"ایک دن آپ اس پختگی کی عمر کو پہنچ جائیں گے جس کی وجہ سے آپ وقتی اور عارضی رشتوں ، ٹھنڈی اور بے روح دوستیوں ، حماقت بھری بحثوں اور جعلی پن میں ڈوبی ہوئی مصنوعی چیزوں اور لوگوں کے ساتھ منسلک ہونے سے مکمل طور پر انکار کر دیں گے. "
(فیودور دوستوفسکی)
اس پاکستانی نے بیرون ملک بھیک مانگنے والے پاکستانی کو بلکل سہی سنائیں ہیں یہی لوگ ملک کو بدنام کرتے ہیں لاکھوں روپے دے کر بھیک مانگنے کے لئے جانے والے غریب کیسے ہوسکتے ہیں ۔۔۔۔
پاکستان کا مسئلہ ہڈحرامی ، کام چوری اور بہانے بازیاں ہیں۔۔۔۔
بیروزگاری نہیں ہے۔۔۔
جس میں مرد و خواتین تقریباً سخت مقابلے پر ہیں کہ کون بڑا ہڈ حرام ہے۔۔۔۔
تاحیات استثنی پر مولانا صاحب کا دل کو چھو لینے والا بیان ضرور وائرل کرنا چاہیے
یہ ہیں کلمہ حق کہنے والے علماء جو کسی کی خوشامد نہیں کرتے نہ ہی کسی غیر اللہ کو سجدہ کرتے ہیں۔
سڈنی میں حملہ آوروں کو پاکستانی قرار دے کر اس بات پر اڑ جانے والے اور لوگوں پر اپنی جعلی علمیت جھاڑنے والے اب کُتّے کی طرح ذلیل ہو رہے ہیں۔
اس طرح اس ویڈیو ٹویٹ میں حملہ آوروں کو پاکستانی قرار دینے والی اس خاتون کے بارے میں اگر کوئی جانتا ہے تو ضرور بتائیں تا کہ ایسے غلیظ کرداروں کو ایکسپوز کیا جا سکے۔
لڑکی نے اپنے گاؤں کے ایک پولیس اہلکار پر زیادتی کا الزام لگایا جس سے وہ حاملہ ہو چکی تھی۔ تھانہ گنڈا سنگھ قصور کی پولیس نے اپنے ہی ساتھی پر ایف آئی آر درج کی اور اسے تفتیش میں گناہگار قرار دے کر گرفتار کر لیا۔ ملزم پولیس اہلکار رفیق کو نوکری سے بھی برخاست کر دیا گیا۔ ادھر لڑکی کے ہاں چلڈرن ہسپتال لاہور میں بچے کی پیدائش ہوئی جو وفات پا گیا۔ پولیس نے بچے کی میت ڈی این اے کیلئے فارنزک سائنس ایجنسی کو بھجوائی۔ بچے کا ڈی این اے پولیس اہلکار رفیق سے میچ نہ ہوا۔ جس پر ایڈیشنل سیشنز جج قصور نے رواں ماہ 5 دسمبر کو اسے مقدمے سے بری کر دیا۔ اس فیصلے پر لڑکی نے خود سوزی کی کوشش کی۔ وہ اب جناح ہسپتال لاہور میں زیر علاج ہے۔ ڈی این اے میچ نہ ہونے پر سرکاری وکیل صاحب نے ڈی پی او کو خط لکھا کہ تفتیش کا دائرہ وسیع کیا جائے تاکہ اصل ملزم کو پکڑا جا سکے۔ ڈی پی اور نے ایس پی انویسٹی گیشن محمد ضیا الحق کی سربراہی میں ڈی ایس پی سٹی سیف اللہ بھٹی پر مشتمل ٹیم تشکیل دی جس نے 5 مشکوک افراد کے سیمپل لئے اور پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی کو بھیج دئے۔ لیب نے رپورٹ دی۔ ڈی این اے لڑکی کے سگے چچا زاہد سے میچ کر گیا۔ پولیس نے زاہد کو گرفتار کر لیا ہے۔
ہور سناؤ؟
طاہر چودھری ایڈووکیٹ بقلم خود۔
طلاق کے بعد بچوں کے رونے کی ویڈیوز دیکھ دیکھ کر جذباتی ہونے والی ڈرامہ باز قوم کو جب کوئی پاگل یہ کہتا ہے کہ بھئی شادی سوچ سمجھ کر کریں،
30 سال کی عمر سے پہلے اس معاشرے کی تعلیم آپکو کبھی میچور فیصلے کے قابل نہیں بناتی، نہ آپ اچھے لائف پارٹنر کا انتخاب کر سکتے ہیں،
یا پھر اگر شادی کر لی تو پھر کم از کم کوئی 2٫3 سال بچہ پلان مت کریں،
ساتھ رہیں، زندگی کو انجوائے کریں،
ایک دوسرے کو سمجھیں، معاشی و سماجی معاملات کو دیکھیں پھر بچہ پلان کریں،
میاں بیوں دونوں کا معاشی خودمختار ہونا بہت ضروری ہے،
تب کیا ہوتا ہے یہی ڈرامے باز ماں بہن کی گالیاں لے کر اسکے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔۔۔
منافق
وزیراعلی نتیش کمار اچھے موڈ میں تھے تو مذاق میں مسلمان خاتون کا حجاب کھینچ لیا، بھارتی خاتون رپورٹر
میرا موڈ بھی بہت اچھا ہے، تو اچھے موڈ میں آپکا چما ( بوسہ) لے لوں ، نوجوان نے رپورٹر کو لاجواب کر دیا
پیمرا نے بھی کہہ دیا کہ شو تو چلے گا،
چونکہ یہ یوٹیوب پر لانچ ہو رہا ہے، لہذا ہمارے انڈر نہیں آتا۔۔۔۔
جسے یہ فحش لگتا ہے وہ آج ہی موبائل فون توڑ دیں، انٹرنیٹ اور یوٹیوب کا بائیکاٹ کر دیں۔۔۔
اور اس گند کو اپنی زندگی سے اور گھر سے نکال کر پھینک دیں۔۔
پشتون بچیوں کی تربیت ریاستی ظلم اور بربریت کے سائے تلے ہو رہی ہے،
مولانا خان زیب شہید کی چھوٹی بیٹی اپنے بھائی کو دلاسہ دے رہی ہے کہ بس کرو رونا بند کرو،
بلوچستان میں عام پنجابی شہریوں کو بسوں سے اتار کر شہید کیا گیا یہ سلسلہ طویل عرصے سے جاری ہے حکومت و متعلقہ اداروں کی نااہلی میں تو کوئی دو رائے نہیں البتہ کالعدم بلوچ تنظیمیں یہ سب کرکے ان آوازوں کو بھی کھو رہی ہیں جو بلوچوں کے حقوق کیلئے پاکستان کے مختلف حصوں سے اٹھتی ہیں
لال مسجد کے بجلی بند کر دی گئی تھی پانی بھی بند تھا۔ باہر فوجی بندوقیں تانے کھڑے تھے۔ ایسے میں آپریشن کسی لمحے بھی شروع ھو سکتا تھا۔
مولانا عبد العزیز نے ایسے میں اپنے تمام ساتھیوں کو اکٹھا کیا اور پیش کش کی ۔۔۔۔
"میں چراغ بجھا رھا ھوں۔ جس نے چھوڑ کے جانا ھے اندھیرے میں چلا جائے۔ مجھے کوئی قلق ناں ھو گا"
تھوڑی دیر بعد جب چراغ جلا تو چشمِ فلک نے یہ نظارہ دیکھا کہ ایک بھی ساتھی اپنی جگہ سے ناں ہلا تھا۔ سبحان اللہ
لیکن۔۔
لیکن ۔۔
مولانا عبدالعزیز غائب تھے ۔
برقع میرا ودھیا
برقع میرا ٹاپ دا
میرا خیال ہے منقول لکھنا بہتر رہے گا۔۔۔۔منقول۔۔