مجھے میرے ماں باپ سے ملائیں۔۔!!
اس خاتون نے اپنی داستان سنائی تو سن کر کانپ گیا۔
کہتی ہے: میری عمر چار سے پانچ سال تھی،میرے والد کا ایک بہت ہی عزیز دوست جسکا نام *** تھا ۔اسکا ہمارے گھر آنا جانا بھی لگارہتا تھا۔
والد کے دوست نے ایک دن مجھے کہا چلو تمہیں جھولا جھلاتا ہوں۔میں خوشی خوشی ساتھ روانہ ہوگئی۔
وہ مجھے ٹرک میں بٹھاکر دور کہیں اپنے ایک رشتےدار کے ہاں لے گیا اور مجھے کہا یہ تمہارے ماں باپ ہیں۔
جیسے جیسے میرے والدین شاید ڈھونڈتے ڈھونڈتے قریب پہنچتے وہ شخص کسی دوسرے رشتے دار کے پاس منتقل کردیتا۔ میں تقریبا 8 سال انکی قید میں رہی چار سے پانچ جگہے تبدیل کئے انہوں نے۔
پھر آخری بار جس گھر میں تھی اس گھر میں ایک بزرگ موجود تھا۔ایک دن گھر میں کوئی نہیں تھا۔ بزرگ نے مجھے کہا بیٹا یہاں سے نکل کر تم بھاگ جاو۔ جہاں بھی جاوگی اللہ تمہارا بھلا کرےگا لیکن یہاں سے کسی صورت خود کو نکال دو۔
میں نکل کر ایسے بھاگی کہ پیچھے دیکھا ہی نہیں جاتی رہی جاتی رہی۔
کسی علاقے میں پہنچ کر ایک فیملی کے ہاتھ لگی۔ انہوں نے مجھ رکھ لیا۔ میں 13 سال کی ہوچکی تھی۔ 13 سال کی عمر میں میری شادی کرلی گئی۔
سال 2001 میں میری شادی ہوئی تھی۔8 سال قید اور چھبیس سال شادی کے ہوئے۔34 سال قبل کا واقعہ ہے یہ۔
میری دھندلی یادوں کے مطابق میرا نام گھر میں عندل حفیظ تھا والد کا نام انور تھا اور والدہ کا نام سکینہ تھا۔ اور ہمارے ایک ماموں کا نام نواز ڈوگر تھا۔
ہمارا گھر گاوں میں تھا۔کھیتوں کے درمیان گھر بنا ہوا تھا۔گھر کے باہر کنواں تھا۔قریب میں امرود کا درخت تھا۔اور ایک دربار بھی تھا۔
میں ابھی پانچ بچوں کی ماں ہوں لیکن میرے ماں باپ کی یاد آج تک مجھے چین سے جینے نہیں دے رہی۔
خدا کے لئے مجھے اپنوں سے ملائیں
تمام دوست انسانی فریضہ سمجھ کر اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
31 july 2026
#waliullahmaroof
یہ بچہ اپنا نام عجب اور والد کا نام باہو بخش بتاتا ہے۔
عجب چند سال قبل گھر سے بھٹک کر ایک شیلٹر میں پہنچا تھا۔
اپنی والدہ کا نام یاد نہیں ہے۔بھائی اور دونوں بہنوں کے نام بھی یاد نہیں ہیں۔
عجب اپنا شہر ملتان بتاتا ہے۔ملتان کے شیلٹر سے کراچی منتقل ہوا تھا۔ ہوسکتا ہے ملتان کے کسی قریبی شہر کا ہو۔ یا ملتان ہی کا ہو۔
عجب ابھی بڑا ہوچکا ہے۔تصویر پرانی دی گئی ہے تاکہ گھر والے دیکھ کر پہچان سکیں۔
شیلٹر میں بند عجب کی نگاہیں اپنوں کے لئے ترس رہی ہیں۔
لیکن ورثاء کو کیا معلوم انکا شہزادہ کس دور دراز چار دیواری میں موجود ہے۔
تمام دوست اس پوسٹ کو پنجاب بھر بلکہ ملک بھر میں اتنا عام کریں کہ انکے خاندان تک یہ پوسٹ پہنچ جائے اور ایک پیارے انسان کی زندگی مزید برباد ہونے سے بچ جائے۔
آپ کا ایک شئیر کسی کی زندگی بدل سکتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ اس پوسٹ کو عام کریں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
29 may 2026
#waliullahmaroof
ان سے ملئے۔۔!!
انکا نام بلال ہے،بلال چھ سات سال کی عمر میں گھر سے نکلا تھا،بالوں میں چاندنی آچکی ہے آج تک اپنوں سے جدا ہے۔
بلال کا کہنا ہے کہ ہمارا گھر اٹک کے کسی قریبی علاقے میں تھا،گھر کے قریب ٹرین رکتی تھی میں ٹرین میں بیٹھ کر اٹک جاتا تھا۔
گھر سے بھاگتا بھی زیادہ تھا۔
ایک بار جب اٹک کے لئے نکلا تو ٹرین میں آنکھ لگ گئی اور اپنے اسٹیشن پر اتر نہیں سکا۔ آنکھ جب کھلی تو اٹک کے بجائے کہیں اور تھا۔
مجھے ایک شیلٹر لیجایا گیا اور میں ہمیشہ کے لئے اپنوں سے دور ہوگیا۔
پہلی بار جس شیلٹر میں گیا وہ اسلام آباد کا شیلٹر تھا اور سال 1996 تھا۔
پھر لاہور لایا گیا اور لاہور سے کراچی ۔
میرے والد ویلڈنگ کا کام کرتے تھے،والدین کے نام یاد نہیں ہیں۔دو بہنیں تھیں،ایک بہن کا نام مجھے یوں لگتا ہے شاید نام حنا تھا۔
بھائی صرف میں تھا
والد کی ایک نشانی یاد ہے انکی گدی پر بڑا سا مَسّہ تھا۔
اور علاقے میں ایک مسجد تھی جو کراچی کی میمن مسجد کی طرح سرخ تھی۔
بلال کو یہ یاد نہیں ہے کہ گھر میں کونسی زبان بولتے تھے لیکن انکو پشتو کافی حد تک آتی ہے شاید ممکن ہے پختون گھرانے سے ہوں۔
جہانگیرہ اور پشاور کا امکان زیادہ ہوسکتا ہے۔
بلال نام کے ساتھ آفریدی لکھتا ہے اسے یہ نہیں معلوم کہ یہ آفریدی ہیں یا کوئی اور قوم، شیلٹر والوں نے نام کے ساتھ آفریدی لکھا ہے اسکی وجہ شاید یہ ہوسکتی ہے کہ بچپن سے کرکٹ کے ساتھ بہت لگاو تھا اور شاہد آفریدی کے بہت جذباتی فین تھے۔پشتو جب بولتا ہے تو لہجہ آفریدی نہیں ہے۔
بلال کافی عرصے سے صرف اس وجہ سے ہمیں اپنا کیس نہیں دے رہا تھا کہ مجھے لوگ لاوارث کہیں گے،یہ بات کرتے ہوئے اشکبار بھی ہوا۔
بات بات پر بلال کا گلا بھرا جاتا ہے اور والدین ملنے کی خواہش کا اظہار کرتا ہے۔
تمام دوست اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔
+923162529829
22 may 2026
#waliullahmaroof
سعودی عرب میں ظلم کا شکار ایک نوجوان کی فریاد ۔۔۔۔ نوجوان اتنا پریشان ہے کہ ویڈیو میں اپنا نام بھی نہ بتا سکا ۔
رو رو کر اپیل کی کہ اسے مطوب بھولاں والا یا بولاں والا نے ایلومینیم فکسر اور پینٹر کے ویزے پر سعودی عرب بھجوایا ،
چک ہمبو کا رہائشی نوجوان پوری ادائیگی 7 لاکھ روپے کرکے آیا مگر یہاں پہنچنے کے بعد جن لوگوں کے ہتھے چڑھا یہ اسے روزانہ مارتے ہیں ، اقامہ بھی نہیں دیتے ، ذرا شکایت کرے تو تھپڑوں سے منہ سجھا دیتے ہیں کبھی ٹھڈے مارتے ہیں روٹی ایک وقت دیتے ہیں پھر بھول جاتے ہیں اور اگلے روز ملتی ہے ،
نوجوان کے بقول مجھے یہاں آئے پانچ مہینے ہو گئے ہیں کچھ روز پہلے میرے کان پر کوئی ایسی چیز ماری کہ کان پھٹ گیا آج مجھے سیڑھیوں سے دھکا دیا اور میری ٹانگ کا گوشت پھٹ گیا ہے ۔ میں یہاں آکر خوار ہو گیا ہوں دل چاہتا ہے اپنی زندگی ختم کر لوں ۔۔
اگر مجھے کچھ ہو جائے تو میری موت کا ذمہ دار مطلوب بھولاں والا ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔
سعودی عرب میں موجود پاکستانیوں سے اپیل ہے کہ اس نوجوان کو تلاش کرکے اس کی ہر ممکن مدد کریں ،
ہو سکے تو جن ظالموں کے شکنجے میں یہ پھنسا ہے ان سے اسکی جان چھڑوائیں ۔۔۔
اللہ کریم اس پنجابی نوجوان کی غیب سے مدد فرمائے آمین
زمیں کھا رہی ہے ۔۔۔ آسماں کیسے کیسے 💔
یہ تصویر کسی عام فقیر کی نہیں، بلکہ سندھ کے نامور افسانہ نگار، ناول نویس اور دانشور محترم مشتاق احمد کاملانی صاحب کی ہے۔
وہی مشتاق کاملانی، جنہوں نے “گونگی بارش”، “چپٹا لہو”، “گھٹی ہوئی فضا” اور شہرۂ آفاق ناول “رولو” جیسے شاہکار تخلیق کیے۔
وہی کاملانی صاحب جو سندھ یونیورسٹی جامشورو کے ذہین ترین طالب علموں میں شمار ہوتے تھے، جن کی انگریزی، اردو، فارسی اور پنجابی پر ایسی گرفت تھی کہ سننے والا دنگ رہ جائے۔
مگر آج…
وقت نے اس عظیم قلمکار کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے کہ دن بھر ٹھٹہ کی گلیوں میں اور رات کو سجاول کے بس اسٹاپ پر زندگی گزارتے دکھائی دیتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ ان کے چھوٹے سے گھر پر قبضہ کر لیا گیا، اور ایک عظیم لکھاری خاموشی سے معاشرے کی بے حسی کا بوجھ اٹھاتا رہا۔
کتنا بڑا المیہ ہے کہ جو شخص لفظوں سے نسلوں کی سوچ بدل سکتا تھا، آج خود زندگی کے ظلم سے ہار چکا محسوس ہوتا ہے۔
@ChotiSheikhni My family is suffering from police baisness toward a party is a group of people in our village doing every tactics and whole thanna and their relative sho is doing with us .
girl to girl (Pakistan): fgs if you're not making money DURING your Bachelor's, you're going to be in BIG trouble when you're done. Start learning skills. Start getting work experience. There are a billion remote jobs online. Start with ANYTHING.
YOU NEED THE DOUGH.
Norway Attacks = Christian
Oklahoma City Bombing = Christian
Christchurch mosque Massacre = Christian
Charleston Church Shooting = Christian
Ku Klux Klan Terror = Christian
Birmingham Church Bombing = Christian
Olympic Park Bombing = Christian
Atlanta Clinic Bombings = Christian
Army of God Terror Attacks = Christian
Fourth Crusade Sack of Constantinople = Christians
Spanish Inquisition = Christians
Salem Witch Trials = Christians
European Witch Burnings = Christians
Bosnian War Massacres = Christians
Lord’s Resistance Army Atrocities = Christians
Rwandan Genocide = Christians
Central African Republic Anti-Muslim Pogroms = Christians
El Paso Mass Shooting = Christians
Tree of Life Synagogue Shooting = Christian
Norwegian Mosque Attack Attempt = Christian
Quebec City Mosque Shooting = Christian
Pittsburgh Synagogue Shooting = Christian
Buffalo Mass Shooting = Christian
Charleston Emanuel AME Church Massacre = Christian
Tulsa Race Massacre = Christians
Anti-Black Lynching Campaigns = Christians
Colonial Forced Conversions = Christians
Residential School Abuses = Christians
Conquest of the Americas Atrocities = Christians
Belgian Congo Mass Atrocities = Christians
Anti-Jewish Pogroms in Europe = Christians
Holocaust Collaboration by Churches = Christians
Balkan Ethnic Cleansing = Christians
Anders Breivik Utoya Massacre = Christian
Anti-Muslim Church Militias Nigeria= Christians
Anti-Abortion Murders US= Christians
Christian Identity Militia Attacks = Christians
Serbian Orthodox Militias = Christians
Croatian Ustaše Genocide = Christians
Spanish Civil War Religious Violence = Christians
French Wars of Religion = Christians
St. Bartholomew’s Day Massacre = Christians
Irish Sectarian Killings = Christians
Apartheid-Era Church-Backed Violence = Christians
Forced Conversion of Indigenous Peoples = Christians
Church-Backed Slave Trade Justification = Christians
Anti-Muslim Attacks in Myanmar = Christians
Anti-Refugee Church Extremist Attacks = Christians
White-Supremacist Terror Attacks = Christians
What’s your point?
@GovtofPunjabPK Is it possible to find old record some group of people invade in our ancestors lands but original record they hide and and create new one
@irumrae Exactly but there is mentality in most women after marriage she tried to overcome everything and try to put mother especially at a level where she doesn't deserve to be treated parents spent their whole life and earning on their children but at end they got nothing humiliation