آپ اپنے شہداء کی بات کرتے ہیں، مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کس کو کہتے ہیں؟ مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کا مقام کیا ہے؟ میں قرآن و سنت کا ایک طالب علم ہوں، میں شہید کے مقام کو جانتا ہوں، شہید کیا ہوتا ہے؟ جو شہید اپنے وطن کے لیے قربانی دیتا ہے، اس کی قدر و منزلت کو میں جانتا ہوں۔ آپ مجھے اس کی قدر و منزلت نہ سمجھائیں۔ میں تمہیں جانتا ہوں کہ تمہاری نظر میں اپنے شہداء کی کیا قدر و قی��ت ہے۔
پاکستان ایک ادارہ جاتی ملک ہے، اور پوری دنیا میں ادارے متعین ہیں، ان کا دائرۂ کار متعین ہے، ان کا دائرۂ اختیار متعین ہے۔ اگر میں نے آپ کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کیا ہے، اگر میں نے آپ کو ان کے اپنے دائرۂ کار اور اس دائرۂ کار کے اندر ان کی صلاحیتوں کی طرف متوجہ کیا ہے، تو میں اب بھی کہتا ہوں:
پالیسی ساز لوگو! سپاہی نے تو آپ کا حکم ماننا ہے۔ پالیسی ساز تو آپ بڑے ہیں۔ میں آپ کی پالیسیوں سے اختلاف کر رہا ہوں، بڑے ادب و احترام کے ساتھ اختلاف کر رہا ہوں، لیکن آپ میرے بیان کی ازخود تشریح کر کے جو میری کردار کشی کرنا چاہتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ فضل الرحمٰن جھک جا��ے گا، سرنڈر کر جائے گا۔
یاد رکھو! مجھے میرے ماں باپ نے سرنڈر ہونے کے لیے نہیں جنا۔ اور میں نے آپ کو اپنی ذمہ داریوں تک محدود رہنے کی بات کی ہے۔ یہ میں نے پہلی مرتبہ نہیں کی۔ یہ تو پارلیمنٹ میں اور عام جلسوں میں بھی میں نے بار بار کہی ہے۔ ق��ور والی بات قصوروار ٹھہری، اور عجیب بات بتاؤں، وکلاء حضرات! ذرا اس پر بھی غور کریں کہ اڑتالیس گھنٹے بعد ان کو پتا چلا کہ میں نے یہ بات کہی ہے۔
مجھے افسوس یہ ہے کہ میرے خلاف بدنیتی پر مبنی ایک جملے کی غلط تشریح کر کے قوم کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، میڈیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، اور شہداء کے خاندانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔
میں ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ صرف ہم ہیں، الحمد للہ، صرف ہم ہیں جنہوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ جلسوں میں یہ بات کہی ہے: "اگر میری فوج پر خدا سخت وقت نہ لائے، میرے ملک پر خدا برا وقت نہ لائے، ورنہ جب میری فوج اپنے ملک کا دفاع کرے گی تو میرے یہ فقیر ان شاء اللہ اپنے فوجیوں کے شانہ بشانہ مورچوں میں کھڑے ہوں گے۔" آپ نے کبھی ہمارے اس جذبے کو سراہا؟ اور قربانیاں ہیں، اگر پاکستان کا ایک سپاہی ملک کے لیے قربانی دیتا ہے، اور اسی لیے وہ فوج میں بھرتی ہوا ہے، تو جمعیۃ علماء اسلام تو فوج نہیں ہے، پھر میری جمعیۃ علماء اسلام کی صفوں کے اندر سے بڑے اکابر سے لے کر عام علماء اور طلبہ تک دو سو سے زیادہ شہداء ہم نے کیوں دیے؟ کس کے لیے دیے؟
تم نے اس قسم کی حرکت کر کے جمعیۃ علماء اسلام کے کارکنوں اور ان کی قربانیوں کا مذاق اڑایا ہے، اور اب اس کا ردِعمل آئے گا۔ آپ سمجھتے ہیں کہ ہم پیچھے ہٹ جائیں گے؟ ہم نے ترتیب بنا لی ہے۔ میں چاروں صوبوں میں جاؤں گا۔ چاروں صوبوں میں وہاں کے عوام اور کارکنوں کے درمیان جاؤں گا، بڑے جلسوں سے بھی اور کنونشنوں سے بھی خطاب کروں گا۔ میں اپنا موقف لے کر آگے جاؤں گا۔
تم نے میرے علماء کو شہید کیا۔ علماء کرام شہید ہوئے۔ میرے استاد اور میرے شیخ مولانا حسن جان شہید ہو گئے۔ میرے والد صاحب کے شاگردِ ��شید، وزیرستان کے استاد الاساتذہ مولانا نور محمد شہید ہو گئے۔ مولانا معراج الدین، جو میں سمجھتا ہوں کہ میرا دایاں بازو تھے، تم نے وہ بازو توڑ دیا۔ اور میں نے باجوڑ میں ایک جلسے کے ایک سو جنازے اٹھائے ہیں، میں روزانہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کہیں نہ کہیں دو یا تین جنازے اٹھا رہا ہوں۔ میں تو آپ کے ہر جنازے پر آپ کے ساتھ ��ویا ہوں۔ کبھی یاد ہے کہ تم میرے جنازے پر میرے ساتھ روئے ہو؟
مجھے کہتے ہو تم نے غلط بات کی ہے؟ میں کہتا ہوں تم نے اپنے شہداء کی بھی تذلیل کی ہے، فوج کے شہداء کی بھی تذلیل کی ہے، ان کے خاندانوں کی بھی تذلیل کی ہے، تم نے میرے شہداء کی بھی تذلیل کی ہے، تم نے ان کی بھی بے توقیری کی ہے۔
معافی کہتے ہو فضل الرحمٰن مانگے؟ نہیں! آج اگر میری بات غلط ہے تو مجھے ضرور رائے دیں۔ آپ قانون کے ماہر ہیں، میری رہنمائی کریں۔ میرا مطالبہ یہ ہے کہ جس فوج نے، جس جنرل نے، جس دفتر سے میرے خلاف اور میری جماعت کے خلاف پروپیگنڈا کمانڈ کیا ہے، اس کو معافی مانگنی ہوگی۔ ہم نے ایسی کوئی کچی گولیاں ن��یں کھیلی ہیں۔
بھروسا تم نے توڑا تھا، مگر خود کو سزا یوں دی
کہ پھر جو مل گیا مجھ کو، بھروسا کر لیا اُس پر
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب
#مرد_آہن_مولانا
#پروپیگنڈہ_برگیڈ
#چوکیدار_وڑگیا
#BroadcastMaulanaNow
#LawyersStandWithMaulana
امریکی حملے کا ٹل جانا حالات کی عارضی بہتری خوش آئند ہے،پاکستان سمیت چار برادر اسلامی ممالک خطہ میں پائیدار اور مستقل امن کے قیام کیلئے اس دورانیہ کا بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
اسلامی برادری کا اس بات پر متفق ہونا ضروری ہے کہ اسرائیل کا وجود اب عالمی امن کیلئے خطرہ بن چکا ہے۔۔
اسلام آباد:وزیر اعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ اور طارق فضل چودھری کی امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی رہائشگاہ آمد
رانا ثناء اللہ اور طارق فضل چودھری کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات
ملاقات میں سنیٹر کامران مرتضٰی،ایم این اے عثمان بادینی،علامہ راشد محمود سومرو شریک
ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال اور بین الاقوامی امور پر گفتگو
اسلام آباد:وزیر اعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ اور طارق فضل چودھری کی امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی رہائشگاہ آمد
رانا ثناء اللہ اور طارق فضل چودھری کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات
ملاقات میں سنیٹر کامران مرتضٰی،ایم این اے عثمان بادینی،علامہ راشد محمود سومرو شریک
(1)
امریکی حملے کا ٹل جانا حالات کی عارضی بہتری خوش آئند ہے،پاکستان سمیت چار برادر اسلامی ممالک خطہ میں پائیدار اور مستقل امن کے قیام کیلئے اس دورانیہ کا بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
اسلامی برادری کا اس بات پر متفق ہونا ضروری ہے کہ اسرائیل کا وجود اب عالمی امن کیلئے خطرہ بن چکا ہے۔ عرب اور خلیجی ممالک فلسطین ا��ر بیت المقدس کی آزادی کی صورت میں ہی اپنے ترقی اور خوشحالی کا خواب شرمندۂ تعبیر کرسکتے ہیں۔
خیبرپختونخوا میں سیلاب سے لوگ بےگھر اور کچے گھر والے پریشان،
صوبے کے وزیراعلیٰ ایم پی ایز اور ایم این ایز کے ساتھ اڈیالہ جیل کے باہر ایک چور کی رہائی کےلیے مصروف۔
#نکلو_مولانا_کے_سنگ