"THE MOST UNEXPECTED GENERATION DID THIS!"
یہ صرف احتجاج نہیں، بلکہ اُس عالمی نظام کی پالیسیز کو چیلنج ہے جس نے برسوں سے اپنا تسلط قائم کر رکھا ہے۔
دنیا کے مختلف ممالک میں نوجوان بغیر کسی سیاسی لیڈر یا جماعت کی قیادت کے سڑکوں پر نکل رہے ہیں۔ شاید پہلی بار دنیا ایک ایسی نسل کا سامنا کر رہی ہے جسے نہ روایتی قیادت کی ضرورت ہے، نہ سیاسی سہارے کی۔
یہ نظام سے سوال نہیں، نظام کو چیلنج ہے!
#GenZ
گناہوں سے معافی،
مذہبی پیشواؤں نے جنت کی چابیاں بیچیں!
یورپ کے قلب میں قرونِ وسطیٰ کے آخری حصے میں،
جب جہالت نے عوام پر اپنا گہرا سایہ ڈال رکھا تھا اور کیتھولک چرچ لوگوں کی روحوں، ذہنوں اور بادشاہتوں تک قابض تھا اس وقت ایک ایسا کاروبار پروان چڑھا جس کی بنیاد انسان کے ایمان، خوف اور نجات کی امید پر تھی۔
گناہوں سے معافی کا کاروبار۔
نجات کا کاروبار۔
جنت کا کاروبار۔
اس کاروبار کا ایک ذریعہ تھیں انڈلجنسز (Indulgences) جن کی فروخت کے ذریعے لوگوں کو گناہوں کی سزا سے نجات کے بارے میں امید دلائی جاتی تھی۔ یہ مذہبی عقیدے اور مالی مفادات کا امتزاج تھا۔
ان اسناد کی تشہیر کرنے والے مذہبی مبلغ جوہان ٹیٹزل (Johann Tetzel) سے ایک مشہور جملہ منسوب ہے:
"جیسے ہی سکے کی کھنک صندوق میں سنائی دیتی ہے، روح عذابِ برزخ سے نکل کر سیدھی جنت میں پہنچ جاتی ہے!"
لوگوں نے اپنی تمام جمع پونجی لٹانی شروع کر دی تاکہ اپنے پیاروں کی معافی کروا سکیں۔
انڈلجنسز کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی سے 'سینٹ پیٹرز باسیلیکا' تعمیر کیا جا رہا تھا جبکہ مذہبی پیشوا "خدائی حق" (divine right) کی آڑ میں انتہائی عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے تھے۔
لیکن پھر ایک جرمن راہب "مارٹن لوتھر" نے اس نظام کے خلاف آواز اٹھائی۔
سن 1517 میں اس نے چرچ کی روایات، بالخصوص انڈلجنسز کی فروخت کے خلاف اپنے 95 نکات پیش کیے۔ روایت کے مطابق اس نے انہیں وٹنبرگ کے چرچ کے دروازے پر بھی آویزاں کیا۔
یہ ایسا اقدام تھا جو صرف انقلابی ہی کر سکتے ہیں، اور اسی ایک لمحے نے پورے یورپ کو ہلا کر رکھ دیا!
لوتھر کے اس اقدام نے پروٹسٹنٹ اصلاحِ مذہب (Protestant Reformation) کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ مغربی عیسائیت تقسیم ہوئی، مذہبی اقتدار کو چیلنج کیا گیا اور یورپ نے طویل مذہبی تنازعات اور جنگوں کا سامنا کیا۔
لیکن ذرا ٹھہریے!
کیا مذہب کے نام پر استحصال کا سلسلہ واقعی ختم ہو چکا ہے؟
کیا مذہب کا سودا کرنے والوں کی آوازیں دب گئی ہیں؟
شاید جنت کی چابیاں اب کاغذی اسناد کی صورت میں نہیں بکتیں، مگر ایمان کو منڈی اور نجات کو کاروبار بنانے والے آج بھی موجود ہیں۔
چہرے بدل گئے، نعرے بدل گئے، مگر افسوس کہ کھیل آج بھی وہی ہے، افسوس کہ روح آج بھی بک رہی ہے!
#الف_نگری
#تاریخ
جاوید ہاشمی اپنی بیٹی آمنہ ہاشمی کے ہمراہ گھر سے روانہ
امید ہے کہ پنجاب کے عہدیداران کو بھی حوصلہ ملے گا جو ابھی تک صرف ویڈیو پیغامات دے رہے ہیں، مگر میدان سے غائب
پارٹی عہدے مشکل وقت میں کام آنے کے لیے ہوتے ہیں۔ عہدیداران کے لئے موقع ہے کہ ثابت کر سکیں کہ ان کو عہدے میرٹ پر ملے