نماز پڑھتے ہوئے پورے یقین اور دھیان کیساتھ دو سجدوں کے درمیانی وقفہ یعنی جلسہ کی حالت میں یہ انتہاہی مختصر دعا پڑھنا معمول بنا لیں اور دیکھیں کہ اللہ سبحان و تعالیٰ کیسے آپ کے رزق کو فراخ کرتے ہیں اللہ اکبر 💚
💥 ڈلیوری والے دن شور نہ کرنا۔ ڈاکٹر جو کہیں، مان لینا۔ حالات خراب ہوں تو دانیال کو فیصلہ کرنے دینا 🥺💔
ستمبر کی نمی ابھی پوری طرح شہر پر نہیں اتری تھی، مگر اس گھر میں خزاں کئی ہفتے پہلے آ چکی تھی۔
گھر کے برآمدے میں رکھا سفید لکڑی کا جھولا اب بھی ڈبے میں بند تھا۔ اس پر چپکا ہوا اسٹیکر ہر روز گرد کی ایک نئی تہہ اوڑھ لیتا، جیسے کسی ایسے بچے کا انتظار کر رہا ہو جس کے آنے پر کسی نے یقین ہی نہ کیا ہو۔
عائزہ نے کئی بار ہاتھ پھیر کر وہ گرد صاف کی، مگر ڈبہ کبھی نہ کھولا۔
وہ اکتیس برس کی تھی۔ ڈاکٹر نے ہر الٹراساؤنڈ کے بعد مسکرا کر کہا تھا، "ماں بھی ٹھیک ہے، بچہ بھی۔"
وہ ہر بار یہی جملہ گھر لا کر دہراتی۔
لیکن اس کے شوہر دانیال کے چہرے پر کبھی سکون نہیں اترا۔
بس ایک خاموشی۔
ایسی خاموشی جو زندہ آدمی کے گرد نہیں، قبر کے گرد اگتی ہے۔
...
پچھلے دو مہینوں میں دانیال نے زندگی کی ہر فائل ترتیب دے دی تھی۔
بینک اکاؤنٹس۔
وصیت۔
جائیداد کے کاغذات۔
ایک نوٹری کے دفتر میں اس نے عائزہ سے کئی دستاویزات پر دستخط کروائے۔
"بس احتیاط ہے۔"
وہ یہی کہتا۔
پھر ایک شام قانونی پیڈ اس کے سامنے رکھ دیا۔
"اگر..." اس نے لفظ نگل لیا۔ "...اگر کبھی ضرورت پڑے تو لکھ دو کون سی چیز بچے کے لیے رکھنی ہے، کون سی تمہارے امی ابو کو دے دینی ہے۔"
عائزہ نے قلم پکڑا۔
کافی دیر تک سفید صفحہ دیکھتی رہی۔
پھر قلم واپس رکھ دیا۔
"میری چیزوں کی تقسیم میری موجودگی میں کیوں ہو رہی ہے؟"
دانیال نے جواب نہیں دیا۔
...
بچے کا نام ابھی تک طے نہیں ہوا تھا۔
نہ کپڑے خریدے گئے۔
نہ گاڑی کی سیٹ۔
نہ ہسپتال کا بیگ تیار ہوا۔
صرف ایک نئی فائل بنی تھی۔
اس پر موٹے حروف میں لکھا تھا۔
"منتقلی فنڈ"
عائزہ نے پہلی بار یہ لفظ پڑھا تو اس کی ریڑھ کی ہڈی میں برف اتر گئی۔
منتقلی؟
کس کی؟
کہاں؟
...
دانیال کی ماں اسے جنم دیتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو گئی تھی۔
یہ کہانی گھر میں کسی مذہبی وظیفے کی طرح دہرائی جاتی تھی۔
اور ہر بار اس کے والد، راشد صاحب، اپنی قربانیوں کا باب کھول دیتے۔
"میں نے اکیلے پال لیا تھا اسے۔"
"ماں کے بغیر بھی بچے بڑے ہو جاتے ہیں۔"
"پہلا سال مشکل ہوتا ہے، پھر آدمی عادت ڈال لیتا ہے۔"
وہ یہ باتیں ایسے کہتے جیسے موسم کی پیش گوئی سنا رہے ہوں۔
جیسے کسی زندہ عورت کے سامنے اس کی غیر موجودگی کی مشق کروا رہے ہوں۔
...
ایک رات کھانے کی میز پر راشد صاحب نے روٹی توڑتے ہوئے کہا،
"ڈلیوری والے دن شور نہ کرنا۔ ڈاکٹر جو کہیں، مان لینا۔ اور اگر حالات خراب ہوں تو دانیال کو فیصلہ کرنے دینا۔"
عائزہ نے چونک کر پوچھا۔
"کس بات کا فیصلہ؟"
انہوں نے سالن پلیٹ میں ڈالتے ہوئے جواب دیا۔
"بعض دفعہ ایک جان بچانی پڑتی ہے۔"
کمرے میں چمچوں کی آواز بند ہو گئی۔
صرف دیوار پر لگی گھڑی چلتی رہی۔
...
اسی رات عائزہ نے دانیال سے پوچھا۔
"سچ بتاؤ... کیا تم سمجھتے ہو میں واپس نہیں آؤں گی؟"
دانیال نے کھڑکی کے باہر اندھیرے میں دیکھا۔
بہت دیر بعد بولا۔
"میں بس تیار رہنا چاہتا ہوں۔"
"ہم دونوں؟"
وہ ہلکا سا چونکا۔
"ہم..."
پھر اس نے نظریں جھکا لیں۔
عائزہ نے پہلی بار محسوس کیا کہ اس کا شوہر اس سے بات نہیں کر رہا۔
وہ اپنے بچپن کے کسی سایے سے گفتگو کر رہا ہے۔
...
کچھ دن بعد راشد صاحب ایک بیگ لے آئے۔
انہوں نے فہرست نکالی۔
"یہ چیزیں ہسپتال لے جائیں گے۔"
عائزہ نے حیرت سے دیکھا۔
اس میں اس کے کپڑوں سے زیادہ دانیال کے لیے اشیاء لکھی تھیں۔
خشک میوہ۔
چائے کے ساشے۔
بچے کی بوتلیں۔
اور آخر میں ایک سطر۔
"بیوی کے انتقال کی صورت میں ضروری فون کالز۔"
عائزہ کی انگلیاں کانپ گئیں۔
کاغذ اس کے ہاتھ سے پھسل گیا۔
...
اس رات اس نے فیصلہ کر لیا۔
"میرے ساتھ صرف میری امی ہوں گی۔"
دانیال نے جیسے سنا ہی نہ ہو۔
"اور میں؟"
"تم بچے سے مل لینا... جب وہ آ جائے گا۔"
"تم مجھے سزا دے رہی ہو۔"
"نہیں۔"
وہ آہستہ بولی۔
"میں خود کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہی ہوں۔"
...
ڈلیوری سے تین ہفتے پہلے اچانک عائزہ کو شدید درد اٹھا۔
رات بارش ہو رہی تھی۔
گاڑی کی کھڑکیوں پر پانی بہتا رہا۔
ہسپتال کی سفید روشنیوں میں سب کے چہرے بے رنگ لگ رہے تھے۔
اس کی ماں اس کا ہاتھ پکڑے اندر چلی گئی۔
دانیال دروازے تک آیا۔
پھر رک گیا۔
پہلی بار۔
کسی نے اسے آگے بڑھنے سے منع نہیں کیا تھا۔
وہ خود رکا تھا۔
...
انتظار گاہ میں راشد صاحب مسلسل چلتے رہے۔
ہر دس منٹ بعد گھڑی دیکھتے۔
ہر آدھے گھنٹے بعد تسبیح کے دانے تیز چلنے لگتے۔
لیکن ان کی نظریں بار بار اسی بند دروازے پر جا کر رک جاتیں۔
جیسے وہ کسی پرانی قبر کا دروازہ دوبارہ کھلتے دیکھ رہے ہوں۔
...
چار گھنٹے بعد ڈاکٹر باہر آئی۔
"ماں اور بچہ دونوں محفوظ ہیں۔"
دانیال نے سر اٹھایا۔
الفاظ اس کے کانوں تک پہنچے۔
مگر جیسے سمجھ میں نہ آئے۔
"کیا؟"
ڈاکٹر نے مسکرا کر دہرایا۔
"دونوں بالکل ٹھیک ہیں۔"
اسی لمحے دانیال بیٹھ گیا۔
دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا۔
اور برسوں بعد پہلی بار بچے کی طرح رونے لگا۔
راشد صاحب خاموش کھڑے رہے۔
ان کی انگلیوں سے تسبیح پھسل کر فرش پر بکھر گئی۔
کسی نے دانے نہیں سمیٹے۔
...
شام کو جب عائزہ نے بچے کو سینے سے لگایا تو دانیال دروازے پر کھڑا تھا۔
اندر آنے کی اجازت مانگتے ہوئے۔
پہلی بار۔
اس کی آنکھوں میں خوف ابھی بھی تھا۔
لیکن اس خوف میں یقین کی ایک باریک لکیر بھی شامل ہو چکی تھی۔
عائزہ نے ہلکے سے سر ہلا دیا۔
وہ آہستہ آہستہ قریب آیا۔
بچے کو دیکھا۔
پھر عائزہ کو۔
"مجھے معاف کر دو..."
اس کی آواز ٹوٹ گئی۔
"میں ہر روز اپنی ماں کو مرتے ہوئے دیکھتا رہا... اور مجھے خبر ہی نہ ہوئی کہ میں تمہیں جیتے جی دفنا رہا ہوں۔"
...
کئی ہفتے بعد عائزہ نے آخرکار برآمدے میں رکھا وہ سفید ڈبہ کھولا۔
جھولا جوڑتے ہوئے دانیال کے ہاتھ بار بار رک جاتے تھے۔
ہر پیچ کسنے کے بعد وہ عائزہ کی طرف دیکھ لیتا۔
جیسے یقین کر رہا ہو کہ وہ اب بھی وہیں بیٹھی ہے۔
راشد صاحب خاموشی سے باہر صحن میں بیٹھے رہے۔
اس دن پہلی بار انہوں نے اپنے بیٹے کو کوئی مشورہ نہیں دیا۔
اور جب شام ڈھلی تو جھولے میں سویا ہوا بچہ آہستہ آہستہ ہل رہا تھا...
جبکہ اصل جنبش اس گھر میں برسوں سے سوئی ہوئی امید نے کی تھی۔
افسانہ: خزاں کا انتظار
پاکستانیوں,
رات کو اے سی چلانے کا سستا طریقہ!!
رات کو اے سی چلانے کا سستا طریقہ
"کیا آپ کا اے سی بھی رات کو چلنے کے بعد آپ کے ہوش اڑا دیتا ہے جب مہینے کا بل آتا ہے؟ رات 10 بجے سے صبح 5 بجے تک اے سی ضرور چلائیں، لیکن بل آدھا آئے گا! آج میں آپ کو بتاؤں گا اے سی کی وہ سیکرٹ سیٹنگز اور صحیح روم سائز کا حساب، جو آپ کے یونٹس کو بہت کم کر دے گا۔ ویڈیو کو ابھی سیو کر لیں، یہ بہت کام آنے والی ہے!"
حصہ 1: بل بچانے والی اے سی سیٹنگز (رات 10 سے صبح 5)
"سب سے پہلے بات کرتے ہیں سیٹنگز کی، کیونکہ رات کو سوتے وقت آپ کا جسم ٹھنڈا ہوتا ہے اور باہر کا ٹمپریچر بھی گرتا ہے۔ اس لیے یہ 3 سیٹنگز لازمی کریں:"
1۔ آٹو ٹمپریچر (26°C پر سیٹ کریں):
"بہت سے لوگ 18 یا 20 پر اے سی چلا دیتے ہیں، جو کمپریسر پر بہت لوڈ ڈالتا ہے۔ اے سی کو 26°C پر چلائیں۔ یہ سب سے بہترین ٹمپریچر ہے اور اس پر کمپریسر سب سے کم بجلی کھینچتا ہے۔"
2۔ سلیپ موڈ (Sleep Mode) کا استعمال:
"اپنے ریموٹ پر موجود Sleep Mode کا بٹن لازمی دبائیں۔ یہ موڈ کیا کرتا ہے؟ ہر ایک گھنٹے بعد یہ ٹمپریچر کو 1 ڈگری بڑھا دیتا ہے۔ یعنی اگر آپ نے 26 پر اے سی چھوڑا، تو کچھ گھنٹوں بعد یہ خود بخود 27 اور پھر 28 کر دے گا۔ آپ کی نیند بھی خراب نہیں ہوگی اور صبح 5 بجے تک یونٹس کی بھاری بچت ہوگی۔"
3۔ فین اسپیڈ کو 'آٹو' پر رکھیں:
"فین اسپیڈ کو فل یا لو رکھنے کی بجائے Auto پر سیٹ کریں۔ جب کمرہ ٹھنڈا ہو جائے گا، تو پنکھا خود بخود سلو ہو جائے گا اور بجلی بچائے گا۔"
حصہ 2: روم سائز اور اے سی کی کیپیسٹی (1 ٹن بمقابلہ 1.5 ٹن)
"دوستو، اے سی جتنا مرضی اچھا ہو، اگر وہ کمرے کے سائز کے مطابق نہیں ہے تو بل ہمیشہ زیادہ آئے گا۔ اپنے کمرے کا سائز اس حساب سے چیک کریں:"
1 ٹن کا اے سی (1 Ton AC)
کمرے کا سائز: 100 سے 120 اسکوائر فٹ (Sq. Ft) تک۔
آسان الفاظ میں: اگر آپ کا کمرہ 10x10 یا 10x12 فٹ کا ہے، تو 1 ٹن کا اے سی بالکل پرفیکٹ ہے۔ اس سے بڑے کمرے میں 1 ٹن لگائیں گے تو وہ مسلسل چلتا رہے گا، کمرہ ٹھنڈا نہیں ہوگا اور بل ڈبل آئے گا۔
1.5 ٹن کا اے سی (1.5 Ton AC)
کمرے کا سائز: 130 سے 180 اسکوائر فٹ (Sq. Ft) تک۔
آسان الفاظ میں: اگر آپ کا کمرہ 12x12، 12x14 یا 12x15 فٹ کا ہے، تو آپ کو 1.5 ٹن کا اے سی ہی لگانا چاہیے۔ یہ کمرے کو جلدی ٹھنڈا کرے گا اور انورٹر اپنی اسپیڈ سلو کر کے بجلی بچانا شروع کر دے گا۔
حصہ 3: پرو ٹپ (بونس ایڈوائس)
ایک آخری اور سب سے ضروری ٹپ! اے سی چلانے سے پہلے کمرے کا چھت والا پنکھا تھوڑی دیر فل اسپیڈ پر چلائیں تاکہ کمرے کی گرم ہوا نکل جائے۔ اور جب اے سی آن کر دیں، تو پنکھے کو بالکل سلو (اسپیڈ 1 یا 2) پر چلائیں تاکہ اے سی کی ٹھنڈک پورے کمرے میں برابر پھیلتی رہے۔"
"ان سیٹنگز کو آج رات ہی ٹرائے کریں اور اگلے مہینے اپنے بل میں فرق دیکھیں!