“The leaked Commonwealth report about the elections of February 8th (2024) has once again revealed the brazen electoral fraud used to shamelessly steal our mandate. According to the Commonwealth, this report had already been officially submitted to the Government of Pakistan, yet individuals like Sikandar Sultan Raja, who are utterly devoid of conscience, played a central role not only in facilitating electoral theft but also in concealing it. The law in Pakistan prescribes severe punishment for election fraud: Article 6 of the Constitution applies. However, every law in our country is currently rendered meaningless, except the ‘Asim Law’.
Individuals like Liaquat Chattha are commendable who prioritized the voice of their conscience over jobs and titles. After this theft, a massacre was perpetrated, and the 26th Constitutional Amendment was imposed. The judges who spoke up against the amendment also deserve to be appreciated.
The time for accepting a government that originated from a rigged election as legitimate is over. That is why resignations from the Senate and parliamentary committees have been tendered.
My message to my party's parliamentarians is to neither fear the ‘Asim Law’ imposed upon the country, nor the prospect of imprisonment. A single individual seeks to crush you merely to satisfy his own lust for power. The more you fear them, the more they will suppress you. You are standing on the side of truth, and truth gives man courage. Victory belongs only to the truth.”
Former Prime Minister Imran Khan’s Conversation with Family Members in Adiala Jail (September 15, 2025)
1/3
“My so-called trial in Adiala Jail is not being conducted by a judge but by an ISI Colonel, who takes instructions directly from the Army Chief, Asim Munir. This is a military trial, not a civilian one.
Everything in Pakistan today is being done under Asim Law, with the Constitution and legal framework in shreds. Over three hundred fabricated cases have been registered against me, all of which I am facing. I will emerge with justice from the courts without making any deal. Every form of oppression has been inflicted upon our party. My wife and I would be freed today if cases were decided on merit. All our human rights have been violated. We are deprived even of the basic facilities granted to ordinary prisoners. My books are withheld, and in eight months I was allowed to speak to my children only once. The judges in my cases hold no authority; they cannot conduct the trials independently. Their decisions are dictated by a Colonel, who merely executes the orders of Asim Munir.
I instruct my entire party to remain united. This oppressive system cannot endure for long. It is essential that all of you retweet posts from my account, in a clear message of unity and alignment.
A grand public rally must be announced in Khyber Pakhtunkhwa, where participants from across the country can stand together against the darkness that engulfs us.”
Former Prime Minister Imran Khan’s Conversation with Family Members in Adiala Jail (September 15, 2025)
3/3
اسرائیل امت مسلمہ کے دل میں گھونپا گیا خنجر ہے یہ ایک ناجائز ریاست ہے جسے پاکستان کبھی تسلیم نہیں کرے گا۔ قائد اعظم محمد علی جناح
#یوم_قائداعظم_16_اگست
“میں تمام عمر بھی جیل میں رہنے کو تیار ہوں لیکن ظلم و جبر کے آگے جھکنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ پاکستانی قوم کو بھی یہی پیغام دیتا ہوں کہ کسی صورت جبر کے اس نظام کے سامنے نہ جھکیں۔
مذاکرات کا وقت اب گزر چکا ہے، اب صرف قوم کے احتجاج کا وقت ہے۔
پچھلے کچھ روز سے جیل میں مجھ پر سختیاں مزید بڑھا دی گئی ہیں۔ میری اہلیہ بشرٰی بیگم پر بھی سختی کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے۔ ان کے سیل میں جو ٹی وی موجود تھا وہ بھی بند کروا دیا گیا ہے۔ میرے اور میری اہلیہ کے تمام انسانی اور قیدیوں کو دئیے جانے والے حقوق معطل ہیں- جس کا حساب ہونا چاہیئے۔
مجھے معلوم ہے کہ ایک کرنل اور جیل سپرنٹنڈنٹ انجم، یہ سب کچھ عاصم منیر کے کہنے پر کروا رہے ہیں۔
اپنی پارٹی کو واضح ہدایت کرتا ہوں کہ اگر مجھے جیل میں کچھ ہوا تو اس کا حساب عاصم منیر سے لیا جائے۔
بشری بیگم پر ظلم اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ میرے دور میں جب عاصم منیر کو عہدے سے ہٹایا گیا تو انہوں نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم کو ملاقات کا پیغام بھیجا تھا، جسے بشریٰ بیگم نے ٹھکرا دیا تھا۔ اسی لیے عاصم منیر نے ان پر سختیاں رکھی ہوئی ہیں۔ شروع دن سے ہی ان کی کوشش ہے کہ بشری بیگم پر سختی کر کے مجھے توڑا جا سکے۔
جس جیل میں مجھے رکھا ہوا ہے وہاں سینکڑوں پاکستانیوں کے قاتل اور دہشتگرد بھی مجھ سے بہتر حالت میں رہ رہے ہیں- ایک فوجی رضوان کو شان و شوکت سے رکھا ہوا ہے لیکن مجھ پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔ یہ جو بھی کر لیں اس ظلم کے آگے نہ میں پہلے جھکا تھا نہ ہی اب جھکوں گا۔
پنجاب میں پچھلے دو سال سے مریم نواز اور محسن نقوی کے زیر سایہ جبر و فسطائیت کا جو ماحول ہے اس نے جمہوریت اور سیاسی سرگرمیوں کا خاتمہ کر رکھا ہے۔ تمام ممبران اسمبلی کا قافلے کی صورت میں پنجاب آ کر سیاسی اجتماع کرنا خوش آئیند ہے-
اس وقت مجھ سمیت کئی افراد سخت ترین جیلیں کاٹ رہے ہیں اس لیے پارٹی کا ہر شخص اپنے ذاتی اختلافات کو مکمل طور پر نظر انداز کرے، میڈیا کے سامنے اپنے ذاتی اور اندرونی معاملات کو زیر گفتگو لانا کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔ میری سختی سے ہدایات ہیں کہ پارٹی میں بڑے سے بڑا عہدیدار یا چھوٹے سے چھوٹا رکن یا ذمہ دار سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا یا کسی بھی اور فورم پر پارٹی کے اندرونی معاملات یا اختلافات کا اظہار مت کرے۔ اپنی ساری توجہ صرف اور صرف احتجاجی تحریک پر رکھیں تاکہ ملک میں انسانی حقوق کی بحالی ممکن ہو سکے۔ اگر کسی ذمہ دار نے اس احتجاجی تحریک میں حصہ نہ لیا پھر اس کا فیصلہ میں جیل سے خود کروں گا۔
تمام پارٹی ممبران اور عہدیداران کو ہدایت کرتا ہوں میرے ٹوئیٹر پیغامات کو خود ریٹویٹ بھی کریں اور زیادہ سے زیادہ افراد تک میرے یہ پیغامات پہنچائیں-
سینیٹ کی ٹکٹوں کے حوالے سے پارٹی باہمی مشاورت سے فیصلہ کرے۔”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء اور اہل خانہ سے گفتگو (15 جولائی 2025)
I had bought a shoe from Service Pakges Mall Lahore on 6/06/2025, but I lost the bill. Today, on 22/6/2025, I went to Service Shoes Pakges Mall to get a duplicate bill. I gave all the details to the cashier there and asked him to give me the bill. The cashier did not give me bill
@servis_shoes@customerservice
Service very bad Packages Mall @servis_shoes please investigate and solve issue
I want duplicate bill but staff says
Complain kr do Jo kr saktay o kr lo ye wo
خان صاحب کو فوری زمان پارک یا بنی گالہ شفٹ کیا جائے،کروڑوں عوام کے لیڈر کو فی الفور ہنگامی بنیادوں پر اڈیالہ سے شفٹ کریں قومی یکجہتی کا تقاضہ ہے فوری خان صاحب کو رہا کریں
خان صاحب وزیراعظم ہوتے تو پاکستان اب تک بدلہ لے چکا ہوتا یہ بزدل خواجہ مالشیا اور رانا ثنا اللہ بکواس کررہے ہیں کہ ہم نے جو کرنا تھا کرلیا اگلوں نے 24میزائل داغ دیے اور تم بزدلوں کی طرح کہہ رہے ہو ہم ذمےدار ریاست ہیں
ابھی تک خواجہ آصف کے بیان پر کوئی کاروائی کی ہو تو عوام کو بتا دیں؟ یا پھر وہ بیان آپ لوگ حکمت عملی میں ڈال کر خواجے کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتے ہیں۔ یہی بیان اگر پاکستان تحریک انصاف کے کسی بھی ورکر نے دیا ہوتا تو اب تک پاکستان سے غداری بغاوت اور قومی سلامتی خطرے میں آچُکی ہوتی؟
اگر پاکستان کو آنے والے خطرات سے نکال کر ابھی بھی کوئی ترقی کی طرف گامزن کر سکتا ہے۔ تو وہ وہی شخص ہے جسنے پاکستان میں رہنا ہے۔ جسکا اثاثہ یہ قوم اور پاکستان ہے۔ اور وہ ہے صرف اور صرف عمران خان باقی سب جھوٹ ہے۔