو سہیل آفریدی کا چارٹر آف ڈیمانڈ فوری مانا جا سکتا ہے
مزاکراتی کمیٹی کو میرا بھیجا گیا ڈرافٹ یہ ہے جسے میں اپنی قوم کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ پوری قوم کو یہ علم ہونا چاہئیے کہ ان میں سے ایک ڈیمانڈ بھی غیر آئینی و قانونی نہیں ہے۔ ہمیں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جا رہا ہے۔ ہمارے ساتھ ریاست ہر قابض لوگ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے۔ یہ ہمارے ڈیمانڈز تھے، ہیں اور رہیں گے۔
ملک میں سیاسی استحکام، آئین و قانون کی بالادستی، جمہوری عمل کے تسلسل، قومی یکجہتی، امن و امان کے قیام اور تمام سیاسی و قومی معاملات کو باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے درج ذیل امور پر اتفاقِ رائے کیا جائے گا:
1۔وزیرِ اعظم پاکستان اور دونوں ایوانوں میں قائدینِ حزبِ اختلاف کے درمیان باقاعدہ ملاقات کا اہتمام کیا جائے گا، جس میں ملک کو درپیش تمام اہم سیاسی، قومی، آئینی، قانونی اور جمہوری معاملات، بالخصوص زیرِ التوا امور، پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
فریقین اس امر کے پابند ہوں گے کہ باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے مذکورہ امور کے حل کے لیے دو ماہ کے اندر مؤثر اور قابلِ عمل پیش رفت یقینی بنائی جائے۔
2۔وزیرِ اعظم پاکستان حکومتی اتحاد، پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن جماعتوں کے نمائندگان پر مشتمل ایک مشترکہ سیاسی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دیں گے۔
یہ کمیٹی اپوزیشن کے ساتھ قومی و سیاسی معاملات، باہمی اختلافات اور دیگر اہم امور پر مسلسل مذاکرات کرے گی اور باہمی اتفاقِ رائے سے قابلِ عمل حل تلاش کرے گی۔ جمہوریت، سیاست، عدالت اور صحافت کی مکمل آزادی ہوگی۔
کمیٹی اپنے قیام کے بعد ایک ماہ کے اندر مذاکرات اور حل کے حوالے سے قابلِ ذکر پیش رفت یقینی بنائے گی اور اپنی سفارشات متعلقہ قیادت کے سامنے پیش کرے گی۔
3۔ جیل مینول، آئینِ پاکستان اور مروجہ قوانین کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو حاصل تمام قانونی، انسانی اور طبی حقوق بلاامتیاز فراہم کیے جائیں گے۔
ان کے علاج و معالجے کے سلسلے میں، جہاں قانوناً قابلِ اطلاق ہو، ان کے ذاتی/نامزد ڈاکٹروں کی طبی رائے، ہدایات اور مشوروں کو مدِنظر رکھتے ہوئے ضروری طبی سہولیات اور علاج معالجے کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
4۔جیل مینول اور متعلقہ قوانین کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اپنے اہلِ خانہ، نامزد وکلاء اور مجاز/نامزد رفقاء سے ملاقات کا حق فراہم کیا جائے گا۔
ملاقاتوں کا انعقاد قانون اور جیل قواعد و ضوابط کے مطابق ہوگا۔ تاہم ملاقات کی سہولت کو کسی بھی فریق کی جانب سے ایسے سیاسی یا دیگر مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا جو قانوناً ممنوع ہوں۔
5۔عمران خان، بشریٰ بی بی، خواتین، معمر اور بیمار قیدیوں سمیت تمام زیرِ حراست افراد کی جانب سے سزاؤں کے خلاف دائر درخواستوں اور دیگر قانونی درخواستوں پر آئین و قانون کے مطابق دس دن کے اندر غور کا عمل شروع/مکمل کیا جائے گا، جہاں قانوناً ایسا ممکن ہو۔
تمام مقدمات کا فیصلہ متعلقہ عدالتیں اور قانونی فورمز آئین، قانون، شفاف عدالتی طریقۂ کار اور انصاف کے اصولوں کے مطابق، بلاجواز تاخیر کے بغیر، کریں گے۔
خواتین جو سیاسی قید کاٹ رہی ہیں جن میں بزرگ یاسمین راشد اور بشری بی بی سرفہرست ہے اُن کو انسانی ہمدردی دکھاتے ہوئے جلد رہا کیا جائے۔
6۔خیبر پختونخوا میں جاری دہشت گردی کے خاتمے، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور مستقل و پائیدار امن کے قیام کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر، مسلسل اور بامعنی مشاورت کو یقینی بنایا جائے گا۔
اس مقصد کے لیے موجودہ پالیسیوں اور اقدامات کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا اور ضرورت کے مطابق ان میں مناسب ترامیم کی جائیں گی۔
وفاقی اور صوبائی حکومت کے مجاز نمائندگان 72 گھنٹوں کے اندر باقاعدہ اجلاس منعقد کرکے باہمی مشاورت سے امن و امان کے قیام کے لیے ایک واضح، جامع اور قابلِ عمل حکمتِ عملی مرتب کریں گے۔
اس حکمتِ عملی پر آئین و قانون کے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے عمل درآمد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہوگی۔
7۔ وفاقی حکومت کی جانب سے مذکورہ بالا یقین دہانیوں اور طے شدہ اقدامات پر مؤثر عمل درآمد کی تحریری یقین دہانی کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف موجودہ لانگ مارچ کو منسوخ کرنے کا اعلان کرے گی۔
تاہم اگر وفاقی حکومت طے شدہ یقین دہانیوں، مذاکراتی عمل یا آئینی و قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی کرے یا مذاکراتی عمل کو بلاجواز تعطل کا شکار کرے تو پاکستان تحریکِ انصاف آئین و قانون کے مطابق اپنے پُرامن، جمہوری اور قانونی احتجاج کے حق کو محفوظ رکھے گی۔
بھون صاحب تو 3Idiots کے رنچوڈداس شامالداس چنچڑ نکلے بھائی! قانون پڑھنے کا شوق اتنا تھا ایڈمیشن لئے بغیر ہی ڈگری کر ڈالی!!!
پھر لوگ کہتے فلمیں سچائی پہ مبنی نہیں ہوتی ‼️
"It’s gone to a different level."
Imran Khan’s sisters have been arrested in what his former adviser @sayedzbukhari describes as a "brutal crackdown" on his party.
Zulfi Bukhari tells @SkyYaldaHakim about the protest that sparked the crackdown in Pakistan.
🎧 Listen now 👇
شہباز شریف صاحب نے لندن میں اسرائیل کے بانیان،محافظین،پشتیبان بااثر اسرائیل نواز خاندان Rothschild & Co سے ملاقات کی۔ یہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران اس خاندان کے ساتھ ان کی دوسری ملاقات ہے۔ یہ وہ خاندان ہے جسے عالمی سطح پر رسول اللّٰہ کی امت کے خلاف پالیسیوں اور سازشوں کے ایک اہم مرکز کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اور یہی خاندان استعمار و سامراج کا ایک طاقتور چہرہ ہے۔یہ ملاقات غزہ/ فلسطین کے موجودہ تناظر میں بہت تشویشناک ہے،کیا حکومت بتائے گی اس ملاقات کا ایجنڈا کیا تھا؟؟؟
دوسری جانب ملک میں فلسطین کے لیے آواز اٹھانے والوں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات قائم کیے جا رہے ہیں۔ آج بھی میں اپنے ساتھیوں سمیت ضمانتوں کے لیے اسلام آباد کی عدالتوں میں پیش ہوا،جہاں فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے کے جرم میں ہمارے خلاف مقدمات قائم کیے گئے ہیں اور ہمیں بغیر نوٹس جاری کئے اشتہاری قرار دیا گیا ہے۔
نوازشریف پشاور سے 350 کلومیٹر دور ناران میں بلاخوف گھومتے رہے، سہیل آفریدی گاڑی کی چھت پر بیٹھ کر صوبے میں آزادانہ گھومتے ہیں۔ کیا میاں صاحب یا سرفراز بگٹی کوئٹہ سے زیارت 125، قلات 135 یا دالبندین 300 کلومیٹر دور اتنی ہی آزادی سے گھوم سکتے ہیں؟ اگر نہیں تو پھر ایمرجنسی کہاں لگنی چاہئے؟خالد جمیل
#pakistan @khalidjamilkj
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔